Surah Baqrah Aayat 258-260 Rukoo 35

آیات  260 - 258 
رکوع 35


آیت 258


اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِىۡ حَآجَّ اِبۡرٰهٖمَ فِىۡ رَبِّهٖۤ اَنۡ اٰتٰٮهُ اللّٰهُ الۡمُلۡكَ‌ۘ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّىَ الَّذِىۡ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُۙ قَالَ اَنَا اُحۡىٖ وَاُمِيۡتُ‌ؕ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ يَاۡتِىۡ بِالشَّمۡسِ مِنَ الۡمَشۡرِقِ فَاۡتِ بِهَا مِنَ الۡمَغۡرِبِ فَبُهِتَ الَّذِىۡ كَفَرَ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ‌ۚ  

لفظی ترجمہ

 اَلَمْ تَرَ : کیا نہیں دیکھا آپ نے   |  اِلَى: طرف   |  الَّذِيْ : وہ شخص جو   |  حَآجَّ : جھگڑا کیا   |  اِبْرٰھٖمَ : ابراہیم   |  فِيْ : بارہ (میں)  |  رَبِّهٖٓ : اس کا رب   |  اَنْ : کہ   |  اٰتٰىهُ : اسے دی   |  اللّٰهُ : اللّه   |  الْمُلْكَ : بادشاہت   |  اِذْ : جب   |  قَالَ : کہا   |  اِبْرٰھٖمُ : ابراہیم   |  رَبِّيَ : میرا رب   |  الَّذِيْ : جو کہ   |  يُحْيٖ : زندہ کرتا ہے   |  وَيُمِيْتُ : اور مارتا ہے   |  قَالَ : اس نے کہا   |  اَنَا : میں   |  اُحْيٖ : زندہ کرتا ہوں   |  وَاُمِيْتُ : اور میں مارتا ہوں   |  قَالَ : کہا   |  اِبْرٰھٖمُ :ابراہیم  |  فَاِنَّ : بیشک   |  اللّٰهَ : اللّه   |  يَاْتِيْ : لاتا ہے   |  بِالشَّمْسِ : سورج کو   |  مِنَ : سے   |  الْمَشْرِقِ : مشرق   |  فَاْتِ بِهَا : پس تو اسے لے آ   |  مِنَ : سے   |  الْمَغْرِبِ : مغرب   |  فَبُهِتَ : تو وہ حیران رہ گیا   |  الَّذِيْ كَفَرَ : جس نے کفر کیا (کافر)  |  وَاللّٰهُ : اور اللّه   |  لَا يَهْدِي : نہیں ہدایت دیتا   |  الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : ناانصاف لوگ 

ترجمہ

کیا تم نے اُس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیمؑ سے جھگڑا کیا تھا؟ جھگڑا اِس بات پر کہ ابراہیمؑ کا رب کون ہے اور اس بنا پر کہ اس شخص کو اللّه نے حکومت دے رکھی تھی جب ابراہیمؑ نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے تو اُس نے جواب دیا زندگی اور موت میرے اختیار میں ہےابراہیمؑ نے کہا اچھا اللّه سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو ذرا اُسے مغرب سے نکال لا یہ سن کر وہ منکر حق ششدر رہ گیا مگر اللّه ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا


تفسیر

اے مخاطب کیا تجھ کو اس شخص کا قصہ تحقیق نہیں ہوا یعنی نمرود کا جس نے ابراہیم علیہ السلام سے مباحثہ کیا تھا اپنے پروردگار کے وجود کے بارے میں یعنی توبہ توبہ وہ خدا کے وجود ہی کا منکر تھا اس وجہ سے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو سلطنت دی تھی یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ نعمت سلطنت پر احسان مانتا اور ایمان لاتا اس کے برعکس انکار اور کفر شروع کردیا اور یہ مباحثہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ابراہیم علیہ السلام نے اس کے پوچھنے پر کہ خدا کیسا ہے کہ جواب میں فرمایا کہ میرا پروردگار ایسا ہے کہ وہ جلاتا ہے اور مارتا ہے یعنی زندہ کرنا اور مارنا اس کی قدرت میں ہے وہ کوڑھ مغز جلانے مارنے کا مطلب تو سمجھا نہیں کہنے لگا کہ یہ کام تو میں بھی کرسکتا ہوں کہ میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں چنانچہ جس کو چاہوں قتل کردوں یہ تو مارنا ہے اور جس کو چاہوں قتل سے معاف کردوں یہ جلانا ہے ابراہیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ بالکل ہی بھدّی عقل کا ہے کہ اس کو جلانا اور مارنا سمجھتا ہے حالانکہ جلانے کی حقیقت بےجان چیز میں جان ڈال دینا ہے اسی طرح مارنے کا معاملہ سمجھو اور قرائن سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ جلانے اور مارنے کی حقیقت سمجھے گا نہیں اس لئے اس ضرورت سے دوسرے جواب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اچھا اللّه تعالیٰ آفتاب کو روزانہ مشرق سے نکالتا ہے تو ایک ہی دن مغرب سے نکال کر دکھلا اس پر متحیر رہ گیا وہ کافر اور کچھ جواب نہ بن آیا اس کا متقضی یہ تھا کہ وہ ہدایت کو قبول کرتا مگر وہ اپنی گمراہی پر جما رہا اس لئے ہدایت نہ ہوئی اور اللّه تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے بےجا راہ چلنے والوں کو ہدایت نہیں فرماتے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب اللّه تعالیٰ کسی کافر کو دنیاوی عزت وشرف اور ملک و سلطنت عطاء کردیں تو اس نام سے تعبیر کرنا جائز ہے نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت مناظرہ اور مجادلہ کرنا بھی جائز ہے تاکہ حق و باطل میں فرق ظاہر ہوجائے
        (قرطبی) 
بعضوں کو یہ شبہ ہوا کہ اس کو یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ اگر خدا موجود ہے وہی مغرب سے نکالے دفع اس شبہ کا یہ ہے کہ اس کے قلب میں بلا اختیار یہ بات پڑگئی کہ خدا ضرور ہے اور یہ مشرق سے نکالنا اسی کا فعل ہے اور وہ مغرب سے بھی نکال سکتا ہے اور یہ شخص پغمبر ہے اس کے کہنے سے ضرور ایسا ہوگا اور ایسا ہونے سے انقلاب عظیم عالم میں پیدا ہوگا کہیں اور لینے کے دینے نہ پڑجائیں مثلا لوگ اس معجزے کو دیکھ کر مجھ سے منحرف ہو کر ان کی راہ پر ہولیں ذرا سی حجت میں سلطنت جاتی رہے، یہ جواب تو اس لئے نہ دیا اور دوسرا کوئی جواب تھا نہیں اس لئے حیران رہ گیا 
            (بیان القرآن )


آیت     259


اَوۡ كَالَّذِىۡ مَرَّ عَلٰى قَرۡيَةٍ وَّ هِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا ‌ۚ قَالَ اَنّٰى يُحۡىٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ‌ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ ‌ؕ قَالَ كَمۡ لَبِثۡتَ‌ؕ قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ‌ؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَةَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمۡ يَتَسَنَّهۡ‌ۚ وَانْظُرۡ اِلٰى حِمَارِكَ وَلِنَجۡعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ‌ وَانْظُرۡ اِلَى الۡعِظَامِ كَيۡفَ نُـنۡشِزُهَا ثُمَّ نَكۡسُوۡهَا لَحۡمًا ‌ؕ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ 


لفظی ترجمہ

 اَوْ : یا   |  كَالَّذِيْ : اس شخص کے مانند جو   |  مَرَّ : گزرا   |  عَلٰي : پر سے   |  قَرْيَةٍ : ایک بستی   |  وَّهِيَ : اور وہ   |  خَاوِيَةٌ: گر پڑی تھی   |  عَلٰي عُرُوْشِهَا : اپنی چھتوں پر   |  قَالَ : اس نے کہا   |  اَنّٰى: کیونکر   |  يُحْيٖ : زندہ کریگا   |  ھٰذِهِ : اس   |  اللّٰهُ : اللّه   |  بَعْدَ : بعد   |  مَوْتِهَا : اس کا مرنا   |  فَاَمَاتَهُ : تو اس کو مردہ رکھا   |  اللّٰهُ : اللّه   |  مِائَةَ : ایک سو   |  عَامٍ : سال   |  ثُمَّ : پھر   |  بَعَثَهٗ : اسے اٹھایا   |  قَالَ : اس نے پوچھا   |  كَمْ لَبِثْتَ : کتنی دیر رہا   |  قَالَ : اس نے کہا   |  لَبِثْتُ : میں رہا   |  يَوْمًا : ایک دن   |  اَوْ : یا   |  بَعْضَ يَوْمٍ : دن سے کچھ کم   |  قَالَ : اس نے کہا   |  بَلْ : بلکہ   |  لَّبِثْتَ : تو رہا   |  مِائَةَ عَامٍ : ایک سو سال   |  فَانْظُرْ : پس تو دیکھ   |  اِلٰى: طرف   |  طَعَامِكَ : اپنا کھانا   |  وَشَرَابِكَ : اور اپنا پینا   |  لَمْ يَتَسَنَّهْ : وہ نہیں سڑ گیا   |  وَانْظُرْ : اور دیکھ   |  اِلٰى: طرف   |  حِمَارِكَ : اپنا گدھا   |  وَلِنَجْعَلَكَ : اور ہم تجھے بنائیں گے   |  اٰيَةً : ایک نشانی   |  لِّلنَّاسِ : لوگوں کے لیے   |  وَانْظُرْ : اور دیکھ   |  اِلَى: طرف   |  الْعِظَامِ : ہڈیاں   |  کَيْفَ : کس طرح   |  نُنْشِزُھَا : ہم انہیں جوڑتے ہیں   |  ثُمَّ : پھر   |  نَكْسُوْھَا : ہم اسے پہناتے ہیں   |  لَحْمًا : گوشت   |  فَلَمَّا : پھر جب   |  تَبَيَّنَ : واضح ہوگیا   |  لَهٗ : اس پر   |  قَالَ : اس نے کہا   |  اَعْلَمُ : میں جان گیا   |  اَنَّ : کہ   |  اللّٰهَ : اللّه   |  عَلٰي : پر   |  كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز   |  قَدِيْرٌ: قدرت والا 


ترجمہ

یا پھر مثال کے طور پر اُس شخص کو دیکھو جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری پڑی تھی اُس نے کہا یہی آبادی جو ہلاک ہو چکی ہے اسے اللّه کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟ اس پر اللّه نے اس کی روح قبض کر لی اور وہ سوبرس تک مُردہ پڑا رہا پھر اللّه نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا بتاؤ کتنی مدت پڑے رہے ہو؟ اُس نے کہا ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا
 فرمایا تم پر سو برس اِسی حالت میں گزر چکے ہیں اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا ہے دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو کہ( اِس کا پنجر تک بوسید ہ ہو رہا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اِس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہو گئی تو اس نے کہا میں جانتا ہوں کہ اللّه ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

تفسیر 

اَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰي قَرْيَةٍ وَّهِيَ خَاوِيَةٌ (الی ٰ قولہ) اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
 کیا تم کو اس طرح کا قصہ بھی معلوم ہے جیسے ایک شخص تھا کہ چلتے چلتے ایک بستی پر ایسی حالت میں اس کا گذر ہوا کہ اس کے مکانات اپنی چھتوں پر گرگئے تھے یعنی پہلے چھتیں گریں پھر ان پر دیواریں گر گئیں مراد یہ ہے کہ کسی حادثہ سے وہ بستی ویران ہوگئی تھی، اور سب آدمی مر مرا گئے وہ شخص یہ حالت دیکھ کر حیرت سے کہنے لگا کہ معلوم نہیں اللّه تعالیٰ اس بستی کو یعنی اس کے مردوں کو اس کے مرے پیچھے کس کیفیت سے قیامت میں زندہ کریں گے یہ تو یقین تھا کہ اللّه تعالیٰ میں مردوں کو جلادیں گے مگر اس وقت کے جلانے کا جو خیال غالب ہوا تو بوجہ اس امر کے عجیب ہونے کے ایک حیرت سی دل میں غالب ہوگئی اور چونکہ خدا تعالیٰ ایک کام کو کئی طرح کرسکتے ہیں اس لئے طبیعت اس کی متلاشی ہوئی کہ خدا جانے جلا دینا کس صورت سے ہوگا ؟ اللّه تعالیٰ کو منظور ہوا کہ اس کا تماشا اس کو دنیا ہی میں دکھلا دیں تاکہ ایک نظیر کے واقع ہوجانے سے لوگوں کو زیادہ ہدایت ہو سو اس لئے اللّه تعالیٰ نے اس شخص کی جان قبض کرکے اس کو سو برس تک مردہ رکھا پھر سو برس کے بعد اس کو زندہ اٹھایا اور پھر پوچھا کہ تو کتنی مدت اس حالت میں رہا ؟ اس شخص نے جواب دیا کہ ایک دن رہا ہوں گا یا ایک دن سے بھی کم کنایہ ہے مدت قلیل سے اللّه تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تو اس حالت میں سو برس رہا ہے اور اگر آپ نے بدن کے اندر تغیر نہ ہونے سے تعجب ہو تو اپنے کھانے پینے کی چیز کو دیکھ لے کہ ذرا نہیں سڑی گلی ایک قدرت تو ہماری یہ ہے اور دوسری قدرت دیکھنے کے واسطے اپنے سواری کے گدھے کی طرف نظر کر کہ گل سڑ کر کیا حال ہوگیا ہے اور ہم عنقریب اس کو تیرے سامنے زندہ کئے دیتے ہیں اور ہم نے تجھ کو اس لئے مار کر زندہ کیا ہے تاکہ ہم تجھ کو اپنی قدرت کی ایک نظیر لوگوں کے لئے بنادیں کہ اس نظیر سے بھی قیامت کے روز زندہ ہونے پر استدلال کرسکیں اور اب اس گدھے کی ہڈیوں کی طرف نظر کر کہ ہم ان کو کس طرح ترکیب دیئے دیتے ہیں پھر ان پر گوشت چڑھا دیتے ہیں پھر اس میں جان ڈال دیتے ہیں غرض یہ سب امور یوں ہی کردیئے گئے پھر جب یہ سب کیفیت اس شخص کو مشاہدہ سے واضح ہوگئی تو بےاختیار جوش میں آکر کہہ اٹھا کہ میں دل سے یقین رکھتا ہوں کہ بیشک اللّه تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔

آیت    260

وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِىۡ كَيۡفَ تُحۡىِ الۡمَوۡتٰى ؕ قَالَ اَوَلَمۡ تُؤۡمِنۡ‌ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰـكِنۡ لِّيَطۡمَئِنَّ قَلۡبِىۡ‌ؕ قَالَ فَخُذۡ اَرۡبَعَةً مِّنَ الطَّيۡرِ فَصُرۡهُنَّ اِلَيۡكَ ثُمَّ اجۡعَلۡ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنۡهُنَّ جُزۡءًا ثُمَّ ادۡعُهُنَّ يَاۡتِيۡنَكَ سَعۡيًا ‌ؕ وَاعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ  


لفظی ترجمہ

 وَاِذْ : اور جب   |  قَالَ : کہا   |  اِبْرٰھٖمُ : ابراہیم   |  رَبِّ : میرے رب   |  اَرِنِيْ : مجھے دکھا   |  كَيْفَ : کیونکر   |  تُحْيِ : تو زندہ کرتا ہے   |  الْمَوْتٰى: مردہ   |  قَالَ : اس نے کہا   |  اَوَلَمْ : کیا نہیں   |  تُؤْمِنْ : یقین کیا   |  قَالَ : اس نے کہا   |  بَلٰي : کیوں نہیں   |  وَلٰكِنْ : بلکہ   |  لِّيَطْمَئِنَّ : تاکہ اطمینان ہوجائے   |  قَلْبِىْ : میرا دل   |  قَالَ : اس نے کہا   |  فَخُذْ : پس پکڑ لے   |  اَرْبَعَةً : چار   |  مِّنَ : سے   |  الطَّيْرِ : پرندے   |  فَصُرْھُنَّ : پھر ان کو ہلا   |  اِلَيْكَ : اپنے ساتھ   |  ثُمَّ : پھر   |  اجْعَلْ : رکھ دے   |  عَلٰي : پر   |  كُلِّ : ہر   |  جَبَلٍ : پہاڑ   |  مِّنْهُنَّ : ان سے (انکے)  |  جُزْءًا : ٹکڑے   |  ثُمَّ : پھر   |  ادْعُهُنَّ : انہیں بلا   |  يَاْتِيْنَكَ : وہ تیرے پاس آئینگے   |  سَعْيًا : دوڑتے ہوئے   |  وَاعْلَمْ : اور جان لے   |  اَنَّ : کہ   |  اللّٰهَ : اللّه   |  عَزِيْزٌ: غالب   |  حَكِيْمٌ: حکمت والا 

ترجمہ

اور وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے جب ابراہیمؑ نے کہا تھا کہ میرے مالک مجھے دکھا دے تو مُردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے فرمایا کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ اُس نے عرض کیا ایمان تو رکھتا ہوں مگر دل کا اطمینان درکار ہے  فرمایا اچھا تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے سے مانوس کر لے پھر ان کا ایک ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے پھر ان کو پکار وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیں گے خوب جان لے کہ اللّه نہایت با اقتدار اور حکیم ہے

تفسیر

اور اس وقت کے واقعہ کو یاد کرو جبکہ ابراہیم علیہ السلام نے حق تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھ کو یہ دکھلا دیجئے کہ آپ مردوں کو قیامت میں مثلا کس کیفیت سے زندہ کریں گے یعنی زندہ کرنے کا یقین ہے لیکن زندہ کرنے کی مختلف صورتیں اور کیفیتیں ہوسکتی ہیں وہ معلوم نہیں اس لئے وہ معلوم کرنے کو دل چاہتا ہے اس سوال سے کسی کم سمجھ آدمی کو اس کا شبہ ہوسکتا تھا کہ معاذ اللّه ابراہیم علیہ السلام کو مرنے کے بعد زندہ ہونے پر ایمان و یقین نہیں اس لئے حق تعالیٰ نے خود یہ سوال قائم کرکے بات کھول دی۔ چناچہ ابراہیم علیہ السلام سے اس سوال کے جواب میں اول ارشاد فرمایا کہ کیا تم اس پر یقین نہیں لاتے انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ یقین کیوں نہ لاتا لیکن اس غرض سے یہ درخواست کرتا ہوں تاکہ میرے قلب کو معین صورت زندہ کرنے کی مشاہدہ کرنے سے سکون ہوجاۓ ذہن دوسرے احتمالات سے چکر میں نہ پڑے ارشاد ہوا کہ اچھا تو تم چار پرندے لو پھر ان کو پال کر اپنے لئے ہلالو تاکہ ان کی خوب شناخت ہوجاۓ پھر سب کو ذبح کرکے اور ہڈیوں پروں سمیت ان کا قیمہ سا کرکے اس کے کئی حصے کرو اور کئی پہاڑ اپنی مرضی سے انتخاب کرکے ہر پہاڑ پر ان میں سے ایک ایک حصہ رکھ دو اور پھر ان سب کو بلاؤ دیکھو تمہارے پاس زندہ ہوکر دوڑے دوڑے چلے آئیں گے اور خوب یقین رکھو اس بات کا کہ حق تعالیٰ زبردست قدرت والے ہیں سب کچھ کرسکتے ہیں پھر بھی بعض باتیں نہیں کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ حکمت والے بھی ہیں ہر کام حکمت و مصلحت کے مطابق کرتے ہیں حضرت خلیل اللّه کی درخواست حیات بعد الموت کا مشاہدہ اور شبہات کا ازالہ یہ تیسرا قصہ ہے جو آیت مذکورہ میں بیان فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خلیل اللّه حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حق تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ مجھے اس کا مشاہدہ کرا دیجئے کہ آپ مردوں کو کس طرح زندہ کریں گے ؟ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اس درخواست کی کیا وجہ ہے ؟ کیا آپ کو ہماری قدرت کاملہ پر یقین نہیں کہ وہ ہر چیز پر حاوی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا واقعی حال عرض کیا کہ یقین تو کیسے نہ ہوتا کیونکہ آپ کی قدرت کاملہ کے مظاہر ہر لحظہ ہر آن مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں اور غور وفکر کرنے والے کے لئے جس کام کا مشاہدہ نہ ہو خواہ وہ کتنا ہی یقینی ہو اس میں اس کے خیالات منتشر رہتے ہیں کہ یہ کیسے اور کس طرح ہوگا ؟ یہ ذہنی انتشار سکون قلب اور اطمینان میں خلل انداز ہوتا ہے اس لئے یہ مشاہدہ کی درخواست کی گئی کہ احیاء موتی کی مختلف صورتوں اور کیفیتوں میں ذہنی انتشار واقع نہ ہو کر قلب کو سکون و اطمینان حاصل ہوجائے۔حق تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول فرما کر ان کے مشاہدہ کی بھی ایک ایسی عجیب صورت تجویز فرمائی جس میں منکرین کے تمام شبہات وخدشات کے ازالہ کا بھی مشاہدہ ہوجائے وہ صورت یہ تھی کہ آپ کو حکم دیا گیا کہ چار پرندے جانور اپنے پاس جمع کرلیں پھر ان کو پاس رکھ کر ہلالیں کہ وہ ایسے ہل جائیں کہ آپ کے بلانے سے آجایا کریں اور ان کی پوری طرح شناخت بھی ہوجائے یہ شبہ نہ رہے کہ شاید کوئی دوسرا پرندہ آگیا ہو پھر ان چاروں کو ذبح کرکے




No comments:

Powered by Blogger.