Surah Baqrah Aayat 254-257 Rukoo 34

آیات 257 - 254 
رکوع 34

آیت 254

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ يَوۡمٌ لَّا بَيۡعٌ فِيۡهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ‌ ؕ وَالۡكٰفِرُوۡنَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ  


لفظی ترجمہ

 يٰٓاَيُّهَا : اے   |  الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : جو ایمان لائے (ایمان والے)  |  اَنْفِقُوْا : تم خرچ کرو   |  مِمَّا : سے۔ جو   |  رَزَقْنٰكُمْ : ہم نے دیا تمہیں   |  مِّنْ قَبْلِ : سے۔ پہلے   |  اَنْ : کہ   |  يَّاْتِيَ : آجائے   |  يَوْمٌ: وہ دن   |  لَّا بَيْعٌ: نہ خریدو فروخت   |  فِيْهِ : اس میں   |  وَلَا خُلَّةٌ: اور نہ دوستی   |  وَّلَا شَفَاعَةٌ: اور نہ سفارش   |  وَالْكٰفِرُوْنَ : اور کافر (جمع)  |  ھُمُ : وہی   |  الظّٰلِمُوْنَ : ظالم
 (جمع)


ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی اور ظالم اصل میں وہی ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں


تفسیر

اے ایمان والو خرچ کرلو ان چیزوں سے جو ہم نے تم کو دی ہیں قبل اس کے کہ وہ دن آجاۓ یعنی قیامت کا دن جس میں کوئی چیز اعمال خیر کا بدل نہ ہوسکے گی کیونکہ اس میں نہ تو خریدو فروخت ہوگی کہ کوئی چیز دے کر اعمال خیر کی خرید کرلو اور نہ ایسی دوستی ہوگی کہ کوئی تم کو اپنے اعمال خیر دیدے اور نہ بلا اذن الہیٰ کسی کی کوئی سفارش ہوگی جس سے اعمال خیر کی تم کو حاجت نہ رہے اور کافر ہی لوگ ظلم کرتے ہیں کہ اعمال اور مال کو بےموقع استعمال کرتے ہیں اس طرح کہ طاعات بدنیہ ومالیہ کو ترک اور معصیت مالیہ وبدنیہ کو اختیار کرتے ہیں تم تو ایسے نہ بنو اس سورة میں عبادات و معاملات کے متعلق احکام کثیرہ بیان فرمائے جن میں سب کی تعمیل نفس کو ناگوار اور بھاری ہے اور تمام اعمال میں زیادہ دشوار انسان کو جان اور مال کا خرچ کرنا ہوتا ہے اور احکام الہیٰ اکثر جو دیکھے جاتے ہیں یا جان کے متعلق ہیں یا مال کے اور گناہ میں بندہ کو جان یا مال کی محبت اور رعایت ہی اکثر مبتلا کرتی ہے گویا ان دونوں کی محبت گناہوں کی جڑ اور اس سے نجات جملہ طاعات کی سہولت کا منشاء ہے اس لئے ان احکامات کو بیان فرما کر قتال اور انفاق کا بیان فرمانا مناسب ہوا وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الخ
 میں اول کا بیان فرماکر مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ میں دوسرے کا ذکر ہے اس کے بعد قصہ طالوت سے اول کی تاکید ہوئی تو اب اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ الخ سے دوسرے کی تاکید منظور ہے اور چونکہ انفاق مال پر بہت سے امور عبادات و معاملات کے موقوف ہیں تو اس کے بیان میں زیادہ تفصیل اور تاکید سے کام لیا چناچہ اب جو رکوع آتے ہیں ان میں اکثروں میں امرثانی یعنی انفاق مال کا ذکر ہے خلاصہ معنی یہ ہوا کہ عمل کا وقت ابھی ہے آخرت میں تو نہ عمل بکتے ہیں نہ کوئی دوستی سے دیتا ہے نہ کوئی سفارش سے چھڑا سکتا ہے جب تک پکڑنے والا نہ چھوڑے


آیت      255


اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡحَـىُّ الۡقَيُّوۡمُۚ  لَا تَاۡخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوۡمٌ‌ؕ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يَشۡفَعُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِهٖ‌ؕ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ‌ۚ وَلَا يُحِيۡطُوۡنَ بِشَىۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ‌‌ۚ وَلَا يَــئُوۡدُهٗ حِفۡظُهُمَا ‌ۚ وَ هُوَ الۡعَلِىُّ الۡعَظِيۡمُ 
 

لفظی ترجمہ

 اَللّٰهُ : اللّه   |  لَآ اِلٰهَ : نہیں معبود   |  اِلَّا ھُوَ : سوائے اس کے   |  اَلْحَيُّ : زندہ   |  الْقَيُّوْمُ : تھامنے والا   |  لَا تَاْخُذُهٗ : نہ اسے آتی ہے   |  سِنَةٌ: اونگھ   |  وَّلَا : اور نہ   |  نَوْمٌ: نیند   |  لَهٗ : اسی کا ہے   |  مَا : جو   |  فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں   |  وَمَا : اور جو   |  فِي الْاَرْضِ : زمین میں   |  مَنْ ذَا : کون جو   |  الَّذِيْ : وہ جو   |  يَشْفَعُ : سفارش کرے   |  عِنْدَهٗٓ: اس کے پاس   |  اِلَّا : مگر (بغیر)  |  بِاِذْنِهٖ : اس کی اجازت سے   |  يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے   |  مَا : جو   |  بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ : ان کے سامنے   |  وَمَا : اور جو   |  خَلْفَھُمْ : ان کے پیچھے   |  وَلَا : اور نہیں   |  يُحِيْطُوْنَ : وہ احاطہ کرتے ہیں   |  بِشَيْءٍ : کس چیز کا   |  مِّنْ : سے   |  عِلْمِهٖٓ: اس کا علم   |  اِلَّا : مگر   |  بِمَا شَآءَ : جتنا وہ چاہے   |  وَسِعَ : سما لیا   |  كُرْسِيُّهُ : اس کی کرسی   |  السَّمٰوٰتِ : آسمان (جمع)  |  وَ : اور   |  الْاَرْضَ : زمین   |  وَلَا : اور نہیں   |  يَئُوْدُهٗ : تھکاتی اس کو   |  حِفْظُهُمَا : ان کی حفاظت   |  وَھُوَ : اور وہ   |  الْعَلِيُّ : بلند مرتبہ   |  الْعَظِيْمُ : عظمت والا 


ترجمہ

اللّه وہ زندہ جاوید ہستی، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اونگھ لگتی ہے زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اُسی کا ہے کون ہے جو اُس کی جناب میں اُس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف ہے اور اُس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی الّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی اُن کو دینا چاہے اُس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور اُن کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے


تفسیر

اللّه ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہے جس کو کبھی موت نہیں آسکتی سنبھالنے والا ہے تمام عالم کا نہ اس کو اونگھ دبا سکتی ہے اور نہ نیند دبا سکتی ہے اسی کے مملوک ہیں سب جو کچھ بھی آسمانوں میں موجودات ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں ایسا کون شخص ہے جو اس کے پاس کسی کی سفارش کرسکے بدون اس کی اجازت کے وہ جانتا ہے ان تمام موجودات کے تمام حاضر و غائب حالات کو اور وہ موجودات اس کی معلومات میں سے کسی چیز کو اپنے احاطہ علمی میں نہیں لاسکتے مگر جس قدر علم دینا وہی چاہیے اس کی کرسی اتنی بڑی ہے کہ اس نے سب آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر لے رکھا ہے اور اللّه تعالیٰ کو ان دونوں آسمان و زمین کی حفاظت کچھ گراں نہیں گذرتی اور وہ عالی شان عظیم الشان ہے

معارف و مسائل

آیۃ الکرسی کے خاص فضائل

یہ آیت قرآن کریم کی عظیم ترین آیت ہے احادیث میں اس کے بڑے فضائل و برکات مذکور ہیں مسند احمد کی روایت میں ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سب آیات سے افضل فرمایا ہے اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے ابی بن کعب سے دریافت کیا کہ قرآن میں کونسی آیت سب سے زیادہ عظیم ہے ابی بن کعب نے عرض کیا آیت الکرسی آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا اے ابوالمنذر تمہیں علم مبارک ہو

حضرت ابوذر نے آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا یارسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم قرآن میں عظیم تر آیت کونسی ہے ؟
 فرمایا آیت الکرسی
 (ابن کثیر عن احمد فی المسند) 

حضرت ابوہریرہ فرماتے
 ہیں کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سورة بقرہ میں ایک آیت ہے جو سیدہ آیات القرآن ہے وہ جس گھر میں پڑھی جائے شیطان اس سے نکل جاتا ہے
نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر نماز فرض کے بعد آیت الکرسی پڑھا کرے تو اس کو جنت میں داخل ہونے کے لئے بجز موت کے کوئی مانع نہیں ہے یعنی موت کے بعد فورا وہ جنت کے آثار اور راحت و آرام کا مشاہدہ کرنے لگے گا
اس آیت میں اللّه تعالیٰ کی توحید ذات وصفات کا بیان ایک عجیب و غریب انداز میں بیان کیا گیا ہے جس میں الثلہ جل شانہ کا موجود ہونا، زندہ ہونا، سمیع وبصیر ہونا، متکلم ہونا، واجب الوجود ہونا، دائم و باقی ہونا، سب کائنات کا مالک ہونا، صاحب عظمت و جلال ہونا کہ اس کے آگے کوئی بغیر اس کی اجازت کے بول نہیں سکتا ایسی قدرت کاملہ کا مالک ہونا کہ سارے عالم اور اس کی کائنات کو پیدا کرنے باقی رکھنے اور ان کا نظام محکم قائم رکھنے سے اس کو نہ کوئی تھکان پیش آتا ہے نہ سستی ایسے علم محیط کا مالک ہونا جس سے کوئی کھلی یا چھپی چیز کا کوئی ذرہ یا قطرہ باہر نہ رہے یہ اجمالی مفہوم ہے اس آیت کا اب تفصیل کے ساتھ اس کے الفاظ کے معنی سنئے
اس آیت میں دس جملے ہیں پہلے جملہ ہے اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ اس میں لفظ اللّٰهُ اسم ذات ہے جس کے معنی ہیں وہ ذات جو تمام کمالات کی جامع اور تمام نقائص سے پاک ہے لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ میں اسی ذات کا بیان ہے کہ قابل عبادت اس ذات کے سوا کوئی چیز نہیں
دوسرا جملہ ہے ۚ اَلْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ لفظ حَيُّ کے معنی عربی زبان میں ہیں زندہ اسمائے الہیہ میں سے یہ لفظ لاکر یہ بتلانا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ اور باقی رہنے والا ہے وہ موت سے بالاتر ہے لفظ قیوم قیام سے نکلا ہے قیام کے معنے کھڑا ہونا قائم کھڑا ہونے والے کو کہتے ہیں قیوم اور قیام مبالغہ کے صیغے کہلاتے ہیں انکے معنی ہیں وہ جو خود قائم رہ کر دوسروں کو قائم رکھتا اور سنبھالتا ہے قیوم حق تعالیٰ کی خاص صفت ہے جس میں کوئی مخلوق شریک نہیں ہوسکتی کیونکہ جو چیزیں خود اپنے وجود وبقاء میں کسی دوسرے کی محتاج ہوں وہ کسی دوسری چیز کو کیا سنبھال سکتی ہیں ؟ 
اس لئے کسی انسان کو قیوم کہنا جائز نہیں، جو لوگ عبد القیوم کے نام کو بگاڑ کر صرف قیوم بولتے ہیں گنہگار ہوتے ہیں۔اللّه جل شانہ کے اسماء صفات میں حیّ وقیّوم کا مجموعہ بہت سے حضرات کے نزدیک اسم اعظم ہے حضرت علی مرتضیٰ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر میں میں نے ایک وقت یہ چاہا کہ حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو دیکھوں آپ کیا کررہے ہیں پہنچا تو دیکھا کہ آپ سجدہ میں پڑے ہوئے بار بار یاحیُّ یاقیُّوم یاحی یاقیُّوم کہہ رہے ہیں
تیسرا جملہ 
لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ہے لفظ سنۃٌ سین کے زیر کے ساتھ اونگھ کو کہتے ہیں جو نیند کے ابتدائی آثار ہوتے ہیں اور نومٌ مکمل نیند کو اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللّه تعالیٰ اونگھ اور نیند سب سے بری وبالا ہے پچھلے جملے میں لفظ قیوم نے جب انسان کو یہ بتلایا کہ اللّه تعالیٰ سارے آسمانوں، زمینوں اور ان میں سمانے والی تمام کائنات کو تھامے اور سنبھالے ہوئے ہیں اور ساری کائنات اسی کے سہارے قائم ہے تو ایک انسان کا خیال اپنی جبلت و فطرت کے مطابق اس طرف جانا ممکن ہے کہ جو ذات پاک اتنا بڑا کام کررہی ہے اس کو کسی وقت تھکان بھی ہونا چاہئے کچھ وقت آرام اور نیند کے لئے بھی ہونا چاہئے اس دوسرے جملے میں محدود علم و بصیرت اور محدود قدرت رکھنے والے انسان کو اس پر متنبہ کردیا کہ اللّه تعالیٰ کو اپنے اوپر یا دوسری مخلوقات پر قیاس نہ کرے اپنا جیسا نہ سمجھے وہ مثل و مثال سے بالاتر ہے اس کی قدرت کاملہ کے سامنے یہ سارے کام نہ کچھ مشکل ہیں نہ اس کے لئے تکان کا سبب ہیں اور اس کی ذات پاک تمام تاثرات اور تکان وتعب اور اونگھ اور نیند سے بالاتر ہے
چوتھا جملہ ہے لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ اس کے شروع میں لفظ لہ کا لام تملیک کے معنی کے لئے آیا ہے جس کے معنے یہ ہوئے کہ تمام چیزیں جو آسمانوں یا زمین میں ہیں سب اللّه تعالیٰ کی مملوک ہیں وہ مختار ہے جس طرح چاہے ان میں تصرف فرمادے
پانچواں جملہ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ یعنی ایسا کون ہے جو اس کے آگے کسی کی سفارش کرسکے بدون اس کی اجازت کے اس میں چند مسائل بیان فرمادیئے ہیں
اول یہ کہ جب اللّه تعالیٰ تمام کائنات کا مالک ہے کوئی اس سے بڑا اور اس کے اوپر حاکم نہیں تو کوئی اس سے کسی کام کے بارے میں باز پرس کرنے کا بھی حق دار نہیں وہ جو حکم جاری فرمائیں اس میں کسی کو چون وچرا کی مجال نہیں ہاں یہ ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص کسی کی سفارش و شفاعت کرے سو اس کو بھی واضح فرمادیا کہ بارگاہ عزت و جلال میں کسی کو مجال دم زدن نہیں، ہاں کچھ اللّه تعالیٰ کے مقبول بندے ہیں جن کو خاص طور پر کلام اور شفاعت کی اجازت دے دی جائیگی غرض بلا اجازت کوئی کسی کی سفارش و شفاعت بھی نہ کرسکے گا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ محشر میں سب سے پہلے میں ساری امتوں کی شفاعت کروں گا اسی کا نام مقام محمود ہے جو حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے
چھٹا جملہ ہے يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ یعنی اللّه تعالیٰ ان لوگوں کے آگے پیچھے کے تمام حالات و واقعات سے واقف و باخبر ہے آگے اور پیچھے کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے پیدا ہونے سے پہلے اور پیدا ہونے کے بعد کے تمام حالات و واقعات حق تعالیٰ کے علم میں ہیں اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ آگے سے مراد وہ حالات ہیں جو انسان کے لئے کھلے ہوئے ہیں اور پیچھے سے مراد اس سے مخفی واقعات و حالات ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ انسان کا علم تو بعض چیزوں پر ہے اور بعض پر نہیں کچھ چیزیں اس کے سامنے کھلی ہوئی ہیں کچھ چھپی ہوئی مگر اللّه جل شانہ کے سامنے یہ سب چیزیں برابر ہیں اس کا علم ان سب چیزوں کو یکساں محیط ہے اور ان دونوں مفہوموں میں کوئی تعارض نہیں آیت کی وسعت میں یہ دونوں داخل ہیں
ساتواں جملہ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ ہے یعنی انسان اور تمام مخلوقات اللّه کے علم کے کسی حصہ کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے مگر اللّه تعالیٰ ہی خود جس کو جتنا حصہ علم عطا کرنا چاہیں صرف اتنا ہی اس کو علم ہوسکتا ہے اس میں بتلا دیا گیا کہ تمام کائنات کے ذرہ ذرہ کا علم محیط صرف اللّه جل شانہ کی خصوصی صفت ہے انسان یا کوئی مخلوق اس میں شریک نہیں ہوسکتی
آٹھواں جملہ ہے وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ یعنی اس کی کرسی اتنی بڑی ہے جس کی وسعت کے اندر ساتوں آسمان اور زمین سمائے ہوئے ہیں اللّه جل شانہ نشست وبرخاست اور حیز ومکان سے بالاتر ہیں اس قسم کی آیات کو اپنے معاملات پر قیاس نہ کیا جائے اس کی کیفیت و حقیقت کا ادراک انسانی عقل سے بالاتر ہے البتہ مستند روایات حدیث سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ عرش اور کرسی بہت عظیم الشان جسم ہیں جو تمام آسمان اور زمین سے بدرجہا بڑے ہیں، ابن کثیر نے بروایت حضرت ابوذر غفاری نقل کیا ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ کرسی کیا اور کیسی ہے ؟
 آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ساتوں آسمانوں اور زمینوں کی مثال کرسی کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے ایک بڑے میدان میں کوئی حلقہ انگشتری جیسا ڈال دیا جائے۔اور بعض دوسری روایات میں ہے کہ عرش کے سامنے کرسی کی مثال بھی ایسی ہی ہے جسے ایک بڑے میدان میں انگشتری کا حلقہ۔نواں جملہ ہے وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ حِفْظُهُمَا یعنی اللّه تعالیٰ کو ان دونوں عظیم مخلوقات آسمان و زمین کی حفاظت کچھ گراں نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس قادر مطلق کی قدرت کاملہ کے سامنے یہ سب چیزیں نہایت آسان ہیں
دسواں آخری جملہ ہے وَھُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ یعنی وہ عالی شان اور عظیم الشان ہے۔ پچھلے نو جملوں میں حق تعالیٰ کی ذات وصفات کے کمالات بیان ہوئے ہیں ان کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد ہر عقل رکھنے والا انسان یہی کہنے پر مجبور ہے کہ ہر عزت و عظمت اور بلندی و برتری کی مالک وسزا وار وہی ذات پاک ہے ان دس جملوں میں اللّه تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی توحید کا مضمون پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ آگیا۔

آیت    256


لَاۤ اِكۡرَاهَ فِى الدِّيۡنِ‌ۙ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَىِّ‌ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَيُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَكَ بِالۡعُرۡوَةِ الۡوُثۡقٰى لَا انْفِصَامَ لَهَا‌‌ ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ  

لفظی ترجمہ

 لَآ اِكْرَاهَ : نہیں زبردستی   |  فِي : میں   |  الدِّيْنِ : دین   |  قَدْ تَّبَيَّنَ : بیشک جدا ہوگئی   |  الرُّشْدُ : ہدایت   |  مِنَ : سے   |  الْغَيِّ : گمراہی   |  فَمَنْ : پس جو   |  يَّكْفُرْ : نہ مانے   |  بِالطَّاغُوْتِ : گمراہ کرنے والے کو   |  وَيُؤْمِنْ : اور ایمان لائے   |  بِاللّٰهِ : اللّه پر   |  فَقَدِ : پس تحقیق   |  اسْتَمْسَكَ : اس نے تھام لیا   |  بِالْعُرْوَةِ : حلقہ کو   |   الْوُثْقٰى: مضبوطی   |  لَا انْفِصَامَ : لوٹنا نہیں   |  لَهَا : اس کو   |  وَاللّٰهُ : اور اللّه   |  سَمِيْعٌ: سننے والا   |  عَلِيْمٌ: جاننے والا 


ترجمہ

دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط خیالات سے ا لگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللّه پر ایمان لے آیا اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں اور اللّه جس کا سہارا اس نے لیا ہے سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے


تفسیر

دین اسلام کے قبول کرنے میں زبردستی کا فِی نَفسِہ کوئی موقع نہیں کیونکہ ہدایت یقینا گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے یعنی اسلام کا حق ہونا دلائل سے واضح ہوچکا ہے تو اس میں اکراہ کا موقع ہی کیا ہ، اکراہ تو غیر پسندیدہ چیز پر مجبور کرنے سے ہوتا ہے اور جب اسلام کی خوبی یقیناً ثابت ہے تو جو شخص شیطان سے بداعتقاد ہو اور اللّه تعالیٰ کے ساتھ خوش اعتقاد یعنی اسلام قبول کرلے تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کسی طرح ٹوٹ نہیں سکتا اور اللّه تعالیٰ خوب سننے والے ہیں اقوال ظاہری کے اور خوب جاننے والے ہیں احوال باطنی کے اسلام کو مضبوط پکڑنے والا چونکہ ہلاکت اور محرومی سے محفوظ رہتا ہے اس لئے اس کو ایسے شخص سے تشبیہ دی جو کسی مضبوط رسی کا حلقہ ہاتھ میں مضبوط تھام کر گرنے سے مامون رہتا ہے اور جس اسلام میں کسی قسم کی ہلاکت اور خسران نہیں ہے اور خود کوئی اسلام کو ہی چھوڑ دے تو اور بات ہے 
         (بیان القرآن) 
اس آیت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں زبردستی نہیں ہے حالانکہ اسلام میں جہاد اور قتال کی تعلیم اس کے معارض ہے۔اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اعتراض صحیح نہیں ہے اس لئے کہ اسلام میں جہاد اور قتال کی تعلیم لوگوں کو قبول ایمان پر مجبور کرنے کے لیے نہیں ہے ورنہ جزیہ لے کر کفار کو اپنی ذمہ داری میں رکھنے اور ان کی جان ومال وآبرو کی حفاظت کرنے کے اسلامی احکام کیسے جاری ہوتے بلکہ دفع فساد کے لئے ہے کیونکہ فساد اللّه تعالیٰ کو ناپسند ہے جس کے درپے کافر رہتے ہیں چناچہ اللّه تعالیٰ فرماتے ہیںوَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ
                       (٦٤: ٥) 
یہ لوگ زمین میں فساد کرتے پھرتے ہیں اور اللّه تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اس لئے اللّه تعالیٰ نے جہاد اور قتال کے ذریعے سے ان لوگوں کے فساد کو دور کرنے کا حکم دیا ہے پس ان لوگوں کا قتل ایسا ہی ہے جیسے سانپ، بچھو اور دیگر موذی جانوروں کا قتل
اسلام نے عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور اپاہج وغیرہ کے قتل کو عین میدان جہاد میں بھی سختی سے روکا ہے کیونکہ وہ فساد کرنے پر قادر نہیں ہوتے ایسے ہی ان لوگوں کے بھی قتل کرنے کو روکا ہے جو جزیہ ادا کرنے کا وعدہ کرکے قانون کے پابند ہوگئے ہوں
اسلام کے اس طرز عمل سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ جہاد اور قتال سے لوگوں کو ایمان قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ اس سے وہ دنیا میں ظلم وستم کو مٹا کر عدل و انصاف اور امن وامان قائم رکھنا چاہتا ہے حضرت عمر نے ایک نصرانی بڑھیا کو اسلام کی دعوت دی تو اس کے جواب میں اس نے کہا اَنَا عَجُوزٌ کبَیرۃ والمَوت الی قریبٌ، یعنی میں ایک قریب المرگ بڑہیا ہوں آخری وقت میں اپنا مذہب کیوں چھوڑوں ؟ حضرت عمر نے یہ سن کر اس کو ایمان پر مجبور نہیں کیا بلکہ یہی آیت تلاوت فرمائی لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ یعنی دین میں زبردستی نہیں ہے۔درحقیقت ایمان کے قبول پر جبر واکراہ ممکن بھی نہیں ہے اس لئے کہ ایمان کا تعلق ظاہری اعضاء سے نہیں ہے بلکہ قلب کے ساتھ ہے اور جبرو اکراہ کا تعلق صرف ظاہری اعضاء سے ہوتا ہے اور جہاد و قتال سے صرف ظاہری


آیت   257


اَللّٰهُ وَلِىُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ‌ؕ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَوۡلِيٰٓــئُهُمُ الطَّاغُوۡتُۙ يُخۡرِجُوۡنَهُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ‌ؕ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ  


لفظی ترجمہ

 اَللّٰهُ : اللّه   |  وَلِيُّ : مددگار   |  الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے   |  يُخْرِجُهُمْ : وہ انہیں نکالتا ہے   |  مِّنَ : سے   |  الظُّلُمٰتِ : اندھیروں (جمع)  |  اِلَى: طرف   |  النُّوْرِ : روشنی   |  وَ : اور   |  الَّذِيْنَ : جو لوگ   |  كَفَرُوْٓا : کافر ہوئے   |  اَوْلِيٰٓئُھُمُ : ان کے ساتھی   |  الطَّاغُوْتُ : گمراہ کرنے والے   |  يُخْرِجُوْنَھُمْ : وہ انہیں نکالتے ہیں   |  مِّنَ : سے   |  النُّوْرِ : روشنی   |  اِلَى: طرف   |  الظُّلُمٰتِ : اندھیرے (جمع)  |  اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ   |  اَصْحٰبُ النَّارِ : دوزخی   |  ھُمْ : وہ   |  فِيْهَا : اس میں   |  خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہیں گے 

ترجمہ

جو لوگ ایمان لاتے ہیں اُن کا حامی و مددگار اللّه ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں اُن کے حامی و مدد گار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے


تفسیر

اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا (الیٰ قولہ) خٰلِدُوْنَ
 اللّه تعالیٰ ساتھی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ان کو کفر کی تاریکیوں سے نکال کر یا بچاکر نور اسلام کی طرف لاتا ہے اور جو لوگ کافر ہیں ان کے ساتھی شیاطین ہیں انس یا جن وہ ان کو نور اسلام سے نکال کر یا بچاکر کفر کی تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں ایسے لوگ جو اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار کریں دوزخ میں رہنے والے ہیں اور یہ لوگ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے 
آیت سے ایمان کا سب سے بڑی نعمت اور کفر کا سب سے بڑی مصیبت ہونا بھی معلوم ہوا اور یہ کہ کافروں کی دوستی میں بھی ظلمت ہے۔




No comments:

Powered by Blogger.