Surah Baqrah aayat 168-170 Rukoo 21
آیات 170- 168
رکوع 21
168 آیت
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوۡا مِمَّا فِى الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَيِّبًا ۖ وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ
لفظی ترجمہ
يٰٓاَيُّهَا : اے | النَّاسُ : لوگ | كُلُوْا : تم کھاؤ | مِمَّا : اس سے جو | فِي الْاَرْضِ : زمین میں | حَلٰلًا : حلال | طَيِّبًا : اور پاک | وَّلَا : اور نہ | تَتَّبِعُوْا : پیروی کرو | خُطُوٰتِ : قدم (جمع) | الشَّيْطٰنِ : شیطان | اِنَّهٗ : بیشک وہ | لَكُمْ : تمہارا | عَدُوٌّ: دشمن | مُّبِيْنٌ: کھلا
ترجمہ
لوگو زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھاؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
تفسیر
بعض مشرکین بتوں کے نام کے جانور چھوڑتے تھے اور ان سے منتفع ہونے کو باعتقاد ان کی تعظیم کے حرام سمجھتے تھے اور اپنے اس فعل کو حکم الہی اور موجب رضائے حق و وسیلہ تقرب الی اللّه بواسطہ شفاعت ان بتوں کے سمجھتے تھے حق تعالیٰ اس باب میں خطاب فرماتے ہیں کہ اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے شرعی حلال پاک چیزوں کی نسبت اجازت ہے کہ ان کو کھاؤ برتو اور ان میں سے کسی حلال چیز سے یہ سمجھ کر پرہیز کرنا کہ اس سے اللّه راضی ہوگا یہ سب شیطانی خیالات ہیں تم شیطان کے قدم بقدم مت چلو فی الواقع وہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے کہ ایسے ایسے خیالات وجہالات سے تم کو خسران ابدی میں گرفتار کر رکھا ہے اور دشمن ہونے کی وجہ سے وہ تم کو انہی باتوں کی تعلیم کرے گا جو کہ شرعا بری اور گندی ہیں اور یہ بھی تعلیم کرے گا کہ اللّه کے ذمہ وہ باتیں لگاؤ جن کی تم سند بھی نہیں رکھتے مثلا یہی کہ ہم کو خدا تعالیٰ کا اس طرح حکم ہے
حَلٰلًا طَيِّبًا لفظ حل کے اصلی معنی گرہ کھولنے کے ہیں جو چیز انسان کے لئے حلال کردی گئی گویا ایک گرہ کھول دی گئی اور پابندی ہٹا دی گئی۔ حضرت سہل بن عبداللّه فرماتے ہیں کہ نجات تین چیزوں میں منحصر ہے، حلال کھانا، فرائض ادا کرنا، اور رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی اتباع کرنا اور لفظ طیب کے معنی ہیں پاکیزہ جس میں شرعی حلال ہونا بھی داخل ہے اور طبعی مرغوب ہونا بھی خُطُوٰتِ خطوہ کی جمع ہے اتنی مقدار کو خطوہ کہتے ہیں جو دونوں قدموں کے درمیان کا فاصلہ ہے خطوات شیطان سے مراد شیطانی اعمال و افعال ہیں۔
مسئلہ
سانڈ وغیرہ جو بتوں کے نام پر چھوڑ دئیے جاتے ہیں یا اور کوئی جانور مرغا بکرا وغیرہ کسی بزرگ یا اور کسی غیر اللّه کے نامزد کردیا جاتا ہے اس کا حرام ہونا ابھی چار آیتوں کے بعد وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ کے تحت آنے والا ہے اس آیت يٰٓاَيُّهَا النَّاس میں ایسے جانور کے حرام ہونے کی نفی کرنا منظور نہیں جیسا کہ بعضوں کو شبہ ہوگیا بلکہ مقصد اس فعل کی حرمت و ممانعت ہے کہ غیر اللّه کے تقرب کے لئے جانوروں کو چھوڑ دینا اور اس عمل کو موجب برکت و تقرب سمجھنا اور ان جانوروں کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا معاہدہ کرلینا اس کو دائمی سمجھنا یہ سب افعال ناجائز اور ان کا کرنا گناہ ہے تو حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ جن جانوروں کو اللّه تعالیٰ نے حلال بنایا ہے ان کو بتوں کے نام کرکے حرام نہ بناؤ بلکہ اپنی حالت پر چھوڑ کر کھاؤ پیو اور اگر ایسی حرکت جہالت سے ہوجائے تو اصلاح نیت کے ساتھ تجدید ایمان اور توبہ کرکے اس حرمت کو ختم کرو اس طرح ان جانوروں کو تعظیماً حرام قرار دینا تو گناہ ہوا مگر غیر اللّه کے نام پر کردینے سے یہ مردار اور نجس کے حکم میں ہوگیا نجاست کی وجہ سے حرمت ثابت ہوگئی
مسئلہ
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص نے جہالت یا غفلت سے کسی جانور کو کسی غیر اللّه کے ساتھ نامزد کرکے چھوڑ دیا تو اس کی توبہ یہی ہے کہ اپنے اس خیال حرمت سے رجوع کرے اور اس فعل سے توبہ کرے تو پھر اس کا گوشت حلال ہوجائے گا واللّه اعلم۔
آیت 169
اِنَّمَا يَاۡمُرُكُمۡ بِالسُّوۡٓءِ وَالۡفَحۡشَآءِ وَاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ
لفظی ترجمہ
اِنَّمَا : صرف | يَاْمُرُكُمْ : تمہیں حکم دیتا ہے | بِالسُّوْٓءِ : برائی | وَالْفَحْشَآءِ : اور بےحیائی | وَاَنْ : اور یہ کہ | تَقُوْلُوْا : تم کہو | عَلَي اللّٰهِ : اللّه پر | مَا : جو | لَا تَعْلَمُوْنَ : تم نہیں جانتے
ترجمہ
تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللّه کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللّه نے فرمائی ہیں
تفسیر
اَلسُّوْۗءِ وَالْفَحْشَاۗءِ سوء وہ چیز جس کو دیکھ کر عقلمند شریف آدمی کو دکھ ہو فحشاء بےحیائی کا کام بعض حضرات نے فرمایا کہ اس جگہ سوء سے مراد مطلق معصیت اور فحشاء سے مراد کبیرہ گناہ ہے اِنَّمَا يَاْمُرُكُمْ شیطان کے امر اور حکم کرنے سے مراد دل میں وسوسہ ڈالنا ہے جیسا حضرت عبداللّه بن مسعود کی حدیث میں ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آدم کے بیٹے کے قلب میں ایک شیطانی الہام و اثر ہوتا ہے اور دوسرا فرشتہ کی طرف سے شیطانی وسوسہ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ برے کام کرنے کے فوائد اور مصالح سامنے آتے ہیں اور حق کو جھٹلانے کی راہیں کھلتی ہیں اور الہام فرشتہ کا اثر اور نیکی پر انعام و فلاح کا وعدہ اور حق کی تصدیق پر قلب کا مطمئن ہونا ہوتا ہے
آیت 170
وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّبِعُ مَآ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوۡ كَانَ اٰبَآؤُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ شَيۡئًـا وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَاِذَا : اور جب | قِيْلَ : کہا جاتا ہے | لَهُمُ : انہیں | اتَّبِعُوْا : پیروی کرو | مَآ اَنْزَلَ : جو اتارا | اللّٰهُ : اللّه | قَالُوْا : وہ کہتے ہیں | بَلْ نَتَّبِعُ : بلکہ ہم پیروی کریں گے | مَآ اَلْفَيْنَا : جو ہم نے پایا | عَلَيْهِ : اس پر | اٰبَآءَنَا : اپنے باپ دادا | اَوَلَوْ : بھلا اگرچہ | كَانَ : ہوں | اٰبَآؤُھُمْ : ان کے باپ دادا | لَا يَعْقِلُوْنَ : نہ سمجھتے ہوں | شَيْئًا : کچھ | وَّلَا يَهْتَدُوْنَ : اور نہ ہدایت یافتہ ہوں
ترجمہ
ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللّه نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہیں کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟
تفسیر
اور جب کوئی ان مشرک لوگوں سے کہتا ہے کہ اللّه تعالیٰ نے جو حکم اپنے پیغمبر کے پاس بھیجا ہے اس پر چلو تو جواب میں کہتے ہیں کہ نہیں بلکہ ہم تو اسی طریقہ پر چلیں گے جن پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیونکہ وہ لوگ اس طریقہ کے اختیار کرنے میں مامور من اللّه تھے حق تعالیٰ ان پر رد فرماتے ہیں کیا ہر حالت میں یہ لوگ اپنے باپ دادا ہی کے طریقہ پر چلیں گے اگرچہ ان کے باپ دادا دین کی نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ کسی آسمانی کتاب کی ہدایت رکھتے ہوں۔ وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ (الی قولہ) فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ اور ان کافروں کی کیفیت نافہمی میں اس جانور کی کیفیت کے مثل ہے جس کا ذکر اس مثال میں کیا جاتا ہے کہ ایک شخص ہے وہ ایسے جانور کے پیچھے چلا رہا ہے جو بجز بلانے اور پکارنے کے کوئی پُرمضمون بات نہیں سنتا اسی طرح یہ کفار بھی ظاہری بات چیت تو سنتے ہیں لیکن کام کی بات سے بالکل بہرے ہیں گویا سنا ہی نہیں گونگے ہیں کہ کبھی ایسی بات زبان ہی پر نہیں آتی اندھے ہیں کیونکہ نفع نقصان نظر ہی نہیں آتا سو جب سارے ہی حواس مختل ہیں تو سمجھتے سمجھاتے کچھ نہیں
اس آیت سے جس طرح باپ دادوں کی اندھی تقلید و اتباع کی مذمت ثابت ہوئی اسی طرح جائز تقلید و اتباع کے شرائط اور ایک ضابطہ بھی معلوم ہوگیا جس کی طرف دو لفظوں میں اشارہ فرمایا ہے لَا يَعْقِلُوْنَ اور لَا يَهْتَدُوْنَ کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ ان آباء و اجداد کی تقلید و اتباع کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ انھیں نہ عقل تھی نہ ہدایت
ہدایت سے مراد وہ احکام ہیں جو اللّه تعالیٰ کی طرف سے صریح طور پر نازل کئے گئے اور عقل سے مراد وہ جو بذریعہ اجہتاد نصوص شرعیہ سے استنباط کئے گئے
تو وجہ ان کے اتباع و تقلید کے عدم جواز کی یہ ہے کہ نہ ان کے پاس اللّه تعالیٰ کی طرف سے نازل کئے ہوئے احکام ہیں اور نہ اس کی صلاحیت کہ اللّه تعالیٰ کے فرمان سے احکام نکال سکیں اس میں اشارہ پایا گیا کہ جس عالم کے متعلق یہ اطمینان ہوجائے کہ ان کے پاس قرآن وسنت کا علم ہے اور اس کو درجہ اجتہاد بھی حاصل ہے کہ جو احکام صراحۃ قرآن وسنت میں نہ ہوں ان کو نصوص قرآن وسنت سے بذریعہ قیاس نکال سکتا ہے تو ایسے عالم مجتہد کی تقلید و اتباع جائز ہے نہ اس لئے کہ اس کا حکم ماننا اور اس کا اتباع کرنا ہے بلکہ اس لئے کہ حکم اللّه کا ماننا اور اسی کا اتباع کرنا ہے مگر چونکہ ہم براہ راست اللّه کے حکم سے واقف نہیں ہوسکتے اس لئے کسی عالم مجتہد کا اتباع کرتے ہیں تاکہ اللّه تعالیٰ کے احکام پر عمل ہوسکے
جاہلانہ تقلید اور ائمہ مجتہدین کی تقلید میں فرق اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ مطلق تقلید ائمہ مجہتدین کے خلاف اس طرح کی آیات پڑھ دیتے ہیں وہ خود ان آیات کے صحیح مدلول سے واقف نہیں۔
امام قرطبی نے اسی آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اس آیت میں تقلید آبائی کے ممنوع ہونے کا جو ذکر ہے اس سے مراد باطل عقائد و اعمال میں آباء و اجداد کی تقلید کرنا ہے عقائد صحیحہ و اعمال صالحہ میں تقلید اس میں داخل نہیں جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے کلام میں ان دونوں چیزوں کی وضاحت سورة یوسف میں اس طرح آئی ہے
(آیت)
اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤ ْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَهُمْ بالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَاۗءِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ
(٣٨: ٣٧: ١٢)
میں نے ان لوگوں کی ملت و مذہب کو چھوڑ دیا جو اللّه پر ایمان نہیں رکھتے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور میں نے اتباع کیا اپنے آباء ابراہیم اسحاق اور یعقوب کا
اس میں پوری وضاحت سے ثابت ہوگیا کہ آباء کی تقلید باطل میں حرام ہے حق میں جائز بلکہ مستحسن ہے
امام قرطبی نے اسی آیت کے ذیل میں ائمہ مجتہدین کی تقلید کے متعلق بھی مسائل و احکام بیان کئے ہیں اور فرمایا ہے
تعلق قوم بھذہ الایۃ فی ذم التقلید (الیٰ ) وھذا فی الباطل صحیح اما التقلید فی الحق فاصل من اصول الدین وعصمۃ من عصم المسلمین یلجاء الیھا الجاہل المقصر عن درک النظر۔
(قرطبی ص ١٩٤: ج ٢)
کچھ لوگوں نے اس آیت کو تقلید کی مذمت میں پیش کیا ہے اور یہ باطل کے معاملہ میں تو صحیح ہے لیکن حق کے معاملہ میں تقلید سے اس کا کوئی تعلق نہیں حق میں تقلید کرنا تو دین کے اصول میں سے ایک مستقل بنیاد ہے اور مسلمانوں کے دین کی حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہے کہ جو شخص اجتہاد کی صلاحیت نہیں کرتا وہ دین کے معاملہ سے تقلید ہی پر اعتماد کرتا ہے

No comments: