Surah Baqrah aayat 159-161
آیات 161 - 159
آیت 159
اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ وَالۡهُدٰى مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِى الۡكِتٰبِۙ اُولٰٓئِكَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلۡعَنُهُمُ اللّٰعِنُوۡنَۙ
لفظی ترجمہ
اِنَّ : بیشک | الَّذِيْنَ : جو لوگ | يَكْتُمُوْنَ : چھپاتے ہیں | مَآ : جو | اَنْزَلْنَا : ہم نے نازل کیا | مِنَ : سے | الْبَيِّنٰتِ : کھلی نشانیاں | وَالْهُدٰى: اور ہدایت | مِنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد | مَا بَيَّنّٰهُ : ہم نے واضح کردا | لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے | فِي الْكِتٰبِ : کتاب میں | واُولٰٓئِكَ : اور یہی لوگ | يَلْعَنُهُمُ : لعنت کرتا ہے ان پر | اللّٰهُ : اللّه | وَيَلْعَنُهُمُ : اور لعنت کرتے ہیں ان پر | اللّٰعِنُوْنَ : لعنت کرنے والے
ترجمہ
جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں درآں حالیکہ ہم انہیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں یقین جانو کہ اللّه بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی اُن پر لعنت بھیجتے ہیں
تفسیر
ربط اوپر بحث قبلہ کے ضمن میں صاحب قبلہ کی نبوت کے متعلق اہل کتاب کی حق پوشی کا مضمون مذکور تھا اس آیت میں اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗا الی قولہ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ آگے اس مضمون کی تکمیل کے واسطے حق کو چھپانے والوں کی اور کتمانِ حق پر اصرار کرنے والوں کی وعید اور توبہ کرنے پر معافی کا وعدہ ارشاد فرماتے ہیں۔
خلاصہ تفسیر
جو لوگ اخفاء کرتے ہیں ان مضامین کا جن کو ہم نے نازل کیا ہے جو کہ (اپنی ذات میں) واضح ہیں اور (دوسروں کے لئے) ہادی ہیں (اور اخفاء بھی) اس (حالت) کے بعد کہ ہم ان (مضامین) کو کتاب (الہیٰ توراۃ و انجیل) میں (نازل فرما کر) عام لوگوں پر ظاہر کرچکے ہوں ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت فرماتے ہیں (کہ اپنی رحمت خاصہ سے ان کو بعید کردیتے ہیں) اور (دوسرے بہتیرے) لعنت کرنے والے بھی (جن کو اس فعل سے نفرت ہے) ان پر لعنت بھیجتے ہیں (کہ ان پر بد دعا کرتے ہیں ہاں) مگر جو لوگ (ان اخفاء کرنے والوں میں اپنی اس حرکت سے) توبہ (یعنی حق تعالیٰ کے رو برو گذشتہ سے معذرت) کرلیں اور (جو کچھ ان کے اس فعل سے خرابی ہوگئی تھی آئندہ کے لئے اس کی) اصلاح کردیں ( اور اس اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ ان اخفاء کئے ہوئے مضامین کو عام طور پر) ظاہر کردیں (تاکہ سب کو اطلاع ہوجائے اور ان پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا بار نہ رہے اور اظہار معتبر عند الشرع یہ ہے کہ اسلام کو قبول کرلیں کیونکہ اسلام نہ لانے میں نبوت محمدیہ کے متعلق عوام پر بھی حق مخفی رہے گا وہ یہی سمجھیں گے کہ اگر نبوت حق ہوتی تو یہ کتاب جاننے والے لوگ کیوں نہ ایمان لاتے خلاصہ یہ کہ یہ لوگ مسلمان ہوجاویں) تو ایسے لوگوں (کے حال) پر میں (عنایت سے) متوجہ ہوجاتا ہوں (اور ان کی خطاء معاف کردیتا ہوں) اور میری تو بکثرت عادت ہے تو یہ قبول کرلینا اور مہربانی فرمانا (کوئی توبہ کرنے والا ہونا چاہئے) البتہ جو لوگ (ان میں سے) اسلام نہ لاویں اور اسی حالت غیر اسلام پر مرجاویں ایسے لوگوں پر (وہ) لعنت (مذکورہ) اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں اور آدمیوں کی بھی سب کی (ایسے طور پر برسا کرے گی کہ) وہ ہمیشہ ہمیشہ کو اسی (لعنت) میں رہیں گے (حاصل یہ کہ وہ جہنم میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوں گے اور ہمیشہ کا جہنم میں رہنے والا ہمیشہ ہی خدا کی خاص رحمت سے دور بھی رہے گا اور ہمیشہ ملعون رہنا یہی ہے اور ہمیشگی لعنت کے ساتھ یہ بھی ہے کہ داخل ہونے کے بعد کسی وقت) ان (پر) سے (جہنم کا) عذاب ہلکا (بھی) نہ ہونے پاوے گا اور نہ (داخل ہونے کے قبل) ان کو (کسی میعاد تک) مہلت دی جاوے گی (کیونکہ میعاد اس وقت دی جاتی ہے جب کہ مقدمہ میں گنجائش ہو اور گنجائش نہ ہونے پر اول ہی پیشی میں حکم سزا ہوجاتا ہے)
معارف و مسائل
علم دین کا اظہار اور پھیلانا واجب اور اس کا چھپانا سخت حرام ہے
آیت مذکورہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایات بینات نازل کی گئی ہیں ان کا لوگوں سے چھپانا اتنا بڑا جرم عظیم ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت کرتے ہیں اور تمام مخلوق لعنت بھیجتی ہے اس سے چند احکام حاصل ہوئے اولیہ کہ جس علم کے اظہار اور پھیلانے کی ضرورت ہے اس کا چھپانا حرام ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : من سئل عن علم یعلمہ فکتمہ الجمہ اللہ یوم القیامۃ بلجام من النار (رواہ ابوہریرۃ وعمروبن العاص اخرجہ ابن ماجۃ (ازقرطبی) " یعنی جو شخص دین کے کسی حکم کا علم رکھتا ہے اور اس سے وہ حکم دریافت کیا جائے اگر وہ اس کو چھپائے گا تو قیامت کے روز اس کے منہ میں اللہ تعالیٰ آگ کا لگام ڈالیں گے،حضرات فقہاء نے فرمایا کہ یہ وعید اس صورت میں ہے جب کہ اس کے سوا کوئی دوسرا آدمی مسئلہ کا بیان کرنے والا وہاں موجود نہ ہو اور اگر دوسرے علماء بھی موجود ہوں تو گنجائش ہے کہ یہ کہہ دے کہ دوسرے علماء سے دریافت کرلو (قرطبی، جصاص) دوسریبات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ جس کو خود صحیح علم حاصل نہیں اس کو مسائل و احکام بتانے کی جرأت نہیں کرنا چاہئے،تیسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ علم کو چھپانے کی یہ سخت وعید انہیں علوم و مسائل کے متعلق ہے جو قرآن وسنت میں واضح بیان کئے گئے ہیں اور جن کے ظاہر کرنے اور پھیلانے کی ضرورت ہے وہ باریک اور دقیق مسائل جو عوام نہ سمجھ سکیں بلکہ خطرہ ہو کہ وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا ہوجائیں گے تو ایسے مسائل و احکام کا عوام کے سامنے بیان نہ کرنا ہی بہتر ہے اور وہ کتمان علم کے حکم میں نہیں ہے آیت مذکورہ میں لفظ من البینات والھدے سے اسی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ایسے ہی مسائل کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ تم اگر عوام کو ایسی حدیثیں سناؤ گے جن کو وہ پوری طرح نہ سمجھ سکیں تو ان کو فتنہ میں مبتلا کردو گے (قرطبی) اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے انہوں نے فرمایا کہ عام لوگوں کے سامنے صرف اتنے ہی علم کا اظہار کرو جس کو ان کی عقل وفہم برداشت کرسکے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تکذیب کریں کیونکہ جو بات ان کی سمجھ سے باہر ہوگی ان کے دلوں میں اس سے شبہات وخدشات پیدا ہوں گے اور ممکن ہے کہ اس سے انکار کر بیٹھیں
اس سے معلوم ہوا کہ عالم کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ مخاطب کے حالات کا اندازہ لگا کر کلام کرے جس شخص کے غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو اس کے سامنے ایسے مسائل بیان ہی نہ کرے اسی لئے حضرات فقہاء بہت سے مسائل کے بیان کے بعد لکھ دیتے ہیں مما یعرف ولا یعرف یعنی یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اہل علم کو خود تو سمجھ لینا چاہئے مگر عوام میں پھیلانا نہیں چاہتا ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لا تمنعوا الحکمۃ اہلھا فتظلموھم ولا تضعوھا فی غیر اہلھا فتظلموھا۔ یعنی حکمت کی بات کو ایسے لوگوں سے نہ روکو جو اس بات کے اہل ہوں اگر تم نے ایسا کیا تو ان لوگوں پر ظلم ہوگا اور جو اہل نہیں ہیں ان کے سامنے حکمت کی باتیں نہ رکھو کیونکہ اس صورت میں اس حکمت پر ظلم ہوگا،امام قرطبی نے فرمایا کہ اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کسی کافر کو جو مسلمانوں کے مقابلہ میں مناظرے کرتا ہو یا کوئی مبتدع گمراہ جو لوگوں کو اپنے غلط خیالات کی طرف دعوت دیتا ہو اس کو علم دین سکھانا اس وقت تک جائز نہیں جب تک یہ ظن غالب نہ ہوجائے کہ علم سکھانے سے اس کے خیالات درست ہوجائیں گے،اسی طرح کسی بادشاہ یا حاکم وقت کو ایسے مسائل بتلانا جن کے ذریعہ وہ رعیت پر ظلم کرنے کا راستہ نکال لیں جائز نہیں اسی طرح عوام کے سامنے احکام دین میں رخصتیں اور حیلوں کی صورتیں بلا ضرورت بیان نہ کرنا چاہئے جس کی وجہ سے وہ احکام دین پر عمل کرنے میں حیلہ جوئی کے عادی بن جائیں
(قرطبی)
حدیث رسول بھی قرآن کے حکم میں ہے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر قرآن کی یہ آیت نہ ہوتی تو میں تم سے کوئی حدیث بیان نہ کرتا آیت سے مراد یہی آیت ہے جس میں کتمان علم پر لعنت کی وعید شدید مذکور ہے ایسے ہی بعض دوسرے صحابہ کرام نے بھی بعض روایات حدیث کے ذکر کرنے کے ساتھ ایسے ہی الفاظ فرمائے کہ اگر قرآن کریم کی یہ آیت کتمان علم کے بارے میں نہ ہوتی تو میں یہ حدیث بیان نہ کرتا
ان روایات سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام (رض) اجمعین کے نزدیک حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن ہی کے حکم میں ہے کیونکہ آیت میں تو کتمان کی وعید ان لوگوں کے لئے آئی ہے جو قرآن میں نازل شدہ ہدایات وبینات کو چھپائیں اس میں حدیث کا صراحۃ ذکر نہیں لیکن صحابہ کرام (رض) اجمعین نے حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی قرآن ہی کے حکم میں سمجھ کر اس کے اخفاء کرنے کو اس وعید کا سبب سمجھا۔
بعض گناہوں کا وبال ایسا ہوتا ہے کہ اس پر ساری مخلوق لعنت کرتی ہے
وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ میں قرآن کریم نے لعنت کرنے والوں کو متعین نہیں کیا کہ کون لوگ لعنت کرتے ہیں امام تفسیر مجاہد اور عکرمہ نے فرمایا کہ اس عدم تعیین سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ دنیا کی ہر چیز اور ہر مخلوق ان پر لعنت کرتی ہے یہاں تک کہ تمام جانور اور حشرات الارض بھی ان پر لعنت کرتے ہیں کیونکہ ان کی بداعمالی سے ان سب مخلوقات کو نقصان پہونچتا ہے حضرت براء بن عازب کی حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ اللاّٰعِنُوْنَ مراد تمام زمین پر چلنے والے جانور ہیں
(قرطبی بحوالہ ابن ماجہ باسناد حسن)
آیت 160
اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاَصۡلَحُوۡا وَبَيَّـنُوۡا فَاُولٰٓئِكَ اَ تُوۡبُ عَلَيۡهِمۡۚ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ
لفظی ترجمہ
اِلَّا : سوائے | الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو | تَابُوْا : جنہوں نے توبہ کی | وَاَصْلَحُوْا : اور اصلاح کی | وَبَيَّنُوْا : اور واضح کیا | فَاُولٰٓئِكَ : پس یہی لوگ ہیں | اَتُوْبُ : میں معاف کرتا ہوں | عَلَيْهِمْ : انہیں | وَاَنَا : اور میں | التَّوَّابُ : معاف کرنے والا | الرَّحِيْمُ : رحم کرنے والا
ترجمہ
البتہ جو اس روش سے باز آ جائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور جو کچھ چھپاتے تھے اُسے بیان کرنے لگیں اُن کو میں معاف کر دوں گا اور میں بڑا در گزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں
آیت 161
اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓئِكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ
لفظی ترجمہ
اِنَّ : بیشک | الَّذِيْنَ : جو لوگ | كَفَرُوْا : کافر ہوئے | وَمَاتُوْا : اور وہ مرگئے | وَھُمْ : اور وہ | كُفَّارٌ: کافر | اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ | عَلَيْهِمْ : ان پر | لَعْنَةُ : لعنت | اللّٰهِ : اللّٰه | وَالْمَلٰٓئِكَةِ : اور فرشتے | وَالنَّاسِ : اور لوگ | اَجْمَعِيْنَ : تمام
ترجمہ
جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی ان پر اللّٰه اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے
تفسیر
کسی معیین شخص پر لعنت اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کے کفر پر مرنے کا یقین نہ ہو وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ کے لفظ سے جصاص اور قرطبی وغیرہ نے یہ استنباط کیا ہے کہ جس کافر کے کفر کی حالت میں مرنے کا یقین نہ ہو اس پر لعنت کرنا جائز نہیں اور چونکہ ہمیں کسی شخص کے خاتمہ کا یقینی علم ہونے کا اب کوئی ذریعہ نہیں اس لئے کسی کافر کا نام لے کر اس پر لعنت کرنا جائز نہیں اور رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے جن کافروں پر نام لے کر لعنت کی ہے آپ کو ان کی موت علی الکفر کا منجانب اللّه علم ہوگیا تھا البتہ عام کافروں ظالموں پر بغیر تعیین کے لعنت کرنا درست نہیں ہے
اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جب لعنت کا معاملہ اتنا شدید ہے کہ کسی کافر پر بھی اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کا یقین نہ ہوجائے کہ اس کی موت کفر ہی پر ہوگی تو کسی مسلمان پر یا کسی جانور پر لعنت کیسے جائز ہوسکتی ہے اور عوام اس سے بالکل غفلت میں ہیں خصوصاً عورتیں کہ بات بات پر لعنت کے الفاظ اپنے متعلقین کے متعلق استعمال کرتی رہتی ہیں اور لعنت صرف لفظ لعنت ہی کے کہنے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے ہم معنی جو الفاظ ہیں وہ بھی لعنت ہی کے حکم میں ہیں لعنت کے اصلی معنی خدا تعالیٰ کی رحمت سے دور کرنے کے ہیں اس لئے کسی کو مردود راندہ درگاہ اللّه مارا وغیرہ کے الفاظ کہنا بھی لعنت ہی کے حکم میں ہے۔

No comments: