Surah Baqrah Aayat 201-203

آیات 203 - 201 
آیت 201


وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّقُوۡلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِى الدُّنۡيَا حَسَنَةً وَّفِى الۡاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ



لفظی ترجمہ


وَمِنْهُمْ : اور ان سے | مَّنْ : جو | يَّقُوْلُ : کہتا ہے | رَبَّنَآ : اے ہمارے رب | اٰتِنَا : ہمیں دے | فِي الدُّنْيَا : دنیا میں | حَسَنَةً : بھلائی | وَّفِي الْاٰخِرَةِ : اور آخرت میں | حَسَنَةً : بھلائی | وَّقِنَا : اور ہمیں بچا | عَذَابَ : عذاب | النَّارِ : آگ    
           (دوزخ)


ترجمہ


اور کوئی کہتا ہے کہ 
اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا


تفسیر


وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّار


یعنی ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی دعاؤں میں اللّه تعالیٰ سے دنیا کی بھلائی اور بہتری بھی مانگتے ہیں اور آخرت کی بہتری بھی اور عذاب جہنم سے پناہ مانگتے ہیں

اس میں لفظ حسنۃ تمام ظاہری اور باطنی خوبیوں اور بھلائیوں کو شامل ہے مثلاً دنیا کی حسنہ میں بدن کی صحت اہل و عیال کی صحت رزق حلال میں وسعت و برکت دنیوی سب ضروریات کا پورا ہونا اعمال صالحہ، اخلاق محمودہ علم نافع، عزت و وجاہت، عقائد کی درستی صراط مستقیم کی ہدایت، عبادات میں اخلاص کامل سب داخل ہیں اور آخرت کی حسنہ میں جنت اور اس کی بیشمار اور لازوال نعمتیں اور حق تعالیٰ کی رضا اور اس کا دیدار یہ سب چیزیں شامل ہیں۔

الغرض یہ دعاء ایک ایسی جامع ہے کہ اس میں انسان کے تمام دنیوی اور دینی مقاصد آجاتے ہیں دنیا وآخرت دونوں جہان میں راحت و سکون میسر آتا ہے آخر میں خاص طور پر جہنم کی آگ سے پناہ کا بھی ذکر ہے یہی وجہ کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے،

رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّار 

اور حالت طواف میں خصوصیت کے ساتھ یہ دعاء مسنون ہے اس آیت میں ان جاہل درویشوں کی بھی اصلاح کی گئی ہے جو صرف آخرت ہی کی دعاء مانگنے کو عبادت جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا کی کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ درحقیقت یہ ان کا دعوی غلط اور خیال خام ہے، انسان اپنے وجود اور بقاء اور عبادت وطاعت سب میں ضرورت دنیوی کا محتاج ہے وہ نہ ہوں تو دین کا بھی کوئی کام کرنا مشکل ہے اسی لئے انبیاء علیہم السلام کی سنت یہ ہے کہ جس طرح وہ آخرت کی بھلائی اور بہتری اللّه تعالیٰ سے مانگتے ہیں اسی طرح دنیا کی بھلائی اور آسائش بھی طلب کرتے ہیں، جو شخص دنیوی حاجات کے لئے دعاء مانگنے کو زہد و بزرگی کے خلاف سمجھے وہ مقام انبیاء علیہم السلام سے بیخبر اور جاہل ہے ہاں صرف دنیوی حاجات ہی کو مقصد زندگی نہ بنائے اس سے زیادہ آخرت کی فکر کرے اور اس کے لئے دعاء مانگے۔

آیت کے آخر میں اسی دوسرے طبقہ کا جو کہ اپنی دعاؤں میں دنیا وآخرت دونوں کی بھلائی مانگتا ہے انجام ذکر کیا گیا ہے کہ ان کے اس صحیح اور نیک عمل اور دعاؤں کا نتیجہ ان کو دنیا وآخرت میں ملے گا اس کے بعد ارشاد ہے 

واللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَاب 

یعنی اللّه جلد حساب لینے والا ہے کیونکہ اس کا علم محیط اور قدرت کاملہ کے لئے ساری مخلوقات کے ایک ایک فرد اور پھر اس کی عمر بھر کے اعمال کا حساب لینے میں ان آلات و ذرائع کی ضرورت نہیں جن کا انسان محتاج ہے اس لئے وہ بہت جلد ساری مخلوقات کا حساب لے لیں گے اور ان پر جزاء وسزا مرتب فرمائیں گے۔


آیت  202



اُولٰٓئِكَ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّمَّا كَسَبُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ


لفظی ترجمہ


اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ | لَهُمْ : ان کے لیے | نَصِيْبٌ: حصہ | مِّمَّا : اس سے جو | كَسَبُوْا : انہوں نے کمایا | وَاللّٰهُ : اور اللّه | سَرِيْعُ : جلد | الْحِسَابِ : حساب لینے والا 

ترجمہ


ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللّه کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی


آیت  203


وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ فِىۡٓ اَيَّامٍ مَّعۡدُوۡدٰتٍ‌ؕ فَمَنۡ تَعَجَّلَ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ ۚ وَمَنۡ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡه‌ِ ۙ لِمَنِ اتَّقٰى ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّکُمۡ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ



لفظی ترجمہ


وَاذْكُرُوا : اور تم یاد رکھو | اللّٰهَ : اللّه | فِيْٓ: میں | اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ : دن۔ گنتی کے | فَمَنْ : پس جو | تَعَجَّلَ : جلد چلا گیا | فِيْ : میں | يَوْمَيْنِ : دو دن | فَلَآ : تو نہیں | اِثْمَ : گناہ | عَلَيْهِ : اس پر | وَمَنْ : اور جس | تَاَخَّرَ : تاخیر کی | فَلَآ : تو نہیں | اِثْمَ : گناہ | عَلَيْهِ : اس پر | لِمَنِ : لیے۔ جو | اتَّقٰى: ڈرتا رہا | وَاتَّقُوا : اور تم ڈرو | اللّٰهَ : اللّه | وَاعْلَمُوْٓا : اور جان لو | اَنَّكُمْ : کہ تم | اِلَيْهِ : اس کی طرف | تُحْشَرُوْنَ : جمع کیے جاؤگے 

ترجمہ


یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللّه کی یاد میں بسر کرنے چاہییں پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس ہو گیا تو کوئی حرج نہیں اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھیر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں بشر طیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کیے ہو اللّه کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے



تفسیر


منیٰ میں دو یا تین دن کا قیام اور ذکر اللّه کی تاکید

آٹھویں آیت جو اس جگہ احکام حج کی آخری آیت ہے اس میں حجاج کو ذکر اللّه کی طرف متوجہ کرکے ان کے مقصد حج کی تکمیل اور آئندہ زندگی کو درست رکھنے کی ہدایت اس طرح فرمائی گئی

وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْٓ اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ

یعنی اللّه کو یاد کرو گنتی کے چند دنوں میں ان چند دنوں سے مراد ایام تشریق ہیں جن میں ہر نماز کے بعد تکبیر کہنا واجب ہے آگے ایک مسئلہ کی وضاحت کی گئی کہ منٰی میں قیام اور جمرات پر کنکریاں مارنا کب تک ضروری ہے اس میں اہل جاہلیت کا اختلاف رہا کرتا تھا بعض لوگ تیرہویں تاریخ ذی الحجہ تک منیٰ میں قیام اور جمرات پر رمی کرنے کو ضروری سمجھتے تھے اس سے پہلے بارہویں کو واپس آجانے کو ناجائز اور ایسا کرنے والوں کو گنہگار کہا کرتے تھے اسی طرح دوسرے لوگ بارہویں تاریخ کو چلے آنا ضروری سمجھتے اور تیرھویں تک ٹھہرنے کو گناہ جانتے تھے اس آیت میں ان دونوں کی اصلاح اس طرح کی گئی کہ

فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ۚ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ

یعنی جو شخص عید کے بعد صرف دو دن منٰی میں قیام کرکے واپس آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن تک مؤ خر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں یہ دونوں فریق جو ایک دوسرے کو گنہگار کہتے ہیں غلو اور غلطی میں مبتلا ہیں۔

صحیح یہ ہے کہ حجاج کو دونوں صورتوں میں اختیار ہے جس پر چاہیں عمل کریں ہاں افضل واولیٰ یہی ہے کہ تیسرے دن تک ٹھہریں، فقہاء نے فرمایا ہے کہ جو شخص دوسرے دن غروب آفتاب سے پہلے منٰی میں چلا آیا اس پر تیسرے دن کی رمی واجب نہیں لیکن اگر آفتاب منیٰ میں غروب ہوگیا پھر تیسرے دن کی رمی کرنے سے پہلے وہاں سے واپس آجانا جائز نہیں رہتا البتہ تیسرے دن کی رمی میں یہ رعایت رکھی گئی ہے کہ وہ زوال آفتاب سے پہلے صبح کے بعد بھی ہوسکتی ہے۔

منیٰ سے واپسی کا اور اس میں حجاج کو اختیار دینے کا ذکر فرمانے کے بعد جو کچھ کہا گیا کہ دوسرے دن واپس آجائے تو کچھ گناہ نہیں اور تیسرے دن واپس آجائے تو کچھ گناہ نہیں یہ سب اس شخص کے لئے ہے جو اللّه تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کے احکام کی پابندی کرنے والا ہے کیونکہ درحقیقت حج اسی کا ہے

جیسا قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہے

اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ 
                      (٢٧: ٥)   

یعنی اللّه تعالیٰ عبادت انہی کی قبول کرتا ہے جو اللّه تعالیٰ سے ڈرنے والے اور اطاعت شعار بندے ہیں اور جو شخص حج سے پہلے بھی گناہوں میں ملوّث تھا اور حج کے اندر بھی بےپروائی سے کام لیتا رہا حج کے بعد بھی گناہوں سے پرہیز نہ کیا تو اس کا حج کوئی فائدہ نہ دے گا اگرچہ اس کا حج فرض ادا ہوگیا ترک حج کا مجرم نہیں رہا۔

آخر میں ارشاد فرمایا

واتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 

یعنی ڈرتے رہو اللّه تعالیٰ سے اور یقین کرو کہ تم سب اللّه کے پاس جمع ہونے والے ہو وہ تمہارے کھلے ہوئے اور چھپے ہوئے اعمال کا حساب لیں گے اور ان پر جزا وسزا دیں گے احکام حج جو اوپر کی آیات میں بیان کئے گئے ہیں یہ جملہ درحقیقت ان سب کی روح ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ خاص ایام حج میں جب کہ اعمالِ حج میں مشغول ہو اس وقت بھی اللّه تعالیٰ سے ڈرو احکام حج میں کوئی کوتاہی نہ کرو کیونکہ وزن اعمال کے وقت انسان کے گناہ اس کے نیک اعمال کو کھا جائیں گے نیک اعمال کا اثر اور وزن ظاہر نہ ہونے دیں گے عبادت حج کے متعلق حدیث میں ہے کہ جب انسان حج سے فارغ ہو کر آتا ہے تو اپنے سابقہ گناہوں سے ایسا پاک صاف ہوجاتا ہے جیسے وہ ماں کے پیٹ سے آج پیدا ہوا ہے اس لئے خاص طور سے حجاج کو آئندہ کے لئے تقویٰ کی ہدایت کی گئی کہ پچھلے گناہوں سے پاک ہوچکے ہو آگے احتیاط رکھو تو دنیا وآخرت کی بھلائی تمہارے لئے ہے ورنہ جو شخص حج کے بعد پھر گناہوں میں مبتلا ہوگیا تو پچھلے گناہوں کی معافی اس کو اس طرح کوئی خاص کام نہ آوے گی بلکہ علماء نے فرمایا ہے کہ حج مقبول کی علامت یہ ہے کہ اپنے حج سے اس طرح واپس آئے کہ اس کا دل دنیا کی محبت سے فارغ اور آخرت کی طرف راغب ہو ایسے شخص کا حج مقبول اور گناہ معاف ہیں اور دعاء اس کی مقبول ہے دوران حج میں جگہ جگہ انسان اللّه تعالیٰ سے اطاعت و فرمانبرداری کا معاہدہ اس کے بیت کے سامنے کرتا ہے اگر حج کرنے والے اس کا دھیان رکھیں تو اس معاہدہ کے پورا کرنے کا آئندہ اہتمام میسر آسکتا ہے۔

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں حج سے واپس آیا تو اتفاقاً میرے دل میں ایک گناہ کا وسوسہ پیدا ہوا مجھے غیب سے ایک آواز آئی کہ کیا تو نے حج نہیں کیا ؟ کیا تو نے حج نہیں کیا ؟ یہ آواز میرے اور اس گناہ کے درمیان ایک دیوار بن گئی اللّه تعالیٰ نے مجھے محفوظ فرمادیا

ایک ترکی بزرگ جو مولانا جامی کے مرید تھے ان کا حال یہ تھا کہ ہمیشہ اپنے سر پر ایک نور کا مشاہدہ کیا کرتے تھے وہ حج کو گئے اور فارغ ہو کر واپس آئے تو یہ کیفیت بجائے بڑہنے کے بالکل سلب ہوگئی اپنے مرشد مولانا جامی سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حج سے پہلے تمہارے اندر تواضع و انکسار تھا اپنے آپ کو گنہگار سمجھ کر اللّه تعالیٰ کے سامنے الحاح وزاری کرتے تھے حج کے بعد تم اپنے آپ کو نیک اور بزرگ سمجھنے لگے اس لئے یہ حج ہی تمہارے لئے غرور کا سبب بن گیا اسی وجہ سے یہ کیفیت زائل ہوگئی

احکام حج کے ختم پر تقویٰ کی تاکید میں ایک راز یہ بھی ہے کہ حج ایک بڑی عبادت ہے اس کے ادا کرنے کے بعد شیطان عموماً انسان کے دل میں اپنی بڑائی اور بزرگی کا خیال ڈالتا ہے جو اس کے تمام عمل کو بیکار کردینے والا ہے اس لئے خاتمہ کلام میں فرمایا کہ جس طرح حج سے پہلے اور حج کے اندر اللّه تعالیٰ سے ڈرنا اور اس کی اطاعت لازم ہے اسی طرح حج کے بعد اس سے زیادہ اللّه تعالیٰ سے ڈرنے اور گناہوں سے پرہیز کا اہتمام کرتے رہو کہ کہیں یہ کری کرائی عبادت ضائع ہوجائے۔
اللہم وفقنا لما تحب وترضی من القول والفعل والنیۃ۔







No comments:

Powered by Blogger.