Surah Baqrah aayat : 151 - 152

آیات 152 - 151

آیت 151

كَمَآ اَرۡسَلۡنَا فِيۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيۡکُمۡ وَيُعَلِّمُکُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِکۡمَةَ وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ


لفظی ترجمہ

 كَمَآ : جیسا کہ   |  اَرْسَلْنَا : ہم نے بھیجا   |  فِيْكُمْ : تم میں   |  رَسُوْلًا : ایک رسول   |  مِّنْكُمْ : تم میں سے   |  يَتْلُوْا : وہ پڑھتے ہیں   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  اٰيٰتِنَا : ہمارے حکم   |  وَيُزَكِّيْكُمْ : اور پاک کرتے ہیں تمہیں   |  وَيُعَلِّمُكُمُ : اور سکھاتے ہیں تم کو   |  الْكِتٰبَ : کتاب   |  وَالْحِكْمَةَ : اور حکمت   |  وَيُعَلِّمُكُمْ : اور سکھاتے ہیں تمہیں   |  مَّا : جو   |  لَمْ تَكُوْنُوْا : تم نہ تھے   |  تَعْلَمُوْنَ : جانتے 


ترجمہ

جس طرح تمہیں اِس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہیں میری آیات سناتا ہے تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے


تفسیر

یعنی ہم نے کعبہ کو قبلہ مقرر کرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا جو درباب مقبولیت بناء کعبہ تھی اس طرح قبول کی جس طرح ان کی دوسری دعا جو درباب بعثت محمدیہ کے تھی قبول کی کہ تم لوگوں میں ہم نے ایک عظیم الشان رسول کو بھیجا جو کہ تم ہی میں سےہیں اور وہ ہماری آیات و احکام پڑھ پڑھ کر تم کو سناتے ہیں اور خیالات و رسوم جہالت سے تمہاری صفائی کرتے رہتے ہیں اور تم کو کتاب الہی اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور تم کو ایسی مفید باتیں تعلیم کرتے ہیں جن کی تم کو خبر بھی نہ تھی اور نہ کتب سابقہ یا عقل ان کے لئے کافی تھی اور اس شان کے رسول کے مبعوث ہونے کی ابراہیم علیہ السلام کی دعاء تھی سو اس کا ظہور ہوگیا ان مذکورہ نعمتوں پر مجھ کو منعم ہونے کی حیثیت سے یاد کرو میں تم کو عنایت سے یاد رکھوں گا اور میری نعمت کی شکر گذاری کرو اور انکار نعمت یا ترک اطاعت سے میری ناسپاسی مت کرو


یہاں تک قبلہ کی بحث چلی آرہی تھی اب اس بحث کو ایسے مضمون پر ختم فرمایا گیا ہے جو اس بحث کی تمہید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بانی کعبہ کی دعا میں ضمناً آیا تھا یعنی رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کا اولاد ابراہیم علیہ السلام میں ایک خاص شان کے ساتھ مبعوث ہونا اس میں اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی بعثت میں بانی کعبہ کی دعا کو بھی دخل ہے اس لئے اگر ان کا قبلہ کعبہ کو بنادیا گیا تو اس میں کوئی تعجب یا انکار کی بات نہیں ہے

كَمَآ اَرْسَلْنَا میں حرف کاف جو تشبیہ کے لئے آتا ہے اس کی ایک توجیہ تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر سے معلوم ہوچکی ہے دوسری ایک توجیہ یہ بھی ہوسکتی ہے جس کو قرطبی نے اختیار کیا ہے کہ اس حرف کاف کا تعلق بعد کی آیت فاذْكُرُوْنِيْٓ سے ہے اور معنی یہ ہیں کہ جیسا ہم نے تم پر ایک نعمت قبلہ کی پھر دوسری نعمت رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی مبذول فرمائی ہے ایسی ہی نعمت ذکر اللّه بھی ہے ان سب نعمتوں کا شکر ادا کرو تاکہ یہ نعمتیں اور زیادہ ہوجائیں قرطبی نے فرمایا کہ كَمَآ اَرْسَلْنَا کا کاف یہاں ایسا ہی ہے جیسے انفال میں كَمَآ اَخرَجَکَ اور سورة حجر میں كَمَآ اَنزلنا علی المقتَسمین آیا ہے

فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ ذکر کے اصلی معنی یاد کرنے کے ہیں جس کا تعلق قلب سے ہے زبان سے ذکر کرنے کو بھی ذکر اس لئے کہا جاتا ہے کہ زبان ترجمان قلب ہے اس سے معلوم ہوا کہ ذکر زبانی وہی معتبر ہے جس کے ساتھ دل میں بھی اللّه کی یاد ہو مولانا رومی نے اسی کے متعلق فرمایا بر زبان تسبیح در دل گاؤ خر ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص زبان سے ذکر و تسبیح میں مشغول ہو مگر اس کا دل حاضر نہ ہو اور ذکر میں نہ لگے تو وہ بھی فائدہ سے خالی نہیں۔ حضرت ابوعثمان سے کسی نے ایسی ہی حالت کی شکایت کی کہ ہم زبان سے ذکر کرتے ہیں مگر قلوب میں اس کی کوئی حلاوت محسوس نہیں کرتے آپ نے 
فرمایا اس پر بھی اللّه تعالیٰ کا شکر کرو کہ اس نے تمہارے ایک عضو یعنی زبان کو تو اپنی اطاعت میں لگا لیا
            (قرطبی)       


آیت   152

فَاذۡكُرُوۡنِىۡٓ اَذۡكُرۡكُمۡ وَاشۡکُرُوۡا لِىۡ وَلَا تَكۡفُرُوۡنِ 


لفظی ترجمہ

 فَاذْكُرُوْنِيْٓ: سو یاد کرو مجھے   |  اَذْكُرْكُمْ : میں یاد رکھوں گا تمہیں   |  وَاشْكُرُوْا لِيْ : اور تم شکر کرو میرا   |  وَلَا : اور نہ   |  تَكْفُرُوْنِ : ناشکری کرو میری 


ترجمہ

لہٰذا تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو کفران نعمت نہ کرو  


تفسیر

ذکر اللّه کے فضائل بے شمار ہیں اور یہی ایک فضیلت کچھ کم نہیں ہے کہ جو بندہ اللّه تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللّه تعالیٰ بھی اسے یاد فرماتے ہیں ابو عثمان نہدی نے کہا کہ میں اس وقت کو جانتا ہوں جس وقت اللّه تعالیٰ ہمیں یاد فرماتے ہیں لوگوں نے کہا کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوسکتا ہے فرمایا اس لئے کہ قرآن کریم کے وعدے کے مطابق جب کوئی بندہ مومن اللّه تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللّه تعالیٰ بھی اسے یاد کرتے ہیں اس لئے سب کو یہ سمجھ لینا آسان ہے کہ جس وقت ہم اللّه تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوں گے تو اللّه تعالیٰ بھی یاد فرمائیں گے

اور معنی آیت کے یہ بھی ہیں کہ تم مجھے اطاعت احکام کے ساتھ یاد کرو تو میں تمہیں ثواب اور مغفرت کے ساتھ یاد کروں گا حضرت سعید بن جبیر نے ذکر اللّه کی تفسیر ہی اطاعت و فرمانبرداری سے کی ہے وہ فرماتے ہیں
فمن لم یطعہ لم یذکرہ وان کثر صلوتہ و تسبیحہ
 یعنی جس نے اللّه تعالیٰ کے احکام کی پیروی نہ کی اس نے اللّه کو یاد نہیں کیا اگرچہ ظاہر میں اس کی نماز اور تسبیح کتنی بھی ہو
ذکر اللّه کی اصل حقیقت
قرطبی نے بحوالہ احکام القرآن ابن خویز منذاذ ایک حدیث بھی اس مضمون کی نقل کہ ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللّه تعالیٰ کی اطاعت کی یعنی اس کے احکام حلال و حرام کا اتباع کیا اس نے اللّه کو یاد کیا اگرچہ اس کی نفل نماز روزہ وغیرہ کم ہوں اور جس نے احکام خداوندی کی خلاف ورزی کی اس نے اللّه کو بھلا دیا اگرچہ بظاہر اس کی نماز روزہ تسبیحات وغیرہ زیادہ ہوں

حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا کہ جو شخص حقیقی طور پر اللّه کو یاد کرتا ہے وہ اس کے مقابلے میں ساری چیزوں کو بھول جاتا ہے اور اس کے بدلہ میں اللّه تعالیٰ خود اس کے لئے ساری چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں اور تمام چیزوں کا عوض اس کو عطا کردیتے ہیں

اور حضرت معاذ نے فرمایا کہ انسان کا کوئی عمل اس کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے میں ذکر اللّه کے برابر نہیں اور ایک حدیث قدسی بروایت ابوہریرہ میں ہے کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب تک وہ مجھے یاد کرتا ہے اور میرے ذکر میں اس کے ہونٹ ہلتے رہیں ذکر اللّه کے فضائل بیشمار ہیں ان کا مختصر خلاصہ احقر نے اپنے رسالہ ذکر اللّه میں جمع کردیا ہے۔







No comments:

Powered by Blogger.