Surah Baqrah Aayat 267-269 Rukoo 37
آیات 269 - 267
رکوع 37
آیت 267
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّاۤ اَخۡرَجۡنَا لَـكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الۡخَبِيۡثَ مِنۡهُ تُنۡفِقُوۡنَ وَلَسۡتُمۡ بِاٰخِذِيۡهِ اِلَّاۤ اَنۡ تُغۡمِضُوۡا فِيۡهِؕ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ حَمِيۡدٌ
لفظی ترجمہ
يٰٓاَيُّهَا : اے | الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : جو ایمان لائے (ایمان والو) | اَنْفِقُوْا : تم خرچ کرو | مِنْ : سے | طَيِّبٰتِ : پاکیزہ | مَا : جو | كَسَبْتُمْ : تم کماؤ | وَمِمَّآ : اور سے۔ جو | اَخْرَجْنَا : ہم نے نکالا | لَكُمْ : تمہارے لیے | مِّنَ : سے | الْاَرْضِ : زمین | وَلَا : اور نہ | تَيَمَّمُوا : ارادہ کرو | الْخَبِيْثَ : گندی چیز | مِنْهُ : سے۔ جو | تُنْفِقُوْنَ : تم خرچ کرتے ہو | وَلَسْتُمْ : جبکہ تم نہیں ہو | بِاٰخِذِيْهِ : اس کو لینے والے | اِلَّآ : مگر | اَنْ : یہ کہ | تُغْمِضُوْا : تم چشم پوشی کرو | فِيْهِ : اس میں | وَاعْلَمُوْٓا : اور تم جان لو | اَنَّ : کہ | اللّٰهَ : اللّه | غَنِىٌّ: بےنیاز | حَمِيْدٌ: خوبیوں والا
ترجمہ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے اُس سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے تو تم ہرگز اُسے لینا گوارا نہ کرو گے الّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللّه بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے
تفسیر
اے ایمان والو نیک کام میں خرچ کرو عمدہ چیز کو اپنی کمائی میں سے اور عمدہ چیز کو اس میں سے جو کہ ہم نے تمہارے کام میں لانے کے لئے زمین سے پیدا کیا اور ردی ناکارہ چیز کی طرف نیت مت لے جایا کرو کہ اس میں سے خرچ کردو حالانکہ ویسی ہی چیز اگر کوئی تم کو تمہارے حق واجب کے عوض یا سوغات میں دینے لگے تو) تم کبھی اس کے لینے والے نہیں ہاں مگر چشم پوشی اور رعایت کرجاؤ تو اور بات ہے اور یہ یقین رکھو کہ اللّه تعالیٰ کسی کے محتاج نہیں جو ایسی ناکارہ چیزوں سے خوش ہوں تعریف کے لائق ہیں یعنی ذات وصفات میں کامل ہیں تو ان کے دربار میں چیز بھی کامل تعریف کے لائق ہی پیش کرنا چاہیئے شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے کہ اگر خرچ کرو گے یا اچھا مال خرچ کرو گے تو محتاج ہوجاؤ گے اور تم کو بری بات یعنی بخل کا مشورہ دیتا ہے اور اللّه تعالیٰ تم سے وعدہ کرتا ہے خرچ کرنے پر اور اچھی چیز خرچ کرنے پر اپنی طرف سے گناہ معاف کردینے کا اور زیادہ دینے کا یعنی چونکہ نیک جگہ خرچ کرنا اطاعت ہے اور اطاعت سے معصیت کا کفارہ ہوجاتا ہے لہذا اس سے گناہ بھی معاف ہوتے ہیں اور حق تعالیٰ کسی کو دنیا میں بھی اور آخرت میں تو سبھی کو خرچ کا عوض بھی زیادہ کرکے دیتے ہیں اور اللّه تعالیٰ وسعت والے ہیں وہ سب کچھ دے سکتے ہیں خوب جاننے والے ہیں نیت کے موافق ثمرہ دیتے ہیں اور یہ سب مضامین بہت ظاہر ہیں لیکن ان کو وہی سمجھتا ہے جس کو دین کا فہم ہو اور اللّه تعالیٰ دین کا فہم جس کو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ جس کو دین کا فہم مل جاوے اس کو بڑی خیر کی چیز مل گئی کیونکہ دنیا کی کوئی نعمت اس کے برابر نافع نہیں اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں یعنی جو عقل صحیح رکھتے ہیں اور تم لوگ جو کسی قسم کا خرچ کرتے ہو یا کسی طرح کی نذر مانتے ہو سو حق تعالیٰ کو سب کی یقینا اطلاع ہے اور بےجا کام کرنے والوں کا قیامت میں کوئی ہمراہی حمایتی نہ ہوگا اگر تم ظاہر کرکے دو صدقات کو تب بھی اچھی بات ہے اور اگر ان کا اخفاء کرو اور اخفاء کے ساتھ فقیروں کو دو تب اخفاء تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور اللّه تعالیٰ اس کی برکت سے تمہارے گناہ بھی دور کردیں گے اور اللّه تعالیٰ تمہارے کئے ہوئے کاموں کی خوب خبر رکھتے ہیں چونکہ بہت سے صحابہ کفار کو بایں مصلحت خیرات نہ دیتے تھے کہ شاید اسی تدبیر سے کچھ لوگ مسلمان ہوجائیں اور رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہی رائے دی تھی اس لئے اس آیت میں دونوں طرح کے خطاب کرکے ارشاد فرماتے ہیں کہ اے محمد صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم ان کافروں کو ہدایت پر لے آنا کچھ آپ کے ذمہ فرض واجب نہیں جس کے لئے اتنی دور دراز اہتمام کئے جائیں لیکن یہ تو خدا تعالیٰ کا کام ہے جس کو چاہیں ہدایت پر لے آئیں آپ کا کام صرف ہدایت کا پہنچا دینا ہے خواہ کوئی ہدایت پر آۓ یا نہ آوے اور ہدایت کا پہنچا دینا کچھ اس ممانعت پر موقوف نہیں اور اے مسلمانو جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اپنے فائدہ کی غرض سے کرتے ہو اور اس فائدہ کا بیان یہ ہے کہ تم اور کسی غرض سے خرچ نہیں کرتے بجز رضاجوئی ذات پاک حق تعالیٰ کے ثواب اس کے لوازم سے ہے اور یہ ہر جاجت مند کی رفع حاجت کرنے سے حاصل ہوتی ہے پھر مسلمان فقیر کی تخصیص کیوں کی جائے اور نیز جو کچھ مال خرچ کر رہے ہو یہ سب یعنی اس کا عوض اور ثواب پورا پورا تم ہی کو آخرت میں مل جائے گا اورب تمہارے لئے اس میں ذرا کمی نہ کی جائے گی سو تم کو اپنے عوض سے مطلب رکھنا چاہئے اور عوض ہر حال میں ملے گا پھر تم کو اس سے کیا بحث کہ ہمارا صدقہ مسلمان ہی کو ملے کافر کو نہ ملے صدقات اصل حق ان حاجت مندوں کا ہے جو مقید ہوگئے ہوں اللّه کی راہ میں یعنی دین کی خدمت میں اور اسی خدمت دین میں مقید اور مشغول رہنے سے وہ لوگ طلب معاش کے لئے کہیں ملک میں چلنے پھرنے کا عادۃ امکان نہیں رکھتے اور ناواقف ان کو مالدار خیال کرتا ہے ان کے سوال سے بچنے کے سبب سے البتہ تم ان لوگوں کو ان کے طرز ہئیت سے پہچان سکتے ہو کیونکہ فقروفاقہ سے چہرے اور بدن میں ایک گونہ اضمحلال ضرور آجاتا ہے اور یوں وہ لوگوں سے لپٹ کر مانگتے نہیں پھرتے جس سے کوئی ان کو حاجت مند سمجھے یعنی مانگتے ہی نہیں کیونکہ اکژ جو لوگ مانگنے کے عادی ہیں وہ لپٹ کر ہی مانگتے ہیں اور ان لوگوں کی خدمت کرنے کو جو مال خرچ کرو گے بیشک حق تعالیٰ کو اس کی خوب اطلاع ہے اور لوگوں کو دینے سے ان کی خدمت کا فی نفسہ زیادہ ثواب دیں گے جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو رات میں اور دن میں یعنی بلا تخصیص اوقات پوشیدہ اور آشکارا یعنی بلا تخصیص حالات سو ان لوگوں کو ان کا ثواب ملے گا قیامت کے روز ان کے رب کے پاس جاکر اور نہ اس روز ان پر کوئی خطرہ واقع ہونے والا ہی ہے اور نہ وہ مغموم ہوں گے
معارف و مسائل
اس سے قبل کے رکوع میں اللّه تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے کا بیان تھا اب اسی سے متعلقہ امور کا مزید بیان اس رکوع کی سات آیات میں کیا گیا ہے جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا (الیٰ قولہ) غَنِىٌّ حَمِيْدٌ شان نزول سے طیب کے معنے عمدہ کے کئے گئے ہیں کیونکہ بعض لوگ خراب چیزیں لے آتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی اور بعض نے عموم لفظ سے طیب کی تفسیر حلال سے کی ہے کیونکہ پوری عمدہ جب ہی ہوتی ہے جب حلال بھی ہو، پس اس بناء پر آیت میں اس کی بھی تاکید ہوگئی اور پہلی تفسیر پر دوسرے دلائل سے اس تاکید کو ثابت کیا جائے گا اور یاد رکھو کہ یہ اس شخص کے لئے ہے جس کے پاس عمدہ چیز ہو اور پھر وہ بری نکمی چیز خرچ کرے جیسا کہ لفظ كَسَبْتُمْ اور اَخْرَجْنَا اس کے موجود ہونے پر اور وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ عمدا نکمی چیز کے خرچ کرنے پر دلالت کر رہا ہے اور جس کے پاس اچھی چیز ہو ہی نہیں وہ اس ممانعت سے بری ہے اور اس کی وہ بری چیز بھی مقبول ہے لفظ مَا كَسَبْتُمْ سے بعض علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ والد کا اپنے بیٹے کی کمائی سے کھانا جائز ہے لقولہ علیہ السلام
اولادکم من طیب اکسابکم فکلوا من اموال اولادکم ھنئا
(قرطبی)
تمہاری اولاد تمہاری کمائی کا ایک پاکیزہ حصہ ہے پس تم اپنی اولاد کی کمائی سے مزے سے کھاؤ
عشر اراضی کے احکام
وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ میں لفظ اَخْرَجْنَا سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ عشری زمین میں عشر واجب ہے، اس آیت کے عموم سے امام اعظم ابوحنیفہ نے استدلال کیا ہے کہ عشری زمین کی ہر قلیل و کثیر پیداوار پر عشر واجب ہے، سورة انعام کی آیت
اٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ
(١٤١: ٦)
وجوب عشر میں بالکل صریح اور واضح ہے عشر و خراج شریعت اسلامی کے دو اصلاحی لفظ ہیں ان دونوں میں ایک بات مشترک ہے کہ اسلامی حکومت کی طرف سے زمینوں پر عائد کردہ ٹیکس کی ایک حیثیت ان دونوں میں ہے فرق یہ ہے کہ عشر فقط ٹیکس نہیں بلکہ اس میں ٹیکس سے زیادہ اصلی حیثیت عبادت مال کی ہے مثل زکوٰۃ کے اسی اس کو زکوٰۃ الارض بھی کہا جاتا ہے اور خراج خالص ٹیکس ہے جس میں عبادت کی کوئی حیثیت نہیں مسلمان چونکہ عبادت کے اہل اور پابند ہیں ان سے جو زمین کی پیداوار کا حصہ لیا جاتا ہے اس کو عشر کہتے ہیں اور غیرمسلم چونکہ عبادت کے اہل نہیں ان کی زمینوں پر جو کچھ عائد کیا جاتا ہے اس کا نام خراج ہے عملی طور پر زکوٰۃ اور عشر میں یہ بھی فرق ہے کہ سونا چاندی اور تجارت کے مال پر زکوٰۃ سال بھر گذرنے کے بعد عائد ہوتی ہے اور عشر زمین سے پیداوار حاصل ہوتے ہی واجب ہوجاتا ہے دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ اگر زمین سے کوئی پیداوار نہ ہو تو عشر ساقط ہوجاتا ہے لیکن اموال تجارت اور سونے چاندی پر اگر کوئی نفع بھی نہ ہو تب بھی سال پورا ہونے پر ان پر زکوٰۃ فرض ہوگی عشر و خراج کے مسائل کی تفصیل کا یہ موقع نہیں کتب فقہ میں مذکور ہے اور احقر نے اپنی کتاب نظام الارضی میں بھی تفصیل سے لکھ دیا ہے جس میں پاکستان ہندوستان کی زمینوں کے خصوصی احکام بھی لکھے گئے ہیں۔
آیت 268
اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُكُمُ الۡـفَقۡرَ وَيَاۡمُرُكُمۡ بِالۡفَحۡشَآءِ ۚ وَاللّٰهُ يَعِدُكُمۡ مَّغۡفِرَةً مِّنۡهُ وَفَضۡلًا ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌۚ
لفظی ترجمہ
اَلشَّيْطٰنُ : شیطان | يَعِدُكُمُ : تم سے وعدہ کرتا ہے | الْفَقْرَ : تنگدستی | وَيَاْمُرُكُمْ : اور تمہیں حکم دیتا ہے | بِالْفَحْشَآءِ : بےحیائی کا | وَاللّٰهُ : اور اللّه | يَعِدُكُمْ : تم سے وعدہ کرتا ہے | مَّغْفِرَةً : بخشش | مِّنْهُ : اس سے (اپنی) | وَفَضْلًا : اور فضل | وَاللّٰهُ : اور اللّه | وَاسِعٌ: وسعت والا | عَلِيْمٌ: جاننے والا
ترجمہ
شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے مگر اللّه تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے اللّه بڑا فراخ دست اور دانا ہے
تفسیر
اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ (الیٰ قولہ) وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ جب کسی کے دل میں یہ خیال آئے کہ اگر کروں گا تو مفلس ہوجاؤں گا اور حق تعالیٰ کی تاکید سن کر بھی اس کی ہمت نہ ہو اور دل چاہے کہ اپنا مال خرچ نہ کرے اور وعدہ الہٰی سے اعراض کرکے وعدہ شیطانی پر طبیعت کو میلان اور اعتماد ہو تو اس کو یقین کرلینا چاہئے کہ یہ مضمون شیطان کی طرف سے ہے یہ نہ کہے کہ شیطان کی تو ہم نے کبھی صورت بھی نہیں دیکھی حکم کرنا تو درکنار رہا اور اگر یہ خیال آئے کہ صدقہ و خیرات سے گناہ بخشے جائیں گے اور مال میں بھی ترقی اور برکت ہوگی تو جان لے کہ یہ مضمون اللّه کی طرف سے آیا ہے اور خدا کا شکر کرے اور اللّه کے خزانے میں کمی نہیں سب کے ظاہر و باطن نیت وعمل کو خوب جانتا ہے۔
آیت 269
يُؤۡتِى الۡحِكۡمَةَ مَنۡ يَّشَآءُ ۚ وَمَنۡ يُّؤۡتَ الۡحِكۡمَةَ فَقَدۡ اُوۡتِىَ خَيۡرًا كَثِيۡرًا ؕ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ
لفظی ترجمہ
يُّؤْتِي : وہ عطا کرتا ہے | الْحِكْمَةَ : حکمت، دانائی | مَنْ : جسے | يَّشَآءُ : وہ چاہتا ہے | وَ : اور | مَنْ : جسے | يُّؤْتَ : دی گئی | الْحِكْمَةَ : حکمت | فَقَدْ اُوْتِيَ : تحقیق دی گئی | خَيْرًا : بھلائی | كَثِيْرًا : بہت | وَمَا : اور نہیں | يَذَّكَّرُ : نصیحت قبول کرتا | اِلَّآ : سوائے | اُولُوا الْاَلْبَابِ : عقل والے
ترجمہ
جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی اِن باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانشمند ہیں
تفسیر
حکمت کے معنی اور تفسیر
يُّؤ ْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاۗءُ لفظ حکمت قرآن کریم میں بار بار آیا ہے اور ہر جگہ اس کی تفسیر میں مختلف معنی بیان کئے گئے ہیں تفسیر بحر محیط میں اس جگہ تمام اقوال مفسرین کو جمع کیا ہے وہ تقریبا تیس ہیں مگر آخر میں فرمایا کہ درحقیقت یہ سب اقوال متقارب ہیں ان میں کوئی اختلاف نہیں صرف تعبیرات کا فرق ہے کیونکہ لفظ حکمت احکام بالکسر کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں کسی عمل یا قول کو اس کے تمام اوصاف کے ساتھ مکمل کرنا
اسی لئے بحر محیط میں آیت بقرہ اٰتٰهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ
(٢٥١: ٢)
جو حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق ہے اس کی تفسیر میں فرمایا
والحکمۃ وضع الامور فی محلہا علی الصواب و کمال ذلک انما یحصل بالنبوۃحکمت کے اصلی معنی ہر شے کو اس کے محل میں رکھنے کے ہیں اور اس کا کمال صرف نبوت سے ہوسکتا ہے اس لئے یہاں حکمت کی تفسیر نبوت سے کی گئی ہے
امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں فرمایا کہ لفظ حکمت جب حق تعالیٰ کے لئے استعمال کیا جائے تو معنی تمام اشیاء کی پوری معرفت اور مستحکم ایجاد کے ہوتے ہیں اور جب غیر اللّه کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے، موجودات کی صحیح معرفت اور اس کے مطابق عمل مراد ہوتا ہے
اسی مفہوم کی تعبیریں مختلف الفاظ میں کی گئی ہیں کسی جگہ اس سے مراد قرآن ہے کسی جگہ حدیث کسی جگہ علم صحیح کہیں عمل صالح کہیں قول صادق کہیں عقل سلیم کہیں فقہ فی الدین کہیں اصابت رائے اور کہیں خشیۃ اللّه اور آخری معنی تو خود حدیث میں بھی مذکور ہیں
رأس الحکمہ خشیۃ اللّه یعنی اصل حکمت خدا تعالیٰ سے ڈرنا ہے اور آیت
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ
(٢: ٦٢)
میں حکمت کی تفسیر صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین وتابعین سے حدیث وسنت منقول ہے اور بعض حضرات نے یہ فرمایا کہ آیت زیر نظر يُؤ ْتَ الْحِكْمَةَ میں یہ سب چیزیں مراد ہیں
(بحر محیط، ص ٣٢٠، ج ٢)
اور ظاہر یہی قول ہے اور ارشاد قرآنی وَمَنْ يُّؤ ْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا سے بھی اس کی طرف اشارہ نکلتا ہے کہ معنی اس کے یہ ہیں کہ جس شخص کو حکمت دے دیگئی اس کو خیر کثیر دے دیگئی واللّه اعلم۔

No comments: