Surah Baqrah aayat 145 - 147

آیات 147 - 145

آیت 145


وَلَئِنۡ اَ تَيۡتَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَكَ‌ۚ وَمَآ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبۡلَتَهُمۡ‌ۚ وَمَا بَعۡضُهُمۡ بِتَابِعٍ قِبۡلَةَ بَعۡضٍؕ وَلَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ‌ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ‌ۘ


لفظی ترجمہ

 وَلَئِنْ : اور اگر   |  أَتَيْتَ : آپ لائیں   |  الَّذِيْنَ : جنہیں   |  أُوْتُوا الْكِتَابَ : دی گئی کتاب (اہل کتاب)  |  بِكُلِّ : تمام   |  اٰيَةٍ : نشانیاں   |  مَّا تَبِعُوْا : وہ پیروی نہ کرینگے   |  قِبْلَتَکَ : آپ کا قبلہ   |  وَمَا : اور نہ   |  أَنْتَ : آپ   |  بِتَابِعٍ : پیروی کرنے والے   |  قِبْلَتَهُمْ : ان کا قبلہ   |  وَمَا : اور نہیں   |  بَعْضُهُمْ : ان سے کوئی   |  بِتَابِعٍ : پیروی کرنے والا   |  قِبْلَةَ : قبلہ   |  بَعْضٍ : کسی   |  وَلَئِنِ : اور اگر   |  اتَّبَعْتَ : آپ نے پیروی کی   |  أَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات   |  مِنْ بَعْدِ : اس کے بعد   |   مَا جَآءَکَ : کہ آچکا آپ کے پاس   |  مِنَ الْعِلْمِ : علم   |  إِنَّکَ : بیشک آپ   |  إِذًا : اب   |  لَّمِنَ : سے   |  الظَّالِمِيْنَ : بےانصاف 


ترجمہ

تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں ہے او ر اگر تم نے اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا



تفسیر

اور باجود ان لوگوں کے سب کچھ سمجھنے کے ان کی ضد کی یہ حالت تھی کہ اگر آپ ان اہل کتاب کے سامنے تمام دنیا بھر کی دلیلیں جمع کرکے پیش کردیں جب بھی یہ کبھی آپ کے قبلہ کو قبول نہ کریں اور ان کی موافقت کی امید اس لئے نہ رکھنی چاہئے کہ آپ کا قبلہ بھی منسوخ ہونے والا نہیں اس لئے آپ بھی ان کے قبلہ کو قبول نہیں کرسکتے پس کوئی صورت موافقت کی باقی نہیں رہی اور  اہل کتاب کو آپ سے ضد ہے ان میں باہم بھی موافقت نہیں کیونکہ ان کا کوئی فریق بھی دوسرے فریق کے قبلہ کو قبول نہیں کرتا

مثلاً یہود نے بیت المقدس لے رکھا تھا اور نصاریٰ نے مشرق کی سمت کو قبلہ بنا رکھا تھا اور خدانخواستہ آپ تو کسی طرح ان کے قبلہ منسوخہ غیر مشروعہ کو لے ہی نہیں سکتے کیونکہ اگر آپ ان کے ان نفسانی خیالات کو گو وہ اصل میں حکم آسمانی رہے ہوں لیکن اب بوجہ منسوخ ہونے کے ان پر عمل کرنا محض نفسانی تعصب ہے سو اگر آپ ایسے خیالات کو اختیار کرلیں اور وہ بھی آپ کے پاس علم قطعی یعنی وحی آئے پیچھے تو یقیناً آپ نعوذ باللّه ظالموں میں شمار ہونے لگیں  جو کہ تارکین حکم ہیں اور آپ کا ظالم ہونا بوجہ معصوم ہونے کے محال ہے اس لئے یہ بھی محال ہے کہ آپ ان کے خیالات کو جن میں سے ان کا قبلہ بھی ہے قبول کرلیں

وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ میں یہ اعلان کردیا گیا کہ اب قیامت تک کے لئے آپ کا قبلہ بیت اللّه ہی رہے گا اس سے یہود و نصاریٰ کے ان خیالات کا قطع کرنا مقصود تھا کہ مسلمانوں کے قبلہ کو تو کوئی قرار نہیں پہلے بیت اللّه تھا پھر بیت المقدس ہوگیا پھر بیت اللّه ہوگیا اب بھی ممکن ہے کہ پھر دوبارہ بیت المقدس ہی کو قبلہ بنالیں
       (بحر محیط) 

وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ یہ خطاب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کو بطور فرض محال کے ہے جس کے وقوع کا کوئی احتمال نہیں اور دراصل سنانا امت محمدیہ کو ہے کہ اس کی خلاف ورزی ایسی چیز ہے کہ خود رسول بھی بفرض محال ایسا کریں تو وہ بھی ظالم قرار پائیں۔


آیت  146


اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَعۡرِفُوۡنَهٗ كَمَا يَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَهُمۡؕ وَاِنَّ فَرِيۡقًا مِّنۡهُمۡ لَيَكۡتُمُوۡنَ الۡحَـقَّ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ 


لفظی ترجمہ

 اَلَّذِيْنَ : اور جنہیں   |  اٰتَيْنٰھُمُ : ہم نے دی   |  الْكِتٰبَ : کتاب   |  يَعْرِفُوْنَهٗ : وہ اسے پہچانتے ہیں   |  كَمَا : جیسے   |  يَعْرِفُوْنَ : وہ پہچانتے ہیں   |  اَبْنَآءَھُمْ : اپنے بیٹے   |  وَاِنَّ : اور بیشک   |  فَرِيْقًا : ایک گروہ   |  مِّنْهُمْ : ان سے   |  لَيَكْتُمُوْنَ : وہ چھپاتے ہیں   |  الْحَقَّ : حق   |  وَھُمْ : حالانکہ وہ   |  يَعْلَمُوْنَ : وہ جانتے ہیں 


ترجمہ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اِس مقام کو جسے قبلہ بنایا گیا ہے ایسا پہچانتے ہیں جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے


تفسیر

اس سے پہلی آیت میں اہل کتاب کا قبلہ مسلمین کو دل میں حق جاننے اور زبان سے نہ ماننے کا ذکر تھا اس آیت میں انہی اہل کتاب کا صاحب قبلہ یعنی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح دل میں حق جاننے اور زبان سے نہ ماننے کا بیان ہے
جن لوگوں کو ہم نے کتاب توراۃ و انجیل دی ہے وہ لوگ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو توراۃ و انجیل میں آئی ہوئی بشارت کی بناء پر بحیثیت رسالت ایسا بےشک وشبہ پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو ان کی صورت سے پہچانتے ہیں کہ بیٹے کی صورت دیکھ کر کبھی شبہ نہیں ہوتا کہ یہ کون شخص ہے مگر پہچان کر بھی سب مسلمان نہیں ہوتے بلکہ بعض تو ایمان لے آئے اور بعضے ان میں سے ایسے ہیں کہ اس امر واقعی کو باوجودیکہ خوب جانتے ہیں مگر اخفاء کرتے ہیں حالانکہ یہ امر واقعی من جانب اللّه ثابت ہوچکا ہے سو ایسے امر واقعی ثابت من اللّه میں ہر ہر فرد کو کہا جاسکتا ہے کہ ہرگز شک وشبہ لانے والوں میں شمار نہ ہونا
اس آیت میں رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو بحیثیت رسول پہچاننے کی تشبیہ اپنے بیٹوں کو پہچاننے کے ساتھ دی گئی ہے کہ یہ لوگ جس طرح اپنے بیٹوں کو پوری طرح پہچانتے ہیں ان میں کبھی شبہ و اشتباہ نہیں ہوتا اسی طرح تورات و انجیل میں جو رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی بشارت اور آپ کی واضح علامات و نشانات کا ذکر آیا ہے اس کے ذریعہ یہ لوگ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو بھی یقینی طور سے جانتے پہچانتے ہیں ان کا انکار محض عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے

یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ پوری طرح پہچاننے کے لئے بیٹوں کی مثال دی گئی ہے ماں باپ کی مثال نہیں دی حالانکہ آدمی اپنے ماں باپ کو بھی عادۃ خوب پہچانتا ہے وجہ یہ ہے کہ بیٹوں کی پہچان ماں باپ کی پہچان کی نسبت بہت زیادہ ہے کیونکہ انسان اپنے بیٹوں کو ابتداء پیدائش سے اپنے ہاتھوں میں پالتا ہے اس کے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہوتا جو ماں باپ کی نظر سے اوجھل رہا ہو بخلاف ماں باپ کے کہ ان کے اعضاء مستورہ پر اولاد کی کبھی نظر نہیں ہوتی

اس بیان سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ یہاں بیٹوں کو بیٹا ہونے کی حیثیت سے پہچاننا مراد نہیں کیونکہ اس کی نسبت تو انسان پر مشتبہ ہوسکتی ہے کہ ممکن ہے کہ بیوی نے خیانت کی ہو اور یہ بیٹا اپنا نہ ہو بلکہ مراد ان کی شکل و صورت وغیرہ کا پہچاننا ہے کہ بیٹا فی الواقع اپنا ہو یا نہ ہو مگر جس کو بحیثیت بیٹے کے انسان پالتا ہے اس کی شکل و صورت کے پہچاننے میں کبھی اشتباہ نہیں ہوتا


آیت   147



اَلۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ 


لفظی ترجمہ

 الْحَقُّ : حق   |  مِنْ : سے   |  رَّبِّکَ : آپ کا رب   |  فَلَا تَكُونَنَّ : پس آپ نہ ہوجائیں   |  مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ : شک کرنے والے 

ترجمہ

یہ قطعی ایک امر حق ہے تمہارے رب کی طرف سے لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو




No comments:

Powered by Blogger.