Surah Baqrah Aayat 249-251 Rukoo 33
آیات 251 - 249
رکوع 33
آیت 249
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالۡجُـنُوۡدِۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبۡتَلِيۡکُمۡ بِنَهَرٍۚ فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡهُ فَلَيۡسَ مِنِّىۡۚ وَمَنۡ لَّمۡ يَطۡعَمۡهُ فَاِنَّهٗ مِنِّىۡٓ اِلَّا مَنِ اغۡتَرَفَ غُرۡفَةً ۢ بِيَدِهٖۚ فَشَرِبُوۡا مِنۡهُ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ ۙ قَالُوۡا لَا طَاقَةَ لَنَا الۡيَوۡمَ بِجَالُوۡتَ وَجُنُوۡدِهٖؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يَظُنُّوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّلٰقُوا اللّٰهِۙ کَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً کَثِيۡرَةً ۢ بِاِذۡنِ اللّٰهِؕ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ
لفظی ترجمہ
فَلَمَّا : پھر جب | فَصَلَ : باہر نکلا | طَالُوْتُ : طالوت | بِالْجُنُوْدِ : لشکر کے ساتھ | قَالَ : اس نے کہا | اِنَّ : بیشک | اللّٰهَ : اللّه | مُبْتَلِيْكُمْ : تمہاری آزمائش کرنے والا | بِنَهَرٍ : ایک نہر سے | فَمَنْ : پس جس | شَرِبَ : پی لیا | مِنْهُ : اس سے | فَلَيْسَ : تو نہیں | مِنِّىْ : مجھ سے | وَمَنْ : اور جس | لَّمْ يَطْعَمْهُ : اسے نہ چکھا | فَاِنَّهٗ : تو بیشک وہ | مِنِّىْٓ: مجھ سے | اِلَّا : سوائے | مَنِ : جو | اغْتَرَفَ : چلو بھرلے | غُرْفَةً : ایک چلو | بِيَدِهٖ : اپنے ہاتھ سے | فَشَرِبُوْا : پھر انہوں نے پی لیا | مِنْهُ : اس سے | اِلَّا : سوائے | قَلِيْلًا : چند ایک | مِّنْهُمْ : ان سے | فَلَمَّا : پس جب | جَاوَزَهٗ : اس کے پار ہوئے | ھُوَ : وہ | وَالَّذِيْنَ : اور وہ جو | اٰمَنُوْا : ایمان لائے | مَعَهٗ : اس کے ساتھ | قَالُوْا : انہوں نے کہا | لَا طَاقَةَ : نہیں طاقت | لَنَا : ہمارے لیے | الْيَوْمَ : آج | بِجَالُوْتَ : جالوت کے ساتھ | وَجُنُوْدِهٖ : اور اس کا لشکر | قَالَ : کہا | الَّذِيْنَ : جو لوگ | يَظُنُّوْنَ : یقین رکھتے تھے | اَنَّهُمْ : کہ وہ | مُّلٰقُوا : ملنے والے | اللّٰهِ : اللّه | كَمْ : بارہا | مِّنْ : سے | فِئَةٍ : جماعتیں | قَلِيْلَةٍ : چھوٹی | غَلَبَتْ : غالب ہوئیں | فِئَةً : جماعتیں | كَثِيْرَةً : بڑی | بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللّه کے حکم سے | وَاللّٰهُ : اور اللّه | مَعَ : ساتھ | الصّٰبِرِيْنَ : صبر کرنے والے
ترجمہ
پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا تو اُس نے کہا ایک دریا پر اللّه کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے جواس کا پانی پیے گا وہ میرا ساتھی نہیں میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے ہاں ایک آدھ چلو کوئی پی لے تو پی لے مگر ایک گروہ قلیل کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کر کے آگے بڑھے تو اُنہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں ایک دن اللّه سے ملنا ہے انہوں نے کہا بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللّه کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے اللّه صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے
تفسیر
(٣)
قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ اس امتحان کی حکمت اور توجیہ احقر کے ذوق میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر جوش و خروش میں بھیڑ بھڑکا بہت ہوجایا کرتا ہے لیکن وقت پر جمنے والے کم ہوتے ہیں اور اس وقت ایسوں کا اکھڑ جانا باقی لوگوں کے پاؤں بھی اکھاڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کا علیحدہ کرنا منظور تھا اس کا یہ امتحان مقرر کیا گیا جو کہ نہایت ہی مناسب ہے کیونکہ قتال میں ضرورت استقلال وجفاکشی کی ہوتی ہے سو شدت پیاس کے وقت بےمنت پانی ملنے پر ضبط کرنا دلیل استقلال کی اور اندھے باؤ لوں کی طرح جا گرنا دلیل بےاستقلالی کی ہے، آگے خرق عادت ہے کہ زیادہ پانی پینے والے غیبی طور پر بھی زیادہ بیکار اور ازکار رفتہ ہوگئے جیسا روح المعانی میں بسند ابن ابی حاتم حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور اس قصے میں جو احوال و اقوال مذکور ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں تین قسم کے لوگ تھے، ناقص الایمان جو امتحان میں پورے نہ اترے اور کامل جو امتحان میں پورے اترے مگر اپنی قلت کی فکر ہوئی اور اکمل جن کو یہ بھی فکر نہیں ہوئی۔
آیت 250
وَلَمَّا بَرَزُوۡا لِجَـالُوۡتَ وَجُنُوۡدِهٖ قَالُوۡا رَبَّنَآ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا وَّثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِيۡنَؕ
لفظی ترجمہ
وَلَمَّا : اور جب | بَرَزُوْا : آمنے سامنے | لِجَالُوْتَ : جالوت کے | وَجُنُوْدِهٖ : اور اس کا لشکر | قَالُوْا : انہوں نے کہا | رَبَّنَآ : اے ہمارے رب | اَفْرِغْ : ڈال دے | عَلَيْنَا : ہم پر | صَبْرًا : صبر | وَّثَبِّتْ : اور جمادے | اَقْدَامَنَا : ہمارے قدم | وَانْصُرْنَا : اور ہماری مدد کر | عَلَي : پر | الْقَوْمِ : قوم | الْكٰفِرِيْنَ : کافر
(جمع)
ترجمہ
اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ پر نکلے تو انہوں نے دعا کی اے ہمارے رب ہم پر صبر کا فیضان کر ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر
آیت 251
فَهَزَمُوۡهُمۡ بِاِذۡنِ اللّٰهِ ۙ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَاٰتٰٮهُ اللّٰهُ الۡمُلۡكَ وَالۡحِکۡمَةَ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَآءُ ؕ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ
لفظی ترجمہ
فَهَزَمُوْھُمْ : پھر انہوں نے شکست دی انہیں | بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللہ کے حکم سے | وَقَتَلَ : اور قتل کیا | دَاوٗدُ : داود | جَالُوْتَ : جالوت | وَاٰتٰىهُ : اور اسے دیا | اللّٰهُ : اللّه | الْمُلْكَ : ملک | وَالْحِكْمَةَ : اور حکمت | وَعَلَّمَهٗ : اور اسے سکھایا | مِمَّا : جو | يَشَآءُ : چاہا | وَلَوْ : اور اگر | لَا : نہ | دَفْعُ : ہٹاتا | اللّٰهِ : اللّه | النَّاسَ : لوگ | بَعْضَهُمْ : بعض لوگ | بِبَعْضٍ : بعض کے ذریعہ | لَّفَسَدَتِ : ضرور تباہ ہوجاتی | الْاَرْضُ : زمین | وَلٰكِنَّ : اور لیکن | اللّٰهَ : اللّه | ذُوْ فَضْلٍ : فضل والا | عَلَي : پر | الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہان
ترجمہ
آخر کا ر اللّه کے اذن سے اُنہوں نے کافروں کو مار بھگایا اور داؤدؑ نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللّه نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا اس کو علم دیا اگر اس طرح اللّه انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے ہٹاتا نہ رہتا تو زمین کا نظام بگڑ جاتا لیکن دنیا کے لوگوں پر اللّه کا بڑا فضل ہے کہ وہ اِس طرح دفع فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے

No comments: