Sulah ka bayan

صُلح  کا بیان 

 سوال : صُلح  کیا  ہے  ؟

جواب : کبھی حقوق  میں  جھگڑا  واقع  ہوجاتا ہے اور  دونوں  فریق  ان  حقوق  میں  مثلا  کجھ  حقوق   لینے پر اور کجھ حقوق  چھوڑنے  پر باہم  راضی  ہوجاتے  ہیں  اور اس وجہ سے جھگڑا ختم ہو جاتا ہے اور اس کا نام صُلح رکھا  جاتا ہے اور صُلح بہتر ہے ۔


 سوال : صُلح کی اقسام بیان  کیجئے ؟ 

جواب 
1
اقرار  کے ساتھ صلح 
سُکوت کے ساتھ صلح 
3
انکار کے ساتھ صلح  
اور  یہ سب سفید شریعت میں جائز  ہے ۔ 

سوال : اقرار کے ساتھ صلح کا مطلب کیا ہے ؟ 

جواب : اس کا مطلب یہ ہے کہ مدعیٰ علیہ اپنے خلاف حق کا اقرار  کرے اور کسی چیز پر اپنے مدِ مقابل سے  صلح  کرے ۔ 

سوال :  سکوت پر صلح کا مطلب کیا ہے ؟ 

جواب : وہ یہ ہے کہ مدعیٰ علیہ نے  حق کا اقرار نہیں کیا اور اس کا انکار نہیں کیا  اور صلح پر راضی ہوگیا تاکہ جھگڑے سے اپنے آپ کو چھڑائے ۔ 

سوال : انکار کے ساتھ صلح کیا ہے ؟  

جواب : اس کی صورت یہ ہے کے وہ انکار کرے کہ  اس کے ذمی  مدعی کا کوئی حق ہے اور اس کے اور اس کے باوجود جھگڑا ختم کرنے کے  لیۓ صلح کرے ۔


سوال :  اقرار کے ساتھ صلح  کا  حکم کیا  ہے  ؟ 

جواب : اگر یہ صلح مال سے مال کے ساتھ واقع ہو تو اس میں ان (اُمور) کا اعتبار کیا جاتا ہے سامانِ فروختنی  میں  جن کا اعتبار کیا جاتا ہے اور  اگر مال سے منافع  کے ساتھ واقع ہو تو اس میں ان (امور ) کا  اعتبار  کیا جاتا ہے اجازت  میں جن کا  اعتبار کیا جاتا ہے ۔ 

سوال : سکوت  اور انکار کے ساتھ صلح کا حکم  کیا ہے ؟ 

جواب  : سکوت اور انکار کے ساتھ صلح کو مدعیٰ علیہ  کے حق میں فدیہ دینے  اور جھگڑا ختم کرنے پر محمول کیا  جاتا  ہے  اور مدعیٰ کے حق میں معاوضہ کے معنیٰ پر محمول کیا جاتا ہے ۔ 

سوال : شُفعہ کا حکم کیا  ہے جب مکان سے یا مکان پر صلح کرے ؟ 

جواب : شُفعہ ثابت ہوتا ہے جب مکان پر صلح کرے اور ثابت نہیں ہوتا جب مکان سے صلح کرے ۔ 

سوال : اقرار سے صلح تھی پس مُصٙالِح عٙنہ  کے کسی حصہ میں حق ثابت ہوگیا تو کیا مدعی علیہ کسی چیز کے ساتھ رجوع  کرے ؟ 

جواب : جی ہاں ! اس کے لیۓ جائز ہے کہ وہ اس کے حصہ عوض  کے ساتھ رجوع کرے ۔ 

سوال : اگر سکوت  یا انکار سے صلح واقع ہو پس مُتٙنٙازِع  فِیہ میں حق ثابت ہوجاۓ تو مدعی  کیا کرے ؟ 

جواب : اس کے ذمہ ہے کہ وہ اس عوض کو لوٹائے  جو اس نے مدعی  علیہ سے لیا اور حقدار پر جوابدہی کے ساتھ رجوع  کرے اور اگر مُتٙنٙازِع فِیہ  کے  کسی حصہ میں حق ثابت ہوجاۓ  تو وہ اس کا حصہ عوض لوٹائے اور اس میں حقدار پر جوابدہی کے ساتھ رجوع  کرے ۔ 

سوال : ایک شخص نے مکان میں حق کا دعوی  کیا اور اس کی وضاحت نہیں کی پس اس حق سے کسی چیز میں صلح کرلی گئی پھر مکان کے کسی حصہ میں حق ثابت ہوگیا تو کیا وہ اس عوض کو واپس کرے جو اس نے لیا ؟ 

جواب : اس میں سے کوئی چیز واپس نہ کرے ۔ 

سوال : کیا  اموال ، منافع عمد اور  خطاء کی جنایت  کے دعویٰ سے اور حد کے دعوی  سے صلح جائز ہے ؟ 

جواب : حد کے دعوی  کے سوا ان سب سے (صلح) جائز ہے۔ 


سوال : ایک شخص نے کسی عورت کے خلاف نکاح  کا دعوی  کیا اور وہ انکار کرتی ہے پس اس ( عورت)  نے اس سے مال پر صلح کر لی  تاکہ مرد اپنا دعوی  چھوڑدے (تو ) اس صلح کا کیا حکم  ہے  ؟ 

جواب : یہ صلح جائز ہے اور یہ صُلح خُلع کے معنیٰ میں ھوگی۔ 

سوال :اگر عورت کسی مرد کے خلاف نکاح کا دعوی کرے پس وہ انکار کرے پھر وہ ایسے مال پر صلح کرے جو (مال) وہ اس (عورت ) کو سخاوت کرے (تو ) کیا صلح جائز ہے ؟ 

جواب : یہ صلح جائز نہیں ۔ 

سوال : ( کسی ) نے دوسرے  کے خلاف دعوی  کہ  وہ اس کا غلام ہے اور اس  سے مال پر صلح کر لی تو اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب : یہ جائز ہے اور یہ صلح مدعی  کے حق مال پر آزاد ہونے کی معنیٰ میں ہے ۔ 

سوال : کسی شخص کو صلح کا وکیل بنایا پس وکیل نے اس کی طرف سے صلح کی (تو ) کیا وکیل کو اس (چیز) کی ادائیگی لازم ہوگی جس پر اس نے صلح کی ؟

جواب : وکیل کو وہ (چیز) لازم نہیں ہوگی  جس پر اس نے صلح کی مگر یہ کہ وہ اس کا ضامن ہوجاۓ اور مال موکل پر لازم ہے ۔ 

سوال : اگر ایک شخص نے کسی شخص کی طرف سے اس کے حکم کے بغیر صلح کی تو کس کے ذمہ مال واجب ہوگا ؟ 

جواب : یہ (صلح ) چار قسم پر (مبنی ) ہے :
  (١)
 مال کے ساتھ صلح کی اور مال کا ضامن  ہوگیا 
(٢) 
 اس  نے کہا کہ میں نے آپ سے اپنے ہزار پر یا اپنے اس غلام پر صلح کی  پس ان دونوں صورتوں میں صلح ہوجاۓ گی اور اسے وہ (چیز )لازم ہوگی جو اس نے اپنے ذمہ قرار دی  
(٣)
  اس نے اس سے کہا میں نے آپ سے ہزار پر صلح کی اور اس نے اسے وہ (ہزار ) سپرد  کر دیا تو اس صورت میں بھی صلح مکمل ہوجاۓ گی  اور اس نے اپنے مال میں سے جو ادا کیا وہ اس کے ساتھ اس پر رجوع  نہیں کرے گا جس کی طرف سے صلح کی۔
 (۴)  
اس نے اس سے کہا میں نے ضمان  کے بغیر اور اپنی طرف منسوب کرنے اور خود ادا کرنے کے بغیر  آپ سے ( ہزار ) پر صلح کی تو یہ (صلح ) اس کی اجازت پر موقوف  ہے جس کی طرف سے صلح کی یعنی مدعی علیہ پس اگر اس نے اجازت دے دی تو اسے یعنی مُصٙالِح عٙنہُ کو ہزار لازم ہوگا اور اگر اس نے اجازت نہیں دی تو صلح باطل ہوجاۓگی 

سوال : دو شریکوں کے درمیان (مشترک)دٙین کسی کے ذمہ ہے پس دونوں میں سے ایک نے اپنے حصہ سے کپڑے پر صلح کرلی؟ 


جواب : اس کا شریک با اختیار ہے اگر چاہے آدھے دَین کے ساتھ اس کا پیچھا کرے جس کے ذمے دین ہے اور اگر چاہے آدھا کپڑا لے لے مگر یہ کہ اس کیلئے چوتہائی دین کا ضامن ہو جائے اور اسی طرح جب دونوں شریکوں میں سے ایک دین میں سے اپنے حصے کا آدھا وصول کر لے تو اس کے شریک کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کے ساتھ شریک ہو جائے اس میں سے جس پر اس نے قبضہ کیا پھر وہ دونوں قرض خواہ پر باقی دین کے ساتھ رجوع کریں

سوال : اس بارے میں آپ کا کیا قول ہے کہ جب ان دونوں میں سے ایک اپنے حصہ دین کے ساتھ سامان خرید لے؟

جواب : اس صورت میں اس کے شریک کیلیے جائز ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو چوتہائی دین کا ضامن بنائے

سوال : دو شخص بیع سلم میں باہم شریک ہوئے پس ان دونوں میں سے ایک نے رأس المال پر اپنے اس حصہ سے صلح کر لی جو مسلم فیہ میں ہے تو اس صلح کا حکم کیا ہے؟

سوال : یہ صلح حضرت ابو حنیفہ و حضرت محمد رحمھمااللہ کے نزدیک جائز نہیں اور حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ جائز ہے.

سوال : ایک شخص مر گیا اور اس کے ورثہ ہیں پس انہوں نے اپنے میں سے ایک سے اس مال کے ساتھ صلح کر لی جو مال انہوں نے اسے دے دیا اور اسے ترکہ سے نکال دیا تو کیا یہ صلح جائز ہے؟

جواب : اس بارے میں تفصیل ہے پس اپنا خیال جمع کیجئے اور سنیئے 

(١) اگر ترکہ زمین یا سامان ہے تو یہ صلح جائز ہے تھوڑا ہو وہ مال جو انہوں نے اسے دے دیا یا زیادہ ہو. 

(٢) اگر ترکہ چاندی ہے پس انہوں نے اسے سونا دیا یا ترکہ چاندی ہے  پس انہوں نے اسے چاندی دی تو یہ بھی جائز ہے

(٣) اگر ترکہ سونا,چاندی وغیرہ ہے پس انہوں نے اس سے سونے یا چاندی پر صلح کر لی پس ضروری ہے کہ جو کچھ انہوں نے اسے دیا وہ اس جنس میں سے اس کے حصہ کی بنسبت زائد ہو تاکہ اس کا حصہ اس کے مثل کے عوض اور زیادت بقیہ میراث میں سے اس کے حق کے عوض ہو جائے۔
 
(۴) اگر ترکہ لوگوں کے ذمے دین ہے پس انہوں نے اپنے میں سے ایک سے مال کے ساتھ صلح کر لی اس شرط پر کہ وہ اس کو اس کے حصۂ دین میں سے نکال دیں گے اور دین ان کا ہو گا تو یہ صلح باطل ہے۔

(۵) اگر شرط لگائیں کہ وہ قرض خواہوں کو دین سے بری کر دے
اور وہ ان پر صلح کرنے والے کے حصہ کے ساتھ رجوع نہ کرے تو صلح جائز ہے۔


سوال : کسی پر ایک شخص کا ہزار نقد تھا پس اس نے اس سے ہزار ادھار پر صلح کر لی تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ صلح جائز ہے گویا اس نے نفس حق مؤخر کر دیا.


سوال : اگر اس نے اس نے ہزار درہم نقد سے دیناروں پر ایک ماہ تک صلح کر لی تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ جائز نہیں کیونکہ یہ بیع صرف ہے اور اس میں تأجیل جائز نہیں۔

سوال : کسی پر اس کا ہزار ادھار ہے پس اس نے اپنے قرض خواہ سے پانچ سو نقد پر صلح کر لی تو اس صلح کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ صلح جائز نہیں.

سوال : اگر کسی شخص کے ہزار درہم سیاہ دوسرے کے ذمہ تھے پس اس نے اس سے پانچ سو درہم سفید پر صلح کر لی تو اس صلح کا حکم کیا ہے؟

جواب : جائز نہیں۔
 
فائدہ : ہر ایسی چیز جس پر صلح واقع ہوئی اور وہ چیز عقدِ مُدایَنہ کی وجہ سے واجب ہے تو اسے معاوضہ پر محمول نہ کیا جائے اور سوائے اس کے نہیں اسے اس پر محمول کیا جائے کہ اس نے اپنا کچھ حق وصول کر لیا اور باقی حق ساقط کر دیا اس شخص کی طرح جس کے کسی شخص کے ذمہ ہزار درہم کھرے ہیں پس اس نے پانچ سو درہم کھوٹوں پر صلح کر لی تو جائز ہے اور یہ ایسا ہو گیا گویا اس نے اسے اپنےکچھ حق سے بری کر دیا. (تو ) دوسرا شریک کیا کرے ؟



No comments:

Powered by Blogger.