Surah Baqrah Aayat 264-266

آیات  266 - 264 


آیت 264 

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِكُمۡ بِالۡمَنِّ وَالۡاَذٰىۙ كَالَّذِىۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلۡدًا ‌ؕ لَا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَىۡءٍ مِّمَّا كَسَبُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ 


لفظی ترجمہ

 يٰٓاَيُّهَا : اے   |  الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : ایمان والو   |  لَا تُبْطِلُوْا : نہ ضائع کرو   |  صَدَقٰتِكُمْ : اپنے خیرات   |  بِالْمَنِّ : احسان جتلا کر   |  وَالْاَذٰى: اور ستانا   |  كَالَّذِيْ : اس شخص کی طرح جو   |  يُنْفِقُ : خرچ کرتا   |  مَالَهٗ : اپنا مال   |  رِئَآءَ : دکھلاوا   |  النَّاسِ : لوگ   |  وَلَا يُؤْمِنُ : اور ایمان نہیں رکھتا   |  بِاللّٰهِ : اللّه پر   |  وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخرت کا دن   |  فَمَثَلُهٗ : پس اس کی مثال   |  كَمَثَلِ : جیسی مثال   |  صَفْوَانٍ : چکنا پتھر   |  عَلَيْهِ : اس پر   |  تُرَابٌ: مٹی   |  فَاَصَابَهٗ : پھر اس پر برسے   |  وَابِلٌ: تیز بارش   |  فَتَرَكَهٗ : تو اسے چھور دے   |  صَلْدًا : صاف   |  لَا يَقْدِرُوْنَ : وہ قدرت نہیں رکھتے   |  عَلٰي : پر   |  شَيْءٍ : کوئی چیز   |  مِّمَّا : اس سے جو   |  كَسَبُوْا : انہوں نے کمایا   |  وَاللّٰهُ : اور اللّه   |  لَا يَهْدِي : راہ نہیں دکھاتا   |  الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کی قوم 

ترجمہ

اے ایمان لانے والو اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اُس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللّه پر ایما ن رکھتا ہے نہ آخرت پر اُس کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان تھی جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی اس پر جب زور کا مینہ برسا تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں اس سے کچھ بھی اُن کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللّه کا دستور نہیں ہے


تفسیر

چوتھی آیت میں اسی مضمون کو دوسرے عنوان سے اور بھی تاکید کے ساتھ اس طرح ارشاد فرمایا کہ اپنے صدقات کو برباد نہ کرو زبان سے احسان جتلا کر یا برتاؤ سے ایذاء پہنچا کر

اس سے واضح ہوگیا کہ جس صدقہ و خیرات کے بعد احسان جتلانے یا مستحقین کو ایذاء پہنچانے کی صورت ہوجائے وہ صدقہ باطل کالعدم ہے اس پر کوئی ثواب نہیں
 اس آیت میں صدقہ کے قبول ہونے کی ایک اور شرط کا اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جو شخص لوگوں کے دکھاوے اور نام ونمود کے واسطے خرچ کرتا ہے اور اللّه تعالیٰ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی صاف پتھر پر کچھ مٹی جم جائے اور اس میں کوئی دانہ بوئے پھر اس پر زور کی بارش پڑجائے اور وہ اس کو بالکل صاف کردے ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا بھی ہاتھ نہ لگے گی اور اللّه تعالیٰ کافر لوگوں کو راستہ نہ دکھلائیں گے اس سے قبولیت صدقہ و خیرات کی یہ شرط معلوم ہوئی کہ خالص اللّه تعالیٰ کی رضاجوئی اور ثواب آخرت کی نیت سے خرچ کرے دکھلاوے یا نام ونمود کی نیت سے نہ ہو نام ونمود کی نیت سے خرچ کرنا اپنے مال کو برباد کرنا ہے اور آخرت پر ایمان رکھنے والا مومن بھی اگر کوئی خیرات محض نام ونمود اور ریاء کے لئے کرتا ہے تو اس کا بھی یہی حال ہے کہ اس کو کوئی ثواب نہیں ملتا پھر اس جگہ لَا يُؤ ْمِنُ کے اضافہ سے شاید اس طرف اشارہ کرنا منظور ہے کہ ریاء کاری اور نام ونمود کے لئے کام کرنا اس شخص سے متصور ہی نہیں جو اللّه تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے ریاء کاری اس کے ایمان میں خلل کی علامت ہے۔آیت کے آخر میں جو یہ ارشاد ہے کہ اللّه تعالیٰ کافر لوگوں کو راستہ نہ دکھائیں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللّه تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایات اور آیات جو سب انسانوں کے لئے عام ہیں کافر جو ان ہدایات پر نظر نہیں کرتے بلکہ تمسخر اور استہزاء کرتے ہیں اس کے نتیجہ میں اللّه تعالیٰ ان کو توفیق سے محروم کردیتے ہیں جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی ہدایت قبول نہیں کرتے



آیت  265


وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثۡبِيۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ كَمَثَلِ جَنَّةٍۢ بِرَبۡوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ‌ۚ فَاِنۡ لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ 
 

لفظی ترجمہ

 وَمَثَلُ : اور مثال   |  الَّذِيْنَ : جو لوگ   |  يُنْفِقُوْنَ : خرچ کرتے ہیں   |  اَمْوَالَھُمُ : اپنے مال   |  ابْتِغَآءَ : حاصل کرنا   |  مَرْضَاتِ : خوشنودی   |  اللّٰهِ : اللّه   |  وَتَثْبِيْتًا : اور ثبات و یقین   |  مِّنْ : سے   |  اَنْفُسِهِمْ : اپنے دل (جمع)  |  كَمَثَلِ : جیسے   |  جَنَّةٍۢ: ایک باغ   |  بِرَبْوَةٍ : بلندی پر   |  اَصَابَهَا : اس پر پری   |  وَابِلٌ: تیز بارش   |  فَاٰ تَتْ : تو اس نے دیا   |  اُكُلَهَا : پھل   |  ضِعْفَيْنِ : دوگنا   |  فَاِنْ : پھر اگر   |  لَّمْ يُصِبْهَا : نہ پڑی   |  وَابِلٌ: تیز بارش   |  فَطَلٌّ: تو پھوار   |  وَاللّٰهُ : اور اللّه   |  بِمَا : جو   |  تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو   |  بَصِيْرٌ: دیکھنے والا 

ترجمہ

بخلا ف اِس کے جو لو گ اپنے مال محض اللّه کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو اگر زور کی بار ش ہو جائے تو دو گنا پھل لائے اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اُس کے لیے کافی ہو جائے تم جو کچھ کرتے ہو سب اللّه کی نظر میں ہے

تفسیر

پانچویں آیت میں صدقہ مقبولہ اور انفاق مقبول کی ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جو لوگ اپنے مال خالص اللّه تعالیٰ کی رضاجوئی کی نیت سے خرچ کرتے ہیں کہ اپنے نفسوں میں پختگی پیدا کریں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی باغ ہو کسی ٹیلے پر اور اس پر زور کی بارش پڑی ہو پھر وہ اپنا پھل لایا ہو دو چند اور اگر ایسے زور کی بارش بھی نہ پڑے تو ہلکی پھوار بھی اس کے لئے کافی ہے، اور اللّه تعالیٰ تمہارے کاموں کو خوب دیکھتے جانتے ہیں
اس میں اخلاص نیت اور رعایت شرائط مذکورہ کے ساتھ اللّه تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی بڑی فضیلت اس مثال سے واضح کردی گئی کہ نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ تھوڑا بھی خرچ کیا جائے تو وہ کافی اور موجب ثمرات آخرت ہے۔


آیت    266


اَيَوَدُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُۙ لَهٗ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِۙ وَاَصَابَهُ الۡكِبَرُ وَلَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ  ۖۚ فَاَصَابَهَاۤ اِعۡصَارٌ فِيۡهِ نَارٌ فَاحۡتَرَقَتۡ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُوۡنَ  



لفظی ترجمہ

 اَيَوَدُّ : کیا پسند کرتا ہے   |  اَحَدُكُمْ : تم میں سے کوئی   |  اَنْ : کہ   |  تَكُوْنَ : ہو   |  لَهٗ : اس کا   |  جَنَّةٌ: ایک باغ   |  مِّنْ : سے (کا)  |  نَّخِيْلٍ : کھجور   |  وَّاَعْنَابٍ : اور انگور   |  تَجْرِيْ : بہتی ہو   |  مِنْ : سے   |  تَحْتِهَا : اس کے نیچے   |  الْاَنْهٰرُ : نہریں   |  لَهٗ : اس کے لیے   |  فِيْهَا : اس میں   |  مِنْ : سے   |  كُلِّ الثَّمَرٰتِ : ہر قسم کے پھل   |  وَاَصَابَهُ : اور اس پر آگیا   |  الْكِبَرُ : بڑھاپا   |  وَلَهٗ : اور اس کے   |  ذُرِّيَّةٌ: بچے   |  ضُعَفَآءُ : بہت کمزور   |  فَاَصَابَهَآ : تب اس پر پڑا   |  اِعْصَارٌ: ایک بگولا   |  فِيْهِ : اس میں   |  نَارٌ: آگ   |  فَاحْتَرَقَتْ : تو وہ جل گیا   |  كَذٰلِكَ : اسی طرح   |  يُبَيِّنُ : واضح کرتا ہے   |  اللّٰهُ : اللّه   |  لَكُمُ : تمہارے لیے   |  الْاٰيٰتِ : نشانیاں   |  لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم   |  تَتَفَكَّرُوْنَ : غور وفکر کرو 


ترجمہ

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو نہروں سے سیراب کھجوروں اور انگوروں اور ہرقسم کے پھلوں سے لدا ہوا اور وہ عین اُس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آ کر جھلس جائے جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کم سن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟ اس طرح اللّه اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے شاید کہ تم غور و فکر کرو



تفسیر

چھٹی آیت میں صدقہ و خیرات میں شرائط مذکورہ کی خلاف ورزی کرنے پر صدقہ کے باطل و مردود ہونے کا بیان بھی ایک مثال میں اس طرح واضح فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجور اور انگوروں کا اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور اس شخص کے باغ میں ہر قسم کے میوے ہوں اور اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو اور اس کے اہل و عیال بھی ہوں جن میں قوت نہیں ان حالات میں اس باغ پر ایک بگولہ آئے میں جس میں آگ ہو پھر وہ باغ جل جائے اللّه تعالیٰ اسی طرح نظائر بیان فرماتے ہیں تمہارے لئے تاکہ تم سوچا کرو
مطلب یہ ہے کہ خلاف شرائط صدقہ کرنے کی مثال ایسی ہی ہے کہ بظاہر وہ صدقہ کرکے آخرت کے لئے بہت سا ذخیرہ جمع کر رہا ہے لیکن اللّه تعالیٰ کے نزدیک یہ ذخیرہ کچھ بھی کام نہیں آتا
اور اس کی مثال میں جو چند قیدیں بڑھائی گئیں کہ اس کا بڑھاپا آگیا اس کے اولاد بھی ہے اور اولاد بھی چھوٹے بچے جو ضعیف کمزور ہیں ان قیدوں کا مقصد یہ ہے کہ جوانی کی حالت میں کسی کا باغ یا کھیتی جل جائے تو اسے یہ امید ہوسکتی ہے کہ پھر باغ لگالوں گا اور جس شخص کے اولاد نہ ہو اور اس کو دوبارہ باغ لگانے کی امید بھی نہ ہو تو باغ جل جانے کے بعد بھی اس کو کوئی خاص فکر معاش کی نہیں ہوتی، اکیلا آدمی جس طرح چاہے تنگی ترشی سے گذارا کرسکتا ہے اور اگر اولاد بھی ہو مگر جوان صالح ہوں جن سے یہ توقع کی جائے کہ وہ باپ کا ہاتھ بٹائیں گے اور مدد کریں گے ایسی صورت میں بھی انسان کو باغ کے جل جانے یا لٹ جانے پر بھی کچھ زیادہ صدمہ نہیں ہوتا کیونکہ اولاد کی فکر سے فارغ ہے بلکہ اولاد اس کا بھی بوجھ اٹھا سکتی ہے غرض یہ تینوں قیدیں شدت احتیاج کو بیان کرنے کے لئے لائی گئیں، کی ایسا شخص جس نے اپنا مال اور محنت خرچ کرکے ایک باغ لگایا اور وہ باغ تیار ہو کر پھل بھی دینے لگا اور اسی حالت میں اس کا بڑھاپا اور کمزوری کا زمانہ بھی آگیا اور یہ شخص صاحب عیال بھی ہے اور عیال بھی چھوٹے اور کمزور بچے ہیں تو ان حالات میں اگر لگایا ہوا باغ جل جائے تو صدمہ شدید ہوگا اور تکلیف بےحد ہوگی
اسی طرح جس شخص نے ریاء کاری سے صدقہ و خیرات کیا یہ گویا اس نے باغ لگایا پھر موت کے بعد اس کی حالت اس بوڑھے جیسی ہوگئی جو کمانے اور دوبارہ باغ لگانے کی قدرت نہیں رکھتا کیونکہ موت کے بعد انسان کا کوئی عمل ہی نہیں رہا اور جس طرح عیال دار بوڑھا اس کا بہت محتاج ہوتا ہے کہ پچھلی کمائی محفوظ ہو تاکہ ضعیفی میں کام آئے اور اگر اس اس حالت میں اس کا باغ اور مال و متاع جل جائے تو اس کے دکھ اور درد کی انتہا نہ رہے گی اسی طرح یہ صدقہ و خیرات جو ریاء ونمود کے لئے کیا گیا تھا عین ایسے وقت ہاتھ سے جاتا رہے گا جب کہ وہ اس کا بہت حاجتمند ہوگا
اس پوری آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ صدقہ و خیرات کے اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کی ایک بڑی شرط اخلاص ہے کہ خالص اللّه تعالیٰ کی رضاجوئی کے لئے خرچ کیا جائے کسی نام ونمود کا اس میں دخل نہ ہو
اب اس پورے رکوع کی تمام آیات پر مکرر نظر ڈالئے تو ان سے انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ و خیرات کے اللّه کے نزدیک مقبول ہونے کی چھ شرائط معلوم ہوں گی
اول اس مال کا حلال ہونا جو اللّه کی راہ میں خرچ کیا جائے دوسرے طریق سنت کے مطابق خرچ کرنا تیسرے صحیح مصرف میں خرچ کرنا چوتھے خیرات دے کر احسان نہ جتلانا پانچویں ایسا کوئی معاملہ نہ کرنا جس سے ان لوگوں کی تحقیر ہو جن کو یہ مال دیا گیا ہے چھٹے جو کچھ خرچ کیا جائے اخلاص نیت کے ساتھ خالص اللّه تعالیٰ کی رضاجوئی کے لئے ہو نام ونمود کے لئے نہ ہو
دوسری شرط یعنی طریق سنت کے مطابق خرچ کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللّه کی راہ میں خرچ کرتے وقت اس کا لحاظ رہے کہ کسی حقدار کی حق تلفی نہ ہو اپنے عیال کے ضروری اخراجات بغیر ان کی رضامندی کے بند یا کم کرکے صدقہ و خیرات کرنا کوئی امر ثواب نہیں حاجتمند وارثوں کو محروم کرکے سارے مال کو صدقہ و خیرات یا وقف کردینا تعلیم سنت کے خلاف ہے پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ہزاروں صورتیں ہیں
طریق سنت یہ ہے کہ مصرف کی اہمیت اور ضرورت کی شدت کا لحاظ کرکے مصرف کا انتخاب کیا جائے عام طور پر خرچ کرنے والے اس کی رعایت نہیں کرتے

تیسری شرط کا حاصل یہ ہے کہ ثواب ہونے کے لئے صرف اتنی بات کافی نہیں کہ اپنے خیال میں کسی کام کو نیک سمجھ کر نیک نیتی سے اس میں صرف کردے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مصرف شریعت کی رو سے جائز اور مستحسن بھی ہو کوئی شخص ناجائز کھیل تماشوں کے لئے اپنی جائیداد وقف کردے تو وہ بجائے ثواب کے عذاب کا مستحق ہوگا یہی حال تمام ان کاموں کا ہے جو شریعت کی رو سے مستحسن نہیں ہیں۔





No comments:

Powered by Blogger.