Surah Baqrah Aayat 252-253
آیات 253 - 252
آیت 252
تِلۡكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَـتۡلُوۡهَا عَلَيۡكَ بِالۡحَـقِّؕ وَاِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ
لفظی ترجمہ
تِلْكَ : یہ | اٰيٰتُ اللّٰهِ : اللّه کے احکام | نَتْلُوْھَا : ہم سناتے ہیں وہ | عَلَيْكَ : آپ پر | بِالْحَقِّ : ٹھیک ٹھیک | وَاِنَّكَ : اور بیشک آپ | لَمِنَ : ضرور۔ سے | الْمُرْسَلِيْنَ : رسول
(جمع)
ترجمہ
یہ اللّه کی آیات ہیں جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سنا رہے ہیں اور تم یقیناً ان لوگوں میں سے ہو جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں
تفسیر
چونکہ قرآن کریم کا ایک بڑا مقصد نبی کریم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اثبات بھی ہے اس لئے جس جگہ مضمون کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے اس کا اعادہ کردیا جاتا ہے اس موقع پر اس قصہ کی صحیح صحیح خبر دینا جب کہ آپ نے نہ کسی سے پڑھا نہ کہیں سنا نہ دیکھا ایک معجزہ ہے جو آپ کی نبوت کی صحیح دلیل ہے اس لئے ان آیات میں آپ کی نبوت پر استدلال فرماتے ہیں
نبوت محمدیہ پر استدلال یہ آیتیں جن میں یہ قصہ مذکور ہوا اللّه تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو صحیح صحیح طور ہم تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہیں۔
آیت 253
تِلۡكَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍۘ مِنۡهُمۡ مَّنۡ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعۡضَهُمۡ دَرَجٰتٍؕ وَاٰتَيۡنَا عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ الۡبَيِّنٰتِ وَاَيَّدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقۡتَتَلَ الَّذِيۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنٰتُ وَلٰـكِنِ اخۡتَلَفُوۡا فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ كَفَرَؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقۡتَتَلُوۡا وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيۡدُ
لفظی ترجمہ
تِلْكَ : یہ | الرُّسُلُ : رسول (جمع) | فَضَّلْنَا : ہم نے فضیلت دی | بَعْضَھُمْ : ان کے بعض | عَلٰي : پر | بَعْضٍ : بعض | مِنْھُمْ : ان سے | مَّنْ : جس | كَلَّمَ : کلام کیا | اللّٰهُ : اللّه | وَرَفَعَ : اور بلند کیے | بَعْضَھُمْ : ان کے بعض | دَرَجٰتٍ : درجے | وَاٰتَيْنَا : اور ہم نے دی | عِيْسَى: عیسیٰ | ابْنَ مَرْيَمَ : مریم کا بیٹا | الْبَيِّنٰتِ : کھلی نشانیاں | وَاَيَّدْنٰهُ : اور اس کی تائید کی ہم نے | بِرُوْحِ الْقُدُسِ : روح القدس (جبرائیل) سے | وَلَوْ : اور اگر | شَآءَ اللّٰهُ : چاہتا اللّه | مَا : نہ | اقْتَتَلَ : باہم لڑتے | الَّذِيْنَ : وہ جو | مِنْ بَعْدِ : بعد | ھِمْ : ان | مِّنْ بَعْدِ : بعد سے | مَا جَآءَتْھُمُ : جو (جب) آگئی ان کے پاس | الْبَيِّنٰتُ : کھلی نشانیاں | وَلٰكِنِ : اور لیکن | اخْتَلَفُوْا : انہوں نے اختلاف کیا | فَمِنْھُمْ : پھر ان سے | مَّنْ : جو۔ کوئی | اٰمَنَ : ایمان لایا | وَمِنْھُمْ : اور ان سے | مَّنْ : کوئی کسی | كَفَرَ : کفر کیا | وَلَوْ : اور اگر | شَآءَ اللّٰهُ : چاہتا اللّه | مَا اقْتَتَلُوْا : وہ باہم نہ لڑتے | وَلٰكِنَّ : اور لیکن | اللّٰهَ : اللّه | يَفْعَلُ : کرتا ہے | مَا يُرِيْدُ : جو وہ چاہتا ہے
ترجمہ
یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے) ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہم کلام ہوا کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیے اور آخر میں عیسیٰ ابن مریمؑ کو روشن نشانیاں عطا کیں اور روح پاک سے اس کی مدد کی اگر اللّه چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ اِن رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے
وہ آپس میں لڑتے مگر اللّه کی مشیت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے اس وجہ سے انہوں نے باہم اختلاف کیا پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی ہاں اللّه چاہتا تو وہ ہرگز نہ لڑتے مگر اللّه جو چاہتا ہے کرتا ہے
تفسیر بعض انبیاء علیہم السلام اور امتوں کے کچھ احوال یہ حضرات مرسلین جن کا ذکر ابھی اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ میں آیا ہے ایسے ہیں کہ ہم نے ان میں سے بعضوں کو بعضوں پر فوقیت بخشی ہے مثلاً بعضے ان میں سے وہ ہیں جن سے اللّه تعالیٰ بلاواسطہ فرشتہ کے ہم کلام ہوئے ہیں مراد موسیٰ علیہ السلام اور بعضوں کو ان میں بہت سے درجوں میں اعلیٰ مقام سے سرفراز کیا اور ہم نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو کھلے کھلے دلائل یعنی معجزات عطا فرمائے اور ہم نے ان کی تائید روح القدس یعنی جبرئیل علیہ السلام سے فرمائی ہر وقت یہود سے انکی حفاظت کرنے کے لئے ساتھ رہتے تھے اور اگر اللّه تعالیٰ کو منظور ہوتا تو امت کے جو لوگ ان پیغمبروں کے بعد ہوئے ہیں کبھی دین میں اختلاف کرکے باہم قتل و قتال نہ کرتے بعد اس کے ان کے پاس امر حق کے دلائل پیغمبروں کی معرفت پہنچ چکے تھے جن کا مقتضا تھا دین حق کے قبول پر متفق رہنا لیکن چونکہ اللّه تعالیٰ کو بعض حکمتیں منظور تھیں اس لئے ان میں اتفاق مذہبی نہیں پیدا کیا
یہ لوگ باہم دین میں مختلف ہوئے سو ان میں کوئی تو ایمان لایا اور کوئی کافر رہا پھر اس اختلاف میں نوبت قتل و قتال بھی پہنچ گئی اور اگر اللّه تعالیٰ کو منظور ہوتا تو وہ لوگ باہم قتل و قتال نہ کرتے لیکن اللّه تعالیٰ اپنی حکمت سے جو چاہتے ہیں اپنی قدرت سے وہی کرتے ہیں
(١)
تِلْكَ الرُّسُلُ الآیہ اس مضمون میں نبی کریم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو ایک گونہ تسلی دینا ہے کیونکہ جب آپ کی رسالت دلیل سے ثابت تھی جس کو ابھی اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ میں بھی فرمایا ہے اور پھر بھی منکرین نہ مانتے تھے تو یہ آپ کے رنج و افسوس کا محل تھا اس لئے اللّه تعالیٰ نے یہ بات سنادی کہ اور بھی پیغمبر مختلف درجوں کے گزرے ہیں لیکن ایمان عام کسی کی امت میں نہیں ہوا کسی نے موافقت کی کسی نے مخالفت اور اس میں بھی اللّه تعالیٰ کی حکمتیں ہوتی ہیں گو ہر شخص پر منکشف نہ ہوں مگر اجمالاً اتنا عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ کوئی حکمت ضرور ہے
(٢)
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ یہاں یہ اشکال پیش آسکتا ہے کہ یہ آیت صراحۃ اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ بعض انبیاء علیہم السلام بعض سے افضل ہیں حالانکہ حدیث میں رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایالا تفضلوا بین انبیاء اللّه انبیاء کے درمیان تفضیل نہ کیا کرو
نیز فرمایالا تخیرونی علیٰ موسیٰ ٰ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو اور فرمایالا اقول ان احداً افضل من یونس بن متٰی میں نہیں کہہ سکتا کہ کوئی یونس بن متیٰ سے افضل ہے۔ان احادیث میں بعض انبیاء علیہم السلام کی بعض پر فضیلت دینے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ؟
جواب یہ ہے کہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ دلیل کے بغیر اپنی رائے سے بعض کو بعض پر فضیلت نہ دو اس لئے کہ کسی نبی کے افضل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اللّه تعالیٰ کے یہاں ان کا مرتبہ بہت زیادہ ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا علم رائے اور قیاس سے حاصل نہیں ہوسکتا لیکن قرآن وسنت کی کسی دلیل سے اگر بعض انبیاء علیہم السلام کی بعض پر فضیلت معلوم ہوگئی تو اس کے مطابق اعتقاد رکھا جائے گا

No comments: