Surah Baqrah Aayat 246-248

آیات 248 - 246 

آیت 246 

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰى‌ۘ اِذۡ قَالُوۡا لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ؕ قَالَ هَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ کُتِبَ عَلَيۡکُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا ؕ قَالُوۡا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِيَارِنَا وَاَبۡنَآئِنَا ‌ؕ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ تَوَلَّوۡا اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ 


لفظی ترجمہ

 اَلَمْ تَرَ : کیا تم نے نہیں دیکھا   |  اِلَى: طرف   |  الْمَلَاِ : جماعت   |  مِنْ : سے   |  بَنِىْٓ اِسْرَآءِ يْلَ : بنی اسرائیل   |  مِنْ : سے   |  بَعْدِ : بعد   |  مُوْسٰى: موسیٰ   |  اِذْ : جب   |  قَالُوْا : انہوں نے   |  لِنَبِىٍّ لَّهُمُ : اپنے نبی سے   |  ابْعَثْ : مقرر کردیں   |  لَنَا : ہمارے لیے   |  مَلِكًا : ایک بادشاہ   |  نُّقَاتِلْ : ہم لڑیں   |  فِيْ : میں   |  سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللّه کا راستہ   |  قَالَ : اس نے کہا   |  ھَلْ : کیا   |  عَسَيْتُمْ : ہوسکتا ہے تم   |  اِنْ : اگر   |  كُتِبَ عَلَيْكُمُ : تم پر فرض کی جائے   |  الْقِتَالُ : جنگ   |  اَلَّا تُقَاتِلُوْا : کہ تم نہ لڑو   |  قَالُوْا : وہ کہنے لگے   |  وَمَا لَنَآ : اور ہمیں کیا   |  اَلَّا : کہ نہ   |  نُقَاتِلَ : ہم لڑیں گے   |  فِيْ : میں   |  سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللّه کی راہ   |  وَقَدْ : اور البتہ   |  اُخْرِجْنَا : ہم نکالے گئے   |  مِنْ : سے   |  دِيَارِنَا : اپنے گھر   |  وَاَبْنَآئِنَا : اور اپنی آل اولاد   |  فَلَمَّا : پھر جب   |  كُتِبَ عَلَيْهِمُ : ان پر فرض کی گئی   |  الْقِتَالُ : جنگ   |  تَوَلَّوْا : وہ پھرگئے   |  اِلَّا : سوائے   |  قَلِيْلًا : چند   |  مِّنْهُمْ : ان میں سے   |  وَاللّٰهُ : اور اللّه   |  عَلِيْمٌ: جاننے والا   |  بِالظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کو 


ترجمہ

پھر تم نے اُس معاملے پر بھی غور کیا جو موسیٰؑ کے بعد سرداران بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا؟ اُنہوں نے اپنے نبی سے کہا ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اللّه کی راہ میں جنگ کریں نبی نے پوچھا کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو وہ کہنے لگے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم راہ خدا میں نہ لڑیں، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کر دیے گئے ہیں مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے اور اللّه ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے

تفسیر

ربط آیات

مقصود اس مقام میں زیادہ ترغیب قتال کی ہے اوپر کا قصہ اسی کی تمہید ہے انفاق فی سبیل اللّه کا مضمون اسی کی تائید ہے آگے طالوت و جالوت کا قصہ اسی کی تاکید ہے نیز اللّه تعالیٰ نے اس قصے میں قبض وبسط کا بھی مشاہدہ کرا دیا جس کا ذکر ماقبل کی آیت واللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُطُ میں آیا ہے کہ فقیر کو بادشاہ بنانا اور بادشاہ سے باداشاہت چھین لینا سب اسی کے اختیار میں ہے

طالوت اور جالوت کا قصہ
اے مخاطب کیا تجھ کو بنی اسرائیل کی جماعت کا قصہ جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوا ہے تحقیق نہیں ہوا جس سے پہلے ان پر کافر جالوت غالب آچکا تھا اور ان کے کئی صوبے دبالئے تھے جب کہ ان لوگوں نے اپنے ایک پیغمبر سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیجئے کہ ہم اس کے ساتھ ہوکر اللّه تعالیٰ کی راہ میں جالوت سے قتال کریں اس پیغمبر نے فرمایا کہ کیا یہ احتمال ہے اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے کہ تم اس وقت جہاد نہ کرو وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے واسطے ایسا کونسا سبب ہوگا کہ ہم اللّه کی راہ میں جہاد نہ کریں حالانکہ جہاد کے لئے ایک محرک بھی ہے وہ یہ کہ ہم ان کافروں کے ہاتھوں اپنی بستیوں اور اپنے فرزندوں سے بھی جدا کردیئے گئے ہیں کیونکہ ان کی بعض بستیاں بھی کافروں نے دبالی تھیں اور ان کی اولاد کو بھی قید کرلیا گیا تھا پھر جب ان لوگوں کو جہاد کا حکم ہوا تو باستثناء ایک قلیل مقدار کے باقی سب پھرگئے جیسا کہ آگے جہاد کی غرض سے بادشاہ کے مقرر ہونے کا اور ان لوگوں کے پھرجانے کا تفصیلا بیان آتا ہے اور اللّه تعالیٰ ظالموں کو یعنی خلاف حکم کرنے والوں کو خوب جانتے ہیں سب کو مناسب سزا دیں گے اور ان لوگوں سے ان کے پیغمبر نے فرمایا کہ اللّه تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا کہنے لگے ان کو ہم پر حکمرانی کا کیسے حق حاصل ہوسکتا ہے حالانکہ بہ نسبت ان کے ہم حکمرانی کے زیادہ مستحق ہیں اور ان کو کچھ مالی وسعت بھی نہیں دی گئی کیونکہ طالوت غریب آدمی تھے ان پیغمبر نے جواب میں فرمایا کہ اول تو اللّه تعالیٰ نے تمہارے مقابلے میں ان کو منتخب فرمایا ہے اور انتخاب کی مصلحتوں کو اللّه تعالیٰ خوب جانتے ہیں اور دوسرے علم سیاست وحکمرانی اور جسامت میں اس کو زیادتی دی ہے اور بادشاہ ہونے کے لئے اس علم کی زیادہ ضرورت ہے تاکہ ملکی انتظام پر قادر ہو اور جسامت بھی بایں معنی ہے کہ موافق و مخالف کے قلب میںکی تمہارے پاس وہ صندوق بدون تمہارے لائے ہوئے آجائے گا جس میں تسکین اور برکت کی چیز ہے تمہارے رب کی طرف سے یعنی تورات اور تورات کا منجانب اللّه ہونا ظاہر ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں جن کو حضرت موسیٰ و حضرت ہارون علیہما السلام چھوڑ گئے ہیں یعنی ان حضرات کے کچھ ملبوسات وغیرہ غرض اس صندوق کو فرشتے لے آئیں گے اس طرح کے صندوق کے آجانے میں تم لوگوں کے واسطے پوری نشانی ہے اگر تم یقین لانے والے ہو

 پھر جب بنی اسرائیل نے طالوت کو بادشاہ تسلیم کرلیا اور جالوت کے مقابلے کے لئے جمع ہوگئے اور طالوت فوجوں کو لے کر اپنے مقام یعنی بیت المقدس سے عمالقہ کی طرف چلے تو انہوں نے اپنے  ہمراہی پیغمبر کی وحی کے ذریعے دریافت کرکے ساتھیوں سے کہا کہ اب حق تعالیٰ استقلالی وبے استقلالی میں تمہارا امتحان کریں گے ایک نہر کے ذریعے جو راہ میں آئے گی اور تم شدت تشنگی کے وقت اس پر گذرو گے سو جو شخص اس سے افراط کے ساتھ پانی پیئے گا وہ تو میرے ساتھیوں میں نہیں اور جو اس کو زبان پر بھی نہ رکھے اور اصل حکم یہی ہے وہ میرے ساتھیوں میں ہے لیکن جو شخص اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے تو اتنی رخصت ہے غرض وہ نہر راستے میں آئی پیاس کی تھی شدت سو سب نے اس سے بےتحاشا پینا شروع کردیا مگر تھوڑے سے آدمیوں نے ان میں سے احتیاط کی کسی نے بالکل نہ پیا ہوگا کسی نے چلو سے زیادہ نہ پیا ہوگا سو جب طالوت اور جو مؤمنین ان کے ہمراہ تھے نہر سے پار اتر گئے اور اپنے مجمع کو دیکھا تو تھوڑے سے آدمی رہ گئے اس وقت بعضے آدمی آپس میں کہنے لگے کہ آج تو ہمارا مجمع اتنا کم ہے کہ اس حالت سے ہم جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے کی طاقت نہیں معلوم ہوتی یہ سن کر ایسے لوگ جن کو یہ خیال پیش نظر تھا کہ وہ اللّه تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے والے ہیں کہنے لگے کہ کثرت سے ایسے واقعات ہوچکے ہیں کہ بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتیں بڑی بڑی جماعتوں پر خدا کے حکم سے غالب آگئی ہیں 

اصل چیز استقلال ہے اور اللّه تعالیٰ استقلال والوں کا ساتھ دیتے ہیں اور جب دیار عمالقہ میں پہنچے اور جالوت اور اس کی فوجوں کے سامنے میدان میں آگئے تو دعاء میں حق تعالیٰ سے کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر یعنی ہمارے قلوب پر استقلال غیب سے نازل فرمائیے اور مقابلہ کے وقت ہمارے قدم جمائے رکھئے اور ہم کو اس کافر قوم پر غالب کیجئے پھر طالوت والوں نے جالوت والوں کو اللّه تعالیٰ کے حکم سے شکست دے دی اور داؤد علیہ السلام نے جو کہ اس وقت طالوت کے لشکر میں تھے اور اس وقت تک نبوت وغیرہ نہ ملی تھی جالوت کو قتل کر ڈالا اور مظفر ومنصور واپس آئے اور اس کے بعد ان کو یعنی داؤد علیہ السلام کو اللّه تعالیٰ نے سلطنت اور حکمت یہاں حکمت سے مراد نبوت ہے عطاء فرمائی اور بھی جو منظور ہوا انکو تعلیم فرمایا جیسے بغیر آلات کے زرہ بنانا اور جانوروں کی بولی سمجھنا

 آگے اس واقعہ کی مصلحت عامہ فرماتے ہیں اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللّه تعالیٰ بعض آدمیوں کو جو کہ مفسد ہوں بعضوں کے ذریعے سے جو کہ مصلح ہوں وقتا فوقتا دفع کرتے رہا کرتے ہیں یعنی اگر مصلحین کو مفسدین پر غالب نہ کرتے رہتے تو سر زمین تمام تر فساد سے پر ہوجاتی لیکن اللّه تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں جہان والوں پر اس لئے وقتا فوقتا اصلاح فرماتے رہتے ہیں

معارف و مسائل

(١)
 اِذْ قَالُوْا لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ 
ان بنی اسرائیل نے حق تعالیٰ کے احکام کو چھوڑ دیا تھا کفار عمالقہ پر مسلط کردئیے گئے اس وقت ان لوگوں کو اصلاح کی فکر اور جس نبی کا یہاں ذکر ہے ان کا نام شموئیل مشہور ہے

(٢)
 اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ
 بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا اس میں برکات تھے حضرت موسیٰ علیہ السلا وغیرہ انبیاء علیہم السلام کے بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللّه تعالیٰ اس کی برکت سے فتح دیتا جب جالوت بنی اسرائیل پر غالب آیا تو یہ صندوق بھی وہ لے گیا تھا جب اللّه تعالیٰ کو صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ کیا کہ وہ کافر جہاں صندوق کو رکھتے وہیں وباء اور بلاء آئی پانچ شہر ویران ہوگئے ناچار ہو کردو بیلوں پر اس کو لاد کر ہانک دیا فرشتے بیلوں کو ہانک کر طالوت کے دروازے پر پہنچا گئے بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لائے اور طالوت نے جالوت پر فوج کشی کردی اور موسم نہایت گرم تھا

آیت  247


وَقَالَ لَهُمۡ نَبِيُّهُمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَدۡ بَعَثَ لَـکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِكًا ‌ؕ قَالُوۡٓا اَنّٰى يَكُوۡنُ لَهُ الۡمُلۡكُ عَلَيۡنَا وَنَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡكِ مِنۡهُ وَلَمۡ يُؤۡتَ سَعَةً مِّنَ الۡمَالِ‌ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰٮهُ عَلَيۡکُمۡ وَزَادَهٗ بَسۡطَةً فِى الۡعِلۡمِ وَ الۡجِسۡمِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُؤۡتِىۡ مُلۡکَهٗ مَنۡ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ 


لفظی ترجمہ

 وَقَالَ : اور کہا   |  لَهُمْ : انہیں   |  نَبِيُّهُمْ : ان کا نبی   |  اِنَّ : بیشک   |  اللّٰهَ : اللّه   |  قَدْ بَعَثَ : مقرر کردیا ہے   |  لَكُمْ : تمہارے لیے   |  طَالُوْتَ : طالوت   |  مَلِكًا : بادشاہ   |  قَالُوْٓا : وہ بولے   |  اَنّٰى: کیسے   |  يَكُوْنُ : ہوسکتی ہے   |  لَهُ : اس کے لیے   |  الْمُلْكُ : بادشاہت   |  عَلَيْنَا : ہم پر   |  وَنَحْنُ : اور ہم   |  اَحَقُّ : زیادہ حقدار   |  بِالْمُلْكِ : بادشاہت کے   |  مِنْهُ : اس سے   |  وَلَمْ يُؤْتَ : اور نہیں دی گئی   |  سَعَةً : وسعت   |  مِّنَ : سے   |  الْمَالِ : مال   |  قَالَ : اس نے کہا   |  اِنَّ : بیشک   |  اللّٰهَ : اللثہ   |  اصْطَفٰىهُ : اسے چن لیا   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  وَزَادَهٗ : اور اسے زیادہ دی   |  بَسْطَةً : وسعت   |  فِي : میں   |  الْعِلْمِ : علم   |  وَالْجِسْمِ : اور جسم   |  وَاللّٰهُ : اور اللّه   |  يُؤْتِيْ : دیتا ہے   |  مُلْكَهٗ : اپنا بادشاہ   |  مَنْ : جسے   |  يَّشَآءُ : چاہتا ہے   |  وَاللّٰهُ : اور اللّه   |  وَاسِعٌ: وسعت والا   |  عَلِيْمٌ: جاننے والا 


ترجمہ

اُن کے نبی نے ان سے کہا کہ اللّه نے طالوت کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے یہ سن کر وہ بولے  ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حقدار ہو گیا؟ اُس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں وہ تو کوئی بڑا
 مال دار آدمی نہیں ہے نبی نے جواب دیا اللّه نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی و جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللّه کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے اللّه بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اُس کے علم میں ہے



آیت  248


وَقَالَ لَهُمۡ نَبِيُّهُمۡ اِنَّ اٰيَةَ مُلۡکِهٖۤ اَنۡ يَّاۡتِيَکُمُ التَّابُوۡتُ فِيۡهِ سَکِيۡنَةٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوۡسٰى وَاٰلُ هٰرُوۡنَ تَحۡمِلُهُ الۡمَلٰٓئِكَةُ‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـکُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ  


لفظی ترجمہ

 وَقَالَ : اور کہا   |  لَهُمْ : انہیں   |  نَبِيُّهُمْ : ان کا نبی   |  اِنَّ : بیشک   |  اٰيَةَ : نشانی   |  مُلْكِهٖٓ: اس کی حکومت   |  اَنْ : کہ   |  يَّاْتِيَكُمُ : آئے گا تمہارے پاس   |  التَّابُوْتُ : تابوت   |  فِيْهِ : اس میں   |  سَكِيْنَةٌ: سامان تسکیں   |  مِّنْ : سے   |  رَّبِّكُمْ : تمہارا رب   |  وَبَقِيَّةٌ: اور بچی ہوئی   |  مِّمَّا : اس سے جو   |  تَرَكَ : چھوڑا   |  اٰلُ مُوْسٰى: آل موسیٰ   |  وَ : اور   |  اٰلُ ھٰرُوْنَ : آل ہارون   |  تَحْمِلُهُ : اٹھائیں گے اسے   |  الْمَلٰٓئِكَةُ : فرشتے   |  اِنَّ : بیشک   |  فِيْ ذٰلِكَ : اس میں   |  لَاٰيَةً : نشانی   |  لَّكُمْ : تمہارے لیے   |  اِنْ : اگر   |  كُنْتُمْ : تم   |  مُّؤْمِنِيْنَ : ایمان والے 


ترجمہ

اس کے ساتھ اُن کے نبی نے اُن کو یہ بھی بتایا کہ خدا کی طرف سے اُس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے سکون قلب کا سامان ہے جس میں آل موسیٰؑ اور آل ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں اور جس کو اس وقت فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں اگر تم مومن ہو تو یہ تمہارے لیے بہت بڑی نشانی ہے




No comments:

Powered by Blogger.