Surah Baqrah Aayat 232-235 Rukoo 30

آیات  235 - 232
رکوع  30 


آیت 232


وَاِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوۡهُنَّ اَنۡ يَّنۡكِحۡنَ اَزۡوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوۡا بَيۡنَهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ؕ ذٰ لِكَ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ ذٰ لِكُمۡ اَزۡکٰى لَـكُمۡ وَاَطۡهَرُؕ‌ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ  


لفظی ترجمہ

 وَاِذَا : اور جب   |  طَلَّقْتُمُ : تم طلاق دو   |  النِّسَآءَ : عورتیں   |  فَبَلَغْنَ : پھر وہ پوری کرلیں   |  اَجَلَهُنَّ : اپنی مدت (عدت)  |  فَلَا : تو نہ   |  تَعْضُلُوْھُنَّ : روکو انہیں   |  اَنْ : کہ   |  يَّنْكِحْنَ : وہ نکاح کریں   |  اَزْوَاجَهُنَّ : خاوند اپنے   |  اِذَا : جب   |  تَرَاضَوْا : وہ باہم رضامند ہو جائیں   |   بَيْنَهُمْ : آپس میں   |  بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق   |  ذٰلِكَ : یہ   |  يُوْعَظُ : نصیحت کی جاتی ہے   |  بِهٖ : اس سے   |  مَنْ : جو   |  كَانَ : ہو   |  مِنْكُمْ : تم میں سے   |  يُؤْمِنُ : ایمان رکھتا   |  بِاللّٰهِ : اللّه پر   |  وَ : اور   |  لْيَوْمِ الْاٰخِرِ : یوم آخرت پر   |  ذٰلِكُمْ : یہی   |  اَزْكٰى: زیادہ ستھرا   |  لَكُمْ : تمہارے لیے   |  وَاَطْهَرُ : اور زیادہ پاکیزہ   |  وَاللّٰهُ : اور اللّه   |  يَعْلَمُ : جانتا ہے   |  وَاَنْتُمْ : اور تم   |  لَا تَعْلَمُوْنَ : نہیں جانتے 


ترجمہ

جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں جب کہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا اگر تم اللّه اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو اللّه جانتا ہے تم نہیں جانتے


تفسیر

مطلقہ عورتوں کو اپنی مرضی کی شادی کرنے سے بلاوجہ شرعی روکنا حرام ہے
دوسری آیت میں اس ناروا ظالمانہ سلوک کا انسداد کیا گیا ہے جو عام طور پر مطلقہ عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کو دوسری شادی کرنے سے روکا جاتا ہے پہلا شوہر بھی عموماً اپنی مطلقہ بیوی کو دوسرے شخص کے نکاح میں جانے سے روکتا اور اس کو اپنی عزت کے خلاف سمجھتا ہے اور بعض خاندانوں میں لڑکی کے اولیاء بھی اس کو دوسری شادی کرنے سے روکتے ہیں اور ان میں بعض اس طمع میں روکتے ہیں کہ اس کی شادی پر ہم کوئی رقم اپنے لئے حاصل کرلیں بعض اوقات مطلقہ عورت پھر اپنے سابق شوہر سے نکاح پر راضی ہوجاتی ہے مگر عورت کے اولیاء و اقرباء کو طلاق دینے کی وجہ سے ایک قسم کی عداوت اس سے ہوجاتی ہے وہ اب دونوں کے راضی ہونے کے بعد بھی ان کے باہمی نکاح سے مانع ہوتے ہیں آزاد عورتوں کو اپنی مرضی کی شادی سے بلاعذر شرعی روکنا خواہ پہلے شوہر کی طرف سے ہو یا لڑکی کے اولیاء کی طرف سے بڑا ظلم ہے اس ظلم کا انسداد اس آیت میں فرمایا گیا ہے

اس آیت کا شان نزول بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت معقل بن یسار نے اپنی بہن کی شادی ایک شخص کے ساتھ کردی تھی اس نے طلاق دے دی اور عدت بھی گذر گئی اس کے بعد یہ شخص اپنے فعل پر پشیمان ہوا اور چاہا کہ دوبارہ نکاح کرلیں اس کی بیوی یعنی معقل بن یسار کی بہن بھی اس پر آمادہ ہوگئی لیکن جب اس شخص نے معقل سے اس کا ذکر کیا تو ان کو طلاق دینے پر غصہ تھا انہوں نے کہا کہ میں نے تمہارا اعزاز کیا اپنی بہن تمہارے نکاح میں دے دی تم نے اس کی یہ قدر کی کہ اس کو طلاق دے دی اب پھر تم میرے پاس آئے ہو کہ دوبارہ نکاح کروں خدا کی قسم اب وہ تمہارے نکاح میں نہ لوٹے گی

اسی طرح ایک واقعہ جابر بن عبداللّه کی چچازاد بہن کا پیش آیا تھا ان واقعات پر آیت مذکورہ نازل ہوئی جس میں معقل بن یسار اور جابر کے اس رویہ کو ناپسند و ناجائز قرار دیا گیا
صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین اللّه تعالیٰ اور اس کے رسول کے سچے عاشق تھے آیت کریمہ کے سنتے ہی معقل بن یسار کا سارا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور خود جاکر اس شخص سے بہن کا دوبارہ نکاح کردیا اور قسم کا کفارہ ادا کیا اسی طرح جابر بن عبداللّه نے بھی تعمیل فرمائی
اس آیت کے خطاب میں وہ شوہر بھی داخل ہیں جنہوں نے طلاق دی ہے اور لڑکی کے اولیاء بھی دونوں کو یہ حکم دیا گیا کہ
 فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بالْمَعْرُوْفِ 
یعنی مت روکو مطلقہ عورتوں کو اس بات سے کہ وہ اپنے تجویز کئے ہوئے شوہروں سے نکاح کریں خواہ پہلے ہی شوہر ہوں جنہوں نے طلاق دی تھی یا دوسرے لوگ مگر اس کے ساتھ یہ شرط لگا دی گئی اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بالْمَعْرُوْفِ یعنی جب دونوں مرد و عورت شرعی قاعدہ کے مطابق رضامند ہوجائیں تو نکاح سے نہ روکو جس میں اشارہ فرمایا گیا کہ اگر ان دونوں کی رضامندی نہ ہو کوئی کسی پر زور زبردستی کرنا چاہے تو سب کو روکنے کا حق ہے یا رضامندی بھی ہو مگر شرعی قاعدہ کے موافق نہ مثلا بلا نکاح آپس میں میاں بیوی کی طرح رہنے پر رضامند ہوجائیں یا تین طلاقوں کے بعد ناجائز طور پر آپس میں نکاح کرلیں یا ایام عدت میں دوسرے شوہر سے نکاح کا ارادہ ہو تو ہر مسلمان کو بالخصوص ان لوگوں کو جن کا ان مرد و عورت کے ساتھ تعلق ہے روکنے کا حق حاصل ہے بلکہ بقدر اسطاعت روکنا واجب ہے
اسی طرح کوئی لڑکی بلا اجازت اپنے اولیاء کے اپنے کفو کے خلاف دوسرے کفو میں نکاح کرنا چاہے یا اپنے مہر مثل سے کم پر نکاح کرنا چاہے جس کا اثر خاندان پر پڑتا ہے جس کا اس کو حق نہیں تو یہ رضا مندی بھی قاعدہ شرعی کے مطابق نہیں اس صورت میں لڑکی کے اولیاء کو اس نکاح سے روکنے کا حق حاصل ہے اِذَا تَرَاضَوْا کے الفاظ سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ عاقلہ بالغہ لڑکی بغیر اس کی رضا اجازت کے نہیں ہوسکتا
آیت کے آخر میں تین جملے ارشاد فرمائے گئے ایک یہ کہ ذٰلِكَ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤ ْمِنُ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ یعنی یہ احکام ان لوگوں کے لئے ہیں جو اللّه پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اس میں اشارہ فرما دیا گیا کہ اللّه پر اور روز قیامت پر ایمان رکھنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آدمی ان احکام الہیہ کا پورا پابند ہو اور جو لوگ ان احکام کے اتباع میں کوتاہی کرتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ ان کے ایمان میں خلل ہے

دوسرا جملہ یہ ارشاد فرمایا کہ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَاَطْهَرُ یعنی ان احکام کی پابندی تمہارے لئے پاکی اور صفائی کا ذریعہ ہے اس میں اشارہ فرمایا گیا کہ ان کی خلاف ورزی کا نتیجہ گناہوں کی غلاظت میں آلودگی اور فتنہ و فساد ہے کیونکہ عاقلہ بالغہ جوان لڑکیوں کو مطلقاً نکاح سے روکا گیا تو ایک طرف ان پر ظلم اور ان کی حق تلفی ہے اور دوسری طرف ان کی عفت وعصمت کو خطرہ میں ڈالنا ہے تیسرے اگر خدانخواستہ وہ کسی گناہ میں مبتلا ہوں تو اس کا وبال ان لوگوں پر بھی عائد ہوگا جنہوں نے ان کو نکاح سے روکا اور وبال آخرت سے پہلے بہت ممکن ہے کہ ان مجبور عورتوں کا یہ ابتلاء خود مردوں میں جنگ وجدال اور قتل و قتال تک نوبت پہنچا دے جیسا کہ رات دن میں مشاہدہ میں آتا ہے اس صورت میں وبال آخرت سے پہلے ان کا عمل دنیا ہی میں وبال بن جائے گا اور اگر مطلقا نکاح سے تو نہ روکا مگر ان کی پسند کے خلاف دوسرے شخص سے نکاح پر مجبور کیا گیا تو اس کا نتیجہ بھی دائمی مخالف اور فتنہ و فساد یا طلاق وخلع ہوگا جس کے ناگوار اثرات ظاہر ہیں اس لئے فرمایا گیا کہ ان کو ان کے تجویز کئے ہوئے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکنا ہی تمہارے لئے پاکی اور صفائی کا ذریعہ ہے

تیسرا جملہ یہ ارشاد فرمایا کہ واللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی تمہاری مصلحتوں کو اللّه تعالیٰ جانتے ہیں تم نہیں جانتے۔ اس ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ جو لوگ مطلقہ عورتوں کو نکاح سے روکتے ہیں وہ اپنے نزدیک اس میں کچھ مصالح اور فوائد سوچتے ہیں مثلاً اپنی عزت و غیرت کا تخیل یا یہ کہ ان کی شادی کے بدلے کچھ مالی منفعت حاصل کی جائے اس شیطانی تلبیس اور بےجا مصلحت اندیشی کے ازالہ کے لئے فرمایا گیا کہ اللّه تعالیٰ تمہاری مصلحتوں اور فائدوں سے خوب واقف ہیں ان کی رعایت کرکے احکام دیتے ہیں اور تم چونکہ حقائق امور اور معاملات کے انجام سے بیخبر ہو اس لئے اپنے ناتمام غور وفکر اور ناقص رائے سے کبھی ایسی چیزوں کو مصلحت اور فائدہ سمجھ لیتے ہو جس میں تمہاری ہلاکت و بربادی ہے تم جس عزت و غیرت کو تھامتے پھرتے ہو اگر مطلقہ عورتیں بےقابو ہوگئیں تو سب عزت خاک میں مل جائے گی اور مال منافع کے ناجائز تصورات ممکن ہے کہ تمہیں ایسے فتنوں اور جھگڑوں میں مبتلا کردیں جن مال کے ساتھ جان کا بھی خطرہ ہوجائے
قانون سازی اور اس کی تنفیذ میں قرآن کریم کا بیظیر حکیمانہ اصول قرآن کریم نے اس جگہ ایک قانون پیش فرمایا کہ مطلقہ عورتوں کو اپنی مرضی کے مطابق نکاح سے روکنا جرم ہے اس قانون کو بیان فرمانے کے بعد اس پر عمل کرنے کو سہل اور اس کے لئے عوام کے ذہنوں کو ہموار کرنے کے واسطے تین جملے ارشاد فرمائے جن میں سے پہلے جملے میں روز قیامت کے حساب اور جرائم کی سزا سے ڈرا کر انسان کو اس قانون پر عمل کرنے کے لئے آمادہ فرمایا دوسرے جملے میں اس قانون کی پابندی کی خلاف ورزی میں جو مفاسد اور انسانیت کے لئے مضرتیں ہیں ان کو بتلا کر قانون کی پابندی کے لئے تیار کیا۔ تیسرے جملے میں یہ ارشاد فرمایا کہ تمہاری اپنی مصلحت بھی اسی میں ہے کہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے قانون کی پابندی کرو اس کے خلاف کرنے میں اگر تم کوئی مصلحت سوچتے ہو تو وہ تمہاری کوتاہ نظری اور عواقب سے بیخبر ی کا نتیجہ ہے

قرآن کریم کا یہ اسلوب اور طرز بیان صرف یہیں نہیں بلکہ تمام احکام میں جاری ہے کہ ایک قانون بتایا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اللّه تعالیٰ اور آخرت کے حساب و عذاب سے ڈرایا جاتا ہے، ہر قانون کے آگے پیچھے اِتَّقُوا اللّٰهَ یا اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ، اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ وغیرہ جملے لگائے ہوئے ہیں قرآن ساری دنیا اور قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے ایک مکمل نظام حیات اور ہر شعبہ زندگی پر حاوی قانون ہے اس میں حدود وتعزیرات کا بھی بیان ہے لیکن اس کی ادا ساری دنیا کے قانون کی کتابوں سے نرالی ہے، اس کا طرز بیان حاکمانہ سے زیادہ مربیانہ ہے اس میں ہر قانون کے بیان کے ساتھ اس کی کوشش کی گئی کہ کوئی انسان اس قانون کی خلاف ورزی کرکے مستحق سزا نہ بنے دنیا کی حکمتوں کی طرح نہیں کہ انہوں نے ایک قانون بنادیا اور شائع کردیا جو کوئی اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اپنی سزا بھگتا ہے
اس کے علاوہ اس اسلوب قرآن اور اس کے مخصوص انداز بیان سے ایک دور رس بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کو دیکھنے سننے کے بعد انسان اس قانون کی پابندی صرف اس بناء پر نہیں کرتا کہ اگر خلاف کرے گا تو دنیا میں اس قانون کی پابندی صرف اس بناء پر نہیں کرتا کہ اگر خلاف کرے گا تو دنیا میں اس کو کوئی سزا مل جائے گی بلکہ دنیا کی سزا سے زیادہ اللّه تعالیٰ کی ناراضگی اور آخرت کی سزا کی فکر ہوتی ہے اور اسی فکر کی بناء پر اس کا ظاہر و باطن خفیہ وعلانیہ برابر ہوجاتا ہے وہ کسی ایسی جگہ میں بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا جہاں کسی ظاہری یا خفیہ پولیس کی بھی رسائی نہ ہو کیونکہ اس کا عقیدہ ہے کہ اللّه تعالیٰ جل شانہ ہر جگہ حاضر وناظر اور ذرہ ذرہ سے باخبر ہیں یہی سبب ہے کہ قرآنی تعلیم نے جو اصول معاشرت تیار کئے تھے ہر مسلمان اس کی پابندی کو اپنا مقصد حیات تصور کرتا تھا
قرآنی نظام حکومت کا یہی امتیاز ہے کہ اس میں ایک طرف قانون کی حدود وقیود کا ذکر ہے تو دوسری طرف ترغیب وترہیب کے ذریعہ انسان کی اخلاق و کردار کو ایسا بلند کیا گیا ہے کہ قانون حدود وقیود اس کے لئے ایک طبعی چیز بن جاتی ہیں جس کے سامنے وہ اپنے جذبات اور تمام نفسانی خواہشات کو پس پشت ڈال دیتا ہے دنیا کی حکمتوں اور قوموں کی تاریخ اور ان میں جرم وسزا کے واقعات پر ذرا گہری نظر ڈالئے تو معلوم ہوگا کہ نرے قانون سے بھی کسی قوم یا فرد کی اصلاح نہیں ہوئی محض پولیس اور فوج سے کبھی جرائم کا انسداد نہیں ہوا جب تک قانون کے ساتھ اللّه تعالیٰ کے خوف و عظمت کا سکہ اس کے قلب پر نہ بیٹھے جرائم سے روکنے والی چیز دراصل خوف خدا اور خوف حساب آخرت ہے یہ نہ ہو تو کوئی شخص کسی سے جرائم کو نہیں چھڑا سکتا۔



آیت    233


وَالۡوَالِدٰتُ يُرۡضِعۡنَ اَوۡلَادَهُنَّ حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِ‌ لِمَنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ ‌ ؕ وَعَلَى الۡمَوۡلُوۡدِ لَهٗ رِزۡقُهُنَّ وَكِسۡوَتُهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفۡسٌ اِلَّا وُسۡعَهَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌ ۢ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوۡلُوۡدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ وَعَلَى الۡوَارِثِ مِثۡلُ ذٰ لِكَ ۚ فَاِنۡ اَرَادَا فِصَالًا عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا ‌ؕ وَاِنۡ اَرَدْتُّمۡ اَنۡ تَسۡتَرۡضِعُوۡٓا اَوۡلَادَكُمۡ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا سَلَّمۡتُمۡ مَّآ اٰتَيۡتُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ 


لفظی ترجمہ

 وَالْوَالِدٰتُ : اور مائیں   |  يُرْضِعْنَ : دودھ پلائیں   |  اَوْلَادَھُنَّ : اپنی اولاد   |  حَوْلَيْنِ : دو سال   |  كَامِلَيْنِ : پورے   |  لِمَنْ : جو کوئی   |  اَرَادَ : چاہے   |  اَنْ يُّتِمَّ : کہ وہ پوری کرے   |  الرَّضَاعَةَ : دودھ پلانے کی مدت   |  وَعَلَي : اور پر   |  الْمَوْلُوْدِ لَهٗ : جس کا بچہ (باپ)  |  رِزْقُهُنَّ : ان کا کھانا   |  وَكِسْوَتُهُنَّ : اور ان کا لباس   |  بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق   |  لَا تُكَلَّفُ : نہیں تکلیف دی جاتی   |  نَفْسٌ: کوئی شخص   |  اِلَّا : مگر   |  وُسْعَهَا : اس کی وسعت   |  لَا تُضَآرَّ : نہ نقصان پہنچایا جائے   |  وَالِدَةٌ: ماں   |  بِوَلَدِھَا : اس کے بچہ کے سبب   |  وَلَا : اور نہ   |  مَوْلُوْدٌ لَّهٗ : جس کا بچہ (باپ)  |  بِوَلَدِهٖ : اس کے بچہ کے سبب   |  وَعَلَي : اور پر   |  الْوَارِثِ : وارث   |  مِثْلُ : ایسا   |  ذٰلِكَ : یہ۔ اس   |  فَاِنْ : پھر اگر   |  اَرَادَا : دونوں چاہیں   |  فِصَالًا : دودھ چھڑانا   |  عَنْ تَرَاضٍ : آپس کی رضامندی سے   |  مِّنْهُمَا : دونوں سے   |  وَتَشَاوُرٍ : اور باہم مشورہ   |  فَلَا : تو نہیں   |  جُنَاحَ : گناہ   |  عَلَيْهِمَا : ان دونوں پر   |  وَاِنْ : اور اگر   |  اَرَدْتُّمْ : تم چاہو   |  اَنْ : کہ   |  تَسْتَرْضِعُوْٓا : تم دودھ پلاؤ   |  اَوْلَادَكُمْ : اپنی اولاد   |  فَلَا جُنَاحَ : تو گناہ نہیں   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  اِذَا : جب   |  سَلَّمْتُمْ : تم حوالہ کرو   |  مَّآ : جو   |  اٰتَيْتُمْ : تم نے دیا تھا   |  بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق   |  وَاتَّقُوا : اور ڈرو   |  اللّٰهَ : اللّه   |  وَاعْلَمُوْٓا : اور جان لو   |  اَنَّ : کہ   |  اللّٰهَ : اللّه   |  بِمَا : سے۔ جو   |  تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو   |  بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے


ترجمہ

جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولا د پوری مدت رضاعت تک دودھ پیے تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں اِس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہوگا مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالنا چاہیے نہ تو ماں کو اِس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا بچے کے باپ پر ہے ویسا ہی اس کے وارث پر بھی ہے لیکن اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشر طیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو وہ معروف طریقے پر ادا کر دو اللّه سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو سب اللّه کی نظر میں ہے


تفسیر

حکم نمبر ٣٠
 رضاعت اور مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلایا کریں یہ مدت اس کے لئے ہے جو شیر خوارگی کی تکمیل کرنا چاہئے اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے ان ماؤں کا کھانا کپڑا قاعدہ کے موافق اور کسی شخص کو کوئی حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کی برداشت کے موافق کسی ماں کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہئے اس کے بچے کی وجہ سے اور نہ کسی کے باپ کو تکلیف دینی چاہئے اس کے بچہ کی وجہ سے اور اگر باپ زندہ نہ ہو تو مثل طریق مذکور کے بچے کی پرورش کا انتظام اس کے محرم قرابت دار کے ذمہ ہے جو شرعا بچے کا وارث ہونے کا حق رکھتا ہے پھر یہ سمجھ لو کہ اگر دونوں ماں اور باپ دو سال سے کم میں دودھ چھڑانا چاہیں باہمی رضامندی اور مشورے سے تو بھی ان دونوں پر کسی قسم کا گناہ نہیں اور اگر تو لوگ ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی کسی مصلحت ضروریہ سے مثلا یہ کہ ماں کا دودھ اچھا نہیں بچے کو ضرر ہوگا اپنے بچوں کو کسی اور انّا کا دودھ پلوانا چاہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ ان کے حوالے کردو جو کچھ ان کو دینا طے کیا ہے قاعدہ کے موافق، اور حق تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللّه تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب دیکھ رہے ہیں

معارف و مسائل

اس آیت میں رضاعت یعنی بچوں کو دودھ پلانے کے متعلق احکام ہیں اس سے پہلی اور بعد کی آیات میں طلاق کے احکام مذکور ہیں درمیان میں دودھ پلانے کے احکام اس مناسبت سے ذکر کئے گئے ہیں کہ عموماً طلاق کے بعد بچوں کی پرورش اور دودھ پلانے یا پلوانے کے معاملات زیر نزاع آجاتے ہیں اور ان میں جھگڑے فساد ہوتے ہیں اس لئے اس آیت میں ایسے معتدل احکام بیان فرمادئیے گئے جو عورت ومرد دونوں کے لئے سہل اور مناسب ہیں خواہ دودھ پلانے یا چھڑانے کے معاملات قیام نکاح کی حالت میں پیش آئیں یا طلاق دینے کے بعد بہر دو صورت اس کا ایک ایسا نظام بتادیا گیا جس سے جھگڑے فساد یا کسی فریق پر ظلم وتعدی کا راستہ نہ رہے
مثلاً آیۃ کے پہلے جملے میں ارشاد فرمایا
وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ 
یعنی مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلایا کریں دو سال کامل جبکہ کوئی عذر قوی اس سے پہلے دودھ چھڑانے کے لئے مجبور نہ کرے اس آیت سے رضاعت کے چند مسائل معلوم ہوئے
دودھ پلانا ماں کے ذمہ واجب ہے
اول یہ کہ دودھ پلانا دیانۃ ماں کے ذمہ واجب ہے بلاعذر کسی ضد یا ناراضگی کے سبب دودھ نہ پلائے تو گنہگار ہوگی اور دودھ پلانے پر وہ شوہر سے کوئی اجرت و معاوضہ نہیں لے سکتی جب تک وہ اس کے اپنے نکاح میں ہے کیونکہ وہ اس کا اپنا فرض ہے
پوری مدت رضاعت
دوسرامسئلہ
یہ معلوم ہوا کہ پوری مدت رضاعت دو سال ہے جب تک کوئی خاص عذر مانع نہ ہو بچے کا حق ہے کہ یہ مدت پوری کی جائے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دودھ پلانے کے لئے پوری مدت دو سال دی گئی ہے اس کے بعد دودھ نہ پلایا جائے البتہ بعض آیات قرآن اور احادیث کی بناء پر امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اگر تیس مہینے یعنی ڈھائی سال کے عرصہ میں بھی دودھ پلا دیا تو احکام رضاعت کے ثابت ہوجائیں گے اور اگر بچے کی کمزوری وغیرہ کے عذر سے ایسا کیا گیا تو گناہ بھی نہ ہوگا
ڈھائی سال پورے ہونے کے بعد بچہ کو مال کا دودھ پلانا باتفاق حرام ہے
اس آیت کے دوسرے جملے میں ارشاد ہے وَعَلَي الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ۭ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا یعنی باپ کے ذمہ ہے ماؤں کا کھانا اور کپڑا قاعدہ کے موافق کسی شخص کو ایسا حکم نہیں دیا جاتا جس کو یہ برداشت نہ کرسکے
اس میں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ ماؤں کے لئے قرآن نے لفظ والْوَالِدٰتُ استعمال کیا مگر باپ کے لئے مختصر لفظ والِدُ چھوڑ کر اختیار فرمایا حالانکہ قرآن میں دوسری جگہ لفظ والد بھی مذکور ہے
 لَا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ 
                    (٣٣: ٣١)
 مگر یہاں والد کی جگہ مَوْلُوْدِ لَهٗ کے اختیار کرنے میں ایک خاص راز ہے وہ یہ کہ پورے قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب اور طرز بیان ہے کہ وہ کسی قانون کو دنیا کی حکومتوں کی طرح بیان نہیں کرتا بلکہ مربیانہ اور مشفقانہ طرز سے بیان کرتا ہے اور ایسے انداز سے بیان کرتا ہے جس کو قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا انسان کے لئے آسان ہوجائے
یہاں بھی چونکہ بچہ کا نفقہ باپ کے ذمہ ڈالا گیا ہے حالانکہ وہ ماں اور باپ کی متاع مشترک ہے تو ممکن تھا کہ باپ کو یہ حکم کچھ بھاری معلوم ہو اس لئے بجائے وَالِدُ کے مَوْلُوْدِ لَهٗ کا لفظ اختیار کیا وہ شخص جس کا بچہ ہے اس میں اس طرف اشارہ کردیا کہ اگرچہ بچے کی تولید میں ماں اور باپ دونوں کی شرکت ضرور ہے مگر بچہ باپ ہی کا کہلاتا ہے نسب باپ ہی سے چلتا ہے اور جب بچہ اس کا ہوا تو ذمہ داری خرچ کی اس کو بھاری نہ معلوم ہونی چاہئے
بچے کو دودھ پلانا ماں کے ذمہ اور ماں کا نان ونفقہ و ضروریات باپ کے ذمہ ہیں
تیسرا مسئلہ
شرعیہ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ اگرچہ دودھ پلانا ماں کے ذمہ ہے لیکن ماں کا نان ونفقہ اور ضروریات زندگی باپ کے ذمہ ہیں اور یہ ذمہ داری جس وقت تک بچے کی ماں اس کے نکاح میں یا عدت میں ہے اس وقت تک ہے اور طلاق اور عدت پوری ہونے کے بعد نفقہ زوجیت تو ختم ہوجائے گا مگر بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ دینا باپ کے ذمہ پھر بھی لازم رہے گا      
            (مظہری)
 زوجہ کا نفقہ شوہر کی حیثیت کے مناسب ہونا چاہئے 
چوتھا مسئلہ
اس پر تو اتفاق ہے کہ میاں بیوی دونوں امیر مالدار ہوں تو نفقہ امیرانہ واجب ہوگا اور دونوں غریب ہوں تو نفقہ غریبانہ واجب ہوگا البتہ جب دونوں کے حالات مالی مختلف ہوں تو اس میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ صاحب ہدایہ نے خصاف کے اس قول پر فتویٰ دیا ہے کہ اگر عورت غریب اور مرد مال دار ہو تو اس کا نفقہ درمیانہ حیثیت کا دیا جائے گا کہ غریبوں سے زائد مال داروں سے کم اور کرخی کے نزدیک اعتبار شوہر کے حال کا ہوگا فتح القدیر میں بہت سے فقہاء کا فتویٰ اس پر نقل کیا ہے واللّه اعلم
 (فتح القدیر ص ٤٢٢ ج ٣) 

آیت مذکورہ میں احکام کے بعد ارشاد فرمایالَا تُضَاۗرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ یعنی نہ تو کسی ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے تکلیف میں ڈالنا جائز ہے اور نہ کسی باپ کو اس کے بچے کی وجہ سے مطلب یہ ہے کہ بچے کے ماں باپ آپس میں ضدا ضدی نہ کریں مثلاً ماں دودھ پلانے سے معذور ہو اور باپ اس پر یہ سمجھ کر زبردستی کرے کہ آخر اس کا بھی تو بچہ ہے یہ مجبور ہوگی اور پلادے گی یا باپ مفلس ہے اور ماں کو کوئی معذوری بھی نہیں پھر دودھ پلانے سے اس لئے انکار کرے کہ اس کا بھی تو بچہ ہے جھک مار کر کسی سے پلوالے گا
ماں کو دودھ پلانے پر مجبور کرنے یا نہ کرنے کی تفصیل
لَا تُضَاۗرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِھَا سے پانچواں مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ ماں اگر بچہ کو دودھ پلانے سے کسی ضرورت کے سبب انکار کرے تو باپ کو اسے مجبور کرنا جائز نہیں اور اگر بچہ کسی دوسری عورت یا جانور کا دودھ نہیں لیتا تو ماں کو مجبور کیا جائے گا یہ مسئلہ وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ سے معلوم ہوا
عورت جب تک نکاح میں ہے تو اپنے بچے کو دودھ پلانے کی اجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتی طلاق وعدت کے بعد کرسکتی ہے

چھٹامسئلہ
یہ معلوم ہوا کہ اگر بچے کی ماں دودھ پلانے کی اجرت مانگتی ہے تو جب تک اس کے نکاح یا عدت کے اندر ہے اجرت کے مطالبہ کا حق نہیں یہاں اس کا نان نفقہ جو باپ کے ذمہ ہے وہی کافی ہے مزید اجرت کا مطالبہ باپ کو ضرر پہنچانا ہے اور اگر طلاق کی عدت گذر چکی اور نفقہ کی ذمہ داری ختم ہوچکی ہے اب اگر یہ مطلقہ بیوی اپنے بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ باپ سے طلب کرتی ہے تو باپ کو دینا پڑے گا کیونکہ اس کے خلاف کرنے میں ماں کا نقصان ہے شرط یہ ہے کہ یہ معاوضہ اتنا ہی طلب کرے کہ جتنا کوئی دوسری عورت لیتی ہے زائد کا مطالبہ کرے گی تو باپ کو حق ہوگا کہ اس کی بجائے کسی انا کا دودھ پلوائے
یتیم بچے کے دودھ پلوانے کی ذمہ داری کس پر ہے ؟
آیت متذکرہ میں اس کے بعد یہ ارشاد ہےوَعَلَي الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ یعنی اگر باپ زندہ نہ ہو تو بچے کو دودھ پلانے یا پلوانے کا انتظام اس شخص پر ہے جو بچے کا جائز وارث اور محرم ہو یعنی اگر بچہ مرجائے تو جن کو اس کی وراثت پہچنتی ہے وہی باپ نہ ہونے کی حالت میں اس کے نفقہ کے ذمہ دار ہوں گے اگر ایسے وارث کئی ہوں تو ہر ایک پر بقدر میراث اس کی ذمہ داری عائد ہوگی۔ امام اعظم ابوحنیفہ نے فرمایا کہ یتیم بچے کو دودھ پلوانے کی ذمہ داری وارث پر ڈالنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نابالغ بچے کا خرچہ دودھ چھڑانے کے بعد بھی وارثوں پر ہوگا کیونکہ دودھ کی کوئی خصوصیت نہیں مقصود بچے کا گذارہ ہے مثلاً اگر یتیم بچے کی ماں اور دادا زندہ ہیں تو یہ دونوں اس بچے کے محرم بھی ہیں اور وارث بھی اس لئے اس کا نفقہ ان دونوں پر بقدر حصہ میراث عائد ہوگا یعنی ایک تہائی خرچہ ماں کے ذمہ اور دو تہائی دادا کے ذمہ ہوگا اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یتیم پوتہ کا حق دادا پر اپنے بالغ بیٹوں سے بھی زیادہ ہے کیونکہ بالغ اولاد کا نفقہ اس کے ذمہ نہیں اور یتیم پوتے کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے ہاں میراث میں بیٹوں کے موجود ہوتے ہوئے پوتے کو حقدار بنانا اصول میراث اور انصاف کے خلاف ہے کہ قریب تر اولاد کے ہوتے ہوئے بعید کو دینا معقول بھی نہیں اور صحیح بخاری کی حدیث لاولیٰ رجل ذکر کے بھی خلاف ہے البتہ دادا کو یہ حق ہے کہ اگر ضرورت سمجھے تو یتیم پوتہ کے لئے کچھ وصیت کرجائے اور یہ وصیت بیٹوں کے حصہ سے زائد بھی ہوسکتی ہے اسی طرح یتیم پوتہ کی ضرورت کو بھی پورا کردیا گیا اور وراثت کا اصول کہ قریب کے ہوتے ہوئے بعید کو نہ دیا جائے یہ بھی محفوظ رہا
دودھ چھڑانے کے احکام

اس کے بعد آیت متذکرہ میں ارشاد ہوتا ہے فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا یعنی اگر بچے کے ماں باپ دونوں آپس کی رضا مندی اور باہمی مشورے سے یہ ارادہ کریں کہ شیر خوارگی کی مدت یعنی دو سال سے کم میں ہی دودھ چھڑا دیں خواہ ماں کی معذوری کے سبب یا بچے کی کسی بیماری کے سبب تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں آپس کے مشورے اور رضامندی کی شرط اس لئے لگائی کہ دودھ چھڑانے میں بچے کی مصلحت پیش نظر ہونی چاہئے آپس کے لڑائی جھگڑے کا بچے کو تختہ مشق نہ بنائیں
ماں کے سوا دوسری عورت کا دودھ پلوانے کے احکام
آخر میں ارشاد فرمایا گیاوَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَيْتُمْ بالْمَعْرُوْفِ یعنی اگر تو یہ چاہو کہ اپنے بچوں کی کسی مصلحت سے ماں کی بجائے کسی انا کا دودھ پلواؤ تو اس میں بھی کچھ گناہ نہیں شرط یہ ہے کہ دودھ پلانے والی کی جو اجرت مقرر کی گئی تھی وہ پوری پوری ادا کردیں اور اگر اس کو مقررہ اجرت نہ دی گئی تو اس کا گناہ ان کے ذمہ رہے گا
اس سے معلوم ہوا کہ اگر ماں دودھ پلانے پر راضی ہے لیکن باپ یہ دیکھتا ہے کہ ماں کا دودھ بچے کے لئے مضر ہے تو ایسی حالت میں اس کو حق ہے کہ ماں کو دودھ پلانے سے روک دے اور کسی انا سے پلوائے
اس سے ایک باپ یہ بھی معلوم ہوئی کہ جس عورت کو دودھ پلانے پر رکھا جائے اس سے معاملہ تنخواہ یا اجرت کا پوری صفائی کے ساتھ طے کرلیا جائے کہ بعد میں جھگڑا نہ پڑے اور پھر وقت مقررہ پر یہ طے شدہ اجرت اس کو سپرد بھی کردے اس میں ٹال مٹول نہ کرے
یہ سب احکام رضاعت بیان کرنے کے بعد پھر قرآن نے اپنے مخصوص انداز اور اسلوب کے ساتھ قانون پر عمل کو آسان کرنے اور ظاہر و غائب ہر حال میں اس کا پابند رکھنے کے لئے اللّه تعالیٰ کے خوف اور اس کے علم محیط کا تصور سامنے کردیا ارشاد ہوتا ہے
 وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ
 یعنی اللّه تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یہ سمجھ لو کہ اللّه تعالیٰ تمہارے کھلے اور چھپے اور ظاہر و غائب کو پوری طرح دیکھ رہے ہیں اور وہ تمہارے دلوں کے مخفی ارادوں اور نیتوں سے باخبر ہیں اگر کسی فریق نے دودھ پلانے یا چھڑانے کے مذکورہ احکام کی خلاف ورزی کی یا بچے کی مصلحت کو نظر انداز کرکے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا تو وہ مستحق سزا ہوگا



آیت  234


وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡكُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا يَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّعَشۡرًا ‌‌ۚ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا فَعَلۡنَ فِىۡٓ اَنۡفُسِهِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ 


لفظی ترجمہ

 وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ   |  يُتَوَفَّوْنَ : وفات پاجائیں   |  مِنْكُمْ : تم سے   |  وَيَذَرُوْنَ : اور چھوڑ جائیں   |  اَزْوَاجًا : بیویاں   |  يَّتَرَبَّصْنَ : وہ انتظار میں رکھیں   |  بِاَنْفُسِهِنَّ : اپنے آپ کو   |  اَرْبَعَةَ : چار   |  اَشْهُرٍ : مہینے   |  وَّعَشْرًا : اور دس دن   |  فَاِذَا : پھر جب   |  بَلَغْنَ : وہ پہنچ جائیں   |  اَجَلَهُنَّ : اپنی مدت (عدت)  |  فَلَا جُنَاحَ : تو نہیں گناہ   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  فِيْمَا : میں۔ جو   |  فَعَلْنَ : وہ کریں   |  فِيْٓ: میں   |  اَنْفُسِهِنَّ : اپنی جانیں (اپنے حق)  |  بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق   |  وَاللّٰهُ : اور اللّه   |  بِمَا تَعْمَلُوْنَ : جو تم کرتے ہو اس سے   |  خَبِيْرٌ: باخبر 


ترجمہ

تم میں سے جو لوگ مر جائیں اُن کے پیچھے اگر اُن کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں پھر جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو انہیں اختیار ہے اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں کریں تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں اللّه تم سب کے اعمال سے باخبر ہے


تفسیر

حکم نمبر ٣١ 
شوہر کی وفات ہونے کی صورت میں عدت کا بیان
وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ (الیٰ قولہ) وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ 

اور جو لوگ تم میں وفات پاجاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو نکاح وغیرہ سے روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن پھر جب اپنی عدت کی میعاد ختم کرلیں تو تم کو بھی کچھ گناہ نہ ہوگا ایسی بات کے جائز رکھنے میں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے لئے کچھ کارروائی نکاح کی کریں قاعدہ کے موافق البتہ اگر کوئی خلاف قاعدہ شرع کریں اور تم باوجود روک سکنے کے نہ روکو تو تم بھی شریک گناہ ہوگے اور اللّه تعالیٰ تمہارے تمام افعال کی خبر رکھتے ہیں

حکم نمبر ٣٢ 
عدت میں نکاح کا پیغام دینا
اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جو ان مذکورہ عورتوں کو جو عدت وفات میں ہیں پیغام نکاح دینے کے بارے میں کوئی بات اشارۃ کہہ دو مثلاً یہ کہ مجھ کو ایک نیک عورت سے نکاح کی ضرورت ہے یا اپنے دل میں آئندہ نکاح کرنے کے ارادہ کو پوشیدہ رکھو جب بھی گناہ نہیں اور وجہ اس اجازت کی یہ ہے کہ
 اللّه تعالیٰ کو یہ بات معلوم ہے کہ تم ان عورتوں کا ضرور ذکر مذکور کرو گے سو خیر ذکر مذکور کرو لیکن ان سے صاف لفظوں میں نکاح کا وعدہ اور گفتگو مت کرو مگر یہ کہ کوئی بات قاعدہ کے موافق کہو تو مضائقہ نہیں اور وہ بات قاعدہ کے مطابق یہی ہے کہ اشارۃ کہو اور تم تعلق نکاح فی الحال کا ارادہ بھی مت کرو یہاں تک کہ عدت اپنے مقررہ وقت پر ختم ہوجائے اور یقین رکھو اس کا کہ اللّه کو اطلاع ہے تمہارے دلوں کی بات کی سو اللّه سے ڈرتے رہا کرو اور ناجائز امر کا دل میں ارادہ بھی مت کیا کرو اور یہ بھی یقین رکھو کہ اللّه تعالیٰ معاف بھی کرنے والے ہیں اور حلیم بھی ہیں

معارف و مسائل
عدت کے بعض احکام
(١) 
جس کا خاوند مرجائے اس کو عدت کے اندر خوشبو لگانا، سنگھار کرنا، سرمہ اور تیل بلاضرورت دوا لگانا مہندی لگانا، رنگین کپڑے پہننا درست نہیں، اور صریح گفتگوئے نکاح ثانی بھی درست نہیں جیسا اگلی آیت میں آتا ہے اور رات کو دوسرے گھر میں رہنا بھی درست نہیں ترجمہ میں نکاح کے ساتھ جو وغیرہ کہا گیا ہے اس سے یہی امور مراد ہیں اور یہی حکم ہے اس عورت کا جس پر طلاق بائن واقع ہوئی یعنی جس میں رجعت درست نہیں مگر اس کو اپنے گھر سے دن کو بھی بدون سخت مجبوری کے نکلنا درست نہیں
(٢) اگر چاند رات کو خاوند کی وفات ہوئی تب تو یہ مہینے خواہ تیس کے ہوں خواہ انتیس کے ہوں چاند کے حساب سے پورے کئے جائیں گے اور اگر چاند رات کے بعد وفات ہوئی ہے تو یہ سب مہینے تیس تیس دن کے حساب سے پورے کئے جاویں گے پس کل ایک سو تیس دن پورے کریں گے اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں اور جس وقت ہوئی ہو جب یہ مدت گزر کر وہی وقت آوے گا عدت ختم ہوجاوے گی اور یہ جو فرمایا کہ اگر عورتیں قاعدہ کے موافق کچھ کریں تو تم پر بھی گناہ نہ ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کوئی کام خلاف شرع کرے تو اوروں پر بھی واجب ہوتا ہے کہ بشرط قدرت اس کو روکیں ورنہ یہ لوگ بھی گنہگار ہوتے ہیں اور قاعدہ کے موافق سے یہ مراد ہے کہ جو نکاح تجویز ہو وہ شرعاً صحیح اور جائز ہو تمام شرائط حلت کی وہاں جمع ہوں



آیت    235

وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا عَرَّضۡتُمۡ بِهٖ مِنۡ خِطۡبَةِ النِّسَآءِ اَوۡ اَکۡنَنۡتُمۡ فِىۡٓ اَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمۡ سَتَذۡكُرُوۡنَهُنَّ وَلٰـكِنۡ لَّا تُوَاعِدُوۡهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا قَوْلًا مَعْرُوفًا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا عُقۡدَةَ النِّکَاحِ حَتّٰى يَبۡلُغَ الۡكِتٰبُ اَجَلَهٗ ‌ؕ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِىۡٓ اَنۡفُسِكُمۡ فَاحۡذَرُوۡهُ ‌ؕ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ  


لفظی ترجمہ

 وَلَا جُنَاحَ : اور نہیں گناہ   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  فِيْمَا : میں۔ جو   |  عَرَّضْتُمْ : اشارہ میں   |  بِهٖ : اس سے   |  مِنْ خِطْبَةِ : پیغام نکاح   |  النِّسَآءِ : عورتوں کو   |  اَوْ : یا   |  اَكْنَنْتُمْ : تم چھپاؤ   |  فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ : اپنے دلوں میں   |  عَلِمَ اللّٰهُ : جانتا ہے۔ اللّه   |  اَنَّكُمْ : کہ تم   |  سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ : جلد ذکر کروگے ان سے   |  وَلٰكِنْ : اور لیکن   |  لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ : نہ وعدہ کرو ان سے   |  سِرًّا : چھپ کر   |  اِلَّآاَنْ : مگر یہ کہ   |  تَقُوْلُوْا : تم کہو   |  قَوْلًا : بات   |  مَّعْرُوْفًا : دستور کے مطابق   |  وَلَا : اور نہ   |  تَعْزِمُوْا : ارادہ کرو   |  عُقْدَةَ : گرہ   |  النِّكَاحِ : نکاح   |  حَتّٰي : یہانتک   |  يَبْلُغَ : پہنچ جائے   |  الْكِتٰبُ : عدت   |  اَجَلَهٗ : اس کی مدت   |  وَاعْلَمُوْٓا : اور جان لو   |  اَنَّ : کہ   |  اللّٰهَ : اللّه   |  يَعْلَمُ : جانتا ہے   |  مَا : جو   |  فِىْ : میں   |  اَنْفُسِكُمْ : اپنے دل   |  فَاحْذَرُوْهُ : سو ڈرو اس سے   |  وَاعْلَمُوْٓا : اور جان لو   |  اَنَّ : کہ   |  اللّٰهَ : اللّه   |  غَفُوْرٌ: بخشنے والا   |  حَلِيْمٌ: تحمل والا 


ترجمہ

زمانہ عدت میں خواہ تم اُن بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کر دو خواہ دل میں چھپائے رکھو دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں اللّه جانتا ہے کہ اُن کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی مگر دیکھو خفیہ عہد و پیمان نہ کرنا اگر کوئی بات کرنی ہے تو معرف طریقے سے کرو اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اُس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے خوب سمجھ لو کہ اللّه تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللّه بردبار ہے چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر فرماتا ہے





No comments:

Powered by Blogger.