Surah Baqrah aayat 183-185 Rukoo 23
آیات 185- 183
رکوع 23
183 آیت نمبر
يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ
لفظی ترجمہ
يٰٓاَيُّهَا : اے | الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو | اٰمَنُوْا : ایمان لائے | كُتِبَ : فرض کیے گئے | عَلَيْكُمُ : تم پر | الصِّيَامُ : روزے | كَمَا : جیسے | كُتِبَ : فرض کیے گئے | عَلَي : پر | الَّذِيْنَ : جو لوگ | مِنْ قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے | لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم | تَتَّقُوْنَ : پرہیزگار بن جاؤ
ترجمہ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی
آیت نمبر 184
اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍؕ فَمَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ مَّرِيۡضًا اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَؕ وَعَلَى الَّذِيۡنَ يُطِيۡقُوۡنَهٗ فِدۡيَةٌ طَعَامُ مِسۡكِيۡنٍؕ فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَيۡرًا فَهُوَ خَيۡرٌ لَّهٗ ؕ وَاَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَيۡرٌ لَّـکُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ
لفظی ترجمہ
اَيَّامًا : چند دن | مَّعْدُوْدٰتٍ : گنتی کے | فَمَنْ : پس جو | كَانَ : ہو | مِنْكُمْ : تم میں سے | مَّرِيْضًا : بیمار | اَوْ : یا | عَلٰي : پر | سَفَرٍ : سفر | فَعِدَّةٌ: تو گنتی | مِّنْ : سے | اَ يَّامٍ اُخَرَ : دوسرے (بعد کے) دن | وَعَلَي : اور پر | الَّذِيْنَ : جو لوگ | يُطِيْقُوْنَهٗ : طاقت رکھتے ہیں | فِدْيَةٌ: بدلہ | طَعَامُ : کھانا | مِسْكِيْنٍ : نادار | فَمَنْ : پس جو | تَطَوَّعَ : خوشی سے کرے | خَيْرًا : کوئی نیکی | فَهُوَ : تو وہ | خَيْرٌ لَّهٗ : بہتر اس کے لیے | وَاَنْ : اور اگر | تَصُوْمُوْا : تم روزہ رکھو | خَيْرٌ لَّكُمْ : بہتر تمہارے لیے | اِنْ : اگر | كُنْتُمْ : تم ہو | تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہو
ترجمہ
چند مقرر دنوں کے روزے ہیں اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں
تو وہ فدیہ دیں ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے لیکن اگر تم سمجھو، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو
مریض کا روزہ
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا
مریض سے مراد وہ مریض ہے جس کو روزہ رکھنے سے ناقابل برداشت تکلیف پہنچے یا مرض بڑھ جانے کا قوی اندیشہ ہو بعد کی آیت وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ میں اس طرف اشارہ موجود ہے جمہور فقہاء امت کا یہی مسلک ہے
مسافر کا روزہ
اَوْ عَلٰي سَفَرٍ
یہاں لفظ مسافر کے بجائے علیٰ سفر کا لفظ اختیار فرما کر کئی مسائل کی طرف اشارہ فرمادیا
اول یہ کہ مطلقا لغوی سفر یعنی اپنے گھر اور وطن سے باہر نکل جانا روزہ میں رخصت سفر کے لئے کافی نہیں بلکہ سفر کچھ طویل ہونا چاہئے کیونکہ لفظ عَلٰي سَفَرٍ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ سفر پر سوار ہو جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ گھر سے دس پانچ میل چلے جانا مراد نہیں مگر یہ تحدید کہ سفر کتنا طویل ہو قرآن کے الفاظ میں مذکور نہیں رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان اور صحابہ کے تعامل سے امام اعظم ابوحنیفہ اور بہت سے فقہاء نے اس کی مقدار تین منزل یعنی وہ مسافت جس کو پیادہ سفر کرنے والا بآسانی تین روز میں طے کرسکے قرار دی ہے اور بعد کے فقہاء نے میلوں کے حساب سے اڑتالیس میل لکھے ہیں
دوسرا مسئلہ اسی لفظ عَلٰي سَفَرٍ سے یہ نکلا کہ وطن سے نکل جانے والا مسافر اسی وقت تک رخصت سفر کا مستحق ہے جب تک اس کے سفر کا سلسلہ جاری رہے اور یہ ظاہر ہے کہ آرام کرنے یا کچھ کام کرنے کے لئے کسی جگہ ٹھہر جانا مطلقا اس کے سلسلہ سفر کو ختم نہیں کردیتا جب تک کوئی معتدبہ مقدار قیام نہ ہو اور اسی معتدبہ قیام کی مدت نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان سے ثابت ہوئی کہ پندرہ دن ہیں جو شخص کسی ایک مقام پر پندرہ دن ٹھرنے کی نیت کرے تو وہ عَلٰي سَفَرٍ نہیں کہلاتا اس لئے وہ رخصت سفر کا بھی مستحق نہیں
مسئلہ
اسی سے یہ بھی نکل آیا کہ کوئی شخص پندرہ دن کے قیام کی نیت ایک جگہ نہیں بلکہ متفرق مقامات شہروں اور بستیوں میں کرے تو وہ بدستور مسافر کے حکم میں رہ کر رخصت سفر کا مستحق رہے گا
کیونکہ وہ عَلٰي سَفَرٍ کی حالت میں ہے
روزہ کی قضا
فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ
یعنی مریض ومسافر کو اپنے فوت شدہ روزوں کی گنتی کے مطابق دوسرے دنوں میں روزے رکھنا واجب ہے اس میں بتلانا تو یہ منظور تھا کہ مرض یا سفر کی مجبوری سے جو روزے چھوڑے گئے ہیں ان کی قضاء ان لوگوں پر واجب ہے جس کے لئے فعلیہ القَضَاءُ کا مختصر جملہ بھی کافی تھا مگر اس کے بجائے فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ فرما کر اشارہ کردیا گیا کہ مریض ومسافر پر فوت شدہ روزوں کی قضاء صرف اس صورت میں واجب ہوگی جب کہ مریض صحت کے بعد اور مسافر مقیم ہونے کے بعد اتنے دنوں کی مہلت پائے جنھیں قضاء کرسکے تو اگر کوئی شخص اتنے دن سے پہلے ہی مرگیا تو اس پر قضاء یا وصیت فدیہ لازم نہیں ہوگی،
مسئلہعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ
میں چونکہ اس کی کوئی قید نہیں کہ ترتیب وار رکھے یا غیر مسلسل رکھے بلکہ عام اختیار ہے اس لئے اگر کوئی شخص جس کے رمضان کے ابتدائی دس روزے قضا ہوگئے ہوں وہ دسویں یا نویں روزے کی قضا پہلے کرے اور ابتدائی روزوں کی قضا بعد میں تو اس میں بھی مضائقہ نہیں اسی طرح متفرق کرکے قضا روزے رکھے تو یہ بھی جائز ہے کیوں کہ عِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ میں اس کی گنجائش ہے
روزہ کا فدیہ
وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ
اس آیت کے بےتکلف معنی وہی ہیں جو
بتلائے گئے ہیں کہ جو لوگ مریض یا مسافر کی طرح روزہ رکھنے سے مجبور نہیں بلکہ روزے کی طاقت تو رکھتے ہیں مگر کسی وجہ سے دل نہیں چاہتا تو ان کے لئے بھی یہ گنجائش ہے کہ وہ روزے کے بجائے روزے کا فدیہ بصورت صدقہ ادا کردیں اس کے ساتھ اتنا فرما دیا
وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ
یعنی تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ روزہ ہی رکھو
یہ حکم شروع اسلام میں تھا جب لوگوں کو روزے کا خوگر کرنا مقصود تھا اس کے بعد جو آیت آنے والی ہے یعنی
مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ
اس سے یہ حکم عام لوگوں کے حق میں منسوخ کردیا گیا صرف ایسے لوگوں کے حق میں اب بھی باجماع امت باقی رہ گیا جو بہت بوڑھے ہوں یا ایسے بیمار ہوں کہ اب صحت کی امید ہی نہیں رہی جمہور صحابہ وتابعین کا یہی قول ہے
(جصاص، مظہری)
صحیح بخاری ومسلم و ابوداؤد، نسائی، ترمذی، طبرانی وغیرہ تمام ائمہ حدیث نے حضرت سمہ بن اکوع سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت
وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ
نازل ہوئی تو ہمیں اختیار دے دیا گیا تھا کہ جس کا جی چاہے روزے رکھے جس کا جی چاہے ہر روزے کا فدیہ دیدے پھر جب دوسری آیت
مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ
نازل ہوئی تو یہ اختیار ختم ہو کر طاقت والوں پر صرف روزہ ہی رکھنا لازم ہوگیا
مسند احمد میں حضرت معاذ بن جبل کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ نماز کے معاملات میں بھی ابتدائے اسلام میں تین تغیرات ہوئے اور روزے کے معاملے میں بھی تین تبدیلیاں ہوئیں روزے کی تین تبدیلیاں یہ ہیں کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو ہر مہینہ میں تین روزے اور ایک روزہ یوم عاشورا یعنی دسویں محرم کا رکھتے تھے پھر رمضان کی فرضیت نازل ہوگئی
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ
تو حکم یہ تھا کہ ہر شخص کو اختیار ہے کہ روزہ رکھ لے یا فدیہ دیدے اور روزہ رکھنا بہتر اور افضل ہے پھر اللّہ تعالیٰ نے دوسری آیت
مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ
نازل فرمادی اس آیت نے تندرست قوی کے لئے یہ اختیار ختم کرکے صرف روزہ رکھنا لازم کردیا، مگر بہت بوڑھے آدمی کے لئے یہ حکم باقی رہا کہ وہ چاہے تو فدیہ ادا کردے
یہ تو دو تبدیلیاں ہوئیں تیسری تبدیلی یہ ہوئی کہ شروع میں افطار کے بعد کھانے پینے اور اپنی خواہش پورا کرنے کی اجازت صرف اس وقت تک تھی جب تک آدمی سوئے نہیں جب سوگیا تو دوسرا روزہ شروع ہوگیا کھانا پینا وغیرہ ممنوع ہوگیا پھر اللّہ تعالیٰ نے آیت
اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَام الرَّفَثُ
نازل فرما کر یہ آسانی عطا فرمادی کہ اگلے دن کی صبح صادق تک کھانا پینا وغیرہ سب جائز ہیں سو کر اٹھنے کے بعد سحری کھانے کو سنت قرار دے دیا گیا صحیح بخاری، مسلم، ابوداؤد، میں بھی اس مضمون کی احادیث آئی ہیں
(ابن کثیر)
فدیہ کی مقدار اور متعلقہ مسائل
ایک روزہ کا فدیہ نصف صاع گندم یا اس کی قیمت ہے، نصف صاع ہمارے مروّجہ 80 تولہ کے حساب سے تقریبا پونے دو سیر ہوتے ہیں اس کی بازاری قیمت معلوم کرکے کسی غریب مسکین کو مالکانہ طور پر دیدینا ایک روزہ کا فدیہ ہے بشرطیکہ کسی مسجد مدرسہ کی خدمت کے معاوضہ میں نہ ہو
مسئلہ
ایک روزہ کے فدیہ کو دو آدمیوں میں تقسیم کرنا یا چند روزوں کے فدیہ کو ایک ہی شخص کو ایک تاریخ میں دینا درست نہیں جیسا کہ شامی نے بحوالہ بحراز قنیہ نقل کیا ہے اور بیان القرآن میں اسی کو نقل کیا گیا ہے مگر حضرت نے امداد الفتاوٰی میں فتویٰ اس پر نقل کیا ہے کہ یہ دونوں صورتیں جائز ہیں، شامی نے بھی فتویٰ اس پر نقل کیا ہے البتہ امداد الفتاوٰی میں ہے کہ احتیاط اس میں ہے کہ کئی روزوں کا فدیہ ایک تاریخ میں ایک کو نہ دے لیکن دے دینے میں گنجائش بھی ہے یہ فتویٰ مورخہ ١٦ جمادی الاخریٰ ١٣٥٣ امداد الفتاویٰ جلد دوم صفحہ ١٥ میں منقول ہے
مسئلہ
اگر کسی کو فدیہ ادا کرنے کی بھی وسعت نہ ہو تو وہ فقط استغفار کرے اور دل میں نیت رکھے کہ جب ہوسکے گا ادا کروں گا بیان القرآن
آیت نمبر 185
شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰى وَالۡفُرۡقَانِۚ فَمَنۡ شَهِدَ مِنۡكُمُ الشَّهۡرَ فَلۡيَـصُمۡهُ ؕ وَمَنۡ کَانَ مَرِيۡضًا اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَؕ يُرِيۡدُ اللّٰهُ بِکُمُ الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ وَلِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمۡ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ
لفظی ترجمہ
شَهْرُ : مہینہ | رَمَضَانَ : رمضان | الَّذِيْٓ: جس | اُنْزِلَ : نازل کیا گیا | فِيْهِ : اس میں | الْقُرْاٰنُ : قرآن | ھُدًى: ہدایت | لِّلنَّاسِ : لوگوں کے لیے | وَ بَيِّنٰتٍ : اور روشن دلیلیں | مِّنَ : سے | الْهُدٰى: ہدایت | وَالْفُرْقَانِ : اور فرقان | فَمَنْ : پس جو | شَهِدَ : پائے | مِنْكُمُ : تم میں سے | الشَّهْرَ : مہینہ | فَلْيَصُمْهُ : چاہیے کہ روزے رکھے | وَمَنْ : اور جو | كَانَ : ہو | مَرِيْضًا : بیمار | اَوْ : یا | عَلٰي : پر | سَفَرٍ : سفر | فَعِدَّةٌ: تو گنتی پوری کرے | مِّنْ : سے | اَيَّامٍ اُخَرَ : بعد کے دن | يُرِيْدُ : چاہتا ہے | اللّٰهُ : اللہ | بِكُمُ : تمہارے لیے | الْيُسْرَ : آسانی | وَلَا يُرِيْدُ : اور نہیں چاہتا | بِكُمُ : تمہارے لیے | الْعُسْرَ : تنگی | وَلِتُكْمِلُوا : اور تاکہ تم پوری کرو | الْعِدَّةَ : گنتی | وَلِتُكَبِّرُوا : اور اگر تم بڑائی کرو | اللّٰهَ : اللہ | عَلٰي : پر | مَا ھَدٰىكُمْ : جو تمہیں ہدایت دی | وَلَعَلَّكُمْ : اور تاکہ تم | تَشْكُرُوْنَ : شکر کرو
ترجمہ
رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اُس کو لازم ہے کہ اِس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے اللّہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللّہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اُس پر اللّہ کی کبریا ئی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو
تفسیر
معارف و مسائل
اس آیت میں پچھلی مجمل آیت کا بیان بھی ہے اور ماہ رمضان کی اعلیٰ فضیلت کا ذکر بھی بیان اس لئے کہ پچھلی آیات میں
اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ
کا لفظ مجمل ہے جس کی شرح اس آیت نے کردی کہ وہ پورے ماہ رمضان کے ایام ہیں اور فضیلت یہ بیان کی گئی کہ اللّہ تعالیٰ نے اس مہینہ کو اپنی وحی اور آسمانی کتابیں نازل کرنے کے لئے منتخب کر رکھا ہے چناچہ قرآن بھی اسی ماہ میں نازل ہوا مسند احمد میں حضرت واثلہ بن اسقع سے روایت ہے کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی تاریخ میں نازل ہوئے اور تورات چھ رمضان میں انجیل تیرہ رمضان اور قرآن چوبیس رمضان میں نازل ہوا اور حضرت جابر کی روایت میں یہ بھی ہے کہ زبور بارہ رمضان میں انجیل اٹھارہ رمضان میں نازل ہوئی
(ابن کثیر)
حدیث مذکور میں پچھلی کتابوں کا نزول جس تاریخ میں ذکر کیا گیا ہے اسی تاریخ میں وہ کتابیں پوری کی پوری انبیاء پر نازل کردی گئی ہیں قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ رمضان کی ایک رات میں پورا کا پورا لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل کردیا گیا مگر نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم پر اس کا نزول تیئیس سال میں رفتہ رفتہ ہوا
رمضان کی وہ رات جس میں قرآن نازل ہوا قرآن ہی کی تصریح کے مطابق شب قدر تھی
اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ
مذکور الصدر حدیث میں اس کو تٸیس رمضان کی شب بتلایا ہے اور حضرت حسن کے نزدیک چوبیسویں شب شب قدر ہوتی ہے اس طرح یہ حدیث آیت قرآن کے مطابق ہوجاتی ہے اور اگر یہ مطابقت نہ تسلیم کی جائے تو بہرحال قرآن کریم کی تصریح سب پر مقدم ہے جو رات بھی شب قدر ہو وہی اس کی مراد ہوگی
فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ
اس ایک جملہ میں روزے کے متعلق بہت سے
احکام و مسائل
کی طرف اشارات ہیں لفظ شہد شہود سے بنا ہے جس کے معنی حضور یعنی حاضر و موجود ہونے کے ہیں اور الشھر عربی لغت میں مہینہ کے معنی میں آتا ہے مراد اس سے مہینہ رمضان کا ہے جس کا ذکر اوپر آیا ہے اس لئے معنی اس جملے کے یہ ہوگئے کہ تم میں سے جو شخص ماہ رمضان میں حاضر یعنی موجود ہو اس پر لازم ہے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے روزہ کے بجائے فدیہ دینے کا عام اختیار جو اس سے پہلی آیت میں مذکور ہے اس جملے نے منسوخ کرکے روزہ ہی رکھنا لازم کردیا ہے
ماہ رمضان میں حاضر و موجود ہونے کا مفہوم یہی ہے کہ وہ ماہ رمضان کو ایسی حالت میں پائے کہ اس میں روزہ رکھنے کی صلاحیت موجود ہو یعنی مسلمان عاقل بالغ مقیم حیض ونفاس سے پاک ہو
اسی لئے جس شخص کا پورا رمضان ایسی حالت میں گذر گیا کہ اس میں روزہ رکھنے کی مطلق صلاحیت ہی نہیں جیسے کافر، نابالغ، مجنون، تو یہ لوگ اس حکم کے مخاطب ہی نہیں اس لئے ان پر گذشتہ رمضان کے روزے فرض ہی نہیں ہوئے اور جن میں صلاحیت ذاتی طور پر موجود ہے مگر کسی وقت عذر کی وجہ سے مجبور ہوگئے جیسے حیض ونفاس والی عورت یا مریض اور مسافر، تو انہوں نے ایک حیثیت سے ماہ رمضان بحالت صلاحیت پالیا اس لئے حکم آیت کا ان کے حق میں ثابت ہوگیا مگر وقتی عذر کے سبب اس وقت روزہ معاف ہے البتہ بعد میں قضاء لازم ہے جیسا کہ اس کے بعد تفصیل آئے گی
مسئلہ
اس آیت سے معلوم ہوا کہ رمضان کے روزے فرض ہونے کے لئے ماہ رمضان کا بحالت صلاحیت پالینا شرط ہے اس لئے جس نے پورا رمضان پالیا اس پر پورے رمضان کے روزے فرض ہوگئے جس نے کچھ کم پایا اس پر اتنے ہی دن کے روزے فرض ہوئے جتنے دن رمضان کے پائے اس لئے وسط رمضان میں جو کافر مسلمان ہوا یا نابالغ بالغ ہوا اس پر صرف آئندہ کے روزے لازم ہوں گے گذشتہ ایام رمضان کی قضاء لازم نہ ہوگی، البتہ مجنون مسلمان اور بالغ ہونے کے اعتبار سے ذاتی صلاحیت رکھتا ہے وہ رمضان کے کسی حصہ میں ہوش میں آجائے تو گذشتہ ایام رمضان کی قضا بھی اس پر لازم ہوجائے گی اسی طرح حیض ونفاس والی عورت، وسط رمضان میں پاک ہوجائے یا مریض تندرست ہوجائے یا مسافر مقیم ہوجائے تو گدشتہ ایام کی قضاء لازم ہوگی
مسئلہ
ماہ رمضان کا پالینا شرعاً تین طریقوں سے پابت ہوتا ہے ایک یہ کہ خود رمضان کا چاند دیکھ لے دوسرے یہ کہ کسی معتبر شہادت سے چاند دیکھنا ثابت ہوجائے اور جب یہ دونوں صورتیں نہ پائی جائیں تو شعبان کے تیس روز پورے کرنے کے بعد ماہ رمضان شروع ہوجائے گا
مسئلہ
شعبان کی انتیسویں تاریخ کی شام کو اگر ابر وغیرہ کے سبب چاند نظر نہ آئے اور کوئی شرعی شہادت بھی چاند دیکھنے کی نہ پہنچنے تو اگلا روز یوم الشک کہلاتا ہے کیونکہ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ حقیقۃً چاند ہوگیا ہو مگر مطلع صاف نہ ہونے کی وجہ سے نظر نہ آیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آج چاند ہی مطلع پر نہ آیا ہو، اس روز میں چونکہ شہود شہر یعنی رمضان کا پالینا صادق نہیں آتا اس لئے اس دن کا روزہ رکھنا واجب نہیں بلکہ مکروہ ہے حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے تاکہ فرض اور نفل میں اختلاط اور التباس نہ پیدا ہوجائے
(جصاص)
مسئلہ
جن ملکوں میں رات دن کئی کئی مہینوں کے طویل ہوتے ہیں وہاں شہود شہر یعنی رمضان کا پالینا بظاہر صادق نہیں آتا اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ ان پر روزے فرض ہی نہ ہوں فقہائے حنفیہ میں سے حلوانی اور قبالی وغیرہ نے نماز کے متعلق تو اسی پر فتویٰ دیا ہے کہ ان لوگوں پر اپنے ہی دن رات کے اعتبار سے نماز کا حکم عائد ہوگا مثلاً جس ملک میں مغرب کے فوراً بعد صبح صادق ہوجاتی ہے وہاں نماز عشاء فرض ہی نہیں
اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ جہاں چھ مہینے کا دن ہے وہاں چھ مہینے میں صرف پانچ نمازیں ہوں گی اور رمضان وہاں آئے گا ہی نہیں اس لئے روزے بھی فرض نہ ہوں گے۔ حضرت حکیم الامت تھانوی نے امداد الفتاوٰی میں روزے کے متعلق اسی قول کو اختیار فرمایا ہے
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَ يَّامٍ اُخَرَ
اس میں مریض اور مسافر کو رخصت دی گئی ہے کہ وہ اس وقت روزہ نہ رکھیں، تندرستی ہونے پر اور سفر کے ختم ہونے پر اتنے دنوں کی قضاء کرلیں یہ حکم اگرچہ پچھلی آیت میں بھی آچکا تھا مگر جب اس آیت میں روزہ کے بجائے فدیہ دینے کا اختیار منسوخ کیا گیا ہے تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید مریض اور مسافر کی رخصت بھی منسوخ ہوگئی ہو اس لئے دوبارہ اس کا اعادہ کردیا گیا

No comments: