Surah Baqrah aayat 197-200 Rukoo 25

آیات 200 - 197
رکوع : 25 

آیت 197


اَلۡحَجُّ اَشۡهُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ‌ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِيۡهِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَۙ وَلَا جِدَالَ فِى الۡحَجِّ ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يَّعۡلَمۡهُ اللّٰهُ ‌ؕ وَتَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَيۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰى ۚ وَاتَّقُوۡنِ يٰٓاُولِى الۡاَلۡبَابِ 


لفظی ترجمہ


 اَلْحَجُّ : حج   |  اَشْهُرٌ: مہینے   |  مَّعْلُوْمٰتٌ: معلوم (مقرر)  |  فَمَنْ : پس جس نے   |  فَرَضَ : لازم کرلیا   |  فِيْهِنَّ : ان میں   |  الْحَجَّ : حج   |  فَلَا : تو نہ   |  رَفَثَ : بےپردہ ہو   |  وَلَا فُسُوْقَ : اور نہ گالی دے   |  وَلَا : اور نہ   |  جِدَالَ : جھگڑا   |  فِي الْحَجِّ : حج میں   |  وَمَا : اور جو   |  تَفْعَلُوْا : تم کروگے   |  مِنْ خَيْرٍ : نیکی سے   |  يَّعْلَمْهُ : اسے جانتا ہے   |  اللّٰهُ : اللّه   |  وَتَزَوَّدُوْا : اور تم زاد راہ لے لیا کرو   |  فَاِنَّ : پس بیشک   |  خَيْرَ : بہتر   |  الزَّادِ : زاد راہ   |  التَّقْوٰى: تقوی   |  وَاتَّقُوْنِ : اور مجھ سے ڈرو   |  يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ : اے عقل والو 


ترجمہ

حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بد عملی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو اور جو نیک کام تم کرو گے وہ اللّه کے علم میں ہوگا سفر حج کے لیے زاد راہ ساتھ لے جاؤ اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے پس اے ہوش مندو میر ی نا فرمانی سے پرہیز کرو


تفسیر

احکام حج کی آٹھ آیتوں میں سے دوسری آیت اور اس کے مسائل اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ اشہر اَشْهُرٌ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں مہینہ۔ پچھلی آیت میں یہ بتلایا گیا تھا کہ جو کوئی حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے تو اس پر لازم آتا ہے کہ اس کے احکام پورے ادا کرے ان دونوں میں عمرہ کے لئے تو کوئی تاریخ اور مہینہ مقرر نہیں سال بھر میں جب چاہئیں کرسکتے ہیں لیکن حج کے لئے مہینے اور اس کے افعال و اعمال کے لئے خاص تاریخیں اور اوقات مقرر ہیں اس لئے اس آیت کے شروع میں یہ بتلا دیا کہ حج کا معاملہ عمرہ کی طرح نہیں ہے اس کے لئے کچھ مہینے مقرر ہیں جو معروف و مشہور ہیں جاہلیت عرب سے لے کر زمانہ اسلام تک یہی مہینے حج کے مقرر رہے ہیں وہ مہینے شوال ذی قعدہ اور دس روز ذی الحجہ کے ہیں جیسا کہ حدیث میں بروایت ابوامامہ وابن عمر منقول ہے 
             (مظہری)
 شوال سے حج کے مہینے شروع ہونے کا حاصل یہ ہے کہ اس سے پہلے حج کا احرام باندہنا جائز نہیں بعض ائمہ کے نزدیک تو قبل شوال کے احرام سے حج کی ادائیگی ہی نہیں ہوسکتی
امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس احرام سے حج تو ادا ہوجائے گا مگر مکروہ ہوگا    
             (مظہری) 
فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ اس میں حج کا احرام باندہنے والے کے لئے کچھ منفی آداب و احکام کا بیان ہے جن سے حالت احرام میں پرہیز کرنا لازم و واجب ہے وہ تین چیزیں ہیں رفث، فسوق، جدال۔رفث ایک لفظ جامع ہے جس میں عورت سے مباشرت اور اس کے مقدمات یہاں تک کہ زبان سے عورت کے ساتھ اس کی کھلی گفتگو بھی داخل ہے محرم کو حالت احرام میں یہ سب چیزیں حرام ہیں تعریض وکنایہ کا مضائقہ نہیں
فسوق کے لفظی معنی خروج کے ہیں اصطلاح قرآن میں عدول حکمی اور نافرمانی کو فسوق کہا جاتا ہے جو اپنے عام معنی کے اعتبار سے سب گناہوں کو شامل ہے اسی لئے بعض حضرات نے اس جگہ عام معنی ہی مراد لئے ہیں مگر حضرت عبداللّه بن عمر نے اس جگہ فسوق کی تفسیر مخطورات احرام سے فرمائی ہے یعنی وہ کام جو حالت احرام میں ممنوع و ناجائز ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ اس مقام کے مناسب یہی تفسیر ہے کیونکہ عام گناہوں کی ممانعت احرام کے ساتھ خاص نہیں ہر حال میں حرام ہیں
وہ چیزیں جو اصل سے گناہ نہیں مگر احرام کی وجہ سے ناجائز ہوجاتی ہیں چھ چیزیں ہیں اول عورت کے ساتھ مباشرت اور اس کے تمام متعلقات یہاں تک کہ کھلی گفتگو بھی، دوسرے برّی جانوروں کا شکار، خود کرنا یا شکاری کو بتلانا، تیسرے بال یا ناخن کٹوانا، چوتھے خوشبو کا استعمال یہ چار چیزیں تو مرد و عورت دونوں کے لئے حالت احرام میں ناجائز ہیں باقی دو چیزیں مردوں کے ساتھ خاص ہیں یعنی سلے ہوئے کپڑے پہننا، اور سر اور چہرے کو ڈھانپنا، امام اعظم ابوحنیفہ ومالک کے نزدیک چہرہ کو ڈھانپنا حالت احرام میں عورت کے لئے بھی ناجائز ہے اس لئے یہ بھی مشترک محظورات احرام میں شامل ہے
ان چھ چیزوں میں پہلی یعنی عورت سے مباشرت وغیرہ اگرچہ فسوق میں داخل ہے لیکن اس کو فسوق سے پہلے الگ کرکے لفظ رفث سے اس لئے بتلا دیا کہ احرام میں اس سے اجتناب سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ دوسرے محظورات احرام کا تو کوئی بدل اور کفارہ بھی ہوجاتا ہے اور مباشرت کی بعض صورتیں ایسی بھی ہیں کہ اگر ان میں کوئی مبتلا ہوجائے تو حج ہی فاسد ہوجاتا ہے اس کا کوئی کفارہ بھی نہیں ہوسکتا مثلاً وقوف عرفات سے پہلے بیوی سے صحبت کرلی تو حج فاسد ہوگیا اور اس کا جرمانہ بھی گائے یا اونٹ کی قربانی سے دینا پڑے گا اور اگلے سال پھر حج کرنا پڑے گا اس مزید اہمیت کی بنا پر اس کو فَلَا رَفَثَ کے لفظ سے مستقلا بیان فرمادیا
جدال کے معنی ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی کوشش کے ہیں اس لئے سخت قسم کے جھگڑے کو جدال کہا جاتا ہے یہ لفظ بھی بہت عام ہے اور بعض حضرات مفسرین نے عام ہی معنی مراد لئے ہیں اور بعض حضرات نے مقام حج و احرام کی مناسبت سے اس جگہ جدال کے معنی یہ لئے ہیں کہ جاہلیت عرب کے لوگ مقام وقوف میں اختلاف رکھتے تھے کچھ لوگ عرفات میں وقوف کرنا ضروری سمجھتے تھے جیسا کہ حقیقت ہے اور کچھ مزدلفہ میں وقوف ضروری کہتے تھے، عرفات میں جانے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے اور اسی کو موقف ابراہیم علیہ السلام قرار دیتے تھے اسی طرح اوقات حج کے معاملہ میں بھی اختلاف تھا کچھ لوگ ذی الحجہ میں حج کرتے تھے اور کچھ ذی قعدہ ہی میں کرلیتے تھے اور پھر ان معاملات میں باہمی نزاعات اور جھگڑے ہوتے تھے ایک دوسرے کو گمراہ کہتا تھا
قرآن کریم نے ۙوَلَا جِدَال فرما کر ان جھگڑوں کا خاتمہ فرمایا اور جو بات حق تھی کہ وقوف فرض عرفات میں اور پھر وقوف واجب مزدلفہ میں کیا جائے اور حج صرف ذی الحجہ کے ایام میں کیا جائے اس کا اعلان کرکے اس کے خلاف جھگڑا کرنے کو ممنوع کردیا اس تفسیر وتقریر کے لحاظ سے اس آیت میں صرف مخطورات احرام کا بیان ہوا جو اگرچہ فی نفسہ جائز ہیں مگر احرام کی وجہ سے ممنوع کردی گئی ہیں جیسے نماز، روزہ کی حالت میں کھانا پینا، کلام کرنا وغیرہ جائز چیزوں کو منع کردیا گیا ہے
اور بعض حضرات نے اس جگہ فسوق وجدال کو عام معنی میں لے کر مقصد یہ قرار دیا کہ اگرچہ فسق و گناہ اسی طرح باہم جدال و خلاف ہر جگہ ہر حال میں مذموم و گناہ ہے لیکن حالت احرام میں اس کا گناہ اور زیادہ شدید ہوجاتا ہے مبارک ایام اور مقدس سرزمین میں جہاں صرف اللہ کے لئے عبادت کے واسطے آتے ہیں اور لبیک لبیک پکار رہے ہیں احرام کا لباس ان کو ہر وقت اس کی یاد دہانی کرا رہا ہے کہ تم اس وقت عبادت میں ہو ایسی حالت میں فسق و فجور اور نزاع وجدال انتہائی بیباکی اور اشد ترین گناہ ہوجاتا ہے
اس عام معنی کے اعتبار سے اس جگہ رفث، فسوق، جدال سے روکنے اور ان کی حرمت کو بیان کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مقام حج اور زمانہ حج کے حالات ایسے ہیں کہ ان میں انسان کو ان تینوں چیزوں میں ابتلاء کے مواقع بہت پیش آتے ہیں حالت احرام میں اکثر اپنے اہل و عیال سے ایک طویل مدت تک علیحدہ رہنا پڑتا ہے اور پھر مطاف ومسعیٰ ، عرفات، مزدلفہ منیٰ کے اجتماعات میں کتنی بھی احتیاط برتی جائے عورتوں مردوں کا اختلاط ہو ہی جاتا ہے ایسی حالت میں نفس پر قابو پانا آسان نہیں اس لئے سب سے پہلے رفث کی حرمت کا بیان فرمایا اسی طرح اس عظیم الشان اجتماع میں چوری وغیرہ دوسرے گناہوں کے مواقع بھی بیشمار پیش آتے ہیں اس لئے لَا فُسُوْقَ کی ہدایت فرما دی اسی طرح سفر حج میں اول سے آخر تک بیشمار مواقع اس کے بھی پیش آتے ہیں کہ رفقاء سفر اور دوسرے لوگوں سے جگہ کی تنگی اور دوسرے اسباب کی بناء پر جھگڑا لڑائی ہوجائے اس لئے لَا جِدَالَ کا حکم دیا گیا۔

بلاغت قرآن

اس آیت فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ کے الفاظ نفی کے الفاظ ہیں کہ یہ سب چیزیں حج میں نہیں ہیں حالانکہ مقصود ان چیزوں سے نہی اور ممانعت کرنا ہے جس کا مقتضیٰ یہ تھا کہ لاترفثوا ولا تفسقوا ولا تجادلوا کہا جاتا مگر یہاں نہی کی جگہ نفی کے الفاظ رکھ کر اس طرف اشارہ فرمادیا کہ ان افعال کی حج میں کوئی گنجائش اور تصور ہی نہیں
وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ محظورات وممنوعات احرام بیان فرمانے کے بعد آخر میں اس جملے میں یہ ہدایت دی گئی کہ حج کے مبارک ایام اور مقدس مقامات میں تو صرف یہی نہیں کہ محظورات اور گناہوں سے بچو بلکہ غنیمت جان کر عبادت و ذکر اللّه اور نیک کاموں میں لگے رہو تم جو بھی نیک کام کرو گے وہ اللہ کے علم میں ہے اور تمہیں اس پر بڑے انعامات ملیں گے
وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّاد التَّقْوٰى اس میں ان لوگوں کی اصلاح ہے جو حج وعمرہ کے لئے بےسروسامانی کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ ہم اللّه پر توکل کرتے ہیں پھر راستہ میں بھیک مانگنا پڑتی ہے یا خود بھی تکلیف اٹھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہیں ان کی ہدایت کے لئے حکم ہوا کہ اللّه تعالیٰ کے دئیے ہوئے اسباب وسائل کو اپنے مقدور کے مطابق حاصل اور جمع کرے پھر اللّه تعالیٰ پر توکل کرے رسول کریم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے توکل کی یہی تفسیر منقول ہے بالکل ترک اسباب کا نام توکل رکھنا جہالت ہے۔


آیت  198

لَيۡسَ عَلَيۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکُمۡؕ فَاِذَآ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡکُرُوا اللّٰهَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَـرَامِ ۖ وَاذۡکُرُوۡهُ کَمَا هَدٰٮکُمۡ‌ۚ وَاِنۡ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الضَّآ لِّيۡنَ


لفظی ترجمہ

 لَيْسَ : نہیں   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  جُنَاحٌ: کوئی گناہ   |  اَنْ : اگر تم   |  تَبْتَغُوْا : تلاش کرو   |  فَضْلًا : فضل   |  مِّنْ : سے   |  رَّبِّكُمْ : اپنا رب   |  فَاِذَآ : پھر جب   |  اَفَضْتُمْ : تم لوٹو   |  مِّنْ : سے   |  عَرَفٰتٍ : عرفات   |  فَاذْكُرُوا : تو یاد کرو   |  اللّٰهَ : اللہ   |  عِنْدَ : نزدیک   |  الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ : مشعر حرام   |  وَاذْكُرُوْهُ : اور اسے یاد کرو   |  كَمَا : جیسے   |  ھَدٰىكُمْ : اسنے تمہیں ہدایت دی   |  وَاِنْ : اور اگر   |  كُنْتُمْ : تم تھے   |  مِّنْ قَبْلِهٖ : اس سے پہلے   |  لَمِنَ : ضرور۔ سے   |  الضَّآلِّيْنَ : ناواقف 


ترجمہ

اور اگر حج کے ساتھ ساتھ اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ تو اس میں کوئی مضائقہ نہں پھر جب عرفات سے چلو تو مشعر حرام (مزدلفہ) کے پاس ٹھیر کر اللّه کو یاد کرو اور اُس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں دی ہے ورنہ اس سے پہلے تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے

تفسیر

سفر حج میں تجارت یا مزدوری کرنا کیسا ہے  لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ یعنی تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم سفر حج میں تجارت یا مزدوری کے ذریعے کچھ روزی کمالو اور اللّه تعالیٰ کا دیا ہوا رزق حاصل کرو واقعہ نزول اس آیت کا یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب نے جس طرح تمام عبادات و معاملات کو مسخ کرکے طرح طرح کی بیہودہ رسمیں ان میں شامل کردی تھیں اور عبادات کو بھی کھیل تماشہ بنادیا تھا اسی طرح افعال حج میں بھی طرح طرح کی بیہودگیاں کرتے تھے منیٰ کے عظیم اجتماع میں ان کے خاص خاص بازار لگتے تھے نمائش ہوتی تھی تجارتوں کے فرورغ کے ذرائع لگائے جاتے تھے اسلام آیا اور حج مسلمانوں پر فرض کیا گیا تو ان تمام بہیودہ رسموں کا قلع قمع کیا گیا صحابہ کرام جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر مٹ جانے والے تھے اب ان کو یہ خیال ہوا کہ ایام حج میں تجارت کرنا یا مزدوری کرکے کچھ کما لینا یہ بھی جاہلیت کی پیداوار ہے شاید اسلام میں اس کی مطلقاً حرمت و ممانعت ہوجائے یہاں تک کہ ایک صاحب حضرت عبداللّه بن عمر کے پاس آئے اور یہ سوال کیا کہ ہمارا پیشہ پہلے سے یہ ہے کہ ہم اونٹ کرایہ پر چلاتے ہیں کچھ لوگ ہمارے اونٹ حج کے لئے کرایہ پر لیجاتے ہیں ہم ان کے ساتھ جاتے ہیں اور حج کرتے ہیں کیا ہمارا حج نہیں ہوگا۔ حضرت عبداللّه بن عمر نے فرمایا کہ ایک شخص رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آپ سے وہی سوال کیا تھا جو تم مجھ سے کر رہے ہو آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس وقت کوئی جواب نہ دیا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی
 لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ اس وقت آپ نے اس شخص کو بلوایا اور فرمایا کہ ہاں تمہارا حج صحیح ہے۔الغرض اس آیت نے یہ واضح کردیا کہ اگر کوئی شخص دوران حج میں کوئی بیع وشراء یا مزدوری کرے جس سے کچھ نفع ہوجائے تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہاں کفار عرب نے جو حج کو تجارت کی منڈی اور نمائش گاہ بنالیا تھا اس کی اصلاح قرآن کے دو لفظوں سے کردی گئی ایک تو یہ کہ جو کچھ کمائیں اس کو اللّه تعالیٰ کا فضل اور عطا سمجھ کر حاصل کریں شکر گذار ہوں
محض سرمایہ سمیٹنا مقصد نہ ہو فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ میں اسی کی طرف اشارہ ہے، دوسرے لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ کے لفظ نے یہ بتلا دیا کہ اس میں کمائی میں تم پر کوئی گناہ نہیں جس میں ایک اشارہ اس طرف ہے کہ اگر اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو بہتر ہے کیونکہ اخلاص کامل میں فرق آتا ہے اور حقیقت مسٔلہ کی یہ ہے کہ اس کا مدار اصل نیت پر ہے اگر کسی شخص کی نیت اصل میں دنیوی نفع تجارت یا مزدوری ہے اور ضمنی طور پر حج کا بھی قصد کرلیا یا نفع تجارت اور قصد حج دونوں مساوی صورت میں ہیں تب تو یہ اخلاص کے خلاف ہے حج کا ثواب اس سے کم ہوجائیگا اور برکات حج جیسی حاصل ہونی چاہئے وہ حاصل نہ ہوں گی اور اگر اصل میں نیت حج کی ہے اسی کے شوق میں نکلا ہے لیکن مصارفِ حج میں یا گھر کی ضرورت میں تنگی ہے اس کو پورا کرنے کے لئے کوئی معمولی تجارت یا مزدوری کرلی یہ اخلاص کے بالکل منافی نہیں ہاں اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ خاص ان پانچ ایام میں جن میں حج کے افعال ادا ہوتے ہیں ان میں کوئی مشغلہ تجارت و مزدوری کا نہ رکھے بلکہ ان ایام کو خالص عبادت وذکر میں گذارے اسی وجہ سے بعض علماء نے خاص ان ایام میں تجارت و مزدوری کو ممنوع بھی فرمایا ہے
عرفات میں وقوف اور اس کے بعد مزدلفہ کا وقوف اس کے بعد اسی آیت میں ارشاد ہے 
فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ وَاذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ ۚ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَ 
یعنی پھر جب تم عرفات سے واپس آنے لگو گو مشعر حرام کے پاس خدا تعالیٰ کی یاد کرو اور اس طرح یاد کرو جس طرح تم کو بتلا رکھا ہے اور حقیقت میں اللّه تعالیٰ کے بتلانے سے پہلے تم محض ہی ناواقف تھے اس میں بتلایا گیا ہے کہ عرفات سے واپسی میں رات کو مزدلفہ میں قیام اور اس کا خاص ذکر واجب ہیں
عرفات لفظ جمع ہے اور ایک خاص میدان کا نام ہے جس کے حدود اربعہ معروف و مشہور ہیں یہ میدان حرم سے خارج واقع ہوا ہے حجاج کو اس میں پہنچنا اور زوال آفتاب سے مغرب تک یہاں قیام کرنا حج میں حج کا اہم ترین فرض ہے جس کے فوت ہونے کا کوئی کفارہ اور فدیہ نہیں ہوسکتا۔عرفات کو عرفات کہنے کی بہت سی وجوہ بتلائی جاتی ہیں ان میں واضح یہ ہے کہ اس میدان میں انسان اپنے رب کی معرفت اور بذریعہ عبادت وذکر اللّه تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتا ہے نیز مشرق ومغرب کے مسلمانوں کو آپس میں تعارف کا ایک موقع ملتا ہے ارشاد قرآنی میں اس کی تاکید فرمائی ہے کہ عرفہ کے دن بعد مغرب عرفات سے واپس آتے ہوئے مشعر حرام کے پاس ٹھہرنا چاہئے مشعر حرام ایک پہاڑ کا نام ہے جو مزدلفہ میں واقع ہے مشعر کے معنی شعار اور علامت کے ہیں اور حرام بمعنی محترم ومقدس کے ہیں معنی یہ ہیں کہ یہ پہاڑ شعار اسلام کے اظہار کے لئے ایک مقدس مقام ہے اس کے آس پاس کے میدان کو مزدلفہ کہتے ہیں اس میدان میں رات گذارنا اور مغرب و عشاء دونوں نمازوں کو ایک وقت میں مزدلفہ میں پڑھنا واجب ہے مشعر حرام کے پاس اللّه تعالیٰ کو یاد کرنا اگرچہ ہر طرح کے ذکر اللّه کو شامل ہے مگر خصوصیت سے دونوں نمازوں کو ایک وقت یعنی مغرب کو عشاء کے ساتھ ادا کرنا اس جگہ کی مخصوص عبادت ہے آیت کے جملہ واذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ میں اسی کی طرف اشارہ ہے کہ اللّه تعالیٰ نے اپنی یاد اور ذکر کے لئے جو طریقہ بتلایا ہے اسی طرح اس کو یاد کرو اپنی رائے اور قیاس کو اس میں دخل نہ دو کیونکہ رائے اور قیاس کا مقتضی تو یہ تھا کہ مغرب کی نماز مغرب کے وقت میں پڑھی جاتی عشاء کی عشاء کے وقت میں لیکن اس روز اس مقام پر حق تعالیٰ کی یہی پسند ہے کہ مغرب کی نماز مؤ خر کی جائے اس کو عشاء کے ساتھ پڑھا جائے ارشاد قرآنی واذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ ایک اور بھی اصولی مسئلہ نکل آیا کہ ذکر اللّه اور عبادات میں آدمی خود مختار نہیں کہ اللّه تعالیٰ کو جس طرح چاہے یاد کرے اور جس طرح چاہے اس کی عبادت کرے بلکہ ذکر اللّه اور ہر عبادت کے خاص آداب ہیں ان کے موافق ادا کرنا ہی عبادت ہے اس کے خلاف کرنا جائز نہیں اور اس میں کمی بیشی یا مقدم مؤ خر کرنا خواہ اس میں ذکر اللّه کی کچھ زیادتی بھی ہو وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں نفلی عبادات اور صدقہ و خیرات وغیرہا میں جو لوگ بلا دلیل شرعی اپنی طرف سے کچھ خصوصیات اور اضافے کرلیتے ہیں اور ان کی پابندی کو ضروری سمجھ لیتے ہیں حالانکہ اللّه اور اس کے رسول صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ضروری قرار نہیں دیا اور ان افعال کے نہ کرنے والوں کو خطاوار سمجھتے ہیں اس آیت نے ان کی غلطی کو واضح کردیا کہ وہ اہل جاہلیت کی سی عبادت ہے کہ اپنی رائے و قیاس سے عبادت کی صورتیں گھڑ رکھی تھیں اور چند رسموں کا نام عبادت رکھ لیا تھا۔


آیت  199

ثُمَّ اَفِيۡضُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسۡتَغۡفِرُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ 


لفظی ترجمہ

 ثُمَّ : پھر   |  اَفِيْضُوْا : تم لوٹو   |  مِنْ حَيْثُ : سے۔ جہاں   |  اَفَاضَ : لوٹیں   |  النَّاسُ : لوگ   |  وَاسْتَغْفِرُوا : اور مغفرت چاہو   |  اللّٰهَ : اللّه   |  اِنَّ : بیشک   |  اللّٰهَ : اللّه   |  غَفُوْرٌ: بخشنے والا   |  رَّحِيْمٌ: رحم کرنے والا 


ترجمہ

پھر جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللّه سے معافی چاہو یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے




تفسیر

اس کے بعد والی آیت میں ارشاد ہے ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی پھر تم سب کو ضروری ہے کہ اس جگہ ہو کر واپس آؤ جہاں اور لوگ جاکر واپس آتے ہیں اور اللّه تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو یقینا اللّه تعالیٰ معاف کردیں گے اور مہربانی فرمادیں گے
اس جملے کا شان نزول یہ ہے کہ قریش عرب جو بیت اللّه کے محافظ ومجاور تھے اور سارے عرب میں ان کا اقتدار مسلم تھا اور ان کی ایک ممتاز حیثیت تھی زمانہ جاہلیت میں وہ اپنی امتیازی شان بنانے کے لئے یہ حرکت کرتے تھے اور سب لوگ تو عرفات کو جاتے اور وہاں وقوف کرکے واپس آتے تھے یہ لوگ راستہ میں مزدلفہ کے اندر ہی ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم چونکہ بیت اللّه اور حرم کے مجاور ہیں اس لئے حدودِحرم سے باہر جانا ہمارے لئے مناسب نہیں مزدلفہ حدود حرم کے اندر ہے اور عرفات اس سے خارج یہ بہانہ کرکے مزدلفہ ہی میں قیام کرلیتے اور وہیں سے واپس آجایا کرتے تھے اور درحقیقت وجہ اس حیلہ بہانہ کی اپنا فخر و غرور اور عام لوگوں سے ممتاز ہو کر رہنا تھا حق تعالیٰ کے اس فرمان نے ان کی غلط کاری واضح فرمادی اور ان کو حکم دیا کہ تم بھی وہیں جاؤ جہاں سب لوگ جاتے ہیں یعنی عرفات میں اور پھر وہیں سے سب کے ساتھ واپس آؤ
اول تو عام انسانوں سے اپنے آپ کو ممتاز کرکے رکھنا خود ایک متکبرانہ فعل ہے جس سے ہمیشہ ہی پرہیز لازم ہے خصوصاً حج کے ایام میں جہاں لباس احرام اور پھر قیام ومقام کی یکسانیت کے ذریعہ اسی کا سبق دینا ہے کہ انسان سب برابر ہیں امیر و غریب یا عالم و جاہل یا بڑے چھوٹے کا یہاں کوئی امتیاز نہیں حالت احرام میں یہ امتیازی شان بنانا اور بھی زیادہ جرم ہے
انسانی مساوات کا زریں سبق اور اس کی بہترین عملی صورت اس ارشاد قرآنی سے اصول معاشرت کی ایک اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ رہن سہن قیام ومقام میں بڑوں کو چاہئے کہ چھوٹوں سے الگ ممتاز ہو کر نہ رہیں بلکہ مل جل کر رہیں کہ اس میں باہمی اخوت و ہمدردی اور محبت وتعلق پیدا ہوتا ہے اور امیر و غریب کی تفریق مٹتی ہے، مزدور وسرمایہ دار کی جنگ ختم ہوجاتی ہے رسول اللہ صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آخری حج کے خطبہ میں اس کو خوب واضح کرکے ارشاد فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں فضیلت کا مدار تقویٰ اور اطاعت خداوندی پر ہے اسی لئے جو لوگ ان کے خلاف مزدلفہ میں قیام کرکے اپنی ممتاز حیثیت بنانا چاہتے تھے ان کے اس فعل کو گناہ قرار دے کر ان پر لازم کیا کہ اپنے اس گناہ سے توبہ استغفار کریں کہ اللّه تعالیٰ ان کی خطائیں معاف فرماویں اور اپنی رحمت فرماویں۔



آیت  200


فَاِذَا قَضَيۡتُمۡ مَّنَاسِكَکُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰهَ كَذِكۡرِكُمۡ اٰبَآءَکُمۡ اَوۡ اَشَدَّ ذِکۡرًا ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِى الدُّنۡيَا وَمَا لَهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ


لفظی ترجمہ

 فَاِذَا : پھر جب   |  قَضَيْتُمْ : تم ادا کرچکو   |  مَّنَاسِكَكُمْ : حج کے مراسم   |  فَاذْكُرُوا : تو یاد کرو   |  اللّٰهَ : اللّه   |  كَذِكْرِكُمْ : جیسی تمہاری یاد   |  اٰبَآءَكُمْ : اپنے باپ دادا   |  اَوْ : یا   |  اَشَدَّ : زیادہ   |  ذِكْرًا : یاد   |  فَمِنَ النَّاسِ : پس۔ سے۔ آدمی   |  مَنْ : جو   |  يَّقُوْلُ : کہتا ہے   |  رَبَّنَآ : اے ہمارے رب   |  اٰتِنَا : ہمیں دے   |  فِي : میں   |  اَلدُّنْیَا : دنیا   |  وَمَا : اور نہیں   |  لَهٗ : اس کے لیے   |  فِي : میں   |  الْاٰخِرَةِ : آخرت   |  مِنْ خَلَاقٍ : کچھ حصہ 


ترجمہ

پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا و اجداد کا ذکر کرتے تھے اُس طرح اب اللّه کا ذکر کرو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مگر اللّه کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے اُن میں سے کوئی تو ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دیدے ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں


تفسیر

رسوم جاہلیت کی اصلاح منیٰ میں فضول اجتماعات کی ممانعت چوتھی پانچویں اور چھٹی آیات میں چند رسوم جاہلیت کی اصلاح کی گئی ہے، ایک تو یہ کہ عرب زمانہ جاہلیت میں عرفات ومزدلفہ اور طواف و قربانی سے فارغ ہو کر جب منیٰ میں قیام کرتے تھے تو ان کی مجلسیں صرف اس کام کے لئے ہوتی تھیں کہ مشاعرے منعقد کریں اور ان میں اپنے مفاخر اور اپنے آباء و اجداد کے مفاخر اور کارناموں کا بیان کریں ان کی مجلسیں ذکر اللّه سے یکسر خالی ہوتی تھیں ان مبارک ایام کو ایسی لغو اور فضول چیزوں میں ضائع کرتے تھے اس لئے ارشاد ہوا کہ جب تم اپنے افعال احرام کو پورا کرچکو اور منیٰ میں قیام کرو تو وہاں رہ کر اللّه تعالیٰ کو یاد کرو اپنے آباء و اجداد کو یاد کرنا اور خصوصاً ان کے جھوٹے سچے مفاخر اور کارناموں کو بیان کرنا چھوڑو جتنا تم ان کو یاد کرتے ہو اس کی جگہ بلکہ اس سے زیادہ خدا تعالیٰ کو یاد کرو اور ذکر اللّه میں مشغول رہو قرآن کی اس آیت نے عرب کی ایک جاہلانہ رسم کو مٹا کر مسلمانوں کو یہ ہدایت کی کہ یہ ایام اور یہ مقام عبادت اور ذکر اللّه کے لئے مخصوص ہیں ان میں ذکر اللہ و عبادت کے جو فضائل و برکات ہیں وہ پھر ہاتھ نہ آئیں گے ان کو غنیمت جاننا چاہئے
علاوہ ازیں حج ایک ایسی عبادت ہے جو عموماً سفر طویل کی مشقت اہل و عیال کی مفارقت کاروبار کو ترک کرنے اور ہزاروں روپے اور بہت سا وقت خرچ کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے اس میں حوادث کا پیش آجانا کچھ بعید نہیں کہ آدمی باوجود کوشش کے اپنے مقصد حج میں کامیاب نہ ہوسکے جب اللّه تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمام موانع ہٹا کر آپ کے مقصد میں کامیاب فرمایا اور فرائض حج پورے ہوگئے تو یہ مقام شکر ہے جس کا اقتضاء یہ ہے کہ اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہو ان اوقات کو فضول اجتماعات اور فضول کام یا کلام میں ضائع نہ کرو اہل جاہلیت ان اوقات میں اپنے آباء و اجداد کے تذکرے کرتے تھے جن کا کوئی نفع دین و دنیا میں نہ تھا، تم اس کی جگہ اللّه کا ذکر کرو جو نور ہی نور اور نفع ہی نفع ہے دنیا کے لئے بھی آخرت کے لئے بھی، آجکل اگرچہ مسلمانوں میں وہ رسم جاہلیت تو نہیں رہی کہ مشاعرے قائم کریں اور آباء و اجداد کے تذکرے کریں لیکن آج بھی ہزاروں مسلمان ہیں جو ان ایام کو فضول اجتماعات میں فضول دعوتوں اور تفریحات میں صرف کرتے ہیں یہ آیت ان کی تنبیہ کے لئے کافی ہے
بعض حضرات مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ تم اللّه تعالیٰ کو ایسا یاد کرو جیسے بچپن میں اپنے باپ کو یاد کرتے ہیں کہ ان کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ کلام یَا اَب یَا اَب ہوتا ہے تم اب بالغ ہو جوان ہو عاقل ہو یَا اَب یَا اَب کی جگہ یَا رَب یَارَب کو اختیار کرو اور اس پر نظر ڈالو کہ بچہ اپنے باپ کو اس لئے پکارتا ہے کہ وہ اپنے تمام کاموں میں اپنے آپ کو باپ کا محتاج سمجھتا ہے انسان اگر ذرا غور کرے تو وہ ہر وقت ہر حال میں اللّه تعالیٰ کا محتاج اس سے زیادہ ہے جیسا بچہ اپنے باپ کا محتاج ہے نیز بعض اوقات کچھ لوگ اپنے باپ کا ذکر فخراً بھی کیا کرتے ہیں جیسے اہل جاہلیت کرتے تھے تو اس آیت نے یہ بھی ہدایت کردی کہ فخر وعزت کے لئے بھی ذکر اللّه سے زیادہ کوئی چیز مؤ ثر نہیں
       (روح البیان) 
ایک اور رسم جاہلیت کی اصلاح دین و دنیا کی طلب میں اسلامی اعتدال جس طرح جاہلیت کی یہ رسم بیہودہ تھی کہ ان مبارک ایام کو اپنے باپ دادوں کے تذکروں اور مشاعروں میں گذاریں اسی طرح کچھ لوگوں کی یہ عادت تھی کہ اگرچہ ایام حج میں شغل تو ذکر اللّه اور دعاؤں ہی کا رکھتے تھے مگر ان کی تمام تر دعائیں صرف دنیوں حاجات اور دنیا کی راحت وعزت یا دولت کے لئے ہوتی تھیں آخرت کی طرف کوئی دھیان نہ ہوتا تھا ان کی اصلاح کے لئے اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ بعض لوگ وہ ہیں جو حج میں دعاء بھی مانگتے ہیں تو صرف دنیا کی بھلائی مانگتے ہیں آخرت کی فکر نہیں کرتے ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں کیونکہ ان کے اس طرز عمل سے معلوم ہوا کہ فریضہ حج بھی انہوں نے محض رسماً ادا کیا ہے یا دنیا میں فخر و وجاہت حاصل کرنے کے لئے کیا ہے اللّه تعالیٰ کو راضی کرنا اور آخرت میں نجات حاصل کرنا ان کے پیش نظر ہے ہی نہیں
اس جگہ یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ صرف دنیاوی دعاء مانگنے والوں کا ذکر اس آیت میں اس طرح کیا گیا ہے کہ وہ کہتے رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا اس کے ساتھ حَسَنَةً کا لفظ مذکور نہیں جس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ وہ دنیا کے لئے بھی حسنہ کے طلبگار نہیں بلکہ اغراض دنیویہ میں ایسے مست و سرشار ہیں کہ ان کی طلب یہ رہ گئی ہے کہ اپنی خواہش کسی طرح پوری ہو خواہ وہ اچھی ہو یا بری اور اچھے طریقہ سے حاصل ہو یا برے راستہ سے لوگ ان کو اچھا کہیں یا براُ  اس آیت میں ان مسلمانوں کے لئے بھی بڑی تنبیہ ہے جو موسم حج اور مقامات مقدسہ میں بھی دعاؤں میں اپنی اغراض دنیویہ ہی کو ترجیح دیتے ہیں اور بیشتر اوقات انہیں کے لئے صرف کرتے ہیں اور اگر ہمارے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ثابت ہوگا کہ بہت سے دولتمند لوگ یہاں بھی جو وظائف اور دعائیں کرتے ہیں یا بزرگوں سے کراتے ہیں ان میں بکثرت لوگ ایسے ہیں کہ ان کی غرض ان تمام وظائف و دعاؤں سے بھی صرف دولت کی ترقی تجارت میں برکت اغراض دنیویہ میں کامیابی ہوتی ہے وہ بہت سے وظائف اور نوافل پڑھ کر یہ بھی سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم بہت عبادت گذار ہیں لیکن وہ حقیقت میں ایک طرح کی دنیا پرستی ہوتی ہے بہت سے حضرات زندہ بزرگوں سے اور وفات یافتہ اولیاء اللّه سے بڑا تعلق رکھتے ہیں لیکن اس تعلق کا بھی بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کی دعاء یا تعویذ سے ہمارے کام نکلیں گے دنیا کی آفات دور ہوں گی مال میں برکت ہوگی ایسے لوگوں کے لئے بھی اس آیت میں خاص ہدایت ہے معاملہ اللّه تعالیٰ کے ساتھ ہے جو علیم وخبیر ہے ہر شخص کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہئے کہ وظائف ونوافل اور دعاء و درود سے اور حج وزیارت سے اس کی نیت کیا ہے اس آیت کے آخری حصہ میں کم نصیب محروم القسمۃ لوگوں کا تذکرہ کرنے کے بعد حق تعالیٰ نے نیک اور مقبول بندوں کا ذکر اس طرح فرمایا ہے۔






No comments:

Powered by Blogger.