Surah Baqrah Aayat 229-231 Rukoo 29

آیات  231 - 229
رکوع 29


آیت   229


اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ‌ ۖ فَاِمۡسَاكٌ ۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِيۡحٌ ۢ بِاِحۡسَانٍ‌ ؕوَلَا يَحِلُّ لَـکُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّآ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ شَيۡــئًا اِلَّاۤ اَنۡ يَّخَافَآ اَ لَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِ‌ؕ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَ لَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيۡمَا افۡتَدَتۡ بِهٖؕ‌ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ فَلَا تَعۡتَدُوۡهَا ‌ۚ‌ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ 
 

لفظی ترجمہ

 اَلطَّلَاقُ : طلاق   |  مَرَّتٰنِ : دو بار   |  فَاِمْسَاكٌ: پھر روک لینا   |  بِمَعْرُوْفٍ : دستور کے مطابق   |  اَوْ : یا   |  تَسْرِيْحٌ: رخصت کرنا   |  بِاِحْسَانٍ : حسنِ سلوک سے   |  وَلَا : اور نہیں   |  يَحِلُّ : جائز   |  لَكُمْ : تمہارے لیے   |  اَنْ : کہ   |  تَاْخُذُوْا : تم لے لو   |  مِمَّآ : اس سے جو   |  اٰتَيْتُمُوْھُنَّ : تم نے دیا ان کو   |  شَيْئًا : کچھ   |  اِلَّآ : سوائے   |  اَنْ : کہ   |  يَّخَافَآ : دونوں اندیشہ کریں   |  اَلَّا : کہ نہ   |  يُقِيْمَا : وہ قائم رکھ سکیں گے   |  حُدُوْدَ اللّٰهِ : اللّه کی حدود   |  فَاِنْ : پھر اگر   |  خِفْتُمْ : تم ڈرو   |  اَلَّا يُقِيْمَا : کہ وہ قائم نہ رکھ سکیں گے   |  حُدُوْدَ اللّٰهِ : اللّه کی حدود   |  فَلَاجُنَاحَ : تو گناہ نہیں   |  عَلَيْھِمَا : ان دونوں پر   |  فِيْمَا : اس میں جو   |  افْتَدَتْ : عورت بدلہ دے   |  بِهٖ : اس کا   |  تِلْكَ : یہ   |  حُدُوْدُ اللّٰهِ : اللّه کی حدود   |  فَلَا : پس نہ   |  تَعْتَدُوْھَا : آگے بڑھو اس سے   |  وَمَنْ : اور جو   |  يَّتَعَدَّ : آگے بڑھتا ہے   |  حُدُوْدَ اللّٰهِ : اللہ کی حدود   |  فَاُولٰٓئِكَ : پس وہی لوگ   |  ھُمُ : وہ   |  الظّٰلِمُوْنَ : ظالم (جمع)


ترجمہ

طلاق دو بار ہے پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کر تے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اُس میں سے کچھ واپس لے لو البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے یہ اللّه کے مقرر کردہ حدود ہیں، اِن سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں وہی ظالم ہیں

تفسیر
حکم نمبر ٢٥
 طلاق رجعی کی تعداد
طلاق دو مرتبہ کی پھر دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد دو اختیار ہیں خواہ یہ کہ رجعت کرکے عورت کو قاعدہ کے مطابق رکھ لے خواہ یہ کہ رجعت نہ کرے عدت پوری ہونے دے اور اس طرح اچھے طریقے سے اس کو چھوڑ دے
حکم نمبر ٢٦
 خلع 
اور تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں کہ بیبیوں کو چھوڑنے کے وقت ان سے کچھ بھی لو اگرچہ وہ لیا ہو اسی مال میں سے کیوں نہ ہو جو تم نے ہی مہر میں ان کو دیا تھا مگر ایک صورت البتہ حلال ہے وہ یہ کہ کوئی میاں بیوی ایسے ہوں کہ
 دونوں کو خطرہ ہو کہ دوبارہ حقوق زوجیت وہ اللّه تعالیٰ کے قائم کردہ ضابطوں کو قائم نہ رکھ سکیں گے سو اگر تم کو یعنی میاں بیوی کو یہ خطرہ ہو کہ وہ دونوں ضوابط خداوندی کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس  مال کے لینے دینے میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑائے بشرطیکہ مہر سے زیادہ نہ ہو یہ سب احکام خدائی ضابطے ہیں تم ان سے باہر نہ نکلنا اور جو شخص خدائی ضابطوں کو توڑ کر باہر نکل جائے تو ایسے لوگ اپنا ہی نقصان کرنے والے ہیں

حکم نمبر ٢٧
 تین طلاقوں کے بعد حلالہ
پھر اگر دو طلاقوں کے بعد کوئی تیسری طلاق بھی دیدے تو پھر وہ عورت اس تیسری طلاق دینے کے بعد اس شخص کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک وہ اس خاوند کے سوا دوسرے شخص کے ساتھ عدت کے بعد نکاح نہ کرے اور حقوق زوجیت صحبت کے ادا نہ کرے پھر اگر یہ دوسرا خاوند اس کو طلاق دیدے اور اس کی عدت بھی گذر جائے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ دوبارہ آپس میں نکاح کرکے بدستور پھر مل جائیں بشرطیکہ دونوں کو اپنے اوپر یہ اعتماد ہو کہ آئندہ خداوندی ضابطوں کو قائم رکھیں گے اور یہ خداوندی ضابطے ہیں حق تعالیٰ ان کو بیان فرماتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے جو دانشمند ہیں

معارف و مسائل

طلاق ونکاح کے احکام پورے قرآن کریم میں بہت سی آیتوں میں آئے ہیں مگر یہ چند آیتیں جو یہاں مذکور ہیں طلاق کے معاملہ میں اہم ضابطوں کی حیثیت رکھتی ہیں ان کو سمجھنے کیلئے پہلے نکاح کی شرعی حیثیت کو جاننا ضروری ہے
نکاح و طلاق کی شرعی حیثیت اور حکیمانہ نظام
نکاح کی ایک حیثیت تو ایک باہمی معاملے اور معاہدے کی ہے جیسے بیع وشراء اور لین دین کے معاملات ہوتے ہیں دوسری حیثیت ایک سنت اور عبادت کی ہے اس پر تو تمام امت کا اتفاق ہے کہ نکاح عام معاملات معاہدات سے بالاتر ایک حیثیت شرعی عبادت وسنت کی رکھتا ہے اسی لئے نکاح کے منعقد ہونے کے لئے باجماع امت کچھ ایسی شرائط ضروری ہیں جو عام معاملات بیع وشراء میں نہیں ہوتیں
اول تو یہ کہ ہر عورت سے اور ہر مرد سے نکاح نہیں ہوسکتا اس میں شریعت کا ایک مستقل قانون ہے جس کے تحت بہت سی عورتوں اور مردوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا
دوسرے تمام معاملات ومعاہدات کے منعقد اور مکمل ہونے کے لئے کوئی گواہی شرط نہیں، گواہی کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب فریقین میں اختلاف ہوجائے لیکن نکاح ایسا معاملہ نہیں یہاں اس کے منعقد ہونے کیلئے بھی گواہوں کا سامنے ہونا شرط ہے اگر دو مرد و عورت بغیر گواہوں کے آپس میں نکاح کرلیں اور دونوں میں کوئی فریق کبھی اختلاف و انکار بھی نہ کرے اس وقت بھی شرعاً وہ نکاح باطل کالعدم ہے جب تک گواہوں کے سامنے دونوں کا ایجاب و قبول نہ ہو اور سنت یہ ہے کہ نکاح اعلان عام کے ساتھ کیا جائے اسی طرح کی اور بہت سی شرائط اور آداب ہیں جو معاملہ نکاح کے لئے ضروری یا مسنون ہیں
امام اعظم ابوحنیفہ اور بہت سے دوسرے حضرات ائمہ کے نزدیک تو نکاح میں معاملہ اور معاہدہ کی حیثیت سے زیادہ عبادت وسنت کی حیثیت غالب ہے اور قرآن وسنت کے شواہد اس پر قائم ہیں
نکاح کی اجمالی حقیقت معلوم کرنے کے بعد طلاق کو سمجھئے طلاق کا حاصل نکاح کے معاملے اور معاہدے کو ختم کرنا ہے جس طرح شریعت اسلام نے نکاح کے معاملے اور معاہدے کو ایک عبادت کی حیثیت دے کر عام معاملات ومعاہدات کی سطح سے بلند رکھا ہے اور بہت سی پابندیاں اس پر لگائی ہیں اسی طرح اس معاملہ کا ختم کرنا بھی عام لین دین کے معاملات کی طرح آزاد نہیں رکھا کہ جب چاہے جس طرح چاہے اس معاملہ کو فسخ کردے اور دوسرے سے معاملہ کرلے بلکہ اس کے لئے ایک خاص حکیمانہ قانون بنایا ہے جس کا بیان آیات مذکورہ میں کیا گیا ہے، اسلامی تعلیمات کا اصل رخ یہ ہے کہ نکاح کا معاملہ اور معاہدہ عمر بھر کے لئے ہو اس کے توڑنے اور ختم کرنے کی کبھی نوبت ہی نہ آئے کیونکہ اس معاملہ کے انقطاع کا اثر صرف فریقین پر نہیں پڑتا نسل واولاد کی تباہی و بربادی اور بعض اوقات خاندانوں اور قبیلوں میں فساد تک کی نوبت پہونچتی ہے اور پورا معاشرہ بری طرح اس سے متاثر ہوتا ہے اسی لئے جو اسباب اور وجوہ اس معاملہ کو توڑنے کا سبب بن سکتے ہیں قرآن وسنت کی تعلیمات میں ان تمام اسباب کو راہ سے ہٹانے کا پورا انتظام کیا ہے، زوجین کے ہر معاملے اور ہر حال کے لئے جو ہدایتیں قرآن وسنت میں مذکور ہیں ان سب کا حاصل یہی ہے کہ یہ رشتہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ مستحکم ہوتا چلا جائے ٹوٹنے نہ پائے ناموافقت کی صورت میں اول افہام و تفہیم کی پھر زجر و تنبیہ کی ہدایتیں دی گئیں اور اگر بات بڑھ جائے اور اس سے بھی کام نہ چلے تو خاندان ہی کے چند افراد کو حکم اور ثالث بنا کر معاملہ طے کرنے کی تعلیم دی آیت 
حَكَمًا مِّنْ اَھْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا   
                   (٣٥: ٤) 
میں خاندان ہی کے افراد کو ثالث بنانے کا ارشاد کس قدر حکیمانہ ہے کہ اگر معاملہ خاندان سے باہر گیا تو بات بڑھ جانے اور دلوں میں زیادہ بعد پیدا ہوجانے کا خطرہ ہے
لیکن بعض اوقات ایسی صورتیں بھی پیش آتی ہیں کہ اصلاح حال کی تمام کوشش ناکام ہوجاتی ہیں اور تعلق نکاح کے مطلوبہ ثمرات حاصل ہونے کے بجائے طرفین کا آپس میں مل رہنا ایک عذاب بن جاتا ہے ایسی حالت میں اس ازدواجی تعلق کا ختم کردینا ہی طرفین کے لئے راحت اور سلامتی کی راہ ہوجاتی ہے اس لئے شریعت اسلام نے بعض دوسرے مذاہب کی طرح یہ بھی نہیں کیا کہ رشتہ ازدواج ہر حال میں ناقابل فسخ ہی رہے بلکہ طلاق اور فسخ نکاح کا قانون بنایا طلاق کا اختیار تو صرف مرد کو دیا جس میں عادۃ فکر و تدبر اور تحمل کا مادہ عورت سے زائد ہوتا ہے عورت کے ہاتھ میں یہ آزاد اختیار نہیں دیا تاکہ وقتی تاثرات سے مغلوب ہوجانا جو عورت میں بہ نسبت مرد کے زیادہ ہے وہ طلاق کا سبب نہ بن جائے
لیکن عورت کو بھی بالکل اس حق سے محروم نہیں رکھا وہ شوہر کے ظلم وستم سہنے ہی پر مجبور ہوجائے اس کو یہ حق دیا کہ حاکم شرعی کی عدالت میں اپنا معاملہ پیش کرکے اور شکایات کا ثبوت دے کر نکاح فسخ کرا سکے یا طلاق حاصل کرسکے پھر مرد کو طلاق کا آزادانہ اختیار تو دے دیا مگر اول تو یہ کہہ دیا کہ اس اختیار کا استعمال کرنا اللّه کے نزدیک بہت مبغوض و مکروہ ہے صرف مجبوری کی حالت میں اجازت ہے حدیث میں ارشاد نبوی ہے

ابغض الحلال الی اللّه الطلاق
یعنی حلال چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض اور مکروہ اللّه کے نزدیک طلاق ہے

دوسری پابندی یہ لگائی کہ حالت غیظ وغضب میں یا کسی وقتی اور ہنگامی ناگواری میں اس اختیار کو استعمال نہ کریں اسی حکمت کے ماتحت حالت حیض میں طلاق دینے کو ممنوع قرار دیا اور حالت طہر میں بھی جس طہر میں صحبت وہمبستری ہوچکی ہے اس میں طلاق دینے کو اس بناء پر ممنوع قرار دیا کہ اس کی وجہ سے عورت کی عدت طویل ہوجائے گی اس کو تکلیف ہوگی ان دونوں چیزوں کے لئے قرآن کریم کا ارشاد یہ آیا

فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ
                    (١: ٦٥) 

یعنی طلاق دینا ہو تو ایسے وقت میں دو جس میں بلاوجہ عورت کی عدت طویل نہ ہو حیض کی حالت میں طلاق ہوئی تو موجودہ حیض عدت میں شمار نہ ہوگا اس کے بعد طہر اور پھر طہر کے بعد حیض سے عدت شمار ہوگی اور جس طہر میں ہمبستری ہوچکی ہے اس میں یہ امکان ہے کہ حمل رہ گیا ہو تو عدت وضع حمل تک طویل ہوجائیگی طلاق دینے کے لئے مذکورہ وقت طہر کا مقرر کرنے میں یہ بھی حکمت ہے کہ اس انتظار کے وقفہ میں بہت ممکن ہے کہ غصہ فرو ہو معافی تلافی ہو کر طلاق کا ارادہ ہی ختم ہوجائے
تیسری پابندی یہ لگائی کہ معاہدہ نکاح توڑنے اور فسخ کرنے کا طریقہ بھی وہ نہیں رکھا جو عام بیع وشراء کے معاملات ومعاہدات کا ہے کہ ایک مرتبہ معاہدہ فسخ کردیا تو اسی وقت اسی منٹ میں فریقین آزاد ہوگئے اور پہلا معاملہ بالکل ختم ہوگیا ہر ایک کو اختیار ہوگیا کہ دوسرے سے معاہدہ کرلے بلکہ معاملہ نکاح کو قطع کرنے کے لئے اول تو اس کے تین درجے تین طلاقوں کی صورت میں رکھے گئے پھر اس پر عدت کی پابندی لگادی کہ عدت پوری ہونے تک معاملہ نکاح کے بہت سے اثرات باقی رہیں گے عورت کو دوسرا نکاح حلال نہ ہوگا مرد کے لئے بھی بعض پابندیاں باقی رہیں گی
چوتھی پابندی یہ لگائی کہ اگر صاف وصریح لفظوں میں ایک یا دو طلاق دی گئی ہے تو طلاق دیتے ہی نکاح نہیں ٹوٹا بلکہ رشتہ ازدواج عدت پوری ہونے تک قائم ہے دوران عدت میں اگر یہ اپنی طلاق سے رجوع کرلے تو نکاح سابق بحال ہوجائے گا
لیکن یہ رجوع کرنے کا اختیار صرف ایک یا دو طلاق تک محدود کردیا گیا تاکہ کوئی ظالم شوہر ایسا نہ کرسکے کہ ہمیشہ طلاق دیتا رہے پھر رجوع کرکے اپنی قید میں رکھتا رہے اس لئے حکم یہ دے دیا کہ اگر کسی نے تیسری طلاق بھی دے دی تو اب اس کو رجوع کرنے کا بھی اختیار نہیں بلکہ اگر دونوں راضی ہو کر آپس میں دوبارہ بھی نکاح کرنا چاہیں تو بغیر ایک مخصوص صورت کے جس کا ذکر آگے آتا ہے دوبارہ نکاح بھی آپس میں حلال نہیں
آیات مذکورہ میں اسی نظام طلاق کے اہم احکام کا ذکر ہے اب ان آیات کے الفاظ پر غور کیجئے پہلی آیت میں اول تو ارشاد فرمایااَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ یعنی طلاق دو ہی مرتبہ ہے پھر ان دونوں مرتبہ کی طلاقوں میں یہ لچک رکھ دی کہ ان سے نکاح بالکل ختم نہیں ہوا بلکہ عدت پوری ہونے تک مرد کو اختیار ہے کہ رجوع کرکے بیوی کو اپنے نکاح میں روک لے یا پھر رجوع نہ کرے عدت پوری ہونے دے، عدت پوری ہونے پر نکاح کا تعلق ختم ہوجائے گا اسی مضمون کو ان الفاظ میں ارشاد فرمایافَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ
 یعنی یا تو شرعی قاعدے کے مطابق رجعت کرکے بیوی کو اپنے نکاح میں روک لے یا پھر خوب صورتی اور خوش معاملگی کے ساتھ اس کی عدت پوری ہونے دے تاکہ وہ آزاد ہوجائے
ابھی تیسری طلاق کا ذکر نہیں آیا درمیان میں ایک اور مسئلہ بیان فرما دیا جو ایسے حالات میں عموماً زیر بحث آجاتا ہے وہ یہ کہ بعض شوہر بیوی کو نہ رکھنا چاہتے ہیں نہ اس کے حقوق کی فکر کرتے ہیں نہ طلاق دیتے ہیں بیوی تنگ ہوتی ہے اس کی مجبوری سے یہ ناجائز فائدہ اٹھا کر طلاق دینے کے لئے اس سے کچھ مال کا یا کم ازکم مہر کی معافی یا واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں قرآن کریم نے اس کو حرام قرار دیا ارشاد فرمایا
وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ شَـيْـــًٔـا
 یعنی تمہارے لئے حلال نہیں کہ طلاق کے معاوضہ میں ان سے اپنا دیا ہوا مال اور مہر وغیرہ واپس لے لو
البتہ ایک صورت اس سے مستثنیٰ فرمادی کہ اس میں مہر کی واپسی یا معافی جائز کردی وہ یہ کہ عورت بھی یہ محسوس کرے کہ طبیعتوں میں بعد و مخالفت کی وجہ سے میں شوہر کے حقوق ادا نہیں کرسکتی اور مرد بھی یہی سمجھے تو ایسی صورت میں یہ بھی جائز ہے کہ مہر کی واپسی یا معافی کے بدلے میں طلاق دی جائے اور لی جائے

آیت    230


فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰى تَنۡكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهٗ ‌ؕ فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ اَنۡ يَّتَرَاجَعَآ اِنۡ ظَنَّآ اَنۡ يُّقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِ‌ؕ وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ 
 

لفظی ترجمہ

 فَاِنْ : پھر اگر   |  طَلَّقَھَا : طلاق دی اس کو   |  فَلَا تَحِلُّ : تو جائز نہیں   |  لَهٗ : اس کے لیے   |  مِنْ بَعْدُ : اس کے بعد   |  حَتّٰي : یہانتک کہ   |  تَنْكِحَ : وہ نکاح کرلے   |  زَوْجًا : خاوند   |  غَيْرَهٗ : اس کے علاوہ   |  فَاِنْ : پھر اگر   |  طَلَّقَھَا : طلاق دیدے اس کو   |  فَلَاجُنَاحَ : تو گناہ نہیں   |  عَلَيْھِمَآ : ان دونوں پر   |  اَنْ : اگر   |  يَّتَرَاجَعَآ : وہ رجوع کرلیں   |  اِنْ : بشرطیکہ   |  ظَنَّآ : وہ خیال کریں   |  اَنْ : کہ   |  يُّقِيْمَا : وہ قائم رکھیں گے   |  حُدُوْدَ اللّٰهِ : اللہ کی حدود   |  وَتِلْكَ : اور یہ   |  حُدُوْدُ اللّٰهِ : اللّه کی حدود   |  يُبَيِّنُھَا : انہیں واضح کرتا ہے   |  لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ : جاننے والوں کے لیے 


ترجمہ

پھر اگر (دو بارہ طلاق دینے کے بعد شوہر نے عورت کو تیسری بار) طلاق دے دی تو وہ عورت پھر اس کے لیے حلال نہ ہوگی الّا یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دیدے تب اگر پہلا شوہر اور یہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدود الٰہی پر قائم رہیں گے، تو ان کے لیے ایک دوسرے کی طرف رجو ع کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں یہ اللّه کی مقرر کردہ حدیں ہیں جنہیں وہ اُن لوگوں کی ہدایت کے لیے واضح کر رہا ہے جو (اس کی حدود کو توڑنے کا انجام) جانتے ہیں


تفسیر

یہ مسئلہ ضمنی بیان فرمانے کے بعد پھر تیسری طلاق کا ذکر اس طرح فرمایا
فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ
 یعنی اگر اس شخص نے تیسری طلاق بھی دے ڈالی جو شرعا پسندیدہ نہ تھی تو اب نکاح کا معاملہ بالکلیہ ختم ہوگیا اس کو رجعت کرنے کا کوئی اختیار نہ رہا اور چونکہ اس نے شرعی حدود سے تجازو کیا کہ بلاوجہ تیسری طلاق دے دیتو اس کی سزا یہ ہے کہ اب اگر یہ دونوں راضی ہو کر پھر آپس میں نکاح کرنا چاہیں تو بھی نہیں کرسکتے اب ان کے آپس میں دوبارہ نکاح کے لئے شرط یہ ہے کہ یہ عورت عدت طلاق پوری کرکے کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرکے دوسرے شوہر کے ساتھ رہے پھر اگر اتفاق سے وہ دوسرا شوہر بھی طلاق دیدے یا مرجائے تو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے آیت کے آخری جملے فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَآ اَنْ يَّتَرَاجَعَآ کا یہی مطلب ہے

تین طلاق اور اس کے بعد احکام کی تفصیل

یہاں قرآن کریم کے اسلوب بیان پر غور کرنے سے یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آجاتی ہے کہ طلاق دینے کا اصل شرعی طریقہ یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دو طلاق تک پہنچا جائے تیسری طلاق تک نوبت پہنچانا مناسب نہیں الفاظ آیت الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ کے بعد تیسری طلاق کو حرف ان کے ساتھ فَاِنْ طَلَّقَھَا فرمانے میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے ورنہ سیدھی تعبیر یہ تھی کہ الطَّلَاقُ ثَلٰثٌ کہا جاتا اس کو چھوڑ کر یہ تعبیر اختیار کرنے میں واضح اشارہ ہے کہ تیسری طلاق تک پہنچنا نہیں چاہئے یہی وجہ ہے کہ امام مالک اور بہت سے فقہاء نے تیسری طلاق کی اجازت ہی نہیں دی وہ اس کو طلاق بدعت کہتے ہیں اور دوسرے فقہاء نے تین طلاق کو صرف اس شرط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے کہ الگ الگ تین طہروں میں تین طلاقیں دی جائیں ان فقہاء کی اصطلاح میں اس کو بھی طلاق سنت کے لفظ سے تعبیر کردیا گیا ہے مگر اس کا یہ مطلب کسی کے نزدیک نہیں ہے کہ اس طرح تین طلاقیں دینا مسنون اور محبوب ہے بلکہ طلاق بدعت کے مقابلے میں اس کو طلاق سنت اس معنی سے کہہ دیا گیا کہ یہ صورت بھی بدعت میں داخل نہیں
قرآن وسنت کے ارشادات اور تعامل صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین وتابعین سے عدد طلاق کے متعلق جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب طلاق دینے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں رہے تو طلاق کا احسن طریقہ یہ ہے کہ صرف ایک طلاق حالت طہر میں دیدے جس میں مجامعت نہ کی ہو اور یہ ایک طلاق دے کر چھوڑ دے عدت ختم ہونے کے ساتھ رشتہ نکاح خود ٹوٹ جائے گا اس کو فقہاء نے طلاق احسن کہا ہے، اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین نے اسی کو طلاق کا بہتر طریق قرار دیا ہے

ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں حضرت ابراہیم نخعی سے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین طلاق دینے میں اس کو پسند کرتے تھے کہ صرف ایک طلاق دے کر چھوڑ دی جائے اور عدت طلاق تین حیض پورے ہونے دیئے جائیں تاکہ عورت آزاد ہوجائے
قرآن کریم کے الفاظ مذکورہ سے اس کی بھی اجازت نکلتی ہے کہ دو طلاق تک دے دیجائیں مگر مَرَّتٰانِ کے لفظ میں اس طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ دو طلاق بیک لفظ وبیک وقت نہ ہوں بلکہ دو طہروں میں الگ الگ ہوں الطَّلَاقُ طَلَاقاَنِ سے بھی طلاق کی اجازت ثابت ہوسکتی تھی مگر مَرَّتٰنِ ایک ترتیب وتراخی کی طرف مشیر ہے جس سے مستفاد ہوتا ہے کہ دو طلاقیں ہوں تو الگ الگ ہوں مثال سے یوں سمجھئے کہ کوئی شخص کسی کو دو روپیہ ایک دفعہ دیدے تو اس کو دو مرتبہ دینا نہیں کہتے، الفاظ قرآن میں دو مرتبہ دینے کا مقصد یہی ہے کہ الگ الگ طہر میں دو طلاق دی جائیں
        (روح المعانی) 
بہرحال دو طلاقوں تک قرآن حکیم کے الفاظ سے ثابت ہے اس لئے باتفاق ائمہ وفقہاء یہ طلاق سنت میں داخل ہے یعنی بدعت نہیں، تیسری طلاق کے غیر مستحسن ہونے کی طرف تو خود اسلوب قرآن میں واضح اشارہ پایا جاتا ہے اس کے غیر مستحسن ہونے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں اور حدیث میں رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے ایک ارشاد سے تیسری طلاق کا مبغوض و مکروہ ہونا ثابت ہوتا ہے امام نسائی نے بروایت محمود بن لبید نقل کیا ہے
اخبر رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم عن رجل طلق امرأتہ ثلاث تطلیقات جمیعا فقام غضباناً ثم قال ایلعب بکتاب اللہ وانا بین اظہرکم حتیٰ قام رجل وقال یا رسول اللّه الا اقتلہ (نسائی کتاب الطلاق ص ٩٨ جلد ٢)
 رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو ایک آدمی کے متعلق خبر دی گئی جس نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دی تھی آپ غصہ ہو کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کیا اللّه کی کتاب کیساتھ کھیل کیا جاتا ہے حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اے اللّه کے رسول کیا میں اس کو قتل نہ کردوں ؟
اس حدیث کی اسناد کو حافظ ابن قیم نے صحیح علیٰ شرط مسلم قرار دیا ہے 
      (زاد المعاد) 
اور جوہر نقی میں علامہ ماوردی نے اس حدیث کی سند کو صحیح اور ابن کثیر نے اسناد جید ابن حجر نے رواتہ موثقون فرمایا ہے
اسی بناء پر حضرت امام مالک اور بعض دوسرے ائمہ فقہاء نے تیسری طلاق کو مطلقا ناجائز اور طلاق بدعت قرار دیا ہے دوسرے ائمہ نے تین طہروں میں تین طلاقوں کو اگرچہ طلاق سنت میں داخل کہہ کر طلاق بدعت سے نکال دیا ہے مگر اس کے غیر مستحسن ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں
خلاصہ یہ ہے کہ شریعت اسلام نے جو طلاق کے تین درجے تین طلاقوں کی صورت میں رکھے ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان تینوں درجوں کو عبور کرنا ضروری یا بہتر ہے بلکہ منشاء شریعت کا تو یہ ہے کہ اول تو طلاق پر اقدام ہی ایک مبغوض و مکروہ فعل ہے اگر بمجبوری اس اقدام کی نوبت آجائے تو اس کے کم سے کم درجے یعنی ایک طلاق پر اکتفاء کیا جائے اور عدت گذرنے دیں تو عدت ختم ہوتے ہی یہی ایک طلاق رشتہ زوجیت قطع کرنے کے لئے کافی ہوجائے گی اور عورت آزاد ہو کر دوسرے شخص سے نکاح کرسکے گی یہی طریقہ طلاق احسن کہلاتا ہے اس طریقہ میں یہ حکمت اور فائدہ بھی ہے کہ صریح الفاظ طلاق سے ایک طلاق دینے کی صورت میں طرفین کے لئے مصالحت کی راہیں کھلی رہیں گی عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے تو صرف طلاق سے رجوع کرلینا بقاء نکاح کے لئے کافی ہوگا اور عدت ختم ہوجانے کے بعد اگرچہ نکاح ٹوٹ چکے گا اور عورت آزاد ہوجائے گی مگر پھر بھی یہ گنجائش باقی رہے گی کہ اگر دونوں میں اب مصالحت ہوجائے اور باہم نکاح کرنا چاہیں تو نکاح جدید اسی وقت ہوسکتا ہے
لیکن اگر کوئی شخص اس طلاق احسن کے طریقے پر اکتفاء نہ کرے دوران عدت میں مزید ایک طلاق صریح اور صاف لفظوں میں دیدے تو اس نے قطع نکاح کے دو درجے طے کرلئے جس کی ضرورت نہ تھی اور ایسا کرنا شرعا پسندیدہ بھی نہ تھا مگر بہرحال دو درجے طے ہوگئے مگر ان دو درجوں کے طے ہوجانے تک بھی بات وہیں رہی کہ دوران عدت میں رجعت کا اختیار باقی ہے اور عدت ختم ہوجانے کے بعد بتراضی طرفین نکاح جدید ہوسکتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ دو طلاق تک پہنچنے میں شوہر نے اپنے اختیارات کی ایک کڑی اور توڑ ڈالی اور اس سرحد پر پہنچ گیا کہ اگر اب ایک مرتبہ بھی طلاق دیدے تو معاملہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے
جس شخص نے یہ دو درجے طلاق کے طے کرلئے اس کے لئے آگے یہ ہدایت دی گئی
 فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ اس میں فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ کے لفظوں میں دو حکم بتلائے گئے اول یہ کہ عدت کے دوران رجعت کرلینا نکاح جدید کا محتاج نہیں بلکہ صرف امساک یعنی طلاق سے رجعت کرکے روک لینا کافی ہے اگر ایسا کرلیا تو سابق نکاح ہی کی بنیاد پر تعلق زوجیت بحال ہوجائے گا۔دوسرے اس میں شوہر کو یہ ہدایت دی گئی کہ اگر اس کا ارادہ اصلاح حال اور صلح و صفائی کے ساتھ زندگی گذارنے کا ہے تب تو رجعت پر اقدام کرے ورنہ چھوڑ دے کہ عدت گذر کر تعلق زوجیت ختم ہوجائے ایسا نہ ہو کہ بغیر ارادہ اصلاح کے محض عورت کو پریشان کرنے کے لئے رجعت کرے

اسکے بالمقابل اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ فرمایا تسریح کے معنے کھول دینے اور چھوڑ دینے کے ہیں اس سے اشارہ کردیا کہ قطع تعلق کے لئے کسی مزید طلاق یا دوسرے کسی عمل کی ضرورت نہیں بغیر رجعت کے عدت ختم ہوجانا ہی تعلقات زوجیت ختم کرنے کے لئے کافی ہے۔ امام حدیث ابوداؤد نے بروایت ابو رزین اسدی نقل کیا ہے کہ اس آیت کے نزول پر ایک شخص نے آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللّه تعالیٰ نے الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فرمایا تیسری طلاق کا یہاں کیوں ذکر نہیں کیا ؟
 آپنے فرمایا کہ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ جو بعد میں مذکور ہے وہی تیسری طلاق ہے
 (روح المعانی) 

مطلب اس کا جمہور علماء کے 
نزدیک یہ ہے کہ جو کام تعلقات زوجیت کے کلی انقطاع کا تیسری طلاق سے ہوتا وہی کام اس طرز عمل سے ہوجائیگا کہ عدت کے اندر رجعت نہ کرے اور جس طرح فَاِمْسَاكٌۢ کے ساتھ بِمَعْرُوْفٍ کی قید لگا کر یہ ہدایت فرمادی کی رجعت کرکے بیوی کو روکا جائے تو حسن سلوک کے ساتھ روکا جائے اسی طرح تَسْرِيْحٌۢ کے ساتھ بِاِحْسَانٍ کی قید لگا کر یہ ہدایت دے دی کہ طلاق ایک معاملہ کا فسخ ہے شریف انسان کا کام یہ ہے کہ جس طرح معاملہ اور معاہدہ خوش دلی اور حسن سلوک کے ساتھ کیا جاتا ہے اسی طرح اگر فسخ معاہدہ کی ضرورت پیش آجائے تو اس کو بھی غصہ یا لڑائی جھگڑے کے ساتھ نہ کریں بلکہ وہ بھی احسان و سلوک کے ساتھ کریں کہ رخصت کے وقت مطلقہ بیوی کو کچھ تحفہ کپڑے وغیرہ دے کر رخصت کریں جس کا ذکر قرآن کریم کی دوسری آیت میں ہے

 مَتِّعُوْھُنَّ ۚ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ
                       (٢٣٦: ٢)
 یعنی مطلقہ بیوی کو کچھ جوڑا کپڑے کا دے کر رخصت کریں مالی حیثیت کے مطابق
اور اگر اس نے اس پر بھی ایسا نہ کیا بلکہ تیسری طلاق بھی دے ڈالی تو اب اس نے اپنے سارے اختیارات شریعت کی دی ہوئی آسانیوں کو نظر انداز کرکے بلاوجہ اور بلا ضرورت ختم کردیئے تو اب اس کی سزا یہ ہے کہ نہ رجعت ہوسکے اور نہ بغیر دوسری شادی کے آپس میں نکاح ہوسکے
اگر کسی نے غیر مستحسن یا غیر مشروع طریقہ سے تین طلاق دے دی تو اس کا اثر کیا ہوگا ؟
اس کا جواب عقلی اور عرفی طور پر تو یہی ہے کہ کسی فعل کا جرم و گناہ اس کے مؤ ثر ہونے میں کہیں بھی مانع نہیں ہوتا قتل ناحق جرم و گناہ ہے مگر جس کو گولی یا تلوار مار کر قتل کیا گیا ہے وہ تو قتل ہو ہی جاتا ہے اس کی موت تو اس کا انتظار نہیں کرتی کہ یہ گولی جائز طریقہ سے ماری گئی ہے یا ناجائز طریقہ سے چوری کرنا باتفاق مذاہب جرم و گناہ ہے مگر جو مال اس طرح غائب کردیا گیا وہ تو ہاتھ سے نکل ہی جاتا ہے اسی طرح تمام معاصی اور جرائم کا یہی حال ہے کہ ان کا جرم و گناہ ہونا ان کے مؤ ثر ہونے میں مانع نہیں ہوتا
اس اصول کا مقتضیٰ یہی ہے کہ شریعت کی دی ہوئی آسانیوں کو نظر انداز کرنا اور بلاوجہ اپنے سارے اختیارات طلاق کو ختم کرکے تین طلاق تک پہنچنا اگرچہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسل) کی ناراضی کا سبب ہوا جیسا کہ سابقہ روایت میں لکھا جاچکا ہے اور اسی لئے جمہور امت کے نزدیک یہ فعل غیر مستحسن اور بعض کے نزدیک ناجائز ہے مگر ان سب باتوں کے باوجود جب کسی نے ایسا اقدام کرلیا تو اس کا وہی اثر ہونا چاہئے جو جائز طلاق کا ہوتا یعنی تین طلاق واقع ہوجائیں اور رجعت ہی کا اختیار نہیں نکاح جدید کا اختیار بھی سلب ہوجائے
اور رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ اس پر شاہد ہے کہ اظہار غضب کے باوجود آپ نے تینوں طلاقوں کو نافذ فرمایا جس کے بہت سے واقعات کتب حدیث میں مذکور ہیں اور جن علماء نے اس مسئلہ پر مستقل کتابیں لکھی ہیں ان میں ان واقعات کو جمع کردیا ہے حال میں مولانا ابوالزاہد محمد سرفراز صاحب کی کتاب عمدۃ الاثاث بھی اس مسئلہ پر شائع ہوگئی ہے جو بالکل کافی ہے یہاں صرف دو تین حدیثیں نقل کی جاتی ہیں
محمود بن لبید کی روایت جو بحوالہ نسائی اوپر لکھی گئی ہے اس میں تین طلاقیں بیک وقت دینے پر انتہائی ناراضگی کا اظہار تو منقول ہے یہاں تک کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین نے اس شخص کو مستوجب قتل سمجھا مگر یہ کہیں منقول نہیں کہ آپ نے اس کی طلاق کو ایک رجعی قرار دے کر بیوی اس کے حوالے کردی ہو
بلکہ دوسری روایت جو آگے آتی ہے جس طرح اس میں اس کی تصریح موجود ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عویمر کی بیک وقت تین طلاق کو باوجود ناراضی کے نافذ فرمادیا اسی طرح مذکورہ حدیث محمود بن لبید کے متعلق قاضی ابوبکر بن عربی نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عویمر کی تین طلاقوں کی طرح اس کی بھی تین طلاقوں کو نافذ فرما دیا تھا ان کے الفاظ یہ ہیں
فلم یردہ النبی صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم بل امضاہ کما فی حدیث عویمر العجلانی فی اللعان حیث امضی طلاقہ الثلاث ولم یردہٗ
(تھذیب سنن ابی داؤد طبع مصر ص ١٢٩ جلد ٣)
 تو رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے اسے رد نہیں کیا بلکہ اسے نافذ فرمادیا جیسا کہہ عویمر عجلانی کی لعان والی حدیث میں ہے کہ آپ نے ان کی تین طلاقوں کو نافذ فرمادیا تھا اور رد نہیں کیا تھا

دوسری حدیث صدیقہ عائشہ کی صحیح بخاری میں بالفاظ ذیل ہے
ان رجلا طلق امرأ تہ ثلاثا فتزوجت فلطق فسئل النبی صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم اتحل للاول قال لا حتیٰ یذوق عسیلتہا کما ذاقہا الاول
 (صحیح بخاری، ص ٧٩١ ج ٢) 

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اس عورت نے دوسری جگہ نکاح کیا تو اس دوسرے شوہر نے بھی اسے طلاق دے دی نبی کریم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہے ؟ 
آپ نے فرمایا نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس سے ہم بستری کرکے لطف اندوز نہ ہوجائے جس طرح پہلے شوہر نے کیا تھا اس وقت تک طلاق دینے سے پہلے شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی۔

الفاظ روایت سے ظاہر یہی ہے کہ یہ تینوں طلاق بیک وقت دی گئی تھیں شروح حدیث فتح الباری عمدۃ قسطلانی وغیرہ میں روایت کا مفہوم یہی قرار دیا گیا ہے کہ بیک وقت تین طلاق دی تھیں اور حدیث میں یہ فیصلہ مذکور ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے ان تین طلاق کو نافذ قرار دے کر حکم دیا کہ جب تک شوہر ثانی سے ہمبستری اور صحبت نہ ہوجائے تو اس کے طلاق دینے سے شوہر اول کے لئے حلال نہیں ہوگی
تیسری روایت حضرت عویمر عجلانی کی ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بعد عرض کیا
فلما فرغا قال عمویمر کذبت علیہا یارسول اللّه ان امسک تھا فطلقہا ثلاثاً قبل ان یامرہ النبی صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم صحیح بخاری مع فتح الباری ص ٣٠١ ج ٩ صحیح مسلم ص ٢٨٩ ج ١ 
پس جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہوگئے تو عویمر نے کہا اے اللّه کے رسول میں اس پر جھوٹ بولنے والا ہوں گا اگر میں نے اس کو اپنے پاس رکھ لیا، تو عویمر نے اس کو تین طلاقیں دے دیقبل اس کے رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم انھیں حکم دیتے

اور ابوذر نے اس واقعہ کو بروایت حضرت سہل بن سعد نقل کرکے یہ الفاظ نقل کئے ہیں

فانفذہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم وکان ماصنع عند رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سنۃ قال سعد حضرت ھذٰا عند رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم فمضت السنۃ بعد فی المتلاعنین ان یفرق بینہما ثم لا یجتمعان ابدا
 (ابوداؤد ص ٣٠٢ طبع اصح المطالبع)

 تو رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے اسے نافذ فرمادیا اور رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جو کچھ پیش آیا وہ سنت قرار پایا سعد فرماتے ہیں اس موقع پر میں رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا پس اس کے بعد لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ طریقہ رائج ہوگیا کہ ان کے درمیان تفریق کردی جائے اور پھر وہ کبھی بھی جمع نہ ہوں
اس حدیث میں پوری وضاحت کے ساتھ ثابت ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عویمر کی بیک وقت تین طلاق کو تین ہی قرار دے کر نافذ فرمایا ہے
اور محمود بن لبید کی سابقہ روایت میں بھی ابوبکر ابن عربی کی روایت کے مطابق تین طلاقوں کو نافذ کرنے کا ذکر موجود ہے اور بالفرض یہ بھی نہ ہوتا یہ کہیں منقول نہیں کہ آپ نے اس کو ایک طلاق رجعی قرار دے کر بیوی اس کے سپرد کردی ہو
الحاصل مذکورہ تینوں احادیث سے یہ ثابت ہوگیا کہ اگرچہ تین طلاق بیک وقت رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک سخت ناراضی کا موجب تھیں مگر بہرحال اثر ان کا یہی ہوا کہ تینوں طلاقیں واقع قراردی گیئں
حضرت فاروق اعظم کا واقعہ اور اس پر اشکال و جواب
مذکور الصدر تحریر سے یہ ثابت ہوا کہ بیک وقت تین طلاق کو تین قرار دینا خود رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ تھا مگر یہاں ایک اشکال حضرت فاروق اعظم کے ایک واقعہ سے پیدا ہوتا ہے جو صحیح مسلم اور اکثر کتب حدیث میں منقول ہے اس کے الفاظ یہ ہیں
عن ابن عباس قال کان الطلاق علیٰ عھد رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم وابی بکر وسنتین من خلافۃ عمر طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناۃ فلو امضینا علیہم فامضاہ علیہم
 (صحیح مسلم ص ٤٧٧ جلد ١)

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں طلاق کا یہ طریقہ تھا کہ تین طلاقوں کو ایک قرار دیا جاتا تھا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ لوگ جلدی کرنے لگے ہیں ایک ایسے معاملہ میں جس میں ان کے لئے مہلت تھی تو مناسب رہے گا ہم اس کو ان پر نافذ کردیں تو آپ نے ان پر نافذ کردیا
فاروق اعظم کا یہ اعلان فقہاء صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین کے مشورہ سے صحابہ وتابعین کے مجمع عام میں ہوا کسی سے اس پر انکار یا تردد منقول نہیں اسی لئے حافظ حدیث امام ابن عبد البر مالکی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے زرقانی شرح مؤ طاء میں یہ الفاظ ہیں
والجمہور علیٰ وقوع الثلاث بل حکیٰ ابن عبد البر الاجماع قائلا ان خلافہ لا یلتفت الیہ 
(زرقانی شرح مؤ طاء ص ١٦٧ ج ٣)
اور جمہور امت تین طلاقوں کے واقع ہونے پر متفق ہیں بلکہ ابن عبد البر نے اس پر اجماع نقل کرکے فرمایا کہ اس کا خلاف شاذ ہے جس کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا
اور شیخ الاسلام نووی نے شرح مسلم میں فرمایا 
فخاطب عمر بذلک الناس جمیعاً وفیہم اصحاب رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم الذین قد علموا ما تقدم من ذلک فی زمن رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم فلم ینکر علیہ منہم منکر ولم یدفعہ دافع
 (شرح معانی الآثارص ٢٩ ج ٢) 

پس حضرت عمر رضی اللّه عنہ نے اس کے ساتھ لوگوں کو مخاطب فرمایا اور ان لوگوں میں رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے وہ صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین بھی تھے جن کو اس سے پہلے رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے طریقے کا علم تھا تو ان میں سے کسی انکار کرنے والے نے انکار نہیں کیا اور کسی رد کرنے والے نے اسے رد نہیں کیا

مذکورہ واقعہ میں اگرچہ امت کے لئے عمل کی راہ باجماع صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین وتابعین مقرر ہوگئی کہ تین طلاقیں بیک وقت دینا اگرچہ غیر مستحسن اور رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کا سبب ہے مگر اس کے باوجود جس نے اس غلطی کا ارتکاب کیا اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی اور بغیر دوسرے شخص سے نکاح و طلاق کے اس کے لئے حلال نہ ہوگی

لیکن علمی اور نظری طور پر یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں اول تو یہ کہ سابقہ تحریر میں متعدد روایات حدیث کے حوالے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے والے پر خود رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے تین طلاق کو نافذ فرمایا ہے اس کو رجعت یا نکاح جدید کی اجازت نہیں دی پھر اس واقعہ میں حضرت عبداللّه ابن عباس کے اس کلام کا کیا مطلب ہوگا کہ عہد رسالت میں اور عہد صدیقی میں اور دو سال تک عہد فاروقی میں تین طلاق کو ایک ہی مانا جاتا تھا فاروق اعظم نے تین طلاق کا فیصلہ فرمایا ؟
 دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر واقعہ اسی طرح تسلیم کرلیا جائے کہ عہد رسالت عہد صدیقی میں تین طلاق کو ایک مانا جاتا تھا تو فاروق اعظم رضی اللّه عنہ نے اس فیصلہ کو کیسے بدل دیا اور بالفرض ان سے کوئی غلطی بھی ہوگئی تھی تو تمام صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین نے اس کو کیسے تسلیم کرلیا ؟
ان دونوں سوالوں کے حضرات فقہاء ومحدثین نے مختلف جوابات دیئے ہیں ان میں صاف اور بےتکلف جواب وہ ہے جسکو امام نووی نے شرح مسلم میں اصح کہہ کر نقل کیا ہے کہ فاروق اعظم کا یہ فرمان اور اس پر صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین اجمعین کا اجماع طلاق ثلاث کی ایک خاص صورت کے متعلق قرار دیا جائے وہ یہ کہ کوئی شخص تین مرتبہ تجھ کو طلاق تجھ کو طلاق تجھ کو طلاق کہے یا میں نے طلاق دی طلاق دی طلاق دی کہے

یہ صورت ایسی ہے کہ اس کے معنی میں دو احتمال ہوتے ہیں ایک یہ کہ کہنے والے نے تین طلاق دینے کی نیت سے یہ الفاظ کہے ہوں دوسرے یہ کہ تین مرتبہ محض تاکید کے لئے مکرر کہا ہو تین طلاق کی نیت نہ ہو اور یہ ظاہر ہے کہ نیت کا علم کہنے والے ہی کے اقرار سے ہوسکتا ہے، رسول کریم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں صدق ودیانت عام اور غالب تھی اگر ایسے الفاظ کہنے کے بعد کسی نے یہ بیان کیا کہ میری نیت تین طلاق کی نہیں تھی بلکہ محض تاکید کے لئے یہ الفاظ مکرر بولے تھے تو آپ اس کے حلفی بیان کی تصدیق فرما دیتے اور اس کو ایک ہی طلاق قرار دیتے تھے

اس کی تصدیق حضرت رکانہ رضی اللّه عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جس میں مذکور ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو لفظ البتۃ کے ساتھ طلاق دے دی تھی یہ لفظ عرب کے عرف عام میں تین طلاق کے لئے بولا جاتا تھا مگر تین اس کا مفہوم صریح نہیں تھا اور حضرت رکانہ نے کہا کہ میری نیت تو اس لفظ سے تین طلاق کی نہیں تھی بلکہ ایک طلاق دینے کا قصد تھا
 آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قسم دی انہوں نے اس پر حلف کرلیا تو آپ نے ایک ہی طلاق قرار دیدی

یہ حدیث ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی میں مختلف سندوں اور مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہے بعض الفاظ میں یہ بھی ہے کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تھی مگر ابوداؤد نے ترجیح اس کو دی ہے کہ دراصل رکانہ نے لفظ البتۃ سے طلاق دی تھی یہ لفظ چونکہ عام طور پر تین طلاق کے لئے بولا جاتا تھا اس کے کسی راوی نے اس کو تین طلاق سے تعبیر کردیا ہے
بہرحال اس حدیث سے یہ بات باتفاق ثابت ہے کہ حضرت رکانہ کی طلاق کو رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے ایک اس وقت قرار دیا جب کہ انہوں نے حلف کے ساتھ بیان دیا کہ میری نیت تین طلاق کی نہیں تھی اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے تین طلاق کے الفاظ صریح اور صاف نہیں کہے تھے ورنہ پھر تین کی نیت نہ کرنے کا کوئی احتمال ہو کہ تین کی نیت کی ہے یا ایک ہی کی تاکید ان میں آپ نے حلفی بیان پر ایک قرار دے دیا کیونکہ زمانہ صدق دیانت کا تھا اس کا احتمال بہت بعید تھا کہ کوئی شخص جھوٹی قسم کھالے

صدیق اکبر کے عہد میں اور فاروق اعظم کے ابتدائی عہد میں دو سال تک یہی طریقہ جاری رہا پھر حضرت فاروق اعظم نے اپنے زمانے میں یہ محسوس کیا کہ اب صدق ودیانت کا معیار گھٹ رہا ہے اور آئندہ حدیث کی پیشنگوئی کے مطابق اور گھٹ جائے گا
 دوسری طرف ایسے واقعات کی کثرت ہوگئی کہ تین مرتبہ الفاظ طلاق کہنے والے اپنی نیت صرف ایک طلاق کی بیان کرنے لگے تو یہ محسوس کیا گیا کہ اگر آئندہ اسی طرح طلاق دینے والے کے بیان نیت کی تصدیق کرکے ایک طلاق قرار دی جاتی رہی تو بعید نہیں کہ لوگ شریعت کی دی ہوئی سہولت کو بےجا استعمال کرنے لگیں اور بیوی کو واپس لینے کے لئے جھوٹ کہہ دیں کہ نیت ایک ہی کی تھی فاروق اعظم کی فراست اور انتظام دین میں دور بینی کو سبھی صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین نے درست سمجھ کر اتفاق کیا یہ حضرات رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے مزاج شناس تھے انہوں نے سمجھا کہ اگر ہمارے اس دور میں رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم موجود ہوتے تو یقینا وہ بھی اب دلوں کی مخفی نیت اور صاحب معاملہ کے بیان پر مدار رکھ کر فیصلہ نہ فرماتے اس لئے قانون یہ بنادیا کہ اب جو شخص تین مرتبہ لفظ طلاق کا تکرار کرے گا اس کی تین ہی طلاقیں قرار دی جائیں گی اس کی یہ بات نہ سنی جائے گی کہ اس نے نیت صرف ایک طلاق کی کی تھی

حضرت فاروق اعظم کے مذکور الصدر واقعہ میں جو الفاظ منقول ہیں وہ بھی اسی مضمون کی شہادت دیتے ہیں انہوں نے فرمایا
ان الناس قد استجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناۃ فلو امضینا علیہم
لوگ جلدی کرنے لگے ہیں ایک ایسے معاملہ میں جس میں ان کے لئے مہلت تھی تو مناسب رہے گا کہ ہم اس کو ان پر نافذ کردیں

حضرت اعظم کے اس فرمان اور اس پر صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین کے اجماع کی یہ توجہیہ جو بیان کی گئی ہے اس کی تصدیق روایات حدیث سے بھی ہوتی ہے اور اس سے ان دونوں سوالوں کا خود بخود حل نکل آتا ہے کہ روایات حدیث میں خود آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے تین طلاق کو تین ہی قرار دے کر نافذ کرنا متعدد واقعات سے ثابت ہے حضرت ابن عباس کا یہ فرمانا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ عہد رسالت میں تین کو ایک ہی مانا جاتا تھا کیونکہ معلوم ہوا کہ ایسی طلاق جو تین کے لفظ سے دی گئی یا تکرار طلاق تین کی نیت سے کیا گیا اس میں عہد رسالت میں بھی تین ہی قرار دی جاتی تھی ایک قرار دینے کا تعلق ایسی طلاق سے ہے جس میں ثلاث کی تصریح نہ ہو یا تین طلاق دینے کا اقرار نہ ہو بلکہ تین بطور تاکید کے کہنے کا دعویٰ ہو
 
اور یہ سوال بھی ختم ہوجاتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے تین کو ایک قرار دیا تھا تو فاروق اعظم نے رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی دی ہوئی سہولت کے بےجا استعمال سے روکا ہے معاذ اللّه آپ کے کسی فیصلہ کے خلاف کا یہاں کوئی شائبہ نہیں

اس طرح تمام اشکالات رفع ہوگئے والحمد للّه اس جگہ مسئلہ طلاق ثلاث کی مکمل بحث اور اس کی تفصیلات کا احاطہ مقصود نہیں وہ شروح حدیث میں بہت مفصل ہے اور بہت سے علماء نے اس کو مفصل رسالوں میں بھی واضح کردیا ہے سمجھنے کے لئے بھی کافی ہے
 واللّه الموفق والمعین۔


آیت   231


وَاِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ سَرِّحُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ‌ ۖ وَلَا تُمۡسِكُوۡهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعۡتَدُوۡا‌ ۚ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ ‌ؕ وَلَا تَتَّخِذُوۡٓا اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا‌ وَّاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَمَآ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ الۡكِتٰبِ وَالۡحِكۡمَةِ يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ 


لفظی ترجمہ

 وَاِذَا : اور جب   |  طَلَّقْتُمُ : تم طلاق دو   |  النِّسَآءَ : عورتیں   |  فَبَلَغْنَ : پھر وہ پوری کرلیں   |  اَجَلَھُنَّ : اپنی عدت   |  فَاَمْسِكُوْھُنَّ : تو روکو ان کو   |  بِمَعْرُوْفٍ : دستور کے مطابق   |  اَوْ : یا   |  سَرِّحُوْھُنَّ : رخصت کردو   |  بِمَعْرُوْفٍ : دستور کے مطابق   |  وَلَا تُمْسِكُوْھُنَّ : تم نہ روکو انہیں   |  ضِرَارًا : نقصان   |  لِّتَعْتَدُوْا : تاکہ تم زیادتی کرو   |  وَمَنْ : اور جو   |  يَّفْعَلْ : کرے گا   |  ذٰلِكَ : یہ   |  فَقَدْظَلَمَ : تو بیشک اس نے ظلم کیا   |  نَفْسَهٗ : اپنی جان   |  وَلَا : اور نہ   |  تَتَّخِذُوْٓا : ٹھہراؤ   |  اٰيٰتِ : احکام   |  اللّٰهِ : اللّه   |  ھُزُوًا : مذاق   |  وَاذْكُرُوْا : اور یاد کرو   |  نِعْمَتَ : نعمت   |  اللّٰهِ : اللّه   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  وَمَآ : اور جو   |  اَنْزَلَ : اس نے اتارا   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  مِّنَ : سے   |  الْكِتٰبِ : کتاب   |  وَالْحِكْمَةِ : اور حکمت   |  يَعِظُكُمْ : وہ نصیحت کرتا ہے تمہیں   |  بِهٖ : اس سے   |  وَاتَّقُوا : اور تم ڈرو   |  اللّٰهَ : اللّه   |  وَ : اور   |  اعْلَمُوْٓا : جان لو   |  اَنَّ : کہ   |  اللّٰهَ : اللّه   |  بِكُلِّ : ہر   |  شَيْءٍ : چیز   |  عَلِيْمٌ: جاننے والا 


ترجمہ

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آ جائے تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا وہ در حقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا اللّه کی آیات کا کھیل نہ بناؤ بھول نہ جاؤ کہ اللّه نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اُس نے تم پر نازل کی ہے اس کا احترام ملحوظ رکھو اللّه سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللّه کو ہر بات کی خبر ہے  


تفسیر
حکم نمبر ٢٨ 
عورتوں کو معلق رکھنے کی ممانعت اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دی ہو پھر وہ اپنی عدت گزرنے کے قریب پہنچ جائیں تو تم ان کو قاعدہ کے موافق رجعت کرکے نکاح میں رہنے دو یا قاعدے کے موافق ان کو رہائی دو اور ان کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے مت روکو اس ارادہ سے کہ ان پر ظلم کیا جائے اور جو شخص ایسا برتاؤ کرے گا تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور حق تعالیٰ کے احکام کو کھیل نہ بناؤ اور حق تعالیٰ کی جو تم پر نعمتیں ہیں ان کو یاد کرو اور خصوصاً کتاب و حکمت کی باتوں کو جو اللّه تعالیٰ نے تم پر اس حیثیت سے نازل فرمائی کہ ان کے ذریعے تم کو نصیحت فرماتے ہیں اور اللّه تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللّه تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں

حکم نمبر ٢٩ 
عورتوں کو نکاح ثانی سے منع کرنے کی ممانعت
 اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو اور عورتیں اپنی میعاد عدت پوری کرچکیں تو تم ان کو اس امر سے مت روکو کہ وہ اپنے تجویز کئے ہوئے شوہروں سے نکاح کرلیں جبکہ باہم سب رضامند ہوجائیں قاعدہ کے موافق اس مضمون سے نصیحت کی جاتی ہے اس شخص کو جو تم میں سے اللّه تعالیٰ اور روز قیامت پر یقین رکھتا ہو اس نصیحت کا قبول کرنا تمہارے لئے زیادہ صفائی اور زیادہ پاکی کی بات ہے اور اللّه تعالیٰ تمہاری مصلحتوں کو جانتے ہیں تم نہیں جانتے

معارف و مسائل

ان سے پہلے بھی دو آیتوں میں قانون طلاق کی اہم دفعات اور اسلام میں طلاق کا عادلانہ اور معتدلانہ نظام قرآن کریم کے حکیمانہ اسلوب کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اب مذکور الصدر دو آیتوں میں چند احکام و مسائل مذکور ہیں
احکام طلاق کے بعد رجعت یا انقطاع نکاح دونوں کے لئے خاص ہدایات
پہلی آیت میں پہلا مسئلہ یہ ارشاد ہوا ہے کہ جب مطلقہ رجعی عورتوں کی عدت گذرنے کے قریب آئے تو شوہر کو دو اختیار حاصل ہیں ایک یہ کہ رجعت کرکے اس کو اپنے نکاح میں رہنے دے دوسرے یہ کہ رجعت نہ کرے اور تعلق نکاح ختم کرکے اس کو بالکل آزاد کردے
لیکن دونوں اختیاروں کے ساتھ قرآن کریم نے یہ قید لگائی کہ رکھنا ہو تو قاعدہ کے مطابق رکھا جائے اور چھوڑنا ہو تب بھی شرعی قاعدے کے مطابق چھوڑا جائے اس میں بالْمَعْرُوْفِ کا لفظ دونوں جگہ علیٰحدہ علیٰحدہ لاکر اس کی طرف اشارہ فرمادیا ہے کہ رجعت کے بھی کچھ شرائط اور قواعد ہیں اور آزاد کرنے کے لئے بھی دونوں حالتوں میں سے جس کو بھی اختیار کرے شرعی قاعدے کے موافق کرے محض وقتی غصے یا جذبات کے ماتحت نہ کرے دونوں صورتوں کے شرعی قواعد کا کچھ حصہ تو خود قرآن میں بیان کردیا گیا ہے باقی تفصیلات رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں
مثلاً اگر واقعہ طلاق کے بعد مفارقت کے ناگوار عواقب کا خیال کرکے رائے یہ ہوجائے کہ رجعت کرکے نکاح قائم رکھنا ہے تو اس کے لئے شریعت کا قاعدہ یہ ہے کہ پچھلے غصہ وناراضی کو دل سے نکال کر حسن معاشرت کے ساتھ زندگی گذارنا اور حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھنا پیش نظر ہو عورت کو اپنی قید میں رکھ کر ستانا اور تکلیف پہنچانا مقصود نہ ہو اسی کے لئے آیت متذکرہ میں یہ الفاظ ارشاد فرمائے گئے
 وَلَا تُمْسِكُوْھُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا

 یعنی عورتوں کو اپنے نکاح میں اس لئے نہ روکو کہ ان پر ظلم کرو
دوسرا قاعدہ رجعت کا یہ ہے جو سورة طلاق میں ذکر کیا گیا ہے وَّاَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ 
                       (٢: ٦٥) 
اور آپس میں سے دو معتبر شخصوں کو گواہ کرلو پھر اگر گواہی کی حاجت پڑے تو ٹھیک ٹھیک اللّه کے واسطے بلا رو رعایت گواہی دو
 مطلب یہ ہے جب رجعت کا ارادہ کرو تو اس پر دو معتبر مسلمانوں کو گواہ بنالو اس میں کئی فائدے ہیں ایک یہ کہ اگر عورت کی طرف سے رجعت کے خلاف کوئی دعویٰ ہو تو اس گواہی سے کام لیا جاسکے
دوسرے خود انسان کو اپنے نفس پر بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے اگر رجعت پر شہادت کا قاعدہ نہ جاری کیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص عدت پوری گزر جانے کے بعد بھی اپنی غرض یا شیطانی اغواء سے یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ میں نے عدت گذرنے سے پہلے رجعت کرلی تھی ان مفاسد کے انسداد کے لئے قرآن نے یہ قاعدہ مقرر فرمادیا کہ رجعت کرو تو اس پر دو معتبر گواہ بنالو۔ معاملہ کا دوسرا رخ یہ تھا کہ عدت کی مہلت اور غور وفکر کا وقت ملنے کے باوجود دلوں کا انقباض اور ناراضی ختم نہ ہوئی اور قطع تعلق ہی برقرار رکھنا ہے تو اس صورت میں بہت اندیشہ ہوتا ہے کہ دشمنی اور انتقامی جذبے بھڑک اٹھیں جن کا اثر دو شخصوں سے متعدی ہو کردو خاندانوں تک پہنچ سکتا ہے اور طرفین کی دنیا وآخرت کے لئے خطرہ بن سکتا ہے اس کے انسداد کے لئے مختصر طور پر تو یہی ارشاد فرمایا گیا کہ اَوْ سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ یعنی چھوڑنا اور قطع کرنا ہی ہو تو وہ بھی قاعدے کے موافق کریں اس قاعدے کی کچھ تفصیلات خود قرآن کریم میں مذکور ہیں باقی تفصیلات رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے قولی اور عملی بیان سے ثابت ہیں

مثلاً اس سے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ شَـيْـــًٔـا یعنی بلا کسی عذر شرعی کے ایسا نہ کرو کہ عورت سے طلاق کے معاوضہ میں اپنا دیا ہوا سامان یا مہر واپس لے لو یا کچھ اور معاوضہ طلب کرو
 اور اس کے بعد کی ایک آیت میں ارشاد فرمایا

 وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ ۭحَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ
                   (٢٤١: ٢)
 سب طلاق دی ہوئی عورتوں کے لئے کچھ فائدہ پہنچانا قاعدہ کے موافق مقرر ہوا ہے ان پر جو اللہ سے ڈرتے ہیں

  فائدہ پہنچانے کی تفسیر
 رخصت کے وقت مطلقہ عورت کو کچھ تحفہ نقد یا کم از کم ایک ایک جوڑا کپڑے کا دینا ہے اس میں طلاق دینے والے شوہر پر مطلقہ بی بی کے کچھ حقوق واجب و لازم کرکے اور کچھ بطور احسان و سلوک کے عائد کردیئے گئے ہیں جو بلند اخلاق اور حسن معاشرت کی پاکیزہ تعلیم اور جس میں اس طرف ہدایت ہے کہ جس طرح نکاح ایک معاملہ اور باہمی معاہدہ تھا اسی طرح طلاق بھی ایک معاملہ کا ختم کرنا ہے اس فسخ معاملہ کو دشمنی اور جنگ وجدل کا سامان بنانے کی کوئی وجہ نہیں، معاملہ کا انقطاع بھی خوب صورتی اور حسن سلوک کے ساتھ ہونا چاہئے کہ طلاق کے بعد مطلقہ بی بی کو فائدہ پہنچایا جائے

اس فائدہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایام عدت میں اس کو اپنے گھر میں رہنے دے اس کا پورا خرچ برداشت کرے اگر مہر اب تک نہیں دیا ہے اور خلوت ہوچکی تو پورا مہر ادا کرے اور خلوت سے پہلے ہی طلاق کا واقعہ پیش آگیا ہے تو آدھا مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرے، یہ تو سب حقوق واجبہ ہیں جو طلاق دینے والے کو لازمی طور ادا کرنا ہیں اور مستحب اور افضل یہ بھی ہے کہ مطلقہ بی بی کو رخصت کرنے کے وقت کچھ نقد یا کم ازکم ایک جوڑا دے کر رخصت کیا جائے سبحان اللّه کیا پاکیزہ تعلیم ہے کہ جو چیزیں عرفا جنگ وجدال اور لڑائی جھگڑے کے اسباب اور خاندانوں کی تباہی تک پہنچانے والی ہیں ان کو دائمی محبت ومسرت میں تبدیل کردیا گیا
ان سب احکام کے بعد ارشاد فرمایاوَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ یعنی جو شخص ان حدود خداوندی کے خلاف کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا آخرت میں تو ظاہر ہے کہ وہاں ہر ظلم وجور کا انتقام بارگاہ خداوندی میں لیا جائے گا اور جب تک مظلوم کا بدلہ ظالم سے نہ لے لیا جائے گا آگے نہ بڑھے گا
اور دنیا میں بھی اگر بصیرت اور تجربہ کے ساتھ غور کیا جائے تو نظر آئے گا کوئی ظالم بظاہر تو مظلوم پر ظلم کرکے اپنا دل ٹھنڈا کرلیتا ہے، لیکن اس کے نتائج بد اس دنیا میں بھی اس کو اکثر ذلیل و خوار کرتے ہیں، اور وہ سمجھے یا نہ سمجھے اکثر ایسی آفتوں میں مبتلا ہوتا ہے کہ ظلم کا نتیجہ اس کو دنیا میں بھی کچھ نہ کچھ چکھنا پڑتا ہے، اسی کو شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے فرمایا
پنداشت ستمگر کہ جفا برما کرد بر گردن وے بماند وبرما بگذشت 

قرآن کریم کا اسلوب حکیم اور خاص انداز بیان ہے کہ وہ قانون کو دنیا کے قوانین تعزیرات کی طرح بیان نہیں کرتا بلکہ مربیانہ انداز میں قانون کا بیان اس کی حکمت و مصلحت کی وضاحت اس کے خلاف کرنے میں انسان کی مضرت و نقصان کا ایسا سلسلہ بیان کرتا ہے جس کو دیکھ کر کوئی انسان جو انسانیت کے جامے سے باہر نہ ہو ان جرائم پر اقدام کر ہی نہیں سکتا ہر قانون کے پیچھے خدا کا خوف وآخرت کا حساب دلایا جاتا ہے
نکاح و طلاق کو کھیل نہ بناؤ
دوسرامسئلہ
اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللّه تعالیٰ کی آیات کو کھیل نہ بناؤ وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اٰيٰتِ اللّٰهِ ھُزُوًا کھیل بنانے کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ نکاح و طلاق کے لئے اللّه تعالیٰ نے حدود وشروط مقرر کردیئے ہیں ان کی خلاف ورزی کرنا اور دوسری تفسیر حضرت ابوالدرداء سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ طلاق دے کر یا غلام آزاد کرکے مکر جاتے اور کہتے تھے کہ میں نے تو ہنسی مذاق میں کہہ دیا تھا طلاق یا عتاق کی نیت نہیں تھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے یہ فیصلہ کردیا کہ طلاق ونکاح کو اگر کسی نے کھیل یا مذاق میں بھی پورا کردیا تو وہ نافذ ہوجائیں گے نیت نہ کرنے کا عذر مسموع نہ ہوگا
آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں ہنسی کے طور پر کرنا اور واقعی طور پر کرنا دونوں برابر ہیں ایک طلاق دوسرے عتاق، تیسرے نکاح 
(اخرجہ ابن مردویہ عن ابن عباس وابن المنذر عن عبادۃ بن الصامت) 

اور حضرت ابوہریرہ سے اس حدیث میں یہ الفاظ منقول ہیں

ثلاث جدہن جد وھز لھن جد النکاح والطلاق والرجعۃ
 یعنی تین چیزیں ایسی ہیں جن کو قصد و ارادہ سے کہنا اور ہنسی مذاق کے طور پر کہنا برابر ہے ایک نکاح دوسرے طلاق تیسری رجعت 
             (مظہری)

 ان تینوں چیزوں میں حکم شرعی یہ ہے کہ دو مرد و عورت اگر بلاقصد نکاح ہنسی ہنسی میں گواہوں کے سامنے نکاح کا ایجاب و قبول کرلیں تو بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے اسی طرح اگر بلاقصد ہنسی ہنسی میں صریح طور پر طلاق دیدے تو طلاق ہوجاتی ہے یا رجعت کرے تو رجعت ہوجاتی ہے ایسے ہی کسی غلام کو ہنسی میں آزاد کرنے کو کہہ دے تو غلام باندی آزاد ہوجاتے ہیں ہنسی مذاق کوئی عذر نہیں مانا جاتا
اس حکم کے بیان کے بعد پھر قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں انسان کو حق تعالیٰ کی اطاعت اور آخرت کے خوف کا سبق دیا ارشاد فرمایاوَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ یعنی یاد کرو اللّه تعالیٰ کی نعمت کو جو تم پر نازل فرمائی اور یاد کرو اس خاص نعمت کو جو کتاب و حکمت کی صورت میں تمہیں دی گئی اور اللہ سے ڈرو اور یہ سمجھ لو کہ اللّه تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں تمہاری نیتوں اور ارادوں اور دلوں میں چھپے ہوئے بھیدوں سے باخبر ہیں اس لئے اگر بیوی کو طلاق دے کر آزاد ہی کرنا ہو تو باہمی نزاع اور ایک دوسرے کی حق تلفی اور ظلم سے بچنے بچانے کی نیت سے کرو غصہ کے انتقام یا بیوی کو ذلیل و رسوا کرنے یا تکلیف پہنچانے کی نیت سے نہ کرو طلاق میں اصل یہی ہے کہ صریح اور رجعی طلاق دی جائے

تیسرا مسئلہ
جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ شریعت وسنت کی نظر میں اصل یہی ہے کہ کوئی آدمی اگر طلاق دینے پر مجبور ہی ہوجائے تو صاف وصریح لفظوں میں ایک طلاق رجعی دیدے تاکہ عدت تک رجعت کا حق باقی رہے ایسے الفاظ نہ بولے جن سے فوری طور پر تعلق زوجیت منقطع ہوجائے جس کو طلاق بائن کہتے ہیں اور نہ تین طلاق تک پہنچے جس کے بعد آپس میں نکاح جدید بھی حرام ہوجائے
یہ اشارہ لفظ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ کو مطلق بلاقید کے ذکر کرنے سے حاصل ہوا کیونکہ جو حکم اس آیت میں بتلایا ہے وہ اگرچہ صرف طلاق رجعی ایک دو تک کے لئے ہے طلاق بائن یا تین طلاق کا یہ حکم نہیں مگر قرآن کریم نے کوئی قید اس کی ذکر نہ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ اصل طلاق مشروع رجعی طلاق ہی ہے دوسری صورتیں کراہت یا ناپسندیدگی سے خالی نہیں۔





No comments:

Powered by Blogger.