Surah Baqrah aayat 189-191 Rukoo 24
آیات 191 - 189
رکوع 24
آیت 189
يَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَهِلَّةِ ؕ قُلۡ هِىَ مَوَاقِيۡتُ لِلنَّاسِ وَالۡحَجِّ ؕ وَلَيۡسَ الۡبِرُّ بِاَنۡ تَاۡتُوا الۡبُيُوۡتَ مِنۡ ظُهُوۡرِهَا وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنِ اتَّقٰىۚ وَاۡتُوا الۡبُيُوۡتَ مِنۡ اَبۡوَابِهَا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
لفظی ترجمہ
يَسْئَلُوْنَكَ : وہ آپ سے پوچھتے ہیں | عَنِ : سے | الْاَهِلَّةِ : نئے چاند | قُلْ : آپ کہ دیں | ھِىَ : یہ | مَوَاقِيْتُ : (پیمانہ) اوقات | لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے | وَالْحَجِّ : اور حج | وَلَيْسَ : اور نہیں | الْبِرُّ : نیکی | بِاَنْ : یہ کہ | تَاْتُوا : تم آؤ | الْبُيُوْتَ : گھر (جمع) | مِنْ : سے | ظُهُوْرِھَا : ان کی پشت | وَلٰكِنَّ : اور لیکن | الْبِرَّ : نیکی | مَنِ : جو | اتَّقٰى: پرہیزگاری کرے | وَاْتُوا : اور تم آؤ | الْبُيُوْتَ : گھر (جمع) | مِنْ : سے | اَبْوَابِهَا : ان کے دروازوں سے | وَاتَّقُوا : اور تم ڈرو | اللّٰهَ : اللہ | لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم | تُفْلِحُوْنَ : کامیابی حاصل کرو
ترجمہ
لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں کہو یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کی تعین کی اور حج کی علامتیں ہیں نیز ان سے کہو یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف داخل ہوتے ہو نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللّہ کی ناراضی سے بچے لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو البتہ اللّہ سے ڈرتے رہو شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے
ربط آیات
آیت لَيْسَ الْبِرُّ کے تحت بیان ہوچکا ہے کہ اس کے بعد آخر سورة بقرہ تک ابواب البر کا بیان ہوگا جو اہم احکام شرعیہ پر مشتمل ہیں
ان میں پہلا حکم قصاص کا
دوسرا وصیت کا
تیسرا اور چوتھا صوم اور اس کے متعلقہ مسائل کا
پانچواں اعتکاف کا
چھٹا مال حرام سے بچنے کا تھا
مذکور الصدر دو آیتوں میں حج اور جہاد کے احکام و مساٸل کا بیان ہے اور حج کے حکم سے پہلے یہ بتلایا گیا کہ روزہ اور حج وغیرہ میں قمری مہینوں اور دنوں کا اعتبار ہوگا
لغاتاَهِلَّةِ ہلال کی جمع ہے
قمری مہینہ کی ابتدائی چند راتوں کے چاند کو ہلال کہا جاتا ہے مواقیت، میقات کی جمع ہے جس کے معنی مطلق وقت یا منتہائے وقت کے آتے ہیں
(قرطبی)
حکم ہفتم، اعتبار حساب قمری درحج وغیرہ
بعضے آدمی آپ سے ان چاندوں کے ہر مہینہ گھٹنے بڑہنے کی حالت اور اس میں جو فائدہ ہے اس فائدہ کی تحقیقات کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ فائدہ اس کا یہ ہے کہ وہ چاند اپنے اس گھٹنے اور بڑہنے کے اعتبار سے لزوما یا سہولۃ آلہ شناخت اوقات ہیں لوگوں کے اختیاری معاملات مثل عدت و مطالبہ حقوق کے لئے اور غیر اختیاری عبادات مثل حج وزکوۃ و روزہ وغیرہ کے لئے
حکم ہشتم اصلاح رسم جاہلیت
بعض لوگ قبل اسلام کے اگر حج کا احرام باندھنے کے بعد کسی ضرورت سے گھر جانا چاہتے تھے تو دروازہ سے جانا ممنوع جانتے تھے اس لئے پشت کی دیوار میں نقب دے کر اس میں سے اندر جاتے تھے اور اس عمل کو فضیلت سمجھتے تھے حق تعالیٰ اس کے متعلق بعد ذکر حج کے ارشاد فرماتے ہیں اور اس میں کوئی فضیلت نہیں کہ گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آیا کرو، ہاں لیکن فضیلت یہ ہے کہ کوئی شخص حرام چیزوں سے بچے اور چونکہ گھروں میں دروازہ کی طرف سے آنا حرام نہیں ہے اس لئے اس سے بچنا بھی ضروری نہیں سو اگر آنا چاہو تو گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور اصل الاصول تو یہ ہے کہ اللّہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اس سے البتہ امید ہے کہ تم دارین میں کامیاب ہو
حکم نہم، قتال کفار
ذی قعدہ ٦ ہجری میں حضور صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ادائے عمرہ کے قصد سے مکہ معظمہ تشریف لے چلے اس وقت تک مکہ معظمہ مشرکین کے قبضہ اور حکومت میں تھا ان لوگوں نے حضور صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ہمراہیوں کو مکہ کے اندر نہ جانے دیا اور عمرہ رہ گیا آخر بڑی گفتگو کے بعد یہ معاہدہ قرار پایا
کہ سال آئندہ تشریف لاکر عمرہ ادا فرماویں
چناچہ ذی قعدہ ٧ ھ میں پھر آپ اسی قصد سے تشریف لے چلے لیکن آپ کے ساتھ مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ شاید مشرکین اپنا معاہدہ پورا نہ کریں اور آمادہ مقابلہ ومقاتلہ نہ ہوجاویں تو ایسی حالت میں نہ سکوت مصلحت ہے اور اگر مقابلہ کیا جاوے تو ذی قعدہ میں قتال لازم آتا ہے اور یہ مہینہ منجملہ ان چار مہینوں کے ہے جن کو اشہر حرم کہا جاتا ہے ان چاروں مہینوں میں اس وقت تک قتل و قتال حرام و ممنوع تھا یہ چار مہینے ذی قعدہ ذی الحجہ، محرم اور رجب تھے غرض مسلمان اس تردد سے پریشان تھے حق تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ ان خاص معاہدہ کرنے والوں کے ساتھ بوجہ باہمی معاہدہ کے تم کو اپنی جانب سے ابتداءً قتال کرنے کی اجازت نہیں لیکن اگر وہ لوگ خود عہد شکنی کریں اور تم سے لڑنے کو آمادہ ہوجاویں تو اس وقت تم کسی طرح کا اندیشہ دل میں مت لاؤ
اور بےتکلف تم بھی لڑو اللّہ کی راہ میں یعنی اس نیت سے کہ یہ لوگ دین کی مخالفت کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ جو نقص عہد کرکے تمہارے ساتھ لڑنے لگیں اور حد معاہدہ سے مت نکلو کہ عہد شکنی کرکے لڑنے لگو واقعی اللہ تعالیٰ حد قانون شرعی سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے اور جس حالت میں وہ خود عہد شکنی کریں تو اس وقت دل کھول کر خواہ ان کو قتل کرو جہاں ان کو پاؤ اور خواہ ان کو مکہ سے نکال باہر کرو جہاں سے انہوں نے تم کو تنگ کرکے اور ایذائیں پہنچا کر نکلنے اور ہجرت کرنے پر مجبور کیا ہے اور تمہارے اس قتل واخراج کے بعد بھی عقلا الزام انھیں پر رہے گا کیونکہ عہد شکنی جو ان سے واقع ہوگی بڑی شرارت کی بات ہے اور ایسی شرارت ضرر میں قتل واخراج سے بھی سخت تر ہے کیونکہ اس قتل واخراج کی نوبت اس شرارت ہی کی بدولت پہنچتی ہے اور علاوہ معاہدہ کے ان کے ساتھ ابتداءً قتال کرنے سے ایک اور امر بھی مانع ہے وہ یہ کہ حرم شریف یعنی مکہ اور اس کا گردا گرد ایک واجب الاحترام جگہ ہے اور اس میں قتال کرنا اس کے احترام کے خلاف ہے اس لئے بھی حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ مسجد حرام کے قرب ونواح میں جو حرم کہلاتا ہے قتال مت کرو جب تک کہ وہ لوگ وہاں تم سے خود نہ لڑیں ہاں اگر وہ کفار خود ہی لڑنے کا سامان کرنے لگیں تو اس وقت پھر تم کو بھی اجازت ہے کہ تم بھی ان کو مارو دھاڑو ایسے کافروں جو حرم میں لڑنے لگیں ایسی ہی سزا ہے
معارف و مسائل
پہلی آیت میں صحابہ کرام کا ایک سوال اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا جواب نقل کیا گیا ہے
امام المفسرین حضرت عبداللّہ بن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کی ایک شان ہے کہ انہوں نے بوجہ عظمت وہیبت کے اپنے رسول صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات بہت کم کئے ہیں بخلاف پچھلی امتوں کے کہ جنہوں نے بکثرت سوالات کئے اور اس ادب کو ملحوظ نہیں رکھا
حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ اجمعین کے سوالات جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے کل چودہ ہیں جن میں سے ایک سوال ابھی اوپر گذرا ہے
وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ
دوسرا سوال یہ ہے اور ان کے بعد سورة بقرہ ہی میں چھ سوال اور مذکور ہیں اور باقی چھ سوالات مختلف سورتوں میں آئے ہیں
آیت مذکورہ میں ذکر یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ اجمعین نے رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم سے اَهِلَّةِ یعنی شروع مہینے کے چاند کے متعلق سوال کیا کہ اس کی صورت آفتاب سے مختلف ہے کہ وہ کبھی باریک ہلالی شکل میں ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ بڑہتا ہے پھر پورا دائرہ ہوجاتا ہے پھر اس میں تدریجی کمی اسی طرح آتی ہے اس کی حقیقت دریافت کی یا حکمت و مصلحت کا سوال کیا دونوں احتمال ہیں مگر جو جواب دیا گیا اس میں حکمت و مصلحت کا بیان ہے اگر سوال ہی یہ تھا کہ چاند کے گھٹنے بڑہنے میں حکمت و مصلحت کیا ہے تب تو جواب اس کے مطابق ہو ہی گیا اور اگر سوال سے اس گھٹنے بڑ ہنے کی حقیقت دریافت کرنا مقصود تھا جو صحابہ کرام کی شان سے بعید ہے تو پھر جواب بجائے حقیقت کے حکمت و مصلحت بیان کرنے سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اجرام سماویہ کے حقائق دریافت کرنا انسان کے بس میں بھی نہیں اور ان کا کوئی دینی یا دنیوی کام اس حقیقت کے علم پر موقوف بھی نہیں اس لئے حقیقت کا سوال فضول ہے پوچھنے اور بتلانے کی بات یہ ہے کہ چاند کے اس طرح گھٹنے بڑہنے چھپنے اور طلوع ہونے سے ہمارے کون سے مصالح وابستہ ہیں اس لئے جواب میں رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہاری مصالح جو چاند سے وابستہ ہیں یہ ہیں کہ اس کے ذریعہ تمہیں اپنے معاملات اور معاہدوں کی میعاد مقرر کرنا اور حج کے ایام معلوم کرنا آسان ہوجائے گا
قمری اور شمسی حساب کی شرعی حیثیت
اس آیت سے تو اتنا معلوم ہوا کہ چاند کے ذریعہ تمہیں تاریخوں اور مہینوں کا حساب معلوم ہوجائے گا جس پر تمہارے معاملات اور عبادات حج وغیرہ کی بنیاد ہے اسی مضمون کو سورة یونس کی آیت نمبر ٥ میں اس عنوان سے بیان فرمایا ہے
وَقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ
(یونس)
جس سے معلوم ہوا کہ چاند کو مختلف منزلوں اور مختلف حالات سے گذارنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سال اور مہینوں اور تاریخوں کا حساب معلوم ہوسکے مگر سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر ١٢ میں اس حساب کا تعلق آفتاب سے بھی بتلایا گیا ہے وہ یہ ہے
فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ
(١٢: ١٧)
پھر مٹایا رات کا نمونہ اور بنادیا دن کا نمونہ دیکھنے کو تاکہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا اور تاکہ معلوم کرو گنتی برسوں کی اور حساب
اس تیسری آیت سے اگرچہ یہ ثابت ہوا کہ سال اور مہینوں وغیرہ کا حساب آفتاب سے بھی لگایا جاسکتا ہے
(کما ذکرہ فی روح المعانی)
لیکن چاند کے معاملہ میں جو الفاظ قرآن کریم نے استعمال کئے ان سے واضح اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ شریعت اسلام میں حساب چاند ہی کا متعین ہے خصوصاً ان عبادات میں جن کا تعلق کسی خاص مہینے اور اس کی تاریخوں سے ہے جیسے روزہ رمضان، حج کے مہینے حج کے ایام محرم، شب برأت وغیرہ سے جو احکام متعلق ہیں وہ سب رویت ہلال سے متعلق کئے گئے ہیں کیونکہ اس آیت میں ھِىَ مَوَاقِيْتُ للنَّاسِ وَالْحَجِّ فرما کر بتلا دیا کہ اللّہ تعالیٰ کے نزدیک حساب چاند ہی کا معتبر ہے اگرچہ یہ حساب آفتاب سے بھی معلوم ہوسکتا ہے
شریعت اسلام نے چاند کے حساب کو اس لئے اختیار فرمایا کہ اس کو ہر آنکھوں والا افق پر دیکھ کر معلوم کرسکتا ہے عالم جاہل دیہاتی جزیروں پہاڑوں کے رہنے والے جنگلی سب کو اس کا علم آسان ہے بخلاف شمسی حساب کے کہ وہ آلات رصدیہ اور قواعد ریاضیہ پر موقوف ہے جس کو ہر شخص آسانی سے معلوم نہیں کرسکتا پھر عبادات کے معاملہ میں تو قمری حساب کو بطور فرض متعین کردیا اور عام معاملات تجارت وغیرہ میں بھی اسی کو پسند کیا جو عبادت اسلامی کا ذریعہ ہے اور ایک طرح کا اسلامی شعار ہے اگرچہ شمسی حساب کو بھی ناجائز قرار نہیں دیا شرط یہ ہے کہ اس کا رواج اتنا عام نہ ہوجائے کہ لوگ قمری حساب کو بالکل بھلا دیں کیونکہ ایسا کرنے میں عبادات روزہ وحج وغیرہ میں خلل لازم آتا ہے جیسا اس زمانے میں عام دفتروں اور کاروباری اداروں بلکہ نجی اور شخصی مکاتبات میں بھی شمسی حساب کا ایسا رواج ہوگیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اسلامی مہینے بھی پورے یاد نہیں رہے یہ شرعی حیثیت کے علاوہ غیرت قومی وملی کا بھی دیوالیہ پن ہے اگر دفتری معاملات میں جن کا تعلق غیر مسلموں سے بھی ہے ان میں صرف شمسی حساب رکھیں باقی نجی خط و کتابت اور روز مرہ کی ضروریات میں قمری اسلامی تاریخوں کا استعمال کریں تو اس میں فرض کفایہ کی ادائیگی کا ثواب بھی ہوگا اور اپنا قومی شعار بھی محفوظ رہے گا
مسئلہ
لَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِھَا
اس آیت سے یہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ جس چیز کو شریعت اسلام نے ضروری یا عبادت نہ سمجھا ہو اس کو اپنی طرف سے ضروری اور عبادت سمجھ لینا جائز نہیں اسی طرح جو چیز شرعا جائز ہو اس کو گناہ سمجھنا بھی گناہ ہے ان لوگوں نے ایسا ہی کر رکھا تھا کہ گھر کے دروازوں سے داخل ہونا جو شرعاً جائز تھا اس کو گناہ قرار دیا، اور مکان کی پشت سے دیوار توڑ کر آیا جو شرعا ضروری نہیں تھا اس کو ضروری سمجھا اسی پر ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی بدعات کے ناجائز ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ غیر ضروری چیزوں کو فرض وواجب کی طرح ضروری سمجھ لیا جاتا ہے یا بعض چیزوں کو حرام و ناجائز قرار دے دیا جاتا ہے اس آیت سے ایسا کرنے کی ممانعت واضح طور پر ثابت ہوگئی جس سے ہزاروں اعمال کا حکم معلوم ہوگیا
190 آیت
وَقَاتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ
لفظی ترجمہ
وَقَاتِلُوْا : اور تم لڑو | فِيْ : میں | سَبِيْلِ : راستہ | اللّٰهِ : اللہ | الَّذِيْنَ : وہ جو کہ | يُقَاتِلُوْنَكُمْ : تم سے لڑتے ہیں | وَلَا تَعْتَدُوْا : اور زیادتی نہ کرو | اِنَّ : بیشک | اللّٰهَ : اللہ | لَا يُحِبُّ : نہیں پسند کرتا | الْمُعْتَدِيْنَ : زیادتی کرنے والے
ترجمہ
اور تم اللّہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں مگر زیادتی نہ کرو کہ اللّہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
تفسیر
حکم نہم جہاد و قتال
اس پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ ہجرت مدینہ سے پہلے کفار کے ساتھ جہاد و قتال ممنوع تھا اس وقت کی تمام آیات قرآنی میں مسلمانوں کو کفار کی ایذاؤں پر صبر اور عفو و درگذر کی ہی تلقین تھی ہجرت مدینہ کے بعد سب سے پہلے اس آیت میں قتال کفار کا حکم آیا
قالہ الربیع بن انس وغیرہ اور صدیق اکبر سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ قتال کفار کے متعلق پہلی آیت یہ ہے
اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا
مگر اکثر حضرات صحابہ کرامؓ اجمعین وتابعین کے نزدیک پہلی آیت سورة بقرہ کی آیت مذکورہ ہی ہے اور صدیق اکبر نے جس کو پہلی فرمایا ہے وہ بھی ابتدائی آیتوں میں ہونے کے سبب پہلی کہی جاسکتی ہے
اس آیت میں حکم یہ ہے کہ مسلمان صرف ان کافروں سے قتال کریں جو ان کے مقابلہ پر قتال کے لئے آویں اس سے مراد یہ ہے کہ عورتیں بچے بہت بوڑھے اور اپنے مذہبی شغل میں دنیا سے یکسو ہو کر لگے ہوئے عبادت گذار راہب، پادری وغیرہ اور ایسے ہی اپاہج ومعذور لوگ یا وہ لوگ جو کافروں کے یہاں محنت مزدوری کا کام کرتے ہیں ان کے ساتھ جنگ میں شریک نہیں ہوتے ایسے لوگوں کو جہاد میں قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حکم آیت کا صرف ان لوگوں سے قتال کرنے کا ہے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں قتال کریں اور مذکورہ قسم کے سب افراد قتال کرنے والے نہیں اسی لئے فقہاء رحمہم اللّہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کوئی عورت یا بوڑھا یا مذہبی آدمی وغیرہ کفار کی طرف سے قتال میں شریک ہوں یا مسلمانوں کے بالمقابل جنگ میں ان کی مدد کسی طرح سے کررہے ہوں ان کا قتل جائز ہے کیونکہ وہ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ میں داخل ہیں
(مظہری قرطبی جصاص)
رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایات جو مجاہدین اسلام کو بوقت جہاد دی جاتی تھیں ان میں اس حکم کی واضح تشریحات مذکور ہیں صحیح بخاری ومسلم میں بروایت حضرت عبداللّہ بن عمر ایک حدیث میں ہے
نھی رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم عن قتل النسآء والصبیان
یعنی رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ہے
ابوداؤد میں بروایت انس جہاد پر جانے والے صحابہ کو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ ہدایات منقول ہیں تم اللّہ کے نام پر اور رسول اللّہ کی ملت پر جہاد کے لئے جاؤ کسی بوڑھے ضعیف کو اور چھوٹے بچے کو یا کسی عورت کو قتل نہ کرو
(مظہری)
حضرت صدیق اکبر نے جب یزید بن ابی سفیان کو ملک شام بھیجا تو ان کو یہی ہدایت دی اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ عبادت گذار اور راہبوں کو اور کافروں کی مزدوری کرنے والوں کو بھی قتل نہ کریں جبکہ وہ قتال میں حصہ نہ لیں
(قرطبی)
آیت کے آخر میں وَلَا تَعْتَدُوْا کا بھی جمہور مفسرین کے نزدیک یہی مطلب ہے کہ قتال میں حد سے تجاوز نہ کرو کہ عورتوں بچوں وغیرہ کو قتل کرنے لگو
آیت 191
وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ وَاَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ اَخۡرَجُوۡكُمۡ وَالۡفِتۡنَةُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِۚ وَلَا تُقٰتِلُوۡهُمۡ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوۡكُمۡ فِيۡهِۚ فَاِنۡ قٰتَلُوۡكُمۡ فَاقۡتُلُوۡهُمۡؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ
لفظی ترجمہ
وَاقْتُلُوْھُمْ : اور انہیں مار ڈالو | حَيْثُ : جہاں | ثَقِفْتُمُوْھُمْ : تم انہیں پاؤ | وَاَخْرِجُوْھُمْ : اور انہیں نکال دو | مِّنْ : سے | حَيْثُ : جہاں | اَخْرَجُوْكُمْ : انہوں نے تمہیں نکالا | وَ : اور | الْفِتْنَةُ : فتنہ | اَشَدُّ : زیادہ سنگین | مِنَ : سے | الْقَتْلِ : قتل | وَلَا : اور نہ | تُقٰتِلُوْھُمْ : ان سے لڑو | عِنْدَ : پاس | الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام (خانہ کعبہ) | حَتّٰى: یہانتک کہ | يُقٰتِلُوْكُمْ : وہ تم سے لڑیں | فِيْهِ : اس میں | فَاِنْ : پس اگر | قٰتَلُوْكُمْ : وہ تم سے لڑیں | فَاقْتُلُوْھُمْ : تو تم ان سے لڑو | كَذٰلِكَ : اسی طرح | جَزَآءُ : سزا | الْكٰفِرِيْنَ : کافر
(جمع)
ترجمہ
ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا اُن سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے اس لیے کہ قتل اگرچہ برا ہے مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں تم بھی نہ لڑو مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چُوکیں تو تم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے
تفسیر
وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ
میں بیان ہوچکا ہے کہ آیت واقعہ حدیبیہ کے بعد اس وقت نازل ہوئی ہے جب صلح حدیبیہ کی شرط کے مطابق رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ اس عمرہ کی قضاء کے لئے سفر کا ارادہ کیا جس سے اس سے پہلے سال میں کفار مکہ نے روک دیا تھا صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین کو اس سفر کے وقت یہ خیال ہو رہا تھا کہ کفار کی صلح اور معاہدہ کا کچھ بھروسہ نہیں اگر وہ لوگ اس سال بھی آمادہ پیکار ہوگئے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے اس پر آیت مذکورہ کے الفاظ نے ان کو اجازت دے دی کہ اگر وہ قتال کرنے لگیں تو تمہیں بھی اجازت ہے کہ جہاں پاؤ ان کو قتل کرو اور اگر قدرت میں ہو تو جس طرح انہوں نے مسلمانوں کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا تم بھی ان کو مکہ سے نکال دو
اور پوری مکی زندگی میں جو مسلمانوں کو کفار کے ساتھ مقاتلہ سے روکا ہوا تھا اور ہمیشہ عفو و درگذر کی تلقین ہوتی رہی تھی اس لئے صحابہ کرام کو اس آیت کے نازل ہونے سے یہی خیال تھا کہ کسی کافر کو قتل کرنا برا اور ممنوع ہے اس خیال کے ازالہ کے لئے فرمایا والْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ یعنی یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ کسی کو قتل کرنا سخت برا کام ہے مگر کفار مکہ کا اپنے کفر و شرک پر جما رہنا اور مسلمانوں کو ادائے عبادت حج وعمرہ سے روکنا اس سے زیادہ سخت وشدید ہے اس سے بچنے کے لئے ان کو قتل کرنے کی اجازت دے دیگئی ہے آیت میں لفظ فتنہ سے کفر و شرک اور مسلمانوں کو ادائے عبادت سے روکنا ہی مراد ہے
(جصاص، قرطبی وغیرہ)
البتہ اس آیت کے عموم سے جو یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ کفار جہاں کہیں ہوں ان کا قتل کرنا جائز ہے اس عموم کی ایک تخصیص آیت کے اگلے جملے میں اس طرح کردی گئی وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ یعنی مسجد حرام کے آس پاس جس سے مراد پورا حرم مکہ ہے اس میں تم ان لوگوں سے اس وقت تک قتال نہ کرو جب تک وہ خود قتال کی ابتداء نہ کریں
مسئلہ
حرم مکہ میں انسان کیا کسی شکاری جانور کو بھی قتل کرنا جائز نہیں لیکن اسی آیت سے معلوم ہوا کہ اگر حرم محترم میں کوئی آدمی دوسرے کو قتل کرنے لگے تو اس کو بھی مدافعت میں قتال کرنا جائز ہے اس پر جمہور فقہاء کا اتفاق ہے
مسئلہ
اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ابتداء جہاد و قتال کی ممانعت صرف مسجدِحرام کی آس پاس حرم مکہ کے ساتھ مخصوص ہے دوسرے مقامات میں جیسے دفاعی جہاد ضروری ہے اسی طرح ابتدائی جہاد و قتال بھی درست ہے۔

No comments: