Surah Baqrah aayat :153 - 155 Rukoo 19
آیات 155 - 153
رکوع 19
آیت 153
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ
لفظی ترجمہ
يٰٓاَيُّهَا : اے | الَّذِيْنَ : جو کہ | اٰمَنُوا : ایمان لائے | اسْتَعِيْنُوْا : تم مدد مانگو | بِالصَّبْرِ : صبر سے | وَالصَّلٰوةِ : اور نماز | اِنَّ : بیشک | اللّٰهَ : اللّه | مَعَ : ساتھ | الصّٰبِرِيْن : صبر کرنے والے
ترجمہ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو صبر اور نماز سے مدد لو اللّه صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
تفسیر
ربط تحویل قبلہ میں جو مخالفین کی طرف سے اعتراض تھا اس کے دو اثر تھے ایک مذہب اسلام پر کہ اعتراض سے مذہب کی حقانیت میں شبہ پیدا کیا جایا کرتا ہے اوپر کی آیتوں میں اس اعتراض کا جواب دے کر اس کا اثر کا دفع کرنا مقصود تھا دوسرا اثر طبائع اہل اسلام پر کہ اعتراض سے بالخصوص جواب دینے کے بعد بھی اس پر بےجا اصرار کرنے سے قلب میں رنج اور صدمہ پیدا ہوتا ہے آیت آئندہ میں تخفیف حزن کا طریقہ کہ صبر وصلوۃ ہے بتلا کر اس دوسرے اثر کو زائل فرماتے ہیں
اے ایمان والو طبیعتوں میں غم ہلکا کرنے کے بارے میں صبر اور نماز سے سہارا اور مدد حاصل کرو بلاشبہ حق تعالیٰ ہر طرح سے صبر کرنے والوں کے ساتھ رہتے ہیں
اور نماز پڑھنے والوں کے ساتھ تو بدرجہ اولیٰ وجہ یہ کہ نماز سب سے بڑی عبادت ہے جب صبر میں یہ وعدہ ہے تو نماز جو اس سے بڑھ کر ہے اس میں تو بدرجہ اولیٰ یہ بشارت ہوگی
اِسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ اس آیت میں یہ ہدایت ہے کہ انسان کی تمام حوائج و ضروریات کے پورا کرنے اور تمام آفات و مصائب اور تکالیف کو دور کرنے کا نسخہ اکسیر دو جزء سے مرکب ہے ایک صبر دوسرے نماز اور اس نسخہ کے تمام حوائج اور تمام مصائب کے لئے عام ہونے کی طرف قرآن عظیم نے اس طرح سے اشارہ کردیا ہے کہ اِسْتَعِيْنُوْا کو عام چھوڑا ہے کوئی خاص چیز ذکر نہیں فرمائی کہ فلاں کام میں ان دونوں چیزوں سے مدد حاصل کرو
اس سے معلوم ہوا کہ یہ دو چیزیں ایسی ہیں کہ ان سے انسان کی ہر ضرورت میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے تفسیر مظہری میں اس عموم کو واضح کردیا ہے اب اس دو جزئی نسخے کے دونوں اجزاء کو سمجھ لیجئے
صبر کی اصل حقیقت
صبر کے اصلی معنی اپنے نفس کو روکنے اور اس پر قابو پانے کے ہیں قرآن وسنت کی اصطلاح میں صبر کے تین شعبے ہیں ایک اپنے نفس کو حرام و ناجائز چیزوں سے روکنا۔ دوسرے طاعات و عبادات کی پابندی پر مجبور کرنا تیسرے مصائب وآفات پر صبر کرنا یعنی جو مصیبت آگئی اس کو اللّه تعالیٰ کی طرف سے سمجھنا اور اس کے ثواب کا امیدوار ہونا اس کے ساتھ اگر تکلیف و پریشانی کے اظہار کا کوئی کلمہ بھی منہ سے نکل جائے تو وہ صبر کے منافی نہیں
ذکرہ الابن کثیر عن سعید بن جبیر
یہ تینوں شعبے صبر کے فرائض میں داخل ہیں ہر مسلمان پر یہ پابندی عائد ہے کہ تینوں طرح کے صبر کا پابند ہو عوام کے نزدیک صرف تیسرے شعبے کو تو صبر کہا جاتا ہے دو شعبے جو صبر کی اصل اور بنیاد ہیں عام طور پر ان کو صبر میں داخل ہی نہیں سمجھا جاتا
قرآن و حدیث کی اصطلاح میں صابرین انھیں لوگوں کا لقب ہے جو تینوں طرح کے صبر میں ثابت قدم ہوں بعض روایات میں ہے کہ محشر میں نداء کی جائے گی کہ صابرین کہاں ہیں ؟
تو وہ لوگ جو تینوں طرح کے صبر پر قائم رہ کر زندگی سے گذرے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں گے اور ان کو بلاحساب جنت میں داخلہ کی اجازت دے دیجائے گی ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کرکے فرمایا کہ آیت قرآن
اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
(١٠: ٣٩)
سے بھی اس طرف اشارہ ہوتا ہے نماز دوسرا جزء اس نسخہ کا جو تمام انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور تمام پریشانیوں اور آفتوں سے نجات دلانے میں اکسیر ہے نماز ہے صبر کی جو تفسیر ابھی لکھی گئی ہے اس سے معلوم ہوگیا ہے کہ درحقیقت نماز اور تمام عبادات صبر ہی کے جزئیات ہیں مگر نماز کو جداگانہ بیان اس لئے کردیا کہ تمام عبادات میں سے نماز ایک ایسی عبادت ہے جو صبر کا مکمل نمونہ ہے کیونکہ نماز کی حالت میں نفس کو عبادت وطاعت پر محبوس بھی کیا جاتا ہے اور تمام معاصی ومکروہات سے بلکہ بہت سے مباحات سے بھی نفس کو بحالت نماز روکا جاتا ہے اس لئے صبر جس کے معنی نفس کو اپنے قابو میں رکھ کر تمام طاعات کا پیرو اور تمام معاصی سے مجتنب و بیزار بنانا ہے نماز اس کی ایک عملی تمثیل ہے اس کے علاوہ نماز کو انسان کی تمام حاجات کے پورا کرنے اور تمام آفتوں مصیبتوں سے نجات دلانے میں ایک خاص تاثیر بھی ہے گو اس کی وجہ اور سبب معلوم نہ ہو جیسے دواؤں میں بہت سی ادویات کو مؤ ثر بالخاصہ تسلیم کیا جاتا ہے یعنی کیفیات حرارت وبرودت کے حساب سے جیسے کسی خاص مرض کے ازالہ کے لئے بعض دوائیں بالخاصہ مؤ ثر ہوتی ہیں جیسے درد گردہ کے لئے فرنگی دانہ کو ہاتھ یا منہ میں رکھنا اور بہت سے امراض کے لئے عود صلیب وغیرہ کو گلے میں ڈالنا مؤ ثر بالخاصہ ہے سبب نامعلوم ہے لوہے کو کھنچنے میں مقناطیس مؤ ثر بالخاصہ ہے وجہ معلوم نہیں اسی طرح نماز تمام انسانی ضروریات کی کفالت اور تمام مصائب سے نجات دلانے میں
مؤ ثر باالخاصہ ہے بشرطیکہ نماز کو نماز کی طرح آداب اور خشوع خضوع کے ساتھ پڑھا جائے ہماری جو نمازیں غیر مؤ ثر نظر آتی ہیں اس کا سبب ہمارا قصور ہے کہ نماز کے آداب اور خشوع و خضوع میں کوتاہی ہوتی ہے ورنہ رسول اللّه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب کوئی مہم پیش آتی تو نماز کی طرف رجوع فرماتے تھے اور اس کی برکت سے اللّه تعالیٰ اس مہم کو پورا فرما دیتے تھے حدیث میں ہے
اذاحزبہ امر فزع الی الصلوٰۃ۔ یعنی رسول اللّه صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کو جب کوئی ضرورت پیش آتی تو نماز کی طرف رجوع فرمایا کرتے تھے صبر اور نماز تمام مشکلات و مصائب سے نجات کا سبب اس لئے ہے کہ صبر سے اللّه تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے
اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ اس کلمہ میں اس کا راز بتلا دیا
گیا ہے کہ صبر حل مشکلات اور دفع مصائب کا سبب کیسے بنتا ہے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ صبر کے نتیجہ میں انسان کو حق تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جس شخص کے ساتھ رب العزت کی طاقت ہو اس کا کونسا کام رک سکتا ہے اور کونسی مصیبت اس کو عاجز کرسکتی ہے
آیت 154
وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَلَا : اور نہ | تَقُوْلُوْا : کہو | لِمَنْ : اسے جو | يُّقْتَلُ : مارے جائیں | فِيْ : میں | سَبِيْلِ : راستہ | اللّٰهِ : اللّه | اَمْوَاتٌ: مردہ | بَلْ : بلکہ | اَحْيَآءٌ:زندہ ہیں | وَّلٰكِنْ : اور لیکن | لَّا تَشْعُرُوْنَ : تم شعور نہیں رکھتے
ترجمہ
اور جو لوگ اللّه کی راہ میں مارے جائیں انہیں مُردہ نہ کہو ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا
تفسیر
ربط اوپر ایک خاص ناگوار واقعہ میں صبر کی تعلیم اور صابرین کی فضیلت بیان فرمائی تھی آیات آئندہ میں اور بھی بعض واقعات خلاف طبع کی تفصیل اور اس میں صبر کی ترغیب اور فضیلت بیان فرماتے ہیں جن میں قتل و قتال مع الکفار کا مضمون مقدم فرماتے ہیں دو وجہ سے اول بوجہ اعظم ہونے کے کہ اعظم پر صبر کرنے والا اصغر پر بدرجہ اولی صبر کرے گا دوسرے خاص طور پر مناسب مقام ہونے کی وجہ سے کیونکہ معترضین مذکورین کے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا تھا
اور جو لوگ اللّه کی راہ میں یعنی دین کے واسطے قتل کئے جاتے ہیں ان کی ایسی فضیلت ہے کہ ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ معمولی مردوں کی طرح مردے ہیں بلکہ وہ لوگ ایک ممتاز حیات کے ساتھ زندہ ہیں لیکن تم اپنے موجودہ حواس سے اس حیات کا ادراک نہیں سکتے اور دیکھو ہم صفت رضا و تسلیم میں جو کہ مقتضا ایمان کا ہے تمہارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف سے جو کہ ہجوم مخالفین یا نزول حوادث وشدائد سے پیش آۓ اور کسی قدر فقرو فاقہ سے اور کسی قدر مال اور جان اور پھلوں کی کمی سے مثلا مویشی مرگئے یا کوئی آدمی مرگیا یا بیمار ہوگیا یا پھل اور کھیتی کی پیداوار تلف ہوگئی پس تم صبر کرنا اور جو لوگ ان امتحانوں میں پورے اتر آویں اور مستقل رہیں تو آپ ایسے صابرین کو بشارت سنا دیجئے جن کی یہ عادت ہے کہ ان پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ دل سے سمجھ کر یوں کہتے ہیں کہ ہم تو مع مال واولاد حقیقۃً اللّه تعالیٰ ہی کی ملک ہیں اور مالک حقیقی کو اپنی ملک میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار حاصل ہے اس سے مملوک کا تنگ ہونا کیا معنی اور ہم سب دنیا سے اللّه تعالیٰ ہی کے پاس جانے والے ہیں سو یہاں کے نقصانوں کا بدلہ وہاں جاکر رہے گا اور جو مضمون بشارت کا ان کو سنایا جائے گا وہ یہ ہے کہ ان لوگوں پر جدا جدا خاص خاص رحمتیں بھی ان کے پروردگار کی طرف سے مبذول ہوں گی اور سب پر بالاشتراک عام رحمت بھی ہوگی اور یہی لوگ ہیں جن کی حقیقت حال تک رسائی ہوگئی کہ حق تعالیٰ کو ہر چیز کا مالک اور نقصان کا تدارک کردینے والا سمجھ گئے
شہدا اور انبیاء کی حیات برزخی اور اس کے درجات میں تفاضل یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اسلامی روایات کی رو سے ہر مرنے والے کو برزخ میں ایک خاص قسم کی حیات ملتی ہے جس سے وہ قبر کے عذاب یا ثواب کو محسوس کرتا ہے اس میں مومن و کافر یا صالح وفاسق میں کوئی تفریق نہیں لیکن اس حیات برزخی کے مختلف درجات ہیں ایک درجہ تو سب کو عام اور شامل ہے کچھ مخصوص درجے انبیاء و صالحین کے لئے مخصوص ہیں اور ان میں بھی باہمی تفاضل ہے اس مسئلہ کی تحقیق پر علماء کے مقالات وتحقیقات بیشمار ہیں لیکن ان میں سے جو بات اقرب الی الکتاب والسنت ہے اور شبہات سے پاک ہے اس کو سیدی حضرت حکیم الامت تھانوی نے بیان القرآن میں واضح فرمایا ہے اس جگہ اسی کو نقل کرنا کافی معلوم ہوا
فایسے مقتول کو جو اللّه کی راہ میں قتل کیا جائے شہید کہتے ہیں اور اس کی نسبت گو یہ کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جائز ہے لیکن اس کی موت کو دوسرے مردوں کی سی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ بعد مرنے کے گو برزخی حیات میں اور مردوں سے ایک گونہ امتیاز ہے اور وہ امتیاز یہ ہے کہ اس کی یہ حیات آثار میں اوروں سے قوی ہے جیسے انگلیوں کے اگلے پوروے اور ایڑی اگرچہ دونوں میں حیات ہے اور حیات کے آثار بھی دونوں میں موجود ہیں لیکن انگلیوں کے پوروں میں حیات کے آثار احساس وغیرہ بہ نسبت ایڑی کے زیادہ ہیں اسی طرح شہداء میں آثار حیات عام مردوں سے بہت زیادہ ہیں حتیٰ کے شہید کی اس حیات کی قوت کا ایک اثر برخلاف معمولی مردوں کے اس کے جسد ظاہری تک بھی پہنچا ہے کہ اس کا جسم باوجود مجموعہ گوشت و پوست ہونے کے خاک سے متاثر نہیں ہوتا اور مثل جسم زندہ کے صحیح سالم رہتا ہے جیسا کہ احادیث اور مشاہدات شاہد ہیں پس اس امتیاز کی وجہ سے شہداء کو احیاء کہا گیا اور ان کو دوسرے اموات کے برابر اموات کہنے کی ممانعت کی گئی مگر احکام ظاہرہ میں وہ عام مردوں کی طرح ہیں ان کی میراث تقسیم ہوتی ہے اور ان کی بیویاں دوسروں سے نکاح کرسکتی ہیں اور یہی حیات ہے جس میں حضرات انبیاء علیہم السلام شہداء سے بھی زیادہ امتیاز اور قوت رکھتے ہیں یہاں تک کہ سلامت جسم کے علاوہ اس حیات برزخی کے کچھ آثار ظاہری احکام پر بھی پڑتے ہیں مثلاً ان کی میراث تقسیم نہیں ہوتی ان کی ازواج دوسروں کے نکاح میں نہیں آسکتیں
پس اس حیات میں سب سے قوی تر انبیاء علیہم السلام ہیں پھر شہداء پھر اور معمولی مردے البتہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اولیاء و صالحین بھی اس فضیلت میں شہداء کے شریک ہیں سو مجاہدہ نفس میں مرنے کو بھی معنی شہادت میں داخل سمجھیں گے اس طور پر وہ بھی شہداء ہوگئے یا یوں کہا جائے کہ آیت میں شہداء کی تخصیص عام قرون کے اعتبار سے ہے شہداء کے ہم مرتبہ دوسرے لوگ صالحین وصدیقین کے اعتبار سے نہیں اور اگر کسی شخص نے کسی شہید کی لاش کو خاک خوردہ پایا ہو تو سمجھ لے کہ ممکن ہے اس کی نیت خالص نہ ہو جس پر مدار ہے قتل کے شہادت ہونے کا اور صرف قتل شہادت نہیں ہے اور اگر فرضاً ایسا شہید خاک خوردہ پایا جائے جس کا قتل فی سبیل اللّه اور اس کا جامع شرائط شہادت ہونا دلیل قطعی تواتر وغیرہ سے ثابت ہو جس کا شبہ صاحب روح المعانی کو ہوگیا ہے تو اس کی وجہ میں کہا جائے گا کہ حدیث میں جس چیز کی تصریح ہے وہ یہ انبیاء علیہم السلام وشہدا کے جسم کو زمین نہیں کھاتی یعنی مٹی ان کے جسم کو خراب نہیں کرسکتی اجزاء ارضیہ مٹی وغیرہ کے علاوہ کسی دوسری چیز سے ان کے جسم کا متاثر ہو کر فنا ہوجانا پھر بھی ممکن ہے کیونکہ زمین میں اور بھی بہت سی اقسام و انواع کی دھاتیں اور ان کے اجزاء اللّه تعالیٰ نے رکھ دیئے ہیں اگر ان کی وجہ سے کسی شہید کا جسم متاثر ہوجائے تو اس آیت کے منافی نہیں۔
چنانچہ دوسرے اجسام مرکبہ مثل اسلحہ وادویہ واغذیہ واخلاط و اجسام بسیطہ مثل آب وآتش وباد کی تاثیر انبیاء علیہم السلام کے اجساد میں بھی ثابت ہے اور شہداء کی حیات بعد الممات انبیاء علیہم السلام کی حیات قبل الممات سے اقویٰ نہیں اور بعض حصہ ارض میں بعض اجزاء غیر ارضیہ بھی شامل ہوجاتے ہیں جس طرح دوسرے عناصر میں بھی مختلف عناصر شامل ہوجاتے ہیں سو اگر ان اجزائے غیر ارضیہ سے ان کے اجساد متأثر ہوجاویں تو اس سے ان احادیث پر اشکال نہیں ہوتا جن میں حرمت اجساد علی الارض وارد ہے
اور ایک جواب یہ ہے کہ امتیاز اجساد شہداء کے لئے یہ کافی ہے کہ دوسری اموات سے زیادہ مدت تک ان کے اجساد خاک سے متأثر نہ ہوں گو کسی وقت میں ہوجائیں اور احادیث سے یہی امر مقصود کہا جاوے کہ ان کی محفوظیت اجساد کی خارق عادت ہے اور خرق عادت کی دونوں صورتیں ہیں حفظ مؤ بد اور حفظ طویل اور چونکہ عالم برزخ حواس یعنی آنکھ کان ناک ہاتھ وغیرہ سے مدرک نہیں ہوتا اس لئے لا تشعرون فرمایا گیا کہ تم ان کی حیات کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔
آیت 155
وَلَـنَبۡلُوَنَّكُمۡ بِشَىۡءٍ مِّنَ الۡخَـوۡفِ وَالۡجُـوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَۙ
لفظی ترجمہ
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ : اور ضرور ہم آزمائیں گے تمہیں | بِشَيْءٍ : کچھ | مِّنَ : سے | الْخَوْفِ : خوف | وَالْجُوْعِ : اور بھوک | وَنَقْصٍ : اور نقصان | مِّنَ : سے | الْاَمْوَالِ : مال (جمع) | وَالْاَنْفُسِ : اور جان (جمع) | وَالثَّمَرٰتِ : اور پھل (جمع) | وَبَشِّرِ : اور خوشخبری دیں آپ | الصّٰبِرِيْن : صبر کرنے والے
ترجمہ
اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے

No comments: