Surah Baqrah aayat 164-167 Rukoo 20

آیات 167 - 164
رکوع 20


 164 آیت   

اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَالۡفُلۡكِ الَّتِىۡ تَجۡرِىۡ فِى الۡبَحۡرِ بِمَا يَنۡفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَبَثَّ فِيۡهَا مِنۡ کُلِّ دَآ بَّةٍ وَّتَصۡرِيۡفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ 


لفظی ترجمہ

 اِنَّ : بیشک   |  فِيْ : میں   |  خَلْقِ : پیدائش   |  السَّمٰوٰتِ : آسمانوں   |  وَالْاَرْضِ : اور زمین   |  وَ : اور   |  اخْتِلَافِ : بدلتے رہنا   |  الَّيْلِ : رات   |  وَالنَّهَارِ : اور دن   |  وَالْفُلْكِ : اور کشتی   |  الَّتِىْ : جو کہ   |  تَجْرِيْ : بہتی ہے   |  فِي : میں   |  الْبَحْرِ : سمندر   |  بِمَا : ساتھ جو   |  يَنْفَعُ : نفع دیتی ہے   |  النَّاسَ : لوگ   |  وَمَآ : اور جو کہ   |  اَنْزَلَ : اتارا   |  اللّٰهُ : اللّه   |  مِنَ السَّمَآءِ : آسمان سے   |  مِنْ : سے   |  مَّآءٍ : پانی   |  فَاَحْيَا : پھر زندہ کیا   |  بِهِ : اس سے   |  الْاَرْضَ : زمین   |  بَعْدَ مَوْتِهَا : اس کے مرنے کے بعد   |  وَبَثَّ : اور پھیلائے   |  فِيْهَا : اس میں   |  مِنْ : سے   |  كُلِّ : ہر قسم   |  دَآبَّةٍ : جانور   |  وَّتَصْرِيْفِ : اور بدلنا   |  الرِّيٰحِ : ہوائیں   |  وَالسَّحَابِ : اور بادل   |  الْمُسَخَّرِ : تابع   |  بَيْنَ : درمیان   |  السَّمَآءِ : آسمان   |  وَالْاَرْضِ : اور زمین   |  لَاٰيٰتٍ : نشانیاں   |  لِّقَوْمٍ : لوگوں کے لیے   |  يَّعْقِلُوْنَ : ( جو) عقل والے 


ترجمہ

اِس حقیقت کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکا رہے تو جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں اُن کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں اُن کشتیوں میں جوا نسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں بارش کے اُس پانی میں جسے الٹلہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اپنے اِسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جان دار مخلوق پھیلاتا ہے ہواؤں کی گردش میں اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں بے شمار نشانیاں ہیں


تفسیر

اس کے بعد حق تعالیٰ کے واحد حقیقی ہونے پر تکوینی علامات و دلائل بتلائے گئے ہیں جن کو ہر عالم و جاہل سمجھ سکتا ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق اور رات دن کے دائمی انقلاب اس کی قدرت کاملہ اور توحید کے واضح دلائل ہیں کہ ان چیزوں کی پیدائش اور بقاء میں کسی دوسری ہستی کا کوئی دخل نہیں
اسی طرح پانی پر کشتیوں کا چلنا ایک بڑی آیت قدرت ہے کہ پانی کو حق تعالیٰ نے ایسا جوہر سیال بنادیا کہ رقیق اور سیال ہونے کے باوجود اس کی پیٹھ پر لاکھوں من وزن کے جہاز بڑے بڑے وزن کو لے کر مشرق سے مغرب تک منتقل کردیتے ہیں اور ان کو حرکت میں لانے کے لئے ہواؤں کا چلانا اور پھر اپنی حکمت کے ساتھ ان کے رخ بدلتے رہنا یہ سب اس کا پتہ دیتے ہیں کہ ان چیزوں کا پیدا کرنیوالا اور چلانے والا کوئی بڑا علیم وخبیر اور حکیم ہے اگر پانی کا مادہ سیال نہ ہو تو یہ کام نہیں ہوسکتا اور مادہ سیال بھی ہو تو جب تک ہوائیں نہ چلیں جو ان جہازوں کو حرکت میں لاتی ہیں جہازوں کا لمبی لمبی مسافتیں طے کرنا ممکن نہیں قرآن کریم نے اسی مضمون کو فرمایا
اِنْ يَّشَاْ يُسْكِنِ الرِّيْحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰي ظَهْرِهٖ
                   (٣٣: ٤٢)
 اگر اللّه تعالیٰ چاہیں تو ہواؤں کو ساکن کردیں اور یہ جہاز سمندر کی پشت پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں۔

بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ کے لفظ میں اشارہ کردیا گیا کہ بحری جہازوں کے ذریعہ ایک ملک کا سامان دوسرے ملک میں درآمد وبرآمد کرنے کے ذریعہ عام انسانوں کے بیشمار فائدے ہیں جن کو شمار بھی نہیں کیا جاسکتا اور یہ فائدے ہر زمانے ہر ملک میں نئی نئی صورتیں پیدا کردیتے ہیں
اسی طرح آسمان سے پانی کو قطرہ قطرہ کرکے اس طرح نازل کرنا کہ اس سے کسی چیز کو نقصان نہ پہنچنے اگر سیلاب کی طرح آتا تو کوئی آدمی جانور سامان کچھ نہ رہتا پھر پانی برسنے کے بعد اس کا زمین پر محفوظ رکھنا انسان کے بس کا نہیں اگر کہہ دیا جاتا کہ چھ مہینہ کے پانی کا کوٹہ اپنا اپنا ہر شخص رکھ لے تو ہر شخص اس کے رکھنے کا کیا انتظام کرتا اور کسی طرح رکھ بھی لیتا تو اس کو سڑنے اور خراب ہوجانے سے کیسے بچاتا قدرت نے یہ سب انتظامات خود فرمادئیے ارشاد فرمایا
فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ وَاِنَّا عَلٰي ذَهَابٍۢ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ 
                  (١٨: ٢٣)
 یعنی ہم نے ہی پانی کو زمین کے اندر ٹھہرا دیا اگرچہ ہمیں اس کی بھی قدرت تھی کہ بارش کا پانی برسنے کے بعد بہہ کر ختم ہوجاتا
مگر قدرت نے پانی کو اہل زمین انسان اور جانوروں کے لئے کہیں کھلے طور پر تالابوں اور حوضوں میں جمع کردیا کہیں پہاڑوں کی زمین میں پھیلی ہوئی رگوں کے ذریعہ زمین کے اندر اتار دیا اور پھر ایک غیر محسوس پائپ لائن ساری زمین میں بچھا دی ہر شخص جہاں چاہئے کھود کر پانی نکال لیتا ہے اور اسی پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بحر منجمد بنا کر برف کی صورت میں پہاڑوں کے اوپر لاد دیا جو سڑنے اور خراب ہونے سے بھی محفوظ ہے اور آہستہ آہستہ پگھل کر زمین کے اندر قدرتی پائپ لائن کے ذریعہ پورے عالم میں پہونچتا ہے غرض آیت مذکورہ میں قدرت کاملہ کے چند مظاہر کا بیان کرکے توحید کو ثابت کیا گیا علماء مفسرین نے ان تمام چیزوں پر تفصیلی بحث کی ہے دیکھئے۔ جصاص، قرطبی وغیرہ۔

آیت   165


وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡدَادًا يُّحِبُّوۡنَهُمۡ كَحُبِّ اللّٰهِؕ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ؕ وَلَوۡ يَرَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡٓا اِذۡ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَۙ اَنَّ الۡقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعَذَابِ‏ 


لفظی ترجمہ

 وَمِنَ : اور سے   |  النَّاسِ : لوگ   |  مَنْ : جو   |  يَّتَّخِذُ : بناتے ہیں   |  مِنْ : سے   |  دُوْنِ : سوائے   |  اللّٰهِ : اللّه   |  اَنْدَادًا : شریک   |  يُّحِبُّوْنَهُمْ : محبت کرتے ہیں   |  كَحُبِّ : جیسے محبت   |  اللّٰهِ : اللّه   |  وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ   |  اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے   |  اَشَدُّ : سب سے زیادہ   |  حُبًّا : محبت   |  لِّلّٰهِ : اللّه کے لیے   |  وَلَوْ : اور اگر   |  يَرَى: دیکھ لیں   |  الَّذِيْنَ : وہ جنہوں نے   |  ظَلَمُوْٓا : ظلم کیا   |  اِذْ : جب   |  يَرَوْنَ : دیکھیں گے   |  الْعَذَابَ : عذاب   |  اَنَّ : کہ   |  الْقُوَّةَ : قوت   |  لِلّٰهِ : اللّه کے لیے   |  جَمِيْعًا : تمام   |  وَّاَنَّ : اور یہ کہ   |  اللّٰهَ : اللّه   |  شَدِيْدُ : سخت   |  الْعَذَابِ : عذاب 

ترجمہ

مگر وحدت خداوندی پر دلالت کرنے والے اِن کھلے کھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللّه کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں اور اُن کے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللّه کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہیے حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللّه کو محبوب رکھتے ہیں کاش جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انہیں سُوجھنے والا ہے وہ آج ہی اِن ظالموں کو سوجھ جائے کہ ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللّه ہی کے قبضے میں ہیں اور یہ کہ اللّه سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے


تفسیر

ربط
اوپر کی آیات میں توحید کا اثبات تھا آگے مشرکین کی غلطی اور وعید کا بیان فرماتے ہیں۔اور  آدمی وہ بھی ہیں جو علاوہ خدا تعالیٰ کے اوروں کو بھی شریک خدائی قرار دیتے ہیں اور ان کو اپنا کارساز سمجھتے ہیں اور ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللّه سے رکھنا ضروری ہے یہ حالت تو مشرکین کی ہے اور جو مومن ہیں ان کو صرف اللّه تعالیٰ کے ساتھ نہایت قوی محبت ہے کیونکہ اگر کسی مشرک کو یہ ثابت ہوجاۓ کہ میرے معبود سے مجھ پر کوئی ضرر پڑے گا تو فوراً محبت منقطع ہوجاۓ اور مومن باوجود اس کے کہ نافع وضار حق تعالیٰ ہی کو اعتقاد کرتا ہے لیکن پھر بھی محبت ورضا اس کی باقی رہتی ہے ونیز اکثر مشرکین مصیبت شدیدہ کے وقت اپنے شرکاء کو چھوڑ دیتے ہیں اور مومنین من حیث الایمان مصیبت میں بھی خدا کو نہ چھوڑتے تھے اور محاورات میں ایسے قضا یا باعتبار حالت عالیہ کے بھی صادق ہوتے ہیں اور کیا خوب ہوتا اگر یہ ظالم مشرکین جب دنیا میں کسی مصیبت کو دیکھتے تو اس کے وقوع میں غور کرکے یہ سمجھ لیا کرتے کہ سب قوت حق تعالیٰ ہی کو ہے اور دوسرے سب اس کے سامنے عاجز ہیں چناچہ اس مصیبت کو نہ کوئی روک سکا نہ ٹال سکا اور نہ ایسے وقت میں اور کوئی یاد رہا اور اس مصیبت کی شدت میں غور کرکے یہ سمجھ لیا کرتے کہ اللّه تعالیٰ کا عذاب آخرت میں کہ دار الجزاء ہے اور بھی سخت ہوگا تو اس طرح غور کرنے سے تراشیدہ معبودوں کا عجز اور حق تعالیٰ کی قدرت و عظمت منکشف ہو کر توحید و ایمان اختیار کرلیتے


آیت  166


اِذۡ تَبَرَّاَ الَّذِيۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡا وَرَاَوُا الۡعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتۡ بِهِمُ الۡاَسۡبَابُ 


لفظی ترجمہ

 اِذْ تَبَرَّاَ : جب بیزار ہوجائیں گے   |  الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو   |  اتُّبِعُوْا : پیروی کی گئی   |  مِنَ : سے   |  الَّذِيْنَ : جنہوں نے   |  اتَّبَعُوْا : پیروی کی   |  وَرَاَوُا : اور وہ دیکھیں گے   |  الْعَذَابَ : عذاب   |  وَتَقَطَّعَتْ : اور کٹ جائیں گے   |  بِهِمُ : ان سے   |  الْاَسْبَابُ : وسائل 


ترجمہ

جب وہ سزا دے گا اس وقت کیفیت یہ ہوگی کہ وہی پیشوا اور رہنما جن کی دنیا میں پیروی کی گئی تھی اپنے پیروؤں سے بے تعلقی ظاہر کریں گے مگر سزا پا کر رہیں گے اور ان کے سارے اسباب و وسائل کا سلسلہ کٹ جائے گا


تفسیر

ربط
اوپر عذاب آخرت کو سخت فرمایا ہے آگے اس سختی کی کیفیت کا بیان فرماتے ہیں۔
وہ سختی عذاب کی اس وقت معلوم ہوگی جب کہ ان مشرکین میں سے وہ ذی اثر لوگ جن کے کہنے پر دوسرے عوام چلتے تھے ان عام لوگوں سے صاف الگ ہوجائیں گے جو ان کے کہنے پر چلے تھے اور سب خواص وعوام عذاب کا مشاہدہ کرلیں گے اور باہم ان میں جو تعلقات تھے کہ ایک تابع تھا دوسرا متبوع تھا وغیرہ وغیرہ اس وقت سب قطع ہوجائیں گے جیسے دنیا میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ جرم میں سب شریک ومتفق ہوتے ہیں اور تنقیح مقدمہ کے وقت سب الگ الگ بچنا چاہتے ہیں حتی کہ باہمدگر شناخت تک کے منکر ہوجاتے ہیں اور جب یہ تابع لوگ متبوعین کی یہ طوطا چشمی دیکھیں گے تو بڑے جھنجلاویں گے اور تو کچھ نہ ہوسکے گا مگر جھلا کر یوں کہنے لگیں گے کسی طرح ہم سب کو دنیا میں بس ذرا ایک دفعہ جانا مل جاوے تو ہم بھی ان سے اتنا بدلہ تو لے لیں کہ اگر یہ پھر ہم کو اپنے تابع ہونے کی ترغیب دیں تو ہم بھی ان سے صاف ٹکا سا جواب دے کر الگ ہوجاویں جیسا یہ ہم سے اس وقت صاف الگ ہو بیٹھے اور کہہ دیں کہ جناب آپ وہی ہیں کہ عین موقع پر بےرخی کی تھی اب ہم سے کیا غرض حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان تجویزوں اور سوچ بچاروں سے کیا ہاتھ آئے گا فقط اللّه تعالیٰ یوں ہی ان کی بداعمالیوں کو خالی ارمان  کے پیرائے میں کرکے ان کو دکھلا دیں گے اور ان تابعین ومتبوعین سب کو دوزخ سے نکلنا کبھی نصیب نہ ہوگا کیونکہ شرک کی سزا خلود فی النار ہے


آیت    167


وَقَالَ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡا لَوۡ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنۡهُمۡ كَمَا تَبَرَّءُوۡا مِنَّا ؕ كَذٰلِكَ يُرِيۡهِمُ اللّٰهُ اَعۡمَالَهُمۡ حَسَرٰتٍ عَلَيۡهِمۡؕ وَمَا هُمۡ بِخٰرِجِيۡنَ مِنَ النَّارِ 


لفظی ترجمہ

 وَقَالَ : اور کہیں گے   |  الَّذِيْنَ : وہ جنہوں نے   |  اتَّبَعُوْا : پیروی کی   |  لَوْ اَنَّ : کاش کہ   |  لَنَا : ہمارے لیے   |  كَرَّةً : دوبارہ   |  فَنَتَبَرَّاَ : تو ہم بیزاری کرتے   |  مِنْهُمْ : ان سے   |  كَمَا : جیسے   |  تَبَرَّءُوْا : انہوں نے بیزاری کی   |  مِنَّا : ہم سے   |  كَذٰلِكَ : اسی طرح   |  يُرِيْهِمُ : انہیں دکھائے گا   |  اللّٰهُ : اللّه   |  اَعْمَالَهُمْ : ان کے اعمال   |  حَسَرٰتٍ : حسرتیں   |  عَلَيْهِمْ : ان پر   |  وَمَا ھُمْ : اور نہیں وہ   |  بِخٰرِجِيْنَ : نکلنے والے   |  مِنَ النَّار : آگ سے 


ترجمہ

اور وہ لوگ جو دنیا میں اُن کی پیروی کرتے تھے کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں ہم اِن سے بیزار ہو کر دکھا دیتے یوں اللّه اِن لوگوں کے وہ اعمال جو یہ دنیا میں کر رہے ہیں ان کے سامنے اِس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے




No comments:

Powered by Blogger.