Surah Baqrah Aayat 186-188
آیات 188 - 186
آیت 186
وَاِذَا سَاَلَـكَ عِبَادِىۡ عَنِّىۡ فَاِنِّىۡ قَرِيۡبٌؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لِىۡ وَلۡيُؤۡمِنُوۡا بِىۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَاِذَا : اور جب | سَاَلَكَ : آپ سے پوچھیں | عِبَادِيْ : میرے بندے | عَنِّىْ : میرے متعلق | فَاِنِّىْ : تو میں | قَرِيْبٌ: قریب | اُجِيْبُ : میں قبول کرتا ہوں | دَعْوَةَ : دعا | الدَّاعِ : پکارنے والا | اِذَا : جب | دَعَانِ : مجھ سے مانگے | ۙفَلْيَسْتَجِيْبُوْا : پس چاہیے حکم مانیں | لِيْ : میرا | وَلْيُؤْمِنُوْا : اور ایمان لائیں | بِيْ : مجھ پر | لَعَلَّهُمْ : تاکہ وہ | يَرْشُدُوْنَ : وہ ہدایت پائیں
ترجمہ
اور اے نبیؐ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں یہ بات تم اُنہیں سنا دو، شاید کہ وہ راہ راست پالیں
تفسیر
پچھلی تین آیتوں میں روزہ اور رمضان کے احکام اور فضائل کا ذکر تھا اور اس کے بعد بھی ایک طویل آیت میں روزہ اور اعتکاف کے احکام کی تفصیل ہے درمیان کی اس مختصر آیت میں بندوں کے حال پر حق تعالیٰ کی خاص عنایت ان کی دعائیں سننے اور قبول کرنے کا ذکر فرما کر اطاعت احکام کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ روزہ کی عبادت میں رخصتوں سہولتوں کے باوجود کسی قدر مشقت ہے اس کو سہل کرنے کے لئے اپنی مخصوص عنایت کا ذکر فرمایا کہ میں اپنے بندوں سے قریب ہی ہوں جب بھی وہ دعاء مانگتے ہیں میں ان کی دعائیں قبول کرتا ہوں اور ان کی حاجات کو پورا کردیتا ہوں
ان حالات میں بندوں کو بھی چاہئے کہ میرے احکام کی تعمیل میں کچھ مشقت بھی ہو تو برداشت کریں اور امام ابن کثیر نے اس درمیانی جملہ ترغیب دعا کی یہ حکمت بتلائی ہے کہ اس آیت میں اشارہ کردیا کہ روزہ کے بعد دعا قبول ہوتی ہے اس لئے دعاء کا خاص اہتمام کرنا چاہئے رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
للصائم عند فطرہٖ دعوۃ مستجابۃ
(ابوداؤد طیالسی بروایۃ عبداللہ بن عمر)
یعنی روزہ افطار کرنے کے وقت روزہ دار کی دعا مقبول ہے
اسی لئے حضرت عبداللّہ بن عمر افطار کے وقت سب گھر والوں کو جمع کرکے دعا کیا کرتے تھے
مسئلہ
اس آیت میں اِنِّىْ قَرِيْبٌ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ دعا آہستہ اور خفیہ کرنا چاہئے دعا میں آواز بلند کرنا پسند نہیں ابن کثیر نے آیت کا شان نزول یہی ذکر کیا ہے کہ کسی گاؤں والے نے رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے رب اگر ہم سے قریب ہے تو ہم آہستہ آواز سے مانگا کریں اور دور ہو تو بلند آواز سے پکارا کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
آیت نمبر 187
اُحِلَّ لَـکُمۡ لَيۡلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمۡؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّـكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّکُمۡ كُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡ وَعَفَا عَنۡكُمۡۚ فَالۡــئٰنَ بَاشِرُوۡهُنَّ وَابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَـكُمُ الۡخَـيۡطُ الۡاَبۡيَضُ مِنَ الۡخَـيۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِؕ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِۚ وَلَا تُبَاشِرُوۡهُنَّ وَاَنۡـتُمۡ عٰكِفُوۡنَ فِى الۡمَسٰجِدِؕ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ فَلَا تَقۡرَبُوۡهَا ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ
لفظی ترجمہ
اُحِلَّ : جائز کردیا گیا | لَكُمْ : تمہارے لیے | لَيْلَةَ : رات | الصِّيَامِ : روزہ | الرَّفَثُ : بےپردہ ہونا | اِلٰى: طرف (سے) | نِسَآئِكُمْ : اپنی عورتوں سے بےپردہ ہونا | ھُنَّ : وہ | لِبَاسٌ: لباس | لَّكُمْ : تمہارے لیے | وَاَنْتُمْ : اور تم | لِبَاسٌ: لباس | لَّهُنَّ : ان کے لیے | عَلِمَ : جان لیا | اللّٰهُ : اللہ | اَنَّكُمْ : کہ تم | كُنْتُمْ : تم تھے | تَخْتَانُوْنَ : خیانت کرتے | اَنْفُسَكُمْ : اپنے تئیں | فَتَابَ : سو معاف کردیا | عَلَيْكُمْ : تم کو | وَعَفَا : اور در گزر کی | عَنْكُمْ : تم سے | فَالْئٰنَ : پس اب | بَاشِرُوْھُنَّ : ان سے ملو | وَابْتَغُوْا : اور طلب کرو | مَا كَتَبَ : جو لکھ دیا | اللّٰهُ : اللہ | لَكُمْ : تمہارے لیے | وَكُلُوْا : اور کھاؤ | وَاشْرَبُوْا : اور پیو | حَتّٰى: یہاں تک کہ | يَتَبَيَّنَ : واضح ہوجائے | لَكُمُ : تمہارے لیے | الْخَيْطُ : دھاری | الْاَبْيَضُ : سفید | مِنَ : سے | لْخَيْطِ : دھاری | الْاَسْوَدِ : سیاہ | مِنَ : سے | الْفَجْرِ : فجر | ثُمَّ : پھر | اَتِمُّوا : تم پورا کرو | الصِّيَامَ : روزہ | اِلَى: تک | الَّيْلِ : رات | وَلَا : اور نہ | تُبَاشِرُوْھُنَّ : ان سے ملو | وَاَنْتُمْ : جبکہ تم | عٰكِفُوْنَ : اعتکاف کرنیوالے | فِي الْمَسٰجِدِ : مسجدوں میں | تِلْكَ : یہ | حُدُوْدُ : حدیں | اللّٰهِ : اللہ | فَلَا : پس نہ | تَقْرَبُوْھَا : اس کے قریب جاؤ | كَذٰلِكَ : اسی طرح | يُبَيِّنُ : واضح کرتا ہے | اللّٰهُ : اللہ | اٰيٰتِهٖ : اپنے حکم | لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے | لَعَلَّهُمْ : تاکہ وہ | يَتَّقُوْنَ : پرہیزگار ہوجائیں
ترجمہ
تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے اللّہ کو معلوم ہو گیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، مگر اُ س نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لطف اللّہ نے تمہارے لیے جائز کر دیا ہے، اُسے حاصل کرو نیز راتوں کو کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدۂ صبح کی دھاری نمایاں نظر آ جائے تب یہ سب کام چھوڑ کر رات تک اپنا روزہ پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو، تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو یہ اللّہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا اِس طرح اللّہ اپنے احکام لوگوں کے لیے بصراحت بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ غلط رویے سے بچیں گے
معارف و مسائل
اُحِلَّ لَكُمْ کے لفظ سے معلوم ہوا کہ جو چیز اس آیت کے ذریعہ حلال کی گئی ہے وہ اس سے پہلے حرام تھی صحیح بخاری وغیرہ میں بروایت براء بن عازب مذکور ہے کہ ابتداء میں جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو افطار کے بعد کھانے پینے اور بیبیوں کے ساتھ اختلاط کی صرف اس وقت تک اجازت تھی جب تک سو نہ جائے سو جانے کے بعد یہ سب چیزیں حرام ہوجاتی تھیں بعض صحابہ کرام کو اس میں مشکلات پیش آئیں
قیس بن صرمہ انصاریٰ دن بھر مزدوری کرکے افطار کے وقت گھر پہنچنے تو گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہ تھا بیوی نے کہا کہ میں کہیں سے کچھ انتظام کرکے لاتی ہوں جب وہ واپس آئی تو دن بھر کے تکان کی وجی سے ان کی آنکھ لگ گئی اب بیدار ہوئے تو کھانا حرام ہوچکا تھا اگلے دن اسی طرح روزہ رکھا دوپہر کو ضعف سے بیہوش ہوگئے
(ابن کثیر)
اسی طرح بعض صحابہ سونے کے بعد اپنی بیبیوں کے ساتھ اختلاط میں مبتلا ہو کر پریشان ہوئے ان واقعات کے بعد یہ آیت نازل ہوئی جس میں پہلا حکم منسوخ کرکے غروب آفتاب کے بعد سے طلوع صبح صادق تک پوری رات میں کھانے پینے اور مباشرت کی اجازت دے دیگئی اگرچہ سو کر اٹھنے کے بعد ہو بلکہ سو کر اٹھنے کے بعد آخر شب میں سحری کھانا سنت قرار دیا گیا جس کا ذکر روایات حدیث میں واضح ہے اس آیت میں اسی حکم کا بیان کیا گیا ہے
رَّفَثُ کے لفظی معنی اگرچہ عام ہیں ایک مرد بی بی سے اپنی خواہش پورا کرنے کے لئے جو کچھ کرتا یا کہتا ہے وہ سب اس میں شامل ہے لیکن باتفاق امت اس جگہ اس سے مراد جماع ہے
ثبوت احکام شرعیہ کے لئے قول رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم بھی بحکم قرآن ہے
اس آیت نے جس حکم کو منسوخ کیا ہے یعنی سوجانے کے بعد کھانے پینے وغیرہ کی حرمت کو
یہ حکم قرآن میں کہیں مذکور نہیں رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم سے صحابہ کرام اس حکم پر عمل کرتے تھے
(کما راوہ احمد فی مسندہ)
اسی کو اس آیت نے حکم الہی قرار دے کر منسوخ کیا گیا اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سنت سے ثابت شدہ بعض احکام کو قرآن کے ذریعہ بھی منسوخ کیا جاسکتا ہے
(جصاص وغیرہ)
سحری کھانے کا آخری وقت
حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ اس آیت میں رات کی تاریکی کو سیاہ خط اور صبح کی روشنی کو سفید خط کی مثال سے بتلا کر روزہ شروع ہونے اور کھانا پینا حرام ہوجانے کا صحیح وقت متعین فرمادیا اور اس میں افراط وتفریط کے احتمالات کو ختم کرنے کے لئے حَتّٰى يَتَبَيَّنَ کا لفظ بڑھا دیا جس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نہ تو وہمی مزاج لوگوں کی طرح صبح صادق سے کچھ پہلے ہی کھانے پینے وغیرہ کو حرام سمجھو اور نہ ایسی بےفکری اختیار کرو کہ صبح کی روشنی کا یقین ہوجانے کے باوجود کھاتے پیتے رہو بلکہ کھانے پینے کو حرام سمجھنا درست نہیں اور تیقن کے بعد کھانے پینے میں مشغول رہنا بھی حرام اور روزے کے لئے مفسد ہے اگرچہ ایک ہی منٹ کے لئے ہو سحری کھانے میں وسعت اور گنجائش صرف اسی وقت تک ہے جب تک صبح صادق کا یقین نہ ہو بعض صحابہ کرام کے ایسے واقعات کو بعض کہنے والوں نے اس طرح بیان کیا کہ سحری کھاتے ہوئے صبح ہوگئی اور وہ بےپروائی سے کھاتے رہی یہ اسی پر مبنی تھا کہ صبح کا یقین نہیں ہوا تھا اس لئے کہنے والوں کی جلد بازی سے متاثر نہیں ہوئے
ایک حدیث میں رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے مانع نہ ہونی چاہئے کیونکہ وہ رات سے اذن دیدیتے ہیں، اس لئے تم بلال کی اذان سن کر بھی اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم کی اذان نہ سنو کیونکہ وہ ٹھیک طلوع صبح صادق پر اذان دیتے ہیں
(بخاری ومسلم)
اس حدیث کے ناتمام نقل کرنے سے بعض معاصرین کو یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی کہ اذان فجر کے بعد بھی کچھ دیر کھایا پیا جائے تو مضائقہ نہیں اور جس شخص کی آنکھ دیر میں کھلی کہ صبح کی اذان ہورہی تھی اس کے لئے جائز کردیا کہ وہ جلدی جلدی کچھ کھالے حالانکہ اسی حدیث میں واضح طور پر بتلا دیا گیا ہے کہ اذان ابن ام مکتوم جو ٹھیک طلوع فجر کے ساتھ ہوتی تھی اس پر کھانے سے رک جانا ضروری ہے اس کے علاوہ قرآن کریم نے خود جو حدبندی فرما دی ہے وہ طلوع صبح کا تیقن ہے اس کے بعد ایک منٹ کے لئے بھی کھانے پینے کی اجازت دینا نص قرآن کی خلاف ورزی ہے صحابہ کرام اور اسلاف امت سے جو افطار وسحر میں مساہلت کی روایات منقول ہیں ان سب کا محل نص قرآن کے مطابق یہی ہوسکتا ہے کہ تیقن صبح صادق سے پہلے پہلے زیادہ احتیاطی تنگی اختیار نہ کی جائے امام ابن کثیر نے بھی اس روایات کو اسی بات پر محمول فرمایا ہے ورنہ نص قرآنی کی صریح مخالفت کو کون مسلمان برداشت کرسکتا ہے اور صحابہ کرام سے تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا خصوصاً جبکہ قرآن کریم نے اسی آیت کے اخیر میں تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ کے ساتھ فَلَا تَقْرَبُوْھَا فرما کر خاص احتیاط کی تاکید بھی فرمادی ہے
مسئلہ
یہ سب کلام ان لوگوں کے بارے میں ہے جو ایسے مقام پر ہیں جہاں سے صبح صادق کو بچشم خود دیکھ کر یقین حاصل کرسکتے ہیں اور مطلع بھی صاف ہے اور وہ صبح صادق کی ابتدائی روشنی کی پہچان بھی رکھتے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ براہ راست افق کو دیکھ کر عمل کریں اور جہاں یہ صورت نہ ہو مثلا کھلا ہوا افق سامنے نہیں یا مطلع صاف نہیں یا اس کو صبح صادق کی پہچان نہیں اس لئے وہ دوسرے آثار و علامات یا ریاضی حسابات کے ذریعہ وقت کا تعین کرتے ہیں ظاہر ہے کہ ان کے لئے کچھ وقت ایسا آئے گا کہ صبح صادق کا ہوجانا مشکوک ہو یقینی نہ ہو، ایسے لوگوں کو مشکوک حالت میں کیا کرنا چاہئے، اس کے متعلق امام جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس حالت میں اصل تو یہی ہے کہ کھانے پینے پر اقدام نہ کرے لیکن مشکوک حالت میں تحقیق سے یہ ثابت ہوگیا کہ اس وقت صبح ہوچکی تھی تو قضاء اس کے ذمہ لازم ہے جیسے شروع رمضان میں چاند نظر نہ آیا اور لوگوں نے روزہ نہیں رکھا مگر بعد میں شہادت سے انتیس کا چاند ثابت ہوگیا تو جن لوگوں نے اس دن کو شعبان کی تیسویں تاریخ سمجھ کر روزہ نہیں رکھا تھا وہ گنہگار تو نہیں ہوئے مگر اس روزے کی قضاء ان پر باتفاق لازم ہے اسی طرح بادل کے دن میں غروب کے گمان پر روزہ افطار کرلیا بعد میں آفتاب نکل آیا تو یہ شخص گناہگار تو نہیں مگر قضاء اس پر واجب ہے
امام جصاص کے اس بیان سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس شخص کی آنکھ دیر میں کھلی اور عام طور پر صبح کی اذان ہوئی تھی جس سے صبح ہونے کا یقین لازمی ہے وہ جان بوجھ کر اس وقت کچھ کھائے گا تو وہ گناہگار بھی ہوگا اور قضاء بھی اس پر لازم ہوگی اور مشکوک حالت میں کھائے گا تو گناہ ساقط ہوجائے گا مگر قضاء ساقط نہ ہوگی اور کسی نہ کسی درجہ میں کراہت بھی ہوگی
اعتکاف اور اس کے مسائل
اعتکاف کے لغوی معنی کس جگہ ٹھہرنے کے ہیں اور اصطلاح قرآن وسنت میں خاص شرائط کے ساتھ مسجد میں ٹھرنے اور قیام کرنے کا نام اعتکاف ہے لفظ فِي الْمَسٰجِدِ کے عموم سے ثابت ہوا کہ اعتکاف ہر مسجد میں ہوسکتا جس میں جماعت ہوتی ہو غیر آباد مسجد جہاں جماعت نہ ہوتی ہو اس میں اعتکاف درست نہیں یہ شرط درحقیقت مسجد کے مفہوم ہی سے مستفاد ہے کیونکہ مساجد کے بنانے کا اصل مقصدجماعت کی نماز ہے ورنہ تنہا نماز تو ہر جگہ دکان مکان وغیرہ میں ہوسکتی ہے
مسئلہ
روزے کی رات میں کھانا پینا، بی بی سے مباشرت سب کا حلال ہونا اوپر بیان ہوا ہے حالت اعتکاف میں میں کھانے پینے کا تو وہی حکم ہے جو سب کے لئے ہے مگر مباشرت نساء کے معاملہ میں الگ ہے کہ وہ رات میں بھی جائز نہیں اس لئے اس آیت میں اسی کا حکم بتایا گیا ہے
مسئلہ
اعتکاف کے دوسرے مسائل کہ اس کے ساتھ روزہ شرط ہے اور یہ کہ اعتکاف میں مسجد سے نکلنا بغیر حاجت طبعی یا شرعی کے جائز نہیں کچھ اسی لفظ اعتکاف سے مستفاد ہیں کچھ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے قول وفعل سے
روزے کے معاملے میں احتیاط کا حکم آخر آیت میں تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا فرما کر اشارہ کردیا کہ روزے میں کھانے پینے اور مباشرت کی جو ممانعت ہے یہ اللّہ تعالیٰ کے حدود ہیں ان کے قریب بھی مت جاؤ کیونکہ قریب جانے سے حد شکنی کا احتمال ہے اسی لئے روزہ کی حالت میں کلی کرنے میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے، جس سے پانی اندر جانے کا خطرہ ہو منہ کے اندر کوئی دوا استعمال کرنا مکروہ ہے بی بی سے بوس وکنار مکروہ ہے اسی طرح سحری کھانے میں احتیاط وقت ختم ہونے سے دو چار منٹ پہلے ختم کرنا اور افطار میں دو تین منٹ مؤ خر کرنا بہتر ہے اس میں بےپروائی اور سہل انگاری اس ارشاد خداوندی کے خلاف ہے
آیت نمبر 188
وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَتُدۡلُوۡا بِهَآ اِلَى الۡحُـکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِيۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَلَا : اور نہ | تَاْكُلُوْٓا : کھاؤ | اَمْوَالَكُمْ : اپنے مال | بَيْنَكُمْ : آپس میں | بالْبَاطِلِ : ناحق | وَتُدْلُوْا : اور (نہ) پہنچاؤ | بِهَآ : اس سے | اِلَى الْحُكَّامِ : حاکموں تک | لِتَاْكُلُوْا : تاکہ تم کھاؤ | فَرِيْقًا : کوئی حصہ | مِّنْ : سے | اَمْوَالِ : مال | النَّاسِ : لوگ | بِالْاِثْمِ : گناہ سے | وَاَنْتُمْ : اور تم | تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہو
ترجمہ
اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے
ربط آیات
پچھلی آیتوں میں روزے کے احکام مذکور تھے جس میں حلال چیزوں کے استعمال کو ایک معین زمانے میں اور معین وقت میں حرام کردیا گیا ہے اس کے بعد مال حرام حاصل کرنے اور اس کے استعمال کرنے کی ممانعت اسی مناسبت سے ذکر کی گئی کہ عبادت صوم کا اصل منشاء یہی ہے کہ انسان کچھ عرصے حلال چیزوں سے بھی صبر کا خوگر ہوجائے گا تو حرام چیزوں سے بچنا آسان ہوجائے گا نیز یہ مناسبت بھی ہے کہ جب روزہ ختم ہو افطار کے لئے مال حلال مہیا کرنا چاہئے جس نے دن بھر روزہ رکھا شام کو مال حرام سے افطار کیا اس کا روزہ اللہ کے نزدیک قبول نہیں
حکم ششم
مال حرام سے بچنا
اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق مت کھاؤ اور ان کے جھوٹے مقدمہ کو حکام کے یہاں اس غرض سے رجوع مت کرو کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کے مالوں کا ایک حصہ بطریق گناہ یعنی ظلم کے کھا جاؤ جبکہ تم کو اپنے جھوٹ اور ظلم کا علم بھی ہو
معارف و مسائل
اس آیت میں حرام طریقوں سے مال حاصل کرنے اور استعمال کرنے کی ممانعت ہے جس طرح اس سے پہلے اسی سورة بقرہ کی آیت نمبر ١٦٨ میں حلال طریقہ پر حاصل کرنے اور استعمال کرنے کی اجازت کا بیان گذر چکا ہے جس میں ارشاد ہے
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ
یعنی اے لوگوں کھاؤ زمین کی چیزوں میں سے جو چیزیں حلال اور ستھری ہیں اور شیطان کے قدم پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
اور سورة نحل آیت ١١٤ میں ارشاد فرمایا
فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ
یعنی کھاؤ جو روزی دی تم کو اللّہ تعالیٰ نے حلال اور پاک اور شکر کرو اللّہ کے احسان کا اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو
کسب مال کے اچھے برے ذرائع اور اچھائی برائی کا معیار
جس طرح مال کی ضرورت اور مدار زندگی ہونے پر ساری دنیا اور اس کی ہر قوم وملت کا اتفاق ہے اس طرح اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس کی تحصیل کے کچھ ذرائع پسندیدہ اور جائز ہیں کچھ ناپسند اور ممنوع ہیں چوری ڈاکہ دھوکہ فریب کو ساری ہی دنیا برا سمجھتی ہے لیکن ان ذرائع کے جائز یا ناجائز ہونے کا کوئی صحیح معیار عام طور پر لوگوں کے ہاتھ میں نہیں اور ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ اس کا تعلق پوری دنیا کے انسانوں کی صلاح و فلاح سے ہے اور پورا عالم انسانیت اس سے متاثر ہوتا ہے اس کا صحیح اور معقول معیار صرف وہی ہوسکتا ہے جو رب العالمین کی طرف سے بذریعہ وحی بھیجا گیا ہو ورنہ اگر خود انسان اس کا معیار بنانے کا مختار ہو تو جو لوگ اس کا قانون بنائیں گے وہ اپنی قوم یا اپنے وطن یا اپنی ملت کے بارے میں جو کچھ سوچیں گے وہ عام عادت کے مطابق اس سے مختلف ہوگا جو دوسری قومیں اور وطنوں کے متعلق سوچا جائے گا اور بین الاقوامی کانفرنسوں کی صورت میں پوری دنیا کی نمائندگی کی جائے تو تجربہ شاہد ہے کہ وہ بھی ساری مخلوق کو مطمئن کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ قانون ناانصافی انجام کار جنگ وجدل اور فساد کی صورت اختیار کرے گی
اسلامی نظام معاش ہی دنیا میں امن عام قائم کرسکتا ہے
شریعت اسلام نے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا جو قانون بنایا ہے وہ صراحۃ وحی الہیٰ سے ہے یا اس سے مستفاد اور وہی ایک ایسا معقول فطری اور جامع قانون ہے جو ہر قوم وملت اور ہر ملک وطن میں چل سکتا ہے اور امن عامہ کا ضامن ہوسکتا ہے کیونکہ اس قانون الہیٰ میں قابل اشتراک چیزوں کو مشترک اور وقف عام رکھا گیا ہے جسمیں تمام انسان مساوی حق رکھتے ہیں جیسے ہوا پانی خود رو گھاس آگ کی حرارت اور غیر مملوک جنگلات اور غیر آباد پہاڑی جنگلات کی پیداوار وغیرہ کہ ان میں سب انسانوں کا مشترک حق ہے کسی کو ان پر مالکانہ قبضہ جائز نہیں اور جن چیزوں کے اشتراک میں انسانی معاشرت میں خلل پیدا ہوتا ہے یا نزاع وجدال کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں ان میں انفرادی ملکیت کا قانون جاری فرمایا گیا کسی زمین یا اس کی پیداوار پر ابتدائی ملکیت کا قانون جدا ہے اور پھر انتقال ملکیت کا جدا اس قانون کی ہر دفعہ میں اس کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ کوئی انسان ضروریات زندگی سے محروم نہ رہے بشرطیکہ وہ اپنی جدوجہد ان کی تحصیل میں خرچ کرے اور کوئی انسان دوسروں کے حقوق غصب کرکے یا دوسروں کو نقصان پہنچا کر سرمایہ کو محدود افراد میں مقید نہ کردے اتتقال ملکیت خواہ بعدالموت وراثت کے قانون الہیٰ کے مطابق ہو یا پھر بیع وشراء وغیرہ کے ذریعہ فریقین کی رضا مندی سے ہو مزدوری ہو یا کسی مال کا معاوضہ دونوں میں اس کو ضروری قرار دیا گیا کہ معاملہ میں کوئی دھوکہ فریب یا تلبیس نہ ہو اور کوئی ایسا ابہام اور اجمال نہ رہے جس کی وجہ سے باہمی منازعت کی نوبت آئے
نیز اس کی بھی رعایت رکھی گئی ہے کہ فریقین جو رضامندی دے رہے ہیں وہ حقیقی رضامندی ہو کسی انسان پر دباؤ ڈال کر کوئی رضا مندی نہ لی گئی ہو شریعت اسلام میں جتنے معاملات باطل یا فاسد اور گناہ کہلاتے ہیں ان سب کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان میں وجوہ مذکور میں کسی وجہ سے کہیں کسی کا حق غصب ہوتا ہے کہیں کسی کو نقصان پہنچا کر اپنا نفع کیا جاتا ہے کہیں حقوق عامہ میں ناجائز تصرف ہوتا ہے
سود قمار وغیرہ کو حرام قرار دینے اہم وجہ یہ ہے کہ وہ حقوق عامہ کے لئے مضر ہیں ان کے نتیجہ میں چند افراد پلتے بڑہتے ہیں اور پوری ملت مفلس ہوتی ہے ایسے معاملات فریقین کی رضامندی سے بھی اس لئے حلال نہیں کہ وہ پوری ملت کے خلاف ایک جرم ہے آیت مذکورہ ان تمام ناجائز صورتوں پر حاوی ہے، ارشاد ہے
وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ
یعنی نہ کھاؤ ایک دوسرے کا مال ناجائز طریق پر
اس میں ایک بات تو یہ قابل غور ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں اَمْوَالَكُمْ آیا ہے جس کے اصلی معنی ہیں اپنے اموال جس میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا کہ تم جو کسی دوسرے کے مال میں ناجائز تصرف کرتے ہو تو یہ غور کرو کہ دوسرے شخص کو بھی اپنے مال سے ایسی ہی محبت اور تعلق ہوگا جیسا تمہیں اپنے مال سے ہے اگر وہ تمہارے مال میں ایسا جائز تصرف کرتا تو تمہیں جو دکھ پہنچتا اس کا اس وقت بھی ایسا ہی احساس کرو کہ گویا وہ تمہارا مال ہے
اس کے علاوہ اشارہ اس طرف بھی ہوسکتا ہے کہ جب ایک شخص دوسرے کے مال میں کوئی ناجائز تصرف کرتا ہے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہے کہ اگر یہ رسم چل پڑی تو دوسرے اس کے مال میں ایسا ہی تصرف کریں گے اس حیثیت سے کسی کے مال میں ناجائز تصرف درحقیقت اپنے مال میں ناجائز تصرف کے لئے راستہ ہموار کرنا ہے غور کیجئے اشیاء ضرورت میں ملاوٹ کی رسم چل جائے کوئی گھی میں تیل یا چربی ملا کر زائد پیسے حاصل کرے تو اس کو جب دودھ خریدنے کی ضرورت پڑے گی دودھ والا اس میں پانی ملا کردے گا مسالہ کی ضرورت ہوگی تو اس میں ملاوٹ ہوگی دوا کی ضرورت ہوگی اس میں بھی یہی منظر سامنے آئے گا تو جتنے پیسے ایک شخص نے ملاوٹ کرکے زائد حاصل کرلئے دوسرا آدمی وہ پیسے اس کی جیب سے نکال لیتا ہے اسی طرح دوسرے کے پیسے تیسرا نکال لیتا ہے یہ بیوقوف اپنی جگہ پیسوں کی زیادتی شمار کرکے خوش ہوتا ہے مگر انجام دیکھتا کہ اس کے پاس کیا رہا تو جو کوئی دوسرے کے مال کو غلط طریقے سے حاصل کرتا ہے درحقیقت وہ اپنے مال کے ناجائز تصرف کا دروازہ کھولتا ہے
دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ اس ارشاد خداوندی کے الفاظ عام ہیں کہ باطل اور ناجائز طریق سے کسی کا مال نہ کھاؤ اس میں کسی کا مال غصب کرلینا بھی داخل ہے چوری اور ڈاکہ بھی جن میں دوسرے پر ظلم کرکے جبرا مال چھین لیا جاتا ہے اور سود قمار رشوت اور تمام بیوع فاسدہ اور معاملات فاسدہ بھی جو ازروئے شرع جائز نہیں اگرچہ فریقین کی رضامندی بھی متحقق ہو جھوٹ بول کر یا جھوٹی قسم کھا کر کوئی مال حاصل کرلینا یا ایسی کمائی جس کو شریعت اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے اگرچہ اپنی جان کی محنت ہی سے حاصل کی گئی ہو وہ سب حرام اور باطل ہیں اور قرآن کے الفاظ میں اگرچہ صراحۃ کھانے کی ممانعت مذکور ہے لیکن مراد اس جگہ صرف کھانا ہی نہیں بلکہ مطلقاً استعمال کرنا ہے خواہ کھا پی کر یا پہن کر یا دوسرے طریقہ کے استعمال سے مگر محاورات میں ان سب قسم کے استعمالوں کو کھا لینا ہی بولا جاتا ہے کہ فلاں آدمی فلاں کا مال کھا گیا اگرچہ وہ مال کھانے پینے کے لائق نہ ہو
شان نزول
یہ آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے واقعہ یہ ہے کہ حضرات صحابہ کرام میں سے دو صاحبوں کا آپس میں ایک زمین پر جھگڑا ہوا مقدمہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی عدالت میں پیش ہوا مدعی کے پاس گواہ نہ تھے آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے شرعی ضابطہ کے مطابق مدعاعلیہ کو حلف کرنے کا حکم دیا وہ حلف پر آمادہ ہوگیا اس وقت آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے بطور نصیحت ان کو یہ آیت سنائی
اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَــمَنًا قَلِيْلًا
جس میں قسم کھا کر کوئی مال حاصل کرنے پر وعید مذکور ہے صحابی نے جب یہ آیت سنی تو قسم کھانے کو ترک کردیا اور زمین مدعی کے حوالہ کردی
(روح المعانی)
اس واقعہ میں یہ آیت نازل ہوئی جس میں ناجائز طریق پر کسی کا مال کھانے یا حاصل کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے آخر میں خاص طور پر جھوٹا مقدمہ بنانے اور جھوٹی قسم کھانے اور جھوٹی شہادت دینے اور دلوانے کی سخت ممانعت اور اس پر وعید آئی ہے ارشاد ہے
اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَال النَّاس بالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
یعنی نہ لے جاؤ اموال کے مقدمات حکام تک تاکہ ان کے ذریعہ تم لوگوں کے اموال کا کوئی حصہ کھا جاؤ بطریق گناہ جب کہ تم جانتے بھی ہو کہ اس میں تمہارا کوئی حق نہیں تم جھوٹا مقدمہ بنا رہے ہو
وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی مغالطہ کی بناء پر اس چیز کو اپنا حق سمجھتا ہے وہ اگر عدالت میں دعویٰ دائر کرکے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے تو وہ اس وعید میں داخل نہیں
اسی جیسے ایک واقعہ میں آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
انما انا بشر وانتم تختصمون الی ولعل بعضکم ان یکون الحن بحجتہ من بعض فاقضی لہ علیٰ نحو ما اسمع منہ فمن قضیت لہ بشیء من حق اخیہ فلا یاخذنہ فانما اقطع لہ قطعۃً من النار
(رواہ البخاری ومسلم عن ام سلمۃ)
یعنی میں ایک انسان ہوں اور تم میرے پاس اپنے مقدمات لاتے ہو اس میں یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے معاملہ کو زیادہ رنگ آمیزی کے ساتھ پیش کرے اور میں اسی سے مطمٔن ہو کر اس کے حق میں فیصلہ کردو تو
(یاد رکھو کہ حقیقت حال تو صاحب معاملہ کو خود معلوم ہوتی ہے)
اگر فی الواقع وہ اس کا حق نہیں ہے تو اس کو لینا نہیں چاہئے کیونکہ اس صورت میں جو کچھ میں اس کو دوں گا وہ جہنم کا ایک قطعہ ہوگا
آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ارشاد میں واضح فرما دیا کہ اگر امام یا قاضی یا امام المسلمین کی مغالطہ کی وجہ سے کوئی فیصلہ کردے جس میں ایک کا حق دوسرے کو ناجائز طور پر مل رہا ہو تو اس عدالتی فیصلہ کی وجہ سے وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوجاتا، اور جس کے لئے حلال ہے اس کے لئے حرام نہیں ہوجاتا الغرض عدالت کا فیصلہ کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال نہیں بناتا
اگر کوئی شخص دھوکہ فریب یا جھوٹی شہادت یا جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی کا مال بذریعہ عدالت لے لے تو اس کا وبال اس کی گردن پر رہے گا اس کو چاہئے کہ آخرت کے حساب کتاب اور علیم وخبیر کی عدالت میں پیشی کا خیال کرکے اس کو چھوڑ دے
امام ابوحنیفہ کے نزدیک جن معاملات میں کوئی عقد یا فسخ ہوتا ہو اور جن میں قاضی یا جج کو بھی شرعا اختیارات حاصل ہوتے ہیں ایسے معاملات میں اگر جھوٹی قسم یا جھوٹی شہادت کی بناء پر بھی کوئی فیصلہ قاضی نے صادر کردیا تو شرعاً وہ عقد یا فسخ صحیح ہوجائے گا اور حلال و حرام کے احکام اس پر عائد ہوجائیں گے اگرچہ جھوٹ بولنے اور شہادت دلوانے کا وبال اس کی گردن پر رہے گا
مال حلال کی برکات اور حرام کی نحوست
حرام سے بچنے اور حلال کے حاصل کرنے کے لئے قرآن کریم نے مختلف مقامات میں مختلف عنوانات سے تاکیدیں فرمائی ہیں ایک آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان کے اعمال و اخلاق میں بہت بڑا دخل حلال کھانے کو ہے اگر اس کا کھانا پینا حلال نہیں تو اس سے اخلاق حمیدہ اور اعمال صالحہ کا صدور مشکل ہے ارشاد ہے
يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحً آ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ
(٥١: ٢٣)
یعنی اے گروہ انبیاء حلال اور پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو میں تمہارے اعمال کی حقیقت سے واقف ہوں
اس آیت میں حلال کھانے کے ساتھ عمل صالح کا حکم فرما کر اشارہ کردیا ہے کہ اعمال صالحہ کا صدور جب ہی ہوسکتا ہے جبکہ انسان کا کھانا پینا حلال ہو اور آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حدیث میں یہ بھی واضح فرما دیا کہ اس آیت میں اگرچہ خطاب انبیاء علیہم السلام کو ہے مگر یہ حکم کچھ انھیں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ سب مسلمان اس کے مامور ہیں اس حدیث کے آخر میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ حرام مال کھانے والے کی دعاء قبول نہیں ہوتی بہت سے آدمی عبادت وغیرہ میں مشقت اٹھاتے ہیں پھر اللّہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ دعاء کے لئے پھیلاتے ہیں اور یا رب یا رب پکارتے ہیں مگر کھانا ان کا حرام پینا ان کا حرام لباس ان کا حرام ہے تو ان کی یہ دعاء کہاں قبول ہوسکتی ہے
رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کا ایک بہت بڑا حصہ اسی کام کے لئے وقف رہا ہے کہ امت کو حرام سے بچانے اور حلال کے استعمال کرنے کی ہدایتیں دی
ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے حلال کھایا اور سنت کے مطابق عمل کیا اور لوگ اس کی ایذاؤں سے محفوظ رہے وہ جنت میں جائے گا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللّہ آج کل تو یہ حالات آپ کی امت میں عام ہیں بیشتر مسلمان ان کے پابند ہیں آپ نے فرمایا ہاں آئندہ بھی ہر زمانہ میں ایسے لوگ رہیں گے جو ان احکام کے پابند ہوں گے
(یہ حدیث ترمذی نے روایت کی ہے اور اس کو صحیح فرمایا ہے)
ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے کہ آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبداللّہ بن عمر سے فرمایا کہ چار خصلتیں ایسی ہیں جب وہ تمہارے اندر موجود ہیں تو پھر دنیا میں کچھ بھی حاصل نہ ہو تو تمہارے لئے کافی ہیں وہ چار خصلتیں یہ ہیں کہ
ایک امانت کی حفاظت
دوسرے سچ بولنا
تیسرے حسن خلق
چوتھے کھانے میں حلال کا اہتمام
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لئے یہ دعا فرما دیجئے کہ میں مقبول الدعاء ہوجاؤں جو دعا کیا کروں قبول ہوا کرے آپ نے فرمایا اے سعد اپنا کھانا حلال اور پاک بنالو مستجاب الدعوات ہوجاؤ گے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے بندہ جب اپنے پیٹ میں حرام لقمہ ڈالتا ہے تو چالیس روز تک اس کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور جس شخص کا گوشت حرام مال سے بنا ہو اس گوشت کے لئے تو جہنم کی آگ ہی لائق ہے
حضرت عبداللّہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کوئی بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا جب تک اس کا قلب اور زبان مسلم نہ ہوجائے اور جب تک اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے محفوظ نہ ہوجائیں اور جب کوئی بندہ مال حرام کماتا ہے پھر اس کو صدقہ کرتا ہے تو وہ قبول نہیں ہوتا اور اگر اس میں سے خرچ کرتا ہے تو برکت نہیں ہوتی اور اگر اس کو اپنے وارثوں کے لئے چھوڑ جاتا ہے تو وہ جہنم کی طرف جانے کے لئے اس کا توشہ ہوتا ہے بیشک اللّہ تعالیٰ بری چیز سے برے عمل کو نہیں دھوتے ہاں اچھے عمل سے برے عمل کو دھو دیتے ہیں
محشر میں ہر انسان سے پانچ اہم سوالات
اور حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
ما تزال قدما عبد یوم القیامۃ حق یسأل عن اربع عن عمرہ فیما افناہ وعن شبابہٖ فیما ابلاہ وعن مالہ من این اکتسبہ وفیما انفقہ وعن علمہ ماذا عمل فیہ
(البیہقی، ترغیب)
قیامت کے روز محشر میں کوئی بندہ اپنی جگہ سے سرک نہ سکے گا جب تک اس سے چار سوالوں کا جواب نہ لیا جائے ایک یہ کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں فنا کی دوسرے یہ کہ اپنی جوانی کس شغل میں برباد کی تیسرے یہ کہ اپنا مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور چوتھی یہ کہ اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا
حضرت عبداللّہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ اے جماعت مہاجرین پانچ خصلتیں ہیں جن کے متعلق میں اللّہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ تمہارے اندر پیدا ہوجائیں ایک یہ ہے کہ جب کسی قوم میں بےحیائی پھیلتی ہے تو ان پر طاعون اور وبائیں اور ایسے نئے نئے امراض مسلط کردئیے جاتے ہیں جو ان کے آباء و اجداد نے سنے بھی نہ تھے اور دوسرے یہ کہ جب کسی قوم میں ناپ تول کے اندر کمی کرنے کا مرض پیدا ہوجائے تو ان پر قحط اور گرانی اور مشقت و محنت اور حکام کے مظالم مسلط کردئیے جاتے ہیں اور تیسرے یہ کہ جب کوئی قوم زکوٰۃ ادا نہ کرے تو بارش بند کردی جاتی ہے اور چوتھے یہ کہ جب کوئی قوم اللّہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑ ڈالے تو اللّہ تعالیٰ ان پر اجنبی دشمن مسلط فرما دیتے ہیں جو ان کے مال بغیر کسی حق کے چھین لیتا ہے اور پانچویں یہ کہ جب کسی قوم کے ارباب اقتدار کتاب اللّہ کے قانون پر فیصلہ نہ کریں اور اللّہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام ان کے دل کو نہ لگیں تو اللّہ تعالیٰ ان کے آپس میں منافرت اور لڑائی جھگڑے ڈال دیتے ہیں
یہ روایت ابن ماجہ اور بیہقی وغیرہ نے نقل کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح علیٰ شرط مسلم فرمایا ہے
اللّہ تعالیٰ ہم کو اور سب مسلمانوں کو ان آفات سے محفوظ رہنے کی توفیق کامل عطا فرمائیں
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

No comments: