Surah Baqrah aayat 177-179 Rukoo 22
آیات 179 - 177
رکوع 22
177 آیت
لَيۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓئِکَةِ وَالۡكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَۚ وَاٰتَى الۡمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِۙ وَالسَّآئِلِيۡنَ وَفِى الرِّقَابِۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّکٰوةَ ۚ وَالۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡا ۚ وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ
لفظی ترجمہ
لَيْسَ : نہیں | الْبِرَّ : نیکی | اَنْ : کہ | تُوَلُّوْا : تم کرلو | وُجُوْھَكُمْ : اپنے منہ | قِبَلَ : طرف | الْمَشْرِقِ : مشرق | وَالْمَغْرِبِ : اور مغرب | وَلٰكِنَّ : اور لیکن | الْبِرَّ : نیکی | مَنْ : جو | اٰمَنَ : ایمان لائے | بِاللّٰهِ : اللّه پر | وَالْيَوْمِ : اور دن | الْاٰخِرِ : آخرت | وَالْمَلٰٓئِكَةِ : اور فرشتے | وَالْكِتٰبِ : اور کتاب | وَالنَّبِيّٖنَ : اور نبی (جمع) | وَاٰتَى: اور دے | الْمَالَ : مال | عَلٰي حُبِّهٖ : اس کی محبت پر | ذَوِي الْقُرْبٰى: رشتہ دار | وَالْيَتٰمٰى: اور یتیم (جمع) | وَالْمَسٰكِيْنَ : اور مسکین (جمع) | وَابْنَ السَّبِيْلِ : اور مسافر | وَالسَّآئِلِيْنَ : اور سوال کرنے والے | وَفِي الرِّقَابِ : اور گردنوں میں | وَاَقَامَ : اور قائم کرے | الصَّلٰوةَ : نماز | وَاٰتَى: اور ادا کرے | الزَّكٰوةَ : زکوۃ | وَالْمُوْفُوْنَ : اور پورا کرنے والے | بِعَهْدِهِمْ : اپنے وعدے | اِذَا : جب | عٰھَدُوْا : وہ وعدہ کریں | وَالصّٰبِرِيْنَ : اور صبر کرنے والے | فِي : میں | الْبَاْسَآءِ : سختی | وَالضَّرَّآءِ : اور تکلیف | وَحِيْنَ : اور وقت | الْبَاْسِ : جنگ | اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ | الَّذِيْنَ : وہ جو کہ | صَدَقُوْا : انہوں نے سچ کہا | وَاُولٰٓئِكَ : اور یہی لوگ | ھُمُ : وہ | الْمُتَّقُوْنَ : پرہیزگار
ترجمہ
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللّه کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللّه کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللّه کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر مسکینوں او رمسافروں پر مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلامو ں کی رہائی پر خرچ کرے نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں،
اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں
تفسیر
ربط از بیان القرآن
شروع سورت سے یہاں تک تقریباً نصف سورة بقرہ ہے زیادہ روئے سخن منکرین کی طرف تھا کیونکہ سب سے اول قرآن کی حقانیت کا اثبات کیا اس ضمن میں اس کے ماننے والے اور نہ ماننے والے فرقوں کا ذکر کیا پھر توحید و رسالت کو ثابت کیا پھر اولاد ابراہیم علیہ السلام پر انعامات و احسانات کو وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ تک بیان فرمایا وہاں سے قبلہ کی بحث چلی اور اس کو بیان کرکے صفا ومروہ کی بحث پر ختم کیا
پھر توحید کے اثبات کے بعد شرک کے اصول و فروع کا ابطال کیا اور یہاں تک یہی بیان ہوا اور ان سب مضامین میں ظاہر ہے کہ منکرین کو زیادہ تنبیہ ہے اور ضمناً کوئی خطاب مسلمانوں کو ہوجانا اور بات ہے
اب آیات آئندہ میں کہ بقیہ تقریباً سورة بقرہ کا نصف ہے زیادہ تر مقصود مسلمانوں کو بعض اصول و فروع کی تو تعلیم کرنا ہے گو ضمناً غیر مسلمین کو بھی کوئی خطاب ہوجاوے اور یہ مضمون ختم سورة تک چلا گیا ہے جس کو شروع کیا گیا ہے ایک مجمل عنوان بِرّ سے لفظ برّ بکسر الباء عربی زبان میں مطلق خیر کے معنی میں ہے جو تمام ظاہری اور باطنی طاعات و خیرات کو جامع ہے اور اول آیات میں الفاظ جامعہ سے کلی اور اصولی تعلیم دی گئی ہے مثلاً ایمان بالکتاب وایتاء مال و وفاء عہد وصبر حین البأس وغیرہ جس میں قرآنی تمام احکام کے بنیادی اصول آگئے کیوں کہ شریعت کے کل احکام کا حاصل تین چیزیں ہیں، عقائد، اعمال، اخلاق، باقی تمام جزئیات انھیں کلیات کے تحت میں داخل ہیں اور اس آیت میں ان تینوں قسم کے بڑے بڑے شعبے آگئے
آگے اس بِرّ کی تفصیل چلی ہے جس میں سے بہت سے احکام باقتضائے وقت ومقام مثل قصاص ووصیت و روزہ وجہاد وحج و انفاق وحیض وایلا، ویمین و طلاق ونکاح وعدت ومہر و تکرار ذکر جہاد و انفاق فی سبیل اللّه وبعض معاملات بیع وشراء و شہادت بقدر ضرورت بیان فرما کر بشارت و وعدہ رحمت و مغفرت پر ختم فرما دیا سبحان اللّه کیا بلیغ ترتیب ہے پس چونکہ ان مضامین کا حاصل بر کا بیان ہے اجمالاً وتفصیلاً اس لئے اگر اس مجموعہ کا لقب ابواب البِرّ رکھا جاوے تو نہایت زیبا ہے واللّه الموفق
ابواب البر
کچھ سارا کمال اسی میں نہیں آگیا کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یا مغرب کو کرلو لیکن اصلی کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللّه تعالیٰ کی ذات وصفات پر یقین رکھے اور اسی طرح قیامت کے دن آنے پر بھی اور فرشتوں پر بھی کہ وہ اللّه کے فرمانبردار بندے ہیں نور سے بنے ہیں گناہ سے معصوم ہیں کھانے پینے اور انسانی شہوات سے پاک ہیں اور سب کتب سماویہ پر بھی اور سب پیغمبروں پر بھی اور وہ شخص مال دیتا ہو اللّه کی محبت میں اپنے حاجتمند رشتہ داروں کو اور نادار یتیموں کو یعنی جن بچوں کو ان کا باپ نابالغ چھوڑ کر مرگیا ہو اور دوسرے غریب محتاجوں کو بھی اور بےخرچ مسافروں کو اور لاچاری میں سوال کرنے والوں کو اور قیدی اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں بھی مال خرچ کرتا ہو اور وہ شخص نماز کی پابندی بھی رکھتا ہو اور مقررہ زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہو اور جو اشخاص کہ ان عقائد و اعمال کے ساتھ یہ اخلاق بھی رکھتے ہوں کہ اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہوں جب کسی امر جائز کا عہد کرلیں اور اس صفت کو خصوصیت کے ساتھ کہوں گا کہ وہ لوگ ان مواقع میں مستقل مزاج رہنے والے ہوں ایک تو تنگدستی میں اور دوسرے بیماری میں اور تیسرے معرکہ قتال کفار میں یعنی پریشان اور کم ہمت نہ ہوں بس یہ لوگ ہیں جو سچے کمال کے ساتھ موصوف ہیں اور یہی لوگ ہیں جو سچے متقی کہے جاسکتے ہیں غرض اصلی مقاصد اور کمالات دین کے یہ ہیں نماز میں کسی سمت کو منہ کرنا انہی کمالات مذکورہ میں سے ایک کمال خاص یعنی اقامت صلوۃ کے توابع اور شرائط میں سے ہے اور اس کے حسن سے اس میں حسن آگیا ورنہ اگر نماز نہ ہوتی تو کسی خاص سمت کو منہ کرنا بھی عبادت نہ ہوتا
جب مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس کے بجائے بیت اللّه کردیا گیا تو یہود و نصاریٰ اور مشرکین جو اسلام اور مسلمانوں میں عیب جوئی کی فکر میں رہتے تھے ان میں بڑا شور وشغب ہوا اور طرح طرح سے رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم اور اسلام پر اعتراضات کا سلسلہ جاری کردیا جس کی جوابات پچھلی آیات میں بڑی توضیح و تفصیل کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں
ان آیات میں ایک خاص انداز سے اس بحث کو ختم کردیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تم نے سارا دین صرف اس بات میں منحصر کردیا کہ نماز میں انسان کا رخ مغرب کی طرف ہو یا مشرق کی مراد اس سے مطلق جہات اور سمتیں ہیں یعنی تم نے صرف سمت وجہت کو دین کا مقصد بنا لیا اور ساری بحثیں اس میں دائر ہوگئیں گویا شریعت کا کوئی اور حکم ہی نہیں ہے
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت کا خطاب یہود و نصاریٰ اور مسلمان سب کے لئے ہو اور مراد یہ ہو کہ اصل بِرّ اور ثواب اللّه تعالیٰ کی اطاعت میں ہے وہ جس طرف رخ کرنے کا حکم دیں وہی ثواب وصواب ہوجاتا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے مشرق ومغرب یا کوئی جانب وجہت نہ کوئی اہمیت رکھتی ہے نہ ثواب بلکہ ثواب دراصل اطاعت حکم کا ہے جس جانب کا بھی حکم ہوجائے جب تک بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم تھا وہ ثواب تھا اور جب بیت اللّه کی طرف رخ کرنے کا ارشاد ہوا تو اب وہی ثواب ہے
جیسا کہ بسلسلہ
ربط آیات
بیان ہوچکا ہے کہ اس آیت سے سورة بقرہ کا ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے جس میں مسلمانوں کے لئے تعلیمات و ہدایات اصل ہیں مخالفین کے جوابات ضمنی اسی لئے اس آیت کو احکام اسلامیہ کی ایک نہایت جامع آیت کہا گیا ہے۔ اس کے بعد بقرہ کے ختم تک تقریبا اسی آیت کی مزید تشریحات ہیں اس آیت میں اصولی طور سے تمام احکام شرعیہ، اعتقادات، عبادات، معاملات، اخلاق کا اجمالی ذکر آگیا ہے
پہلی چیز اعتقادات ہیں اس کا ذکر مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ میں مفصل آگیا دوسری چیز اعمال یعنی عبادات اور معاملات ہیں ان میں سے عبادات کا ذکر وَاٰتَى الزَّكٰوةَ تک آگیا پھر معاملات کا ذکر والْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ سے کیا گیا پھر اخلاق کا ذکر والصّٰبِرِيْنَ سے کیا گیا آخر میں بتلا دیا کہ سچے مومن وہی لوگ ہیں جو ان تمام احکام کی پیروی مکمل کریں اور انہی کو تقویٰ شعار کہا جاسکتا ہے
ان احکام کے بیان کرنے میں بہت سے بلیغ اشارات ہیں مثلا مال کو خرچ کرنے میں عَلٰي حُبِّهٖ کی قید لگا دی جس میں تین احتمال ہیں ایک یہ کہ حُبِّهٖ کی ضمیر اللّه تعالیٰ کی طرف راجع ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ مال خرچ کرنے میں کوئی نفسانی غرض نام ونمود کی شامل نہ ہو بلکہ اخلاص کامل کے ساتھ صرف اللّه تعالیٰ کے ساتھ محبت اس خرچ کرنے کا داعیہ ہو
دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ ضمیر مال کی طرف راجع ہو تو مراد یہ ہوگی کہ اللّه کی راہ میں وہ مال خرچ کرنا موجب ثواب ہے جو انسان کو محبوب ہو بیکار چیزیں جو پھینکنے کی تھیں ان کو دے کر صدقہ کا نام کرنا کوئی صدقہ نہیں اگرچہ پھینکنے کی نسبت سے بہتر یہی ہے کہ کسی کے کام آسکے تو اس کو دیدے
تیسرا حتمال یہ ہے کہ لفظ اٰتَى میں جو اس کا مصدر ایتاء مفہوم ہوتا ہے اس کی طرف ضمیر راجع ہو اور معنی یہ ہوں کہ وہ اپنے خرچ کرنے پر دل سے راضی ہو یہ نہ ہو کہ خرچ تو کر رہا ہے مگر اندر سے دل دکھ رہا ہے
امام جصاص نے فرمایا کہ ممکن ہے کہ تینوں ہی چیزیں مراد میں داخل ہوں پھر اس جگہ مال کے خرچ کرنے کی دو صورتیں مقدم بیان کردیں جو زکوٰۃ کے علاوہ ہیں زکوٰۃ کا ذکر اس کے بعد کیا شاید تقدیم کی وجہ یہ ہو کہ عام طور سے ان حقوق میں غفلت اور کوتاہی برتی جاتی ہے صرف زکوٰۃ ادا کردینے کا کافی سمجھ لیا جاتا ہے
مسئلہ
اسی سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ مالی فرض صرف زکوٰۃ سے پورا نہیں ہوتا ہے زکوٰۃ کے علاوہ بھی بہت جگہ پر مال خرچ کرنا فرض وواجب ہوتا ہے
(جصاص، قرطبی)
جیسے رشتہ داروں پر خرچ کرنا کہ جب وہ کمانے سے معذور ہوں تو نفقہ ادا کرنا واجب ہوتا ہے کوئی مسکین غریب مر رہا ہے اور آپ اپنی زکوٰۃ ادا کرچکے ہیں مگر اس وقت مال خرچ کرکے اس کی جان بچانا فرض ہے
اسی طرح ضرورت کی جگہ مسجد بنانا دینی تعلیم کے لئے مدارس ومکاتب بنانا یہ سب فرائض مالی میں داخل ہیں فرق اتنا ہے کہ زکوٰۃ کا ایک خاص قانون ہے اس کے مطابق ہر حال میں زکوٰۃ کا ادا کرنا ضروری ہے اور یہ دوسرے مصارف ضرورت و حاجت پر موقوف ہیں جہاں ضرورت ہو خرچ کرنا فرض ہوجائے گا جہاں نہ ہو فرض نہیں ہوگا
فائدہ
جن لوگوں پر مال خرچ کرنا ہے مثلا ذوی القربیٰ ، مساکین، مسافر، سوال کرنے والے فقیر، ان سب کو تو ایک انداز سے بیان فرمایا، پھر فِي الرِّقَاب میں حرف فی بڑھا کر اشارہ کردیا کہ مملوک غلاموں کو مال کا مالک بنانا مقصود نہیں بلکہ ان کے مالک سے خرید کر ان کے آزاد کرنے پر خرچ کیا جائے اس کے بعد اَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ کا ذکر بھی اسی طریق پر آیا جیسے دوسری چیزوں کا ذکر ہے آگے معاملات کا باب بیان کرنا تھا اس میں اسلوب
(طریق)
بدل کر بجائے صیغہ ماضی استعمال کرنے کے والْمُوْفُوْنَ صیغہ اسم فاعل استعمال کیا اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اس میں ایفاء عہد کی عادت دائمی ہونا چاہئے اتفاقی طور پر کوئی معاہدہ پورا کردے تو یہ ہر کافر فاجر بھی کبھی نہ کبھی کرتا ہے اس کا اعتبار نہیں اسی طرح معاملات کے باب میں صرف ایفائے عہد کا ذکر کیا گیا کیونکہ اگر غور کیا جائے تو تمام معاملات بیع وشراء اجارہ شرکت سب ہی کی روح ایفاء معاہدہ ہے، اسی طرح آگے اخلاق یعنی اعمال باطنہ کا ذکر کرنا تھا ان میں سے صرف صبر کو بیان کیا گیا کیونکہ صبر کے معنے ہیں نفس کو قابو میں رکھنے اور برائیوں سے بچانے کے اگر غور کیا جائے تو تمام اعمال باطنہ کی اصل روح صبر ہی ہے اسی کے ذریعہ اخلاق فاضلہ حاصل کئے جاسکتے اور اسی کے ذریعہ اخلاق رذیلہ سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے
ایک اور تغیر اسلوب بیان میں یہاں یہ کیا گیا کہ پہلے والْمُوْفُوْنَ ذکر کیا تھا یہاں والصّٰبِرُون نہیں بلکہ والصّٰبِرِيْنَ فرمایا حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ نصب علی المدح ہے جس کی مراد یہ ہے کہ اس جگہ لفظ مدح مقدر ہے اور صابرین اس کا مفعول ہے یعنی ان سب نیکوکار لوگوں میں خصوصیت سے قابل مدح صابرین ہیں کیونکہ صبر ہی ایک ایسا ملکہ اور ایسی قوت ہے جس سے تمام اعمال مذکورہ میں مدد لی جاسکتی ہے اس طرح آیت مذکورہ میں دین کے تمام شعبوں کے اہم اصول بھی آگئے ہیں اور بلیغ اشارات سے ہر ایک کی اہمیت کا درجہ بھی معلوم ہوگیا۔
آیت 178
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡكُمُ الۡقِصَاصُ فِى الۡقَتۡلٰى ؕ الۡحُرُّ بِالۡحُـرِّ وَالۡعَبۡدُ بِالۡعَبۡدِ وَالۡاُنۡثَىٰ بِالۡاُنۡثٰىؕ فَمَنۡ عُفِىَ لَهٗ مِنۡ اَخِيۡهِ شَىۡءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَاَدَآءٌ اِلَيۡهِ بِاِحۡسَانٍؕ ذٰلِكَ تَخۡفِيۡفٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَرَحۡمَةٌ ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰى بَعۡدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۚ
لفظی ترجمہ
يٰٓاَيُّهَا : اے | الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو | اٰمَنُوْا : ایمان لائے | كُتِب : فرض کیا گیا | عَلَيْكُمُ : تم پر | الْقِصَاصُ : قصاص | فِي الْقَتْلٰي : مقتولوں میں | اَلْحُرُّ : آزاد | بِالْحُرِّ : آزاد کے بدلے | وَالْعَبْدُ : اور غلام | بِالْعَبْدِ : غلام کے بدلے | وَالْاُنْثٰى: اور عورت | بِالْاُنْثٰى: عورت کے بدلے | فَمَنْ : پس جسے | عُفِيَ : معاف کیا جائے | لَهٗ : اس کے لیے | مِنْ : سے | اَخِيْهِ : اس کا بھائی | شَيْءٌ: کچھ | فَاتِّبَاعٌ: تو پیروی کرنا | بِالْمَعْرُوْفِ : مطابق دستور | وَاَدَآءٌ: اور ادا کرنا | اِلَيْهِ : اسے | بِاِحْسَانٍ : اچھا طریقہ | ذٰلِكَ : یہ | تَخْفِيْفٌ: آسانی | مِّنْ : سے | رَّبِّكُمْ : تمہارا رب | وَرَحْمَةٌ: اور رحمت | فَمَنِ : پس جو | اعْتَدٰى: زیادتی کی | بَعْدَ : بعد | ذٰلِكَ : اس | فَلَهٗ : تو اس کے لیے | عَذَابٌ: عذاب | اَلِيْمٌ: دردناک
ترجمہ
ا ے لوگو جو ایمان لائے ہو تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے، غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے، اور عورت اِس جرم کی مرتکب ہو توا س عورت ہی سے قصاص لیا جائے ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو، تو معروف طریقے کے مطابق خوں بہا کا تصفیہ ہونا چاہیے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے اس پر بھی جو زیادتی کرے اس کے لیے دردناک سزا ہے
تفسیر
ربط آیات
اس سے پہلی آیات کی تفسیر میں آپ معلوم کرچکے ہیں کہ ان آیات میں اجمالی طور پر نیکی اور خوبی کے اصول بتلا دئیے گئے ہیں آگے ان کی جزئی تفصیلات آئیں گی جن کو ابواب البر کہا جاسکتا ہے آگے انہی ابواب البر کے کچھ احکام جزئیہ کا بیان ہوتا ہے جو ضرورت اور حالات و واقعات کے تابع بیان ہوئے ہیں۔
حکم اول قصاص
اے ایمان والو تم پر قانون قصاص فرض کیا جاتا ہے مقتولین بقتل عمد کے بارے میں یعنی ہر آزاد آدمی قتل کیا جاوے ہر دوسرے آزاد آدمی کے عوض میں اور اسی طرح ہر غلام دوسرے ہر غلام کے عوض میں اور اسی طرح ہر عورت دوسری ہر عورت کے عوض میں گو یہ قاتلین بڑے درجہ کے اور مقتولین چھوٹے درجہ کے ہوں جب بھی سب سے برابر قصاص لیا جاوے گا یعنی قاتل کو سزا میں قتل کیا جاوے گا ہاں جس قاتل کو اس کے فریق مقدمہ کی طرف سے کچھ معافی ہوجاوے مگر پوری معاف نہ ہو تو اس سے سزائے قتل سے تو بری ہوگیا لیکن دیت یعنی خون بہا کے طور پر ایک معین مقدار سے مال بذمہ قاتل واجب ہوجاوے گا تو اس وقت فریقین کے ذمہ ان دو امر کی رعایت ضروری ہے مدعی یعنی وارث مقتول کے ذمہ تو معقول طور پر اس مال کا مطالبہ کرنا کہ اس کو زیادہ تنگ نہ کرے اور مدعا علیہ یعنی قاتل کے ذمہ خوبی کے ساتھ اس مال کا اس مدعی کے پاس پہنچا دینا کہ مقدار میں کمی نہ کرے اور خواہ مخواہ ٹالے نہیں یہ قانون دیت وعفو تمہارے پروردگار کی طرف سے سزا میں تخفیف ہے اور شاہانہ ترحم ہے ورنہ بجز سزائے قتل کے کوئی گنجائش ہی نہ ہوتی پھر جو شخص اس قانون کے مقرر ہوئے بعد تعدی کا مرتکب ہو مثلا کسی پر جھوٹا یا اشتباہ میں دعویٰ قتل کا کردے یا معاف کرکے پھر قتل کی پیروی کرے تو اس شخص کو آخرت میں بڑا دردناک عذاب ہوگا اور فہیم لوگو اس قانون قصاص میں تمہاری جانوں کا بڑا بچاؤ ہے کیونکہ اس قانون کے خوف سے ارتکاب قتل سے ڈریں گے تو کئی جانیں بچیں گی ہم امید کرتے ہیں کہ تم لوگ ایسے قانون امن کی خلاف ورزی سے پرہیز رکھو گے
قصاص کے لفظی معنی مماثلت کے ہیں مراد یہ ہے کہ جتنا ظلم کسی نے کسی پر کیا اتنا ہی بدلہ لینا دوسرے کے لئے جائز ہے اس سے زیادتی کرنا جائز نہیں قرآن مجید کی آیت میں عنقریب اسی سورت میں اس کی زیادہ وضاحت اس طرح آئی ہے
بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ
(١٩٤: ٢)
اور سورة نحل کی آخری آیات میں وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ
(١٢٦: ١٦)
اسی مضمون کے لئے آیا ہے
اسی لئے اصطلاح شرع میں قصاص کہا جاتا ہے قتل کرنے اور زخم لگانے کی اس سزا کو جس میں مساوات اور مماثلت کی رعایت کی گئی ہو
مسئلہ
قتل عمد وہ کہ ارادہ کرکے کسی کو آہنی ہتھیار سے یا ایسی چیز سے جس سے گوشت پوست کٹ کر خون بہہ سکے قتل کیا جاوے قصاص یعنی جان کے بدلے جان لینا ایسے ہی قتل کے جرم کے ساتھ مخصوص ہے
مسئلہ
ایسے قتل میں جیسے آزاد آدمی آزاد کے عوض میں قتل کیا جاتا ہے ایسے ہی غلام کے عوض میں بھی غلام اور جس طرح عورت کے عوض میں عورت ماری جاتی ہے اسی طرح مرد بھی عورت کے مقابلہ میں قتل کیا جاتا ہے
آیت میں آزاد کے مقابل آزاد اور عورت کے مقابل عورت کا جو ذکر آیا ہے یہ اس خاص واقعہ کی بناء پر ہے جس میں یہ آیت نازل ہوئی ہے
ابن کثیر نے باسناد ابن ابی حاتم نقل کیا ہے کہ زمانہ اسلام سے کچھ پہلے دو عرب قبیلوں میں جنگ ہوگئی طرفین کے بہت سے آدمی آزاد اور غلام مرد اور عورتیں قتل ہوگئے ابھی ان کے معاملہ کا تصفیہ ہونے نہیں پایا تھا کہ زمانہ اسلام شروع ہوگیا اور یہ دونوں قبیلے اسلام میں داخل ہوگئے اسلام لانے کے بعد اپنے اپنے مقتولوں کا قصاص لینے کی گفتگو شروع ہوئی تو ایک قبیلہ جو قوت و شوکت والا تھا اس نے کہا کہ ہم اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ہمارے غلام کے بدلے میں تمہارا آزاد آدمی اور عورت کے بدلے میں مرد قتل نہ کیا جائے
قصاص کے متعلق اسلام کا عادلانہ قانون اور قصاص کے مسائل
ان کے جاہلانہ اور ظالمانہ مطالبہ کی تردید کرنے کیلئے یہ آیت نازل ہوئی اَلْحُــرُّ بالْحُــرِّ وَالْعَبْدُ بالْعَبْدِ وَالْاُنْـثٰى بالْاُنْـثٰى جس کا حاصل ان کے مطالبہ کو رد کرنا تھا کہ غلام کے بدلے آزاد کو اور عورت کے بدلے مرد کو قتل کیا جائے اگرچہ وہ قاتل نہ ہو اسلام نے اپنا عادلانہ قانون یہ نافذ کردیا کہ جس نے قتل کیا ہے وہی قصاص میں قتل کیا جائے اگر عورت قاتل ہے تو کسی بےگناہ مرد کو اس کے بدلے میں قتل کرنا اسی طرح قاتل اگر غلام ہے تو اس کے بدلے میں کسی بےگناہ آزاد کو قتل کرنا ظلم عظیم ہے جو اسلام میں قطعا برداشت نہیں کیا جاسکتا
اس سے معلوم ہوا کہ آیت کا حاصل اس کے سوا نہیں کہ جس نے قتل کیا ہے وہی قصاص میں قتل کیا جائے گا عورت ہو یا غلام قاتل عورت اور غلام کے بجائے بےگناہ مرد یا آزاد کو قتل کرنا جائز نہیں
آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عورت کو کوئی مرد قتل کردے یا غلام کو کوئی آزاد قتل کردے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا قرآن مجید کی اسی آیت کے شروع میں اَلْحُــرُّ بالْحُــرِّ وَالْعَبْدُ بالْعَبْدِ وَالْاُنْـثٰى بالْاُنْـثٰى اس عموم کی واضح دلیل ہے اور دوسری آیات میں اس سے بھی زیادہ وضاحت ہے مثلاً النَّفْسَ بالنَّفْسِ وغیرہ
مسئلہ
اگر قتل عمد میں قاتل کو پوری معافی دے دی جاۓ مثلاً مقتول کے وارث صرف اس کے دو بیٹے تھے اور ان دونوں نے اپنا حق معاف کردیا تو قاتل پر کوئی مطالبہ نہیں رہا اور اگر پوری معافی نہ ہو مثلاً صورت مذکورہ میں دو بیٹوں میں سے ایک نے معاف کیا دوسرے نے معاف نہیں کیا سزائے قصاص سے تو قاتل بری ہوگیا لیکن معاف نہ کرنے والے کو نصف دیت خون بہا دلایا جاوے گا اور دیت یعنی خوں بہا شریعت میں سو اونٹ یا ہزار دینار یا دس ہزار درہم ہوتے ہیں اور درہم آجکل کے مروجہ وزن کے اعتبار سے تقریباً ساڑھے تین ماشہ چاندی کا ہوتا ہے تو پوری دیت دو ہزار نو سو سولہ تولے ٨ ماشے چاندی ہوگی، یعنی ٣٦ سیر ٣٦ تولے ٨ ماشے
مسئلہ
جس طرح ناتمام معافی سے مال واجب ہوجاتا ہے اسی طرح اگر باہم کسی قدر مال پر مصالحت ہوجاوے تب بھی قصاص ساقط ہو کر مال واجب ہوجاتا ہے لیکن اس میں کچھ شرائط ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں
مسئلہ
مقتول کے جتنے شرعی وارث ہیں وہی قصاص اور دیت کے مالک بقدر اپنے حصہ میراث کے ہوں گے اگر دیت یعنی خوں بہا لیا گیا تو مال ان وارثوں میں بحساب وراثت تقسیم ہوگا اور قصاص کا فیصلہ ہوا تو قصاص کا حق بھی سب میں مشترک ہوگا مگر چونکہ قصاص ناقابل تقسیم ہے اس لئے کوئی ادنیٰ درجہ کا حق رکھنے والا بھی اپنا حق قصاص معاف کر دے گا تو دوسرے وارثوں کا حق قصاص بھی معاف ہوجائے گا ہاں ان کو دیت خون بہا کی رقم حسب حصہ ملے گی
مسئلہ
قصاص لینے کا حق اگرچہ اولیاء مقتول کا ہے مگر باجماع امت ان کو اپنا یہ حق خود وصول کرنے کا اختیار نہیں کہ خود ہی قاتل کو مار ڈالیں بلکہ اس حق کے حاصل کرنے کے لئے حکم سلطان مسلم یا اس کے کسی نائب کا ضروری ہے کیونکہ قصاص کس صورت میں واجب ہوتا ہے کس میں نہیں اس کی جزئیات بھی دقیق ہیں جن کو ہر شخص معلوم نہیں کرسکتا اس کے علاوہ اولیاء مقتول اپنے غصہ میں مغلوب ہو کر کوئی زیادتی بھی کرسکتے ہیں اس لئے باتفاق علماء امت حق قصاص حاصل کرنے کے لئے اسلامی حکومت کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے
(قرطبی)
آیت 179
وَ لَـكُمۡ فِى الۡقِصَاصِ حَيٰوةٌ يّٰٓـاُولِىۡ الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَلَكُمْ : اور تمہارے لیے | فِي : میں | الْقِصَاصِ : قصاص | حَيٰوةٌ: زندگی | يّٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ : اے عقل والو | لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم | تَتَّقُوْنَ : پرہیزگار ہوجاؤ
ترجمہ
عقل و خرد رکھنے والو
تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے اُمید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے

No comments: