Surah Baqrah aayat 214 - 216



آیات 216 - 214 

آیت   214


اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ وَ لَمَّا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡؕ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ

لفظی ترجمہ

اَمْ : کیا | حَسِبْتُمْ : تم خیال کرتے ہو | اَنْ : کہ | تَدْخُلُوا : تم داخل ہوجاؤگے | الْجَنَّةَ : جنت | وَلَمَّا : اور جبکہ نہیں | يَاْتِكُمْ : آئی تم پر | مَّثَلُ : جیسے | الَّذِيْنَ : جو | خَلَوْا : گزرے | مِنْ : سے | قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے | مَسَّتْهُمُ : پہنچی انہیں | الْبَاْسَآءُ : سختی | وَالضَّرَّآءُ : اور تکلیف | وَزُلْزِلُوْا : اور وہ ہلادئیے گئے | حَتّٰى: یہانتک | يَقُوْلَ : کہنے لگے | الرَّسُوْلُ : رسول | وَالَّذِيْنَ : اور وہ جو | اٰمَنُوْا : ایمان لائے | مَعَهٗ : ان کے ساتھ | مَتٰى: کب | نَصْرُ اللّٰهِ : اللّه کی مدد | اَلَآ : آگاہ رہو | اِنَّ : بیشک | نَصْرَ : مدد | اللّٰهِ : اللّه | قَرِيْبٌ: قریب 

ترجمہ

پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ اُن پر سختیاں گزریں مصیبتیں آئیں ہلا مارے گئے حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللّه کی مدد کب آئے گی اُس وقت انہیں تسلی دی گئی کہ ہاں اللّه کی مدد قریب ہے

تفسیر

ربط آیات

اوپر کی آیت میں کفار کا ہمیشہ سے انبیاء ومؤ منین کے ساتھ اختلاف اور خلاف کرتے رہنا مذکور تھا جس میں ایک گونہ مسلمانوں کو اس طور پر تسلی دینا بھی مقصود تھا جن کو استہزاء کفار سے ایذاء ہوتی تھی کہ یہ خلاف تمہارے ساتھ نیا نہیں ہے ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے آگے ان کفار مخالفین سے انبیاء ومؤ منین کو انواع انواع کی ایذائیں اور شدائد پہنچنے کی حکایت بیان فرماتے ہیں اور اس سے بھی مسلمانوں کو تسلی دلاتے ہیں کہ تم کو بھی کفار سے جو ایذائیں پہنچتی ہیں ان پر صبر کرنا چاہئے کیونکہ کامل راحت تو آخرت کی محنت ہی اٹھانے سے ہے۔

دوسری بات سنو کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ جنت میں بےمشقت جا داخل ہوگے حالانکہ ابھی کچھ مشقت تو اٹھائی ہی نہیں کیونکہ تم کو ہنوز ان مسلمان لوگوں کا سا عجیب واقعہ پیش نہیں آیا جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں ان پر مخالفین کے سبب ایسی ایسی تنگی اور سختی واقع ہوئی اور مصائب سے ان کو یہاں تک جنبشیں ہوئیں کہ اس زمانہ کے پیغمبر تک اور جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے بےقرار ہوکر بول اٹھے کہ اللّه تعالیٰ کی امداد  یعنی موعود کب ہوگی جس پر ان کو جواب سے تسلی کی گئی کہ
 یاد رکھو بیشک اللّه تعالیٰ کی امداد بہت نزدیک ہونے والی ہے

معارف و مسائل

اس آیت میں چند باتیں قابل غور ہیں
اول یہ کہ اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بغیر مشقت و محنت کے اور بغیر مصائب وآفات میں مبتلا ہوئے کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا حالانکہ ارشادات قرآنی اور ارشادات نبی کریم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ بہت سے گنہگار محض اللّه تعالیٰ کے لطف وکرم اور مغفرت سے جنت میں داخل ہوں گے ان پر کوئی مشقت بھی نہ ہوگی وجہ یہ ہے کہ مشقت و محنت کے درجات مختلف ہیں ادنی ٰدرجہ نفس و شیطان سے مزاحمت کرکے یا دین حق کے مخالفین کے ساتھ مخالفت کرکے اپنے عقائد کا درست کرنا ہے اور یہ ہر مومن کو حاصل ہے آگے اوسط اور اعلیٰ درجات ہیں جس درجہ کی محنت ومشقت ہوگی اسی درجہ کا دخول جنت ہوگا اس طرح محنت ومشقت سے خالی کوئی نہ رہا

ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔

اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الامثل فالامثل
سب سے زیادہ سخت بلائیں اور مصیبتیں انبیاء علیہم السلام کو پہنچتی ہیں ان کے بعد جو ان کے قریب تر ہیں۔

دوسری بات یہاں قابل نظر یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور ان کے ساتھیوں کا یہ عرض کرنا کہ اللّه تعالیٰ کی مدد کب آئے گی کسی شک وشبہ کی وجہ سے نہ تھا جو ان کی شان کے خلاف ہے بلکہ اس سوال کا منشاء یہ تھا کہ اللّه تعالیٰ نے اگرچہ مدد کا وعدہ فرمایا ہے مگر اس کا وقت اور مقام متعین نہیں فرمایا اس لئے حالت اضطرار میں ایسے الفاظ عرض کرنے کا مطلب یہ تھا کہ مدد جلد بھیجی جائے اور ایسی دعاء کرنا توکل یا منصب نبوت کے منافی نہیں بلکہ حق تعالیٰ اپنے بندوں کی الحاح وزاری کو پسند فرماتے ہیں اس لئے انبیاء اور صلحاء امت اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔


آیت   215

يَسۡــئَلُوۡنَكَ مَاذَا يُنۡفِقُوۡنَ ؕ قُلۡ مَآ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ فَلِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ

لفظی ترجمہ

يَسْئَلُوْنَكَ : وہ آپ سے پوچھتے ہیں | مَاذَا : کیا کچھ | يُنْفِقُوْنَ : خرچ کریں | قُلْ : آپ کہ دیں | مَآ : جو | اَنْفَقْتُمْ : تم خرچ کرو | مِّنْ : سے | خَيْرٍ : مال | فَلِلْوَالِدَيْنِ : سو ماں باپ کے لیے | وَالْاَقْرَبِيْنَ : اور قرابتدار (جمع) | وَالْيَتٰمٰى: اور یتیم (جمع) | وَالْمَسٰكِيْنِ : اور محتاج (جمع) | وَابْنِ السَّبِيْلِ : اور مسافر | وَمَا : اور جو | تَفْعَلُوْا : تم کرو گے | مِنْ خَيْرٍ : کوئی نیکی | فَاِنَّ : تو بیشک | اللّٰهَ : اللّه | بِهٖ : اسے | عَلِيْمٌ: جاننے والا 

ترجمہ

لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر رشتے داروں پر یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللّه اس سے باخبر ہوگا

تفسیر

بارہواں حکم صدقہ کے مصارف

لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ثواب کے واسطے کیا چیز خرچ کیا کریں اور کس موقع پر صرف کیا کریں آپ فرما دیجئے کہ جو مال تم کو صرف کرنا ہو سو اس کی تعیین تو تمہاری ہمت پر ہے مگر ہاں موقع ہم بتلائے دیتے ہیں کہ ماں باپ کا حق ہے اور قرابت داروں اور بےباپ کے بچوں کا اور محتاجوں کا اور مسافر کا اور جونسا نیک کام کرو گے خواہ راہ خدا میں خرچ کرنا ہو یا اور کچھ ہو سو اللّه تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے وہ اس پر ثواب دیں گے

معارف و مسائل

اس سے پہلی آیتوں میں مجموعی حیثیت سے یہ مضمون بہت تاکید کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ کفر ونفاق کو چھوڑو اور اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ حکم الہیٰ کے مقابل میں کسی کی بات مت سنو اللّه تعالیٰ کی رضا کے لئے جان اور مال خرچ کیا کرو اور ہر طرح کی شدت اور تکلیف پر تحمل کرو اب یہاں سے اسی اطاعت و فرمانبرداری اور اللّه کی راہ میں جان ومال خرچ کرنے کے متعلق کچھ جزئیات کی تفصیل بیان ہوتی ہے جو کہ مال اور جان اور دیگر معاملات مثل نکاح و طلاق وغیرہ کے متعلق ہیں اور اوپر سے جو سلسلہ احکام ابواب البر کا جاری ہے اس میں داخل ہیں اور ان جزئیات کا بیان بھی ایک خاص نوعیت رکھتا ہے کہ اکثر ان میں سے وہ ہیں جن کے متعلق صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین نے رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا ان کے استفتاء اور سوالات کا جواب براہ راست عرش رحمٰن سے بواسطہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم دیا گیا اس کو اگر یوں سمجھا جائے کہ حق تعالیٰ نے خود فتویٰ دیا تو یہ بھی صحیح ہے اور قرآن کریم کی آیت

قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ 
                       (١٢٧: ٤)
میں صراحۃ حق تعالیٰ نے فتویٰ دینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے اس لئے اس نسبت میں کوئی استبعاد بھی نہیں۔

اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ فتاوٰی رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے ہیں جو آپ کو بذریعہ وحی تلقین کئے گئے ہیں بہرحال اس رکوع میں جو احکام شرعیہ صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین کے چند سوالات کے جواب میں بیان ہوئے ہیں وہ ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں پورے قرآن میں اس طرح سوال و جواب کے انداز سے خاص احکام تقریباً سترہ جگہ میں آئے ہیں جن میں سے سات تو اسی جگہ سورة بقرہ میں ہیں ایک سورة مائدہ میں ایک سورة انفال میں یہ نو سوالات تو صحابہ کرام کی طرف سے ہیں سورة اعراف میں دو اور سورة بنی اسرائیل، سورة کہف، سورة طٰہ، سورة نازعات میں ایک ایک، یہ کل چھ سوال کفار کی طرف سے ہیں جن کا جواب قرآن میں جواب کے عنوان سے دیا گیا ہے
مفسر القرآن حضرت عبدااللّه بن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی جماعت محمد صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام سے بہتر نہیں دیکھی کہ دین کے ساتھ انتہائی شغف اور رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ انتہائی محبت وتعلق کے باوجود انہوں نے سوالات بہت کم کئے کل تیرہ مسائل میں سوال کیا ہے جن کا جواب قرآن میں دیا گیا ہے کیونکہ یہ حضرات بےضرورت سوال نہ کرتے تھے 
           (قرطبی) 

متذکرہ بالا آیات میں سے پہلی آیت میں صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین اجمعین کا استفتاء یعنی سوال ان الفاظ سے نقل فرمایا گیا ہے

يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ 

یعنی لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں 

یہی سوال اس رکوع میں تین آیتوں کے بعد پھر انہی الفاظ کے ساتھ دہرایا گیا

وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ 

لیکن اس ایک ہی سوال کا جواب آیت متذکرہ میں کچھ اور دیا گیا ہے اور تین آیتوں کے بعد آنے والے سوال کا جواب اور ہے

اس لئے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایک ہی سوال کے دو مختلف جواب کس حکمت پر مبنی ہیں یہ حکمت ان حالات و واقعات میں غور کرنے سے واضح ہوجاتی ہے جن میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں مثلا آیت متذکرہ کا شان نزول یہ ہے کہ عمرو بن جموح نے رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا کہ ما ننفق من اموالنا واین نضعھا
 (اخرجہ ابن المنذر مظہری) یعنی ہم اپنے اموال میں سے کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں اور ابن جریر کی روایت کے موافق یہ سوال تنہا عمرو ابن جموح کا نہیں تھا بلکہ عام مسلمانوں کا سوال تھا اس سوال کے دو جزو ہیں ایک یہ کہ مال میں سے کیا اور کتنا خرچ کریں دوسرے یہ کہ اس کا مصرف کیا ہو کن لوگوں کو دیں
اور دوسری آیت جو دو آیتوں کے بعد اسی سوال پر مشتمل ہے اس کا شان نزول بروایت ابن ابی حاتم یہ ہے کہ جب قرآن میں مسلمانوں کو اس کا حکم دیا گیا کہ اپنے مال اللّه تعالیٰ کی راہ میں خرچ کریں تو چند صحابہ کرام آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انفاق فی سبیل اللّه کا جو حکم ہمیں ملا ہے ہم اس کی وضاحت چاہتے ہیں کہ کیا مال اور کونسی چیز اللّه کی راہ میں خرچ کیا کریں اس سوال میں صرف ایک ہی جزء ہے یعنی کیا خرچ کریں اور کہاں خرچ کریں کا سوال تھا اور دوسرے میں صرف کیا خرچ کریں کا سوال ہے اور پہلے سوال کے جواب میں جو کچھ قرآن میں ارشاد فرمایا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال کے دوسرے جزء کو یعنی کہاں خرچ کریں زیادہ اہمیت دے کر اس کا جواب تو صریح طور پر دیا گیا اور پہلے جزء یعنی کیا خرچ کریں کا جواب ضمنی طور پر دے دینا کافی سمجھا گیا اب الفاظ قرآنی میں دونوں اجزاء پر نظر فرمائیں، پہلے جز یعنی کہاں خرچ کریں کے متعلق ارشاد ہوتا ہے

قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ 

یعنی جو کچھ بھی تم کو اللّه کے لئے خرچ کرنا ہو اس کے مستحق ماں باپ اور رشتہ دار اور بےباپ کے بچے اور مساکین اور مسافر ہیں۔


اور دوسرے جزء یعنی کیا خرچ کریں کا جواب ضمنی طور پر ان الفاظ سے دیا گیا وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ یعنی تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللّه تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اللّه تعالیٰ کی طرف سے تم پر کوئی تحدید اور پابندی نہیں کہ مال کی اتنی ہی مقدار صرف کرو بلکہ جو کچھ بھی اپنی استطاعت کے موافق خرچ کرو گے اللّه تعالیٰ کے پاس اس کا اجر وثواب پاؤ گے۔

الغرض پہلی آیت میں شاید سوال کرنے والوں کے پیش نظر زیادہ اہمیت اسی سوال کی ہو کہ ہم جو مال خرچ کریں اس کا مصرف کیا ہو کہاں خرچ کریں اسی لئے اس کے جواب میں اہمیت کے ساتھ مصارف بیان فرمائے گئے اور کیا خرچ کریں اس سوال کا جواب ضمنی طور پر دے دینا کافی سمجھا گیا، اور بعد والی آیت میں سوال صرف اتنا ہی تھا کہ ہم کیا چیز اور کیا مال خرچ کریں اس لئے اس کا جواب ارشاد ہوا

قُلِ الْعَفْوَ

یعنی آپ فرمادیں کہ جو کچھ بچے اپنی ضرورت سے وہ خرچ کیا کریں 
ان دونوں آیتوں سے اللّه تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے کے متعلق چند ہدایات و مسائل معلوم ہوئے 

مسئلہ
اول یہ کہ دونوں آیتیں زکوٰۃ فرض کے متعلق نہیں کیونکہ زکوۃٰ فرض کے لئے تو نصاب مال بھی مقرر ہے اور اس میں جتنی مقدار خرچ کرنا فرض ہے وہ بھی رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ پوری طرح متعین ومقرر فرمادی گئی ہے ان دونوں آیتوں میں نہ کسی نصاب مال کی قید ہے نہ خرچ کرنے کی مقدار بتلائی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں آیتیں صدقات نافلہ کے متعلق ہیں اس سے یہ شبہ بھی رفع ہوگیا کہ پہلی آیت میں خرچ کا مصرف والدین کو بھی قرار دیا گیا ہے حالانکہ ماں باپ کو زکوٰۃ دینا آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کے مطابق جائز نہیں کیونکہ ان آیتوں کا تعلق فریضہ زکوٰۃ سے ہے ہی نہیں۔

مسئلہ
دوسری ہدایت اس آیت سے یہ حاصل ہوئی کہ ماں باپ اور دوسرے اعزاء و اقرباء کو جو کچھ بطور ہدیہ دیا یا کھلایا جاتا ہے اگر اس میں بھی اللّه تعالیٰ کا حکم بجا لانے کی نیت ہو تو وہ بھی موجب اجر وثواب اور انفاق فی سبیل اللّه میں داخل ہے۔

مسئلہ
تیسری ہدایت یہ حاصل ہوئی کہ نفلی صدقات میں اس کی رعایت ضروری ہے کہ جو مال اپنی ضروریات سے زائد ہو وہی خرچ کیا جائے اپنے اہل و عیال کو تنگی میں ڈال کر اور ان کے حقوق کو تلف کرکے خرچ کرنا ثواب نہیں اسی طرح جس کے ذمہ کسی کا قرض ہے قرض خواہ کو ادا نہ کرے اور نفلی صدقات و خیرات میں اڑائے یہ اللّه تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نہیں پھر ضرورت سے زائد مال کے خرچ کرنے کا جو ارشاد اس آیت میں ہے اس کو حضرت ابوذر غفاری اور بعض دوسرے حضرات نے حکم وجوبی قرار دیا کہ اپنی ضروریات سے زائد جو کچھ ہے سب کا صدقہ کردینا واجب ہے مگر جمہور صحابہ کرام وتابعین اور ائمہ دین اس پر ہیں کہ ارشاد قرآنی کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اللّه کی راہ میں خرچ کرنا ہو وہ ضروریات سے زائد ہونا چاہئے یہ نہیں کہ ضرورت سے زائد جو کچھ ہو اس کو صدقہ کردینا ضروری یا واجب ہے صحابہ کرام کے تعامل سے یہی ثابت ہوتا ہے۔


آیت    216


كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الۡقِتَالُ وَهُوَ كُرۡهٌ لَّـكُمۡ‌ۚ وَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡــئًا وَّهُوَ خَيۡرٌ لَّـکُمۡ‌ۚ وَعَسٰۤى اَنۡ تُحِبُّوۡا شَيۡــئًا وَّهُوَ شَرٌّ لَّـكُمۡؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ

لفظی ترجمہ

كُتِبَ عَلَيْكُمُ : تم پر فرض کی گئی | الْقِتَالُ : جنگ | وَھُوَ : اور وہ | كُرْهٌ: ناگوار | لَّكُمْ : تمہارے لیے | وَعَسٰٓى: اور ممکن ہے | اَنْ : کہ | تَكْرَھُوْا : تم ناپسند کرو | شَيْئًا : ایک چیز | وَّھُوَ : اور وہ | خَيْرٌ: بہتر | لَّكُمْ : تمہارے لیے | وَعَسٰٓى: اور ممکن ہے | اَنْ : کہ | تُحِبُّوْا : تم پسند کرو | شَيْئًا : ایک چیز | وَّھُوَ : اور وہ | شَرٌّ: بری | لَّكُمْ : تمہارے لیے | وَاللّٰهُ : اور اللّه | يَعْلَمُ : جانتا ہے | وَاَنْتُمْ : اور تم | لَا تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے 

ترجمہ

تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو اللّه جانتا ہے تم نہیں جانتے

تفسیر

تیرہواں حکم فرضیت جہاد

جہاد کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے اور وہ تم کو طبعا گراں معلوم ہوتا ہے اور یہ بات ممکن ہے کہ تم کسی بات کو گراں سمجھو اور واقع میں وہ تمہارے حق میں خیر اور مصلحت ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی امر کو مرغوب سمجھو اور واقع میں وہ تمہارے حق میں باعث خرابی کا ہو اور ہر شے کی حقیقت حال کو اللّه تعالیٰ جانتے ہیں اور تم پورا پورا نہیں جانتے اچھے برے کا فیصلہ اپنی خواہش کی بنیاد نہ کرو جو کچھ اللّه کا حکم ہوجائے اسی کو اجمالا مصلحت سمجھ کر اس پر کار بند رہا کرو 

چودہواں حکم تحقیق قتال در شہر حرام

حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے چند صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین کا ایک سفر میں اتفاق سے کفار کے ساتھ مقابلہ ہوگیا ایک کافر ان کے ہاتھ سے مارا گیا اور جس روز یہ قصہ ہوا رجب کی پہلی تاریخ تھی مگر صحابہ کرام اس کو جمادی الاخریٰ کی تیس سمجھتے تھے اور رجب اشہر حرم میں سے ہے کفار نے اس واقعہ پر طعن کیا کہ مسلمانوں نے شہر حرام کی حرمت کا بھی خیال نہیں کیا مسلمانوں کو اس کی فکر ہوئی اور حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا اور بعض روایات میں ہے کہ خود بعض کفار قریش نے بھی حاضر ہو کر اعتراضا سوال کیا اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے 

لوگ آپ سے شہر حرام میں قتال کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ اس میں خاص طور یعنی عمدا قتال کرنا جرم عظیم ہے مگر مسلمانوں سے یہ فعل بالقصد صادر نہیں ہوا بلکہ تاریخ کی تحقیق نہ ہونے کے سبب غلطی سے ایسا ہوگیا یہ تو تحقیقی جواب ہے اور الزامی جواب یہ ہے کہ کفار و مشرکین کا تو کسی طرح منہ ہی نہیں مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا کیونکہ اگرچہ شہر حرام میں لڑنا جرم عظیم لیکن ان کفار کی جو حرکتیں ہیں یعنی اللّه تعالیٰ کی راہ دین سے لوگوں کو روک ٹوک کرنا یعنی مسلمان ہونے پر تکلیفیں پہنچانا کہ ڈر کے مارے لوگ مسلمان نہ ہوں اور اللّه تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام یعنی کعبہ کے ساتھ کفر کرنا کہ وہاں بہت سے بت رکھ چھوڑے تھے اور بجائے خدا کی عبادت کے ان کی عبادت اور طواف کرتے تھے اور جو لوگ مسجد حرام کے اہل تھے یعنی رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے مؤ منین ان کو تنگ اور پریشان کرکے اس مسجد حرام سے خارج ہونے پر مجبور کردینا جس سے نوبت ہجرت یعنی ترک وطن کی پہنچی سو یہ حرکتیں شہر حرام میں قتال کرنے سے بھی زیادہ جرم عظیم ہیں اللّه تعالیٰ کے نزدیک کیونکہ یہ حرکتیں دین حق کے اندر فتنہ پردازی کرنا اور ایسی فتنہ پردازی کرنا اس قتل خاص سے جو مسلمانوں سے صادر ہوا بدرجہا قباحت میں بڑھ کر ہے کیونکہ اس قتل سے دین حق کو تو کوئی مضرت نہیں پہنچی بہت سے بہت اگر کوئی جان کر کرے خود ہی گنہگار ہوگا اور ان حرکتوں سے تو دین حق کو ضرر پہنچتا ہے کہ اس کی ترقی رکتی ہے اور یہ کفار تمہارے ساتھ ہمیشہ جنگ وجدال کا سلسلہ جاری ہی رکھیں گے اس غرض سے کہ اگر خدا نہ کرے قابو پاویں تو تم کو تمہارے دین اسلام سے پھیر دیں ان کے اس فعل سے دین کی مزاحمت ظاہر ہے

انجام ارتداد
اور جو شخص تم میں سے اپنے دین اسلام سے پھر جائے پھر کافر ہی ہونے کی حالت میں مرجاوے تو ایسے لوگوں کے نیک اعمال دنیا اور آخرت میں سب غارت ہوجاتے ہیں اور یہ لوگ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔

شہر حرام میں قتال کرنے کے بارے میں مسلمانوں کو جواب مذکور سن کر گناہ نہ ہونے کا تو اطمینان ہوگیا تھا مگر اس خیال سے دل شکستہ تھے کہ ثواب تو ہوا ہی نہ ہوگا آگے اس میں تسلی کی گئی۔

وعدہ ثواب پر اخلاص نیت

حقیقۃ جو لوگ ایمان لائے ہوں اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا ہو اور جہاد کیا ہو ایسے لوگ تو رحمت خداوندی کے امیدوار ہوا کرتے ہیں اور تم لوگوں میں یہ صفات علی سبیل منع الخلو موجود ہیں، چناچہ ایمان اور ہجرت تو ظاہر ہے رہا اس جہاد خاص میں شبہ ہوسکتا ہے سو چونکہ تمہاری نیت تو جہاد ہی کی تھی لہذا ہمارے نزدیک وہ بھی جہاد ہی میں شمار ہے پھر ان صفات کے ہوتے ہوئے تم کیوں ناامید ہوتے ہو اور اللّه تعالیٰ اس غلطی کو معاف کردیں گے اور ایمان و جہاد و ہجرت کی وجہ سے تم پر رحمت کریں گے۔

معارف و مسائل

بعض احکام جہاد
مسئلہ
مذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں جہاد کے فرض ہونے کا حکم ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَال یعنی تم پر جہاد فرض کیا گیا ان الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاد ہر مسلمان پر ہر حالت میں فرض ہے، بعض آیات قرآنی اور رسول کریم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریضہ فرض عین کے طور پر ہر ہر مسلم پر عائد نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت اس فرض کو ادا کردے تو باقی مسلمان سبکدوش سمجھے جائیں گے ہاں کسی زمانہ یا کسی ملک میں کوئی جماعت بھی فریضہ جہاد ادا کرنے والی نہ رہے تو سب مسلمان ترک فرض کے گنہگار ہوجائیں گے حدیث میں رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد الجہاد ماض الیٰ یوم القیامۃ کا یہ مطلب ہے کہ قیامت تک ایسی جماعت کا موجود رہنا ضروری ہے جو فریضہ جہاد ادا کرتی رہے قرآن مجید کی دوسری آیت میں ارشاد ہے

فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِيْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ عَلَي الْقٰعِدِيْنَ دَرَجَةً ۭ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰي
                     (٩٥: ٤)

یعنی اللّه تعالیٰ نے مجاہدین کو تارکین جہاد پر فضیلت دی ہے اور اللّه تعالیٰ نے دونوں سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے،

اس میں ایسے لوگوں سے جو کسی عذر کے سبب یا کسی دوسری دینی خدمت میں مشغول ہونے کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوں ان سے بھی بھلائی کا وعدہ مذکور ہے ظاہر ہے کہ اگر جہاد ہر فرد مسلم پر فرض عین ہوتا تو اس کے چھوڑنے والوں سے وعدہ حسنیٰ یعنی بھلائی کا وعدہ ہونے کی صورت نہ تھی۔

اسی طرح ایک دوسری آیت میں ہے

فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ
                      (١٢٢: ٩) 
اور کیوں نہ نکل کھڑی ہوئی تمہاری ہر بڑی جماعت میں سے چھوٹی جماعت اس کام کے لئے کہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں۔

اس میں خود قرآن کریم نے یہ تقسیم عمل پیش فرمائی کہ کچھ مسلمان جہاد کا کام کریں اور کچھ تعلیم دین میں مشغول رہیں اور یہ جبھی ہوسکتا ہے جبکہ جہاد فرض عین نہ ہو بلکہ فرض کفایہ ہو۔ 

نیز صحیح بخاری ومسلم کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے شرکت جہاد کی اجازت چاہی تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں زندہ ہیں آپ نے فرمایا کہ پھر جاؤ ماں باپ کی خدمت کرکے جہاد کا ثواب حاصل کرو اس سے بھی یہ معلوم ہوا کہ جہاد فرض کفایہ ہے جب مسلمانوں کی ایک جماعت فریضہ جہاد کو قائم کئے ہوئے ہو تو باقی مسلمان دوسری خدمتوں اور کاموں میں لگ سکتے ہیں ہاں اگر کسی وقت امام المسلمین ضرورت سمجھ کر نفیر عام کا حکم دے اور سب مسلمانوں کو شرکت جہاد کی دعوت دے تو پھر جہاد سب پر فرض عین ہوجاتا ہے قرآن کریم نے سورة توبہ میں ارشاد فرمایا

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ     
                   (٣٨: ٩)
اے مسلمانو  تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللّه کی راہ میں نکلو تو تم بوجھل بن جاتے ہو۔ 

اس آیت میں اسی نفیر عام کا حکم مذکور ہے اسی طرح اگر خدانخواستہ کسی وقت کفار کسی اسلامی ملک پر حملہ آور ہوں اور مدافعت کرنے والی جماعت ان کی مدافعت پر پوری طرح قادر اور کافی نہ ہو تو اس وقت بھی یہ فریضہ اس جماعت سے متعدی ہو کر پاس والے سب مسلمانوں پر عائد ہوجاتا ہے اور اگر وہ بھی عاجز ہوں تو ان کے پاس والے مسلمانوں پر، یہاں تک کہ پوری دنیا کے ہر ہر فرد مسلم پر ایسے وقت جہاد فرض عین ہوجاتا ہے قرآن مجید کی مذکورہ بالا تمام آیات کے مطالعہ سے جمہور فقہا ومحدثین نے یہ حکم دیا ہے کہ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے۔

مسئلہ

اسی لئے جب تک جہاد فرض کفایہ ہو اولاد کو بغیر ماں باپ کی اجازت کے جہاد میں جانا جائز نہیں۔

مسئلہ

جس شخص کے ذمہ کسی کا قرض ہو اس کے لئے جب تک قرض ادا نہ کردے اس فرض کفایہ میں حصہ لینا درست نہیں ہاں اگر کسی وقت نفیر عام کے سبب یا کفار کے نرغہ کے باعث جہاد سب پر فرض عین ہوجائے تو اس وقت نہ والدین کی اجازت شرط ہے نہ شوہر کی اور نہ قرض خواہ کی اس آیت کے آخر میں جہاد کی ترغیب کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ جہاد اگرچہ طبعی طور پر تمہیں بھاری معلوم ہو لیکن خوب یاد رکھو کہ انسانی بصیرت ودانشمندی اور تدبیر و محنت عواقب و نتائج کے بارے میں بکثرت فیل ہوتی ہے کسی مفید کو مضر یا مضر کو مفید سمجھ لینا بڑے سے بڑے ہوشیار عقلمند سے بھی مستبعد نہیں ہر انسان اگر اپنی عمر میں پیش آنے والے وقائع پر نظر ڈالے تو اپنی ہی زندگی میں اس کو بہت سے واقعات ایسے نظر پڑیں گے کہ وہ کسی چیز کو نہایت مفید سمجھ کر حاصل کر رہے تھے اور انجام کار یہ معلوم ہوا کہ وہ انتہائی مضر تھی یا کسی چیز کو نہایت مضر سمجھ کر اس سے اجتناب کر رہے تھے، اور انجام کار یہ معلوم ہوا کہ وہ نہایت مفید تھی، انسانی عقل و تدبیر کی رسوائی اس معاملہ میں بکثرت مشاہدہ میں آتی رہتی ہے۔

خویش را دیدم و رسوائی خویش

اس لئے فرمایا کہ جہاد و قتال میں اگرچہ بظاہر مال اور جان کا نقصان نظر آتا ہے لیکن جب حقائق سامنے آئیں گے تو کھلے گا کہ یہ نقصان ہرگز نقصان نہ تھا بلکہ سراسر نفع اور دائمی راحت کا سامان تھا۔




No comments:

Powered by Blogger.