Surah Baqrah aayat 180-182

آیات 182-180

آیت نمبر 180 


كُتِبَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ اِنۡ تَرَكَ خَيۡرَا  ۖۚ اۨلۡوَصِيَّةُ لِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِۚ حَقًّا عَلَى الۡمُتَّقِيۡنَؕ 


لفظی ترجمہ

 كُتِبَ عَلَيْكُمْ : فرض کیا گیا تم پر   |  اِذَا : جب   |  حَضَرَ : آئے   |  اَحَدَكُمُ : تمہارا کوئی   |  الْمَوْتُ : موت   |  اِنْ : اگر   |  تَرَكَ : چھوڑا   |  خَيْرَۨا : مال   |  الْوَصِيَّةُ : وصیت   |  لِلْوَالِدَيْنِ : ماں باپ کے لیے   |  وَالْاَقْرَبِيْنَ : اور رشتہ دار   |  بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق   |  حَقًّا : لازم   |  عَلَي : پر   |  الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگار 



ترجمہ


تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو، تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے یہ حق ہے متقی لوگوں پر

تفسیر
معارف و مسائل

اس آیت میں جو وصیت کرنا اس مرنے والے پر فرض کیا ہے جو کچھ مال چھوڑ کر مر رہا ہو اس حکم کے تین جزء ہیں ایک یہ کہ مرنے والے کے ترکہ میں اولاد کے سوا کسی دوسرے وارث کے حصے مقرر نہیں ہیں ان کے حصوں کا تعین مرنے والے کی وصیت کی بنیاد پر ہوگا

دوسرے یہ کہ ایسے اقارب کے لئے وصیت کرنا مرنے والے پر فرض ہے

تیسرے یہ کہ ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں

ان تین احکام میں سے پہلاحکم تو اکثر صحابہ کرام وتابعین کے نزدیک آیت میراث سے منسوخ ہوگیا ابن کثیر نے بتصحیح حاکم وغیرہ حضرت عبداللّہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ اس حکم کو آیت میراث نے منسوخ کردیا یعنی 
للرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۠ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ ۭ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا
 (٧: ٤) 

اور حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک دوسری روایت میں اس کی یہ تفصیل ہے کہ آیت میراث نے ان لوگوں کی وصیت کو منسوخ کردیا جن کا میراث میں حصہ مقرر ہے دوسرے رشتہ دار جن کا میراث میں حصہ نہیں ان کے لئے حکم وصیت اب بھی باقی ہے
 (جصاص    قرطبی) 

لیکن باجماع امت یہ ظاہر ہے کہ جن رشتہ داروں کا میراث میں کوئی حصہ مقرر نہیں ان کے لئے میت پر وصیت کرنا کوئی فرض و لازم نہیں اس لئے فرضیت وصیت ان کے حق میں بھی منسوخ ہی ہوگی 
(جصاص    قربطی) 
یعنی بشرط ضرورت صرف مستحب رہ جائے گی

دوسرا حکم وصیت کا فرض ہونا

یہ بھی باجماع امت منسوخ ہے اور ناسخ اس کا وہ حدیث متواتر ہے جس کا اعلان رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ صحابہ کے سامنے فرمایا۔

ان اللّہ اعطیٰ لکل ذی حق حقہ فلا وصیۃ لوارث اخرجہ الترمذی وقال ھذا حدیث حسن صحیح
 اللّہ تعالیٰ نے ہر ایک حق والے کو اس کا حق خود دے دیا ہے اس لئے اب کسی وارث کے لئے وصیت جائز نہیں

اسی حدیث میں بروایت ابن عباس یہ الفاظ بھی منقول ہیں 

لا وصیۃ لوارث الا ان تجیزہ الورثہ
 (جصاص) 

کسی وارث کے لئے وصیت اس وقت تک جائز نہیں جب تک باقی سب وارث اجازت نہ دیدیں

اس لئے حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ اللّہ تعالیٰ نے وارثوں کے حصے خود مقرر فرمادئیے ہیں اس لئے اسے وصیت کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وارث کے حق میں وصیت کرنے کی اجازت بھی نہیں ہاں اگر دوسرے ورثہ اس کی اجازت دیدیں تو جائز ہے، امام جصاص نے فرمایا کہ یہ حدیث ایک جماعت صحابہ سے منقول ہے اور فقہاء امت نے باتفاق اس کو قبول کیا ہے اس لئے بحکم متواتر ہے جس سے آیت قرآن کا نسخ جائز ہے

اور امام قرطبی نے فرمایا کہ یہ بات علماء امت میں متفق علیہ ہے کہ جب کوئی حکم رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی یقینی طور پر معلوم ہوجائے جیسے خبر متواتر، مشہور وغیرہ میں ہوتا ہے تو وہ بالکل بحکم قرآن ہے اور وہ بھی درحقیقت اللّہ تعالیٰ ہی کا فرمان ہے اس لئے ایسی حدیث سے کسی آیت قرآن کا منسوخ ہوجانا کوئی محل شبہ نہیں پھر فرمایا کہ اگرچہ یہ حدیث ہم تک خبر واحد ہی کے طریق پر پہنچی ہو مگر اس کے ساتھ حجۃ الوداع کے سب سے بڑے اجتماع میں ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام کے سامنے اس کا اعلان فرمانا اور اس پر اجماع صحابہ اور اجماع امت نے یہ واضح کردیا کہ یہ حدیث ان حضرات کے نزدیک قطعی الثبوت ہے ورنہ شک وشبہ کی گنجائش ہوتے ہوئے اس کی وجہ سے آیت قرآن کے حکم کو چھوڑ کر اس پر اجماع نہ کرتے


تیسرا حکم وصیت ایک تہائی مال سے زیادہ کی جائز نہیں


یہ باتفاق امت اب بھی باقی ہے ہاں وارثوں کی اجازت سے ایک تہائی سے زائد کی بلکہ پورے مال کی بھی وصیت جائز اور قابل قبول ہے

مسئلہ تفصیل مذکور سے یہ واضح ہوچکا کہ اب جن رشتہ داروں کے حصے قرآن کریم نے خود مقرر کردیئے ہیں ان کے لئے اب وصیت واجب نہیں بلکہ بدون اجازت دوسرے وارثوں کے جائز بھی نہیں البتہ جو رشتہ دار شرعی وارث نہیں ان کے لئے وصیت کرنے کی اجازت ایک تہائی مال تک ہے

مسئلہ 
اس آیت میں ذکر ایک خاص وصیت کا تھا جو مرنے والا اپنے متروکہ مال کے متعلق کرتا تھا جو منسوخ ہوگیا لیکن جس شخص کے ذمے دوسرے لوگوں کے حقوق واجب ہوں یا اس کے پاس کسی کی امانت رکھی ہو اس پر ان تمام چیزوں کی ادائیگی کے لئے وصیت واجب ہے رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا کہ جس شخص کے ذمہ کچھ لوگوں کے حقوق ہوں اس پر تین راتیں ایسی نہ گذرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی اس کے پاس موجود نہ ہو

مسئلہ

آدمی کو جو ایک تہائی مال میں وصیت کرنے کا حق دیا گیا ہے اپنی زندگی میں اس کو یہ بھی حق رہتا ہے کہ اس وصیت میں کچھ تبدیلی کردے یا بالکل ختم کردے
 (جصاص)


آیت نمبر 181

فَمَنۡۢ بَدَّلَهٗ بَعۡدَمَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَآ اِثۡمُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يُبَدِّلُوۡنَهٗؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌؕ 

لفظی ترجمہ


 فَمَنْ : پھر جو   |  بَدَّلَهٗ : بدل دے اسے   |  بَعْدَ : بعد   |  مَا : جو   |  سَمِعَهٗ : اس کو سنا   |  فَاِنَّمَآ : تو صرف   |  اِثْمُهٗ : اس کا گناہ   |  عَلَي : پر   |  الَّذِيْنَ : جو لوگ   |  يُبَدِّلُوْنَهٗ : اسے بدلا   |  اِنَّ : بیشک   |  اللّٰهَ : اللہ   |  سَمِيْعٌ: سننے والا   |  عَلِيْمٌ: جاننے والا 

ترجمہ


پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اُسے بدل ڈالا، توا س کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہوگا اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے



آیت  182

فَمَنۡ خَافَ مِنۡ مُّوۡصٍ جَنَفًا اَوۡ اِثۡمًا فَاَصۡلَحَ بَيۡنَهُمۡ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ  


لفظی ترجمہ


 فَمَنْ : پس جو   |  خَافَ : خوف کرے   |  مِنْ : سے   |  مُّوْصٍ : وصیت کرنے والا   |  جَنَفًا : طرفداری   |  اَوْ اِثْمًا : یا گناہ   |  فَاَصْلَحَ : پھر صلح کرادے   |  بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان   |  فَلَآ اِثْمَ : پس نہیں گناہ   |  عَلَيْهِ : اس پر   |  اِنَّ : بیشک   |  اللّٰهَ : اللہ   |  غَفُوْرٌ: بخشنے والا   |  رَّحِيْمٌ: رحم کرنے والا 

ترجمہ

البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے، اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے





No comments:

Powered by Blogger.