Surah Baqrah Aayat 192-194

آیات 194 - 192

آیت 192

فَاِنِ انۡـتَهَوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ 

لفظی ترجمہ

 فَاِنِ : پھر اگر   |  انْتَهَوْا : وہ باز آجائیں   |  فَاِنَّ : تو بیشک   |  اللّٰهَ : اللّه   |  غَفُوْرٌ: بخشنے والا   |  رَّحِيْمٌ: رحم کرنے والا 


ترجمہ

پھر اگر وہ باز آ جائیں تو جان لو کہ اللّه معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے


تفسیر

پھر اگر بعد شروع قتال کے بھی وہ لوگ یعنی مشرکین مکہ اپنے کفر سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرلیں تو ان کا اسلام بےقدر نہ سمجھا جاوے گا بلکہ اللّه تعالیٰ ان کے گذشتہ کفر کو بخش دے گا اور مغفرت کے علاوہ بیشمار نعمتیں دے کر ان پر مہربانی بھی فرمادیں گے اور اگر وہ لوگ اسلام نہ لائیں تو اگرچہ دوسرے کفار کے لئے اسلامی قانون یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے بھی اگر اسلامی حکومت کی اطاعت اور جزیہ دینے کا اقرار کرلیں تو ان کا قتل جائز نہیں رہتا بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت اسلامی حکومت پر لازم ہوجاتی ہے مگر یہ خاص کفار چونکہ اہل عرب ہیں ان کے لئے قانون جزیہ نہیں بلکہ ان کے لئے صرف دو راستے ہیں اسلام یا قتل اس واسطے ان کے ساتھ اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ یعنی شرک نہ رہے اور انکا دین خالص اللّه ہی کا ہوجائے اور کسی کا دین و مذہب کا خالصاً اللّه کے لئے ہوجانا موقوف ہے قبول اسلام پر تو حاصل یہ ہوا کہ شرک چھوڑ کر اسلام اختیار کرلیں اور اگر وہ لوگ کفر سے باز آجائیں جس کا ذکر ابھی ہوا ہے تو آخرت میں مغفرت و رحمت کے مستحق ہونے کے ساتھ دنیا میں ان کے لئے تم کو یہ قانون بتلایا جاتا ہے کہ سزا کی سختی کسی پر نہیں ہوا کرتی بجز بےانصافی کرنے والوں کے جو براہ بےانصافی خدائی احسانات کو بھول کر کفر و شرک کرنے لگیں اور جب یہ لوگ اسلام لے آئے تو بےانصاف نہ رہے لہذا ان پر سزائے قتل کی سختی نہ رہی اور مسلمانو  تم کو جو یہ خیال ہے کہ کفار مکہ اگر اپنے عہد پر قائم نہ رہے تو شہر حرام یعنی ذی قعدہ میں ان سے لڑنا پڑے گا سو اس سے بھی بےفکر رہو کیونکہ حرمت والا مہینہ تم کو قتال کفار سے مانع ہو سکتا ہے بعوض اس کے کہ اس حرمت والے مہینہ کے سبب وہ بھی تم سے قتال نہ کریں اور وجہ یہ ہے کہ یہ حرمتیں تو عوض معاوضہ کی چیزیں ہیں سو جو تمہارے ساتھ ان حرمتوں کی رعایت کرے تو تم بھی رعایت رکھو اور جو تم پر ایسی حرمتوں کی رعایت نہ کرکے زیادتی کرے تو تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور ان سب احکام مذکورہ کے برتاؤ میں اللّه تعالیٰ سے ڈرتے رہو کہ کسی امر میں حد قانونی سے تجاوز نہ ہونے پائے اور یقین کرلو کہ اللّه تعالیٰ اپنی عنایت و رحمت سے ان ڈرنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں
حکم دہم انفاق فی الجہاد
اور تم لوگ جان کے ساتھ مال بھی خرچ کیا کرو اللّه کی راہ یعنی جہاد میں اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں مت ڈالو کہ ایسے مواقع میں جان ومال خرچ کرنے سے جبن یا بخل کرنے لگو جس کا نتیجہ تمہارا ضعیف اور مخالف کا قوی ہوجانا ہے جو کہ عین تباہی ہے اور جو کام کرو اچھی طرح کیا کرو مثلاً اس موقع پر خرچ کرنا ہی دل کھول کر خوشی سے اچھی نیت کیساتھ خرچ کرو بلاشبہ اللّه تعالیٰ پسند کرتے ہیں اچھی طرح کام کرنے والوں کو۔


آیت  193


وَقٰتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ لِلّٰهِ‌ؕ فَاِنِ انتَهَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ 


لفظی ترجمہ

 وَقٰتِلُوْھُمْ : اور تم ان سے لڑو   |  حَتّٰى: یہانتک کہ   |  لَا تَكُوْنَ : نہ رہے   |  فِتْنَةٌ: کوئی فتنہ   |  وَّيَكُوْنَ : اور ہوجائے   |  الدِّيْنُ : دین   |  لِلّٰهِ : اللّه کے لیے   |  فَاِنِ : پس اگر   |  انْتَهَوْا : وہ باز آجائیں   |  فَلَا : تو نہیں   |  عُدْوَانَ : زیادتی   |  اِلَّا : سوائے   |  عَلَي : پر   |  الظّٰلِمِيْنَ : ظالم 
(جمع)


ترجمہ

تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللّه کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں



آیت   194


اَلشَّهۡرُ الۡحَـرَامُ بِالشَّهۡرِ الۡحَـرَامِ وَالۡحُرُمٰتُ قِصَاصٌ‌ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ

لفظی ترجمہ

 اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ : حرمت والا مہینہ   |  بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ : بدلہ حرمت والا مہینہ   |  وَ : اور   |  الْحُرُمٰتُ : حرمتیں   |  قِصَاصٌ: قصاص   |  فَمَنِ : پس جس   |  اعْتَدٰى: زیادتی کی   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  فَاعْتَدُوْا : تو تم زیادتی کرو   |  عَلَيْهِ : اس پر   |  بِمِثْلِ : جیسی   |  مَا : جو   |  اعْتَدٰى: اس نے زیادتی کی   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  وَاتَّقُوا : اور تم ڈرو   |  اللّٰهَ : اللّه   |  وَاعْلَمُوْٓا : اور جان لو   |  اَنَّ : کہ   |  اللّٰهَ : اللّه   |  مَعَ : ساتھ   |  المتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں 

ترجمہ

ماہ حرام کا بدلہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا لہٰذا جوتم پر دست درازی کرے تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو البتہ اللّه سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللّه انہیں لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں

تفسیر

٧ ہجری میں جب رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے قانون کے مطابق فوت شدہ عمرہ ادا کرنے کے لئے بہ معیت صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین مکہ کے سفر کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام جانتے تھے کہ ان کفار کے معاہدوں اور صلح کا کچھ اعتبار نہیں ممکن ہے کہ وہ جنگ کرنے لگیں تو اس جنگ میں صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین کے لئے ایک اشکال تو یہ تھا کہ حرم مکہ میں جنگ کی نوبت آئے گی جو اسلام میں ناجائز ہے اس کا جواب پچھلی آیت میں دے دیا گیا کہ حرم مکہ کی حرمت مسلمانوں پر ضرور لازم ہے لیکن اگر کفار حدود حرم میں ہی مسلمانوں سے جنگ کرنے لگیں تو ان کو بھی مدافعت میں جنگ کرنا جائز ہے
دوسرا اشکال یہ تھا کہ یہ مہینہ ذیقعدہ کا ہے جو ان چار مہینوں میں سے ہے جن کو اشہر حرم کہا جاتا ہے اور ان میں کسی سے کسی جگہ جنگ کرنا جائز نہیں تو اگر مشرکین مکہ نے ہمارے خلاف جنگ شروع کردی تو ہم اس مہینے میں دفاعی جنگ کیسے کرسکتے ہیں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ جیسے حرم مکہ کی حرمت سے حالت دفاع مستثنی ہے اسی طرح اگر اشہر حرم میں کافر ہم سے قتال کرنے لگیں تو ہم کو بھی ان سے دفاعی جنگ لڑناجائز ہے
مسئلہ
اشہر حرم چار مہینے ہیں، ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم یہ تین ماہ تو مسلسل ہیں چوتھا مہینہ رجب کا ہے اسلام سے پہلے بھی ان چار مہینوں میں جنگ کو حرام سمجھا جاتا تھا اور مشرکین مکہ بھی اس کے پابند تھے ابتداء اسلام میں بھی ٧ ہجری تک یہی قانون نافذ تھا اسی لئے صحابہ کرام کو اشکال پیش آیا اس کے بعد یہ حرمت قتال منسوخ کرکے عام قتال کی اجازت باجماع امت دے دیگئی مگر افضل اب بھی یہی ہے کہ ان چار مہینوں میں ابتداء بالقتال نہ کی جائے صرف مدافعت کی ضرورت سے قتال کیا جائے اس لحاظ سے یہ کہنا بھی فی الجملہ درست ہے کہ اشہر حرم کی حرمت منسوخ نہیں باقی ہے جیسے حرم مکہ میں قتال کی اجازت بضرورت مدافعت دینے سے حرم مکہ کی حرمت منسوخ نہیں ہوئی بلکہ صرف ایک استثنائی صورت پر عمل ہوا‎







No comments:

Powered by Blogger.