Surah Baqrah Aayat 236-238 Rukoo 31
آیات 238 - 236
رکوع 31
آیت 236
لَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِنۡ طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمۡ تَمَسُّوۡهُنَّ اَوۡ تَفۡرِضُوۡا لَهُنَّ فَرِيۡضَةً ۖۚ وَّمَتِّعُوۡهُنَّ ۚ عَلَى الۡمُوۡسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الۡمُقۡتِرِ قَدَرُهٗ ۚ مَتَاعًا ۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِۚ حَقًّا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ
لفظی ترجمہ
لَاجُنَاحَ : نہیں گناہ | عَلَيْكُمْ : تم پر | اِنْ : اگر | طَلَّقْتُمُ : تم طلاق دو | النِّسَآءَ : عورتیں | مَالَمْ : جو نہ | تَمَسُّوْھُنَّ : تم نے انہیں ہاتھ لگایا | اَوْ : یا | تَفْرِضُوْا : مقرر کیا | لَھُنَّ : ان کے لیے | فَرِيْضَةً : مہر | وَّمَتِّعُوْھُنَّ : اور انہیں خرچ دو | عَلَي : پر | الْمُوْسِعِ : خوش حال | قَدَرُهٗ : اس کی حیثیت | وَعَلَي : اور پر | الْمُقْتِرِ : تنگدست | قَدَرُهٗ : اس کی حیثیت | مَتَاعًۢا : خرچ | بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق | حَقًّا : لازم | عَلَي : پر | الْمُحْسِنِيْنَ : نیکو کار
ترجمہ
تم پر کچھ گنا ہ نہیں اگر اپنی تم عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو اس صورت میں اُنہیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے یہ حق ہے نیک آدمیوں پر
تفسیر
حکم نمبر ٣٣
طلاق قبل الدخول کی صورت میں مہر کے وجوب اور عدم وجوب کا بیان
طلاق قبل الدخول کے معنی یہ ہیں کہ زوجین میں یک جائی اور خلوت صحیہ سے پہلے ہی طلاق کی نوبت آجائے اس کی دو صورتیں ہیں یا تو اس نکاح کے وقت مہر مقرر کی مقدار متعین نہیں کی گئی یا مقدار متعین کردی گئی پہلی صورت کا حکم اولا مذکور ہے
لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ (الی قولہ) حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ
یعنی تم پر مہر کا کچھ مواخذہ نہیں اگر بیبیوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے لئے کچھ مہر مقرر کیا ہے سو اس صورت میں مہر اپنے ذمہ مت سمجھو اور صرف ان کو
ایک فائدہ پہنچاؤ صاحب وسعت کے ذمہ اس کی حیثیت کے موافق ہے اور تنگدست کے ذمہ اس کی حیثیت کے موافق ہے ایک خاص قسم کا فائدہ پہنچانا جو قاعدہ کے موافق واجب ہے خوش معاملہ لوگوں پر یعنی سب مسلمانوں پر کیونکہ خوش معاملگی کا بھی سب ہی کو حکم ہے مراد اس سے ایک جوڑا کپڑوں کا دینا ہے اور دوسری صورت کا حکم یہ ہے
وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ (الی قولہ) اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ
اور اگر تم ان بیبیوں کو طلاق دو قبل اس کے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ اور ان کے لئے کچھ مہر بھی مقرر کرچکے تھے تو اس صورت میں جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا نصف واجب ہے اور نصف معاف مگر دو صورتیں اس مجموعی حکم سے مستثنیٰ ہیں ایک صورت تو یہ کہ وہ عورتیں اپنا نصف بھی معاف کردیں تو اس صورت میں نصف بھی واجب نہ رہے یا دوسری صورت یہ ہے کہ وہ شخص رعایت کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کا تعلق رکھنا اور توڑنا ہے یعنی خاوند پورا مہر ہی اس کو دیدے تو اس صورت میں خاوند کی مرضی سے پورا ہی مہر ادا کرنا ہوگا اور اے اہل حق تمہارا اپنے حقوق کو معاف کردینا بہ نسبت وصول کرنے کے تقویٰ سے زیادہ قریب ہے کیونکہ معاف کرنے سے ثواب ملتا ہے اور ثواب کا کام کرنا ظاہر ہے کہ تقویٰ کی بات ہے اور آپس میں احسان اور رعایت کرنے سے غفلت مت کرو بلکہ ہر شخص دوسرے کے ساتھ رعایت کرنے کا خیال رکھا کرے بلا شبہ اللّه تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو خوب دیکھتے ہیں تو تم اگر کسی کے ساتھ رعایت و احسان کرو گے اللہ تعالیٰ اس کی جزائے خبر تم کو دیں گے
(بیان القرآن)
معارف و مسائل
لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ (الیٰ قولہ) اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ
طلاق کی مہر اور صحبت کے لحاظ سے چار صورتیں ہو سکتی ہیں ان میں سے دو کا حکم ان آیات میں بیان کیا گیا ہے ایک یہ کہ نہ مہر مقرر ہو نہ صحبت وخلوت، دوسری یہ کہ مہر تو مقرر ہو لیکن صحبت وخلوت کی نوبت نہ آئے تیسری صورت یہ ہے کہ مہر بھی مقرر ہو اور صحبت کی بھی نوبت آۓ اس میں جو مہر مقرر کیا ہے پورا دینا ہوگا یہ حکم قرآن مجید میں دوسرے مقام پر بیان کیا گیا ہے چوتھی صورت یہ ہے کہ مہر معین نہ کیا اور صحبت یا خلوت کے بعد طلاق دی اس میں مہر مثل پورا دینا ہوگا یعنی جو اس عورت کی قوم میں رواج ہے اس کا بیان بھی ایک دوسری آیت میں آیا ہے
مذکورہ آیت میں پہلی دو قسموں کا حکم بیان کیا گیا ہے اس میں سے پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ مہر کچھ واجب نہیں مگر زوج پر واجب ہے کہ اپنے پاس سے عورت کو کچھ دیدے کم ازکم یہی کہ ایک جوڑا کپڑے کا دیدے دراصل قرآن کریم نے اس عطیہ کی کوئی مقدار متعین نہیں کی البتہ یہ بتلا دیا کہ مالدار کو اپنی حیثیت کے مطابق دینا چاہئے جس میں اس کی ترغیب ہے کہ صاحب وسعت اس میں تنگی سے کام نہ لے حضرت حسن نے ایسے ہی ایک واقعہ میں مطلقہ عورت کو بیس ہزار کا عطیہ دیا اور قاضی شریح نے پانسو درہم کا اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک جوڑا کپڑے کا دیدے
(قرطبی)
آیت 237
وَاِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيۡضَةً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يَّعۡفُوۡنَ اَوۡ يَعۡفُوَا الَّذِىۡ بِيَدِهٖ عُقۡدَةُ النِّكَاحِ ؕ وَاَنۡ تَعۡفُوۡٓا اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰىؕ وَ لَا تَنۡسَوُا الۡفَضۡلَ بَيۡنَكُمۡؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ
لفظی ترجمہ
وَاِنْ : اور اگر | طَلَّقْتُمُوْھُنَّ : تم انہیں طلاق دو | مِنْ قَبْلِ : پہلے | اَنْ : کہ | تَمَسُّوْھُنَّ : انہیں ہاتھ لگاؤ | وَقَدْ فَرَضْتُمْ : اور تم مقرر کرچکے ہو | لَھُنَّ : ان کے لیے | فَرِيْضَةً : مہر | فَنِصْفُ : تو نصف | مَا : جو | فَرَضْتُمْ : تم نے مقرر کیا | اِلَّآ : سوائے | اَنْ : یہ کہ | يَّعْفُوْنَ : وہ معاف کردیں | اَوْ : یا | يَعْفُوَا : معاف کردے | الَّذِيْ : وہ جو | بِيَدِهٖ : اس کے ہاتھ میں | عُقْدَةُ النِّكَاحِ : نکاح کی گرہ | وَ : اور | اَنْ : اگر | تَعْفُوْٓا : تم معاف کردو | اَقْرَبُ : زیادہ قریب | لِلتَّقْوٰى: پرہیزگاری کے | وَلَا تَنْسَوُا : اور نہ بھولو | الْفَضْلَ : احسان کرنا | بَيْنَكُمْ : باہم | اِنَّ : بیشک | اللّٰهَ : اللہ | بِمَا : اس سے جو | تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو | بَصِيْرٌ: دیکھنے والا
ترجمہ
اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہے لیکن مہر مقرر کیا جا چکا ہو تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے اور مہر نہ لے یا وہ مرد جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے نرمی سے کام لے اور پورا مہر دیدے اور تم یعنی مرد نرمی سے کام لو تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو تمہارے اعمال کو اللّه دیکھ رہا ہے
تفسیر
اور دوسری صورت کا حکم یہ ہے کہ جس عورت کا مہر نکاح کے وقت مقرر ہوا ہو اور اس کو قبل صحبت وخلوت صحیحہ کے طلاق دے دیہو تو مقرر کئے ہوئے مہر کا نصف مرد کے ذمے واجب ہوگا البتہ اگر عورت معاف کردے یا مرد پورا دیدے تو اختیاری بات ہے جیسا کہ آیت اِلَّآ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ سے معلوم ہوتا ہے
(١) مرد کے پورا مہر دینے کو بھی معاف کرنے کے لفظ سے شاید اس لئے تعبیر کیا کہ عام عادت عرب کی یہ تھی کہ مہر کی رقم شادی کے ساتھ ہی دے دیجاتی تھی تو طلاق قبل از خلوت کی صورت میں وہ نصف واپس لینے کا حق دار ہوگیا اب اگر وہ رعایت کرکے اپنا نصف واپس نہ لے تو یہ بھی معاف ہی کرنا ہے اور معاف کرنے کو افضل اور اقرب للتقوٰی قرار دیا کیونکہ یہ معافی علامت اس کی ہے کہ تعلق نکاح کا قطع کرنا بھی احسان اور حسن سلوک کے ساتھ ہوا جو مقصد شریعت اور موجب ثواب عظیم ہے خواہ معافی عورت کی طرف سے ہو یا مرد کی طرف سے
(٢) الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ کی تفسیر خود رسول کریم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمائی ولی عقدۃ النکاح الزوج یعنی عقدہ نکاح کا مالک شوہر ہے یہ حدیث دار قطنی میں بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ منقول ہے اور حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے بھی
(قرطبی)
اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ نکاح مکمل ہوجانے کے بعد نکاح کو قائم رکھنے یا ختم کرنے کا مالک شوہر ہے طلاق وہی دے سکتا ہے عورت کا طلاق میں کوئی اختیار نہیں۔
آیت 238
حَافِظُوۡا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الۡوُسۡطٰى وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ
لفظی ترجمہ
حٰفِظُوْا : تم حفاظت کرو | عَلَي الصَّلَوٰتِ : نمازوں کی | وَ : اور | الصَّلٰوةِ : نماز | الْوُسْطٰى: درمیانی | وَ : اور | قُوْمُوْا : کھڑے رہو | لِلّٰهِ : اللّه کے لیے | قٰنِتِيْنَ : فرمانبردار
(جمع)
ترجمہ
اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسن صلوٰۃ کی جا مع ہو اللّه کے آگے اس طرح کھڑے ہو جیسے فر ماں بردار غلام کھڑ ے ہوتے ہیں
تفسیر
حکم نمبر ٣٤
نمازوں کی حفاظت کا بیان
اس سے آگے پیچھے طلاق وغیرہ کے احکام ہیں درمیان میں نماز کے احکام بیان فرمانا اشارہ اس طرف ہے کہ مقصود اصلی توجہ الی الحق ہے اور معاشرت اور معاملات کے احکام سے علاوہ اور مصلحتوں کے اس توجہ کی حفاظت اور ترقی بھی مقصود ہے چناچہ جب ان کو خدائی احکام سمجھ کر عمل کیا جاوے گا تو توجہ لازم ہوگی پھر یہ کہ ان احکام میں ادائے حقوق عباد بھی ہے اور حقوق عباد کے اتلاف سے درگاہ الہی سے دوری ہوتی ہے جس کے لوازم میں سے حق وعبد دونوں کی طرف سے بےتوجہی ہے چونکہ نماز میں یہ توجہ زیادہ ظاہر ہے اس لئے اس کے درمیان میں لانے سے اس توجہ کے مقصود ہونے پر زیادہ دلالت ہوگی تاکہ بندہ اس توجہ کو ہر وقت پیش نظر رکھے
حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى (الی قولہ) مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ
محافظت کرو سب نمازوں کی عموما اور درمیان والی نماز یعنی عصر کی خصوصا اور نماز میں کھڑے ہوا کرو اللّه کے سامنے عاجز بنے ہوئے پھر اگر تم کو باقاعدہ نماز پڑھنے میں کسی دشمن وغیرہ کا اندیشہ ہو تو کھڑے کھڑے یا سواری پر چڑھے چڑھے جس طرح بن سکے خواہ قبلہ کی طرف بھی منہ ہو یا نہ ہو اور گو رکوع و سجود صرف اشارہ ہی سے ممکن ہو پڑھ لیا کرو اس حالت میں بھی اس پر محافظت رکھو اس کو ترک مت کرو پھر جب تم کو بالکل اطمینان ہوجاۓ اور اندیشہ جاتا رہے تو تم اللّه تعالیٰ کی یاد یعنی اس ادائے نماز اس طریق سے کرو جو تم کو اطمینان کی حالت میں سکھلایا ہے جس کو تم پہلے سے نہ جانتے تھے
معارف و مسائل
کثرت سے علماء کا قول بعض احادیث کی دلیل سے یہ ہے کہ بیچ والی نماز سے مراد نماز عصر ہے کیونکہ اس کے ایک طرف دو نمازیں دن کی ہیں فجر اور ظہر اور ایک طرف دو نمازیں رات کی ہیں مغرب اور عشاء اس کی تاکید خصوصیت کے ساتھ اس لئے کی گئی کہ اکثر لوگوں کو یہ وقت کام کی مصروفیت کا ہوتا ہے اور عاجزی کی تفسیر حدیث میں سکوت کے ساتھ آئی ہے
اسی آیت سے نماز میں باتیں کرنے کی ممانعت ہوئی ہے پہلے کلام کرنا درست تھا اور یہ نماز کھڑے کھڑے اشارہ سے جب صحیح ہوگی جب ایک جگہ کھڑا ہوسکے اور اس میں سجدے کا اشارہ ذرا زیادہ پست کرے اور چلنے سے نماز نہیں ہوگی البتہ جب ایسا ممکن نہ ہو مثلا عین لڑائی کا وقت ہے تو نماز کو قضا کردیا جاوے گا دوسرے وقت پڑھ لیں
(بیان القرآن )

No comments: