Surah Baqrah Aayat 270-273 Rukoo 37
آیات 273 - 270
رکوع 37
آیت 270
وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَةٍ اَوۡ نَذَرۡتُمۡ مِّنۡ نَّذۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُهٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ
لفظی ترجمہ
وَمَآ : اور جو | اَنْفَقْتُمْ : تم خرچ کرو گے | مِّنْ : سے | نَّفَقَةٍ : کوئی خیرات | اَوْ : یا | نَذَرْتُمْ : تم نذر مانو | مِّنْ نَّذْرٍ : کوئی نذر | فَاِنَّ : تو بیشک | اللّٰهَ : اللّه | يَعْلَمُهٗ : اسے جانتا ہے | وَمَا : اور نہیں | لِلظّٰلِمِيْنَ : ظالموں کے لیے | مِنْ اَنْصَارٍ : کوئی مددگار
ترجمہ
تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی مانی ہو اللّه کو اُس کا علم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
تفسیر
وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ (الیٰ قولہٖ ) وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ کسی قسم کے خرچ کرنے میں سب خرچ آگئے وہ بھی جس میں سب شرائط مذکورہ کی رعایت ہو اور وہ بھی بھی جس میں کل کی یا بعض کی رعایت نہ ہو مثلاً فی سبیل اللّه نہ ہو بلکہ معصیت میں ہو یا انفاق میں ریاء شامل ہو یا انفاق کرکے اس پر احسان جتلاناہو، یا حلال یا عمدہ مال نہ ہو اسی طرح نذر کے عموم میں سب نذریں آگئیں مثلا عبادت مالیہ کی نذر، اور اسی مناسبت سے انفاق کے ساتھ نذر کو لائے ہیں یا عبادت بدنیہ کی نذر ہو پھر وہ مطلق ہو یا کسی امر پر معلق ہو پھر یہ کہ اس کا ایفاء کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو اور مقصود اس کہنے سے یہ ہے کہ اللّه تعالیٰ کو ان سب چیزوں کا علم ہے وہ اس کی جزاء دیں گے یہ اس لئے سنایا تاکہ حدود و شرائط کی رعایت کی ترغیب اور عدم رعایت سے ترہیب ہو، اور بےجا کام کرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو ضروری شرائط کی رعایت نہیں کرتے ان کو صریحا وعید سنا دی۔
آیت 271
اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِىَۚ وَاِنۡ تُخۡفُوۡهَا وَ تُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّكُمۡؕ وَيُكَفِّرُ عَنۡكُمۡ مِّنۡ سَيِّاٰتِكُمۡؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ
لفظی ترجمہ
اِنْ : اگر | تُبْدُوا : ظاہر (علانیہ) دو | الصَّدَقٰتِ : خیرات | فَنِعِمَّا : تو اچھی بات | هِىَ : یہ | وَاِنْ : اور اگر | تُخْفُوْھَا : تم اس کو چھپاؤ | وَتُؤْتُوْھَا : اور وہ پہنچاؤ | الْفُقَرَآءَ : تنگدست (جمع) | فَھُوَ : تو وہ | خَيْرٌ: بہتر | لَّكُمْ : تمہارے لیے | وَيُكَفِّرُ : اور دور کرے گا | عَنْكُمْ : تم سے | مِّنْ : سے، کچھ | سَيِّاٰتِكُمْ : تمہارے گناہ | وَاللّٰهُ : اور اللّه | بِمَا تَعْمَلُوْنَ : جو کچھ تم کرتے ہو | خَبِيْرٌ: باخبر
ترجمہ
اگر اپنے صدقات علانیہ دو، تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے تمہاری بہت سی برائیاں اِس طرز عمل سے محو ہو جاتی ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہوئے اللّه کو بہر حال اُس کی خبر ہے
تفسیر
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِىَ (الیٰ قولہٖ ) وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ
بظاہر یہ آیت فرض اور نفل سب صدقات کو شامل ہے اور سب میں اخفاء ہی افضل ہے اس میں دینی مصلحت بھی ہے کہ ریاء سے ابعد ہے لینے والا بھی نہیں شرماتا، اور دنیوی مصلحت بھی ہے کہ اپنے مال کی مقدار عام لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتی اور مراد افضلیت اخفاء سے آیت میں افضلیت فی نفسہ ہے، پس اگر کسی مقام پر کسی عارض سے مثلا رفع تہمت یا امید اقتداء وغیرہ سے اظہار کو ترجیح ہوجاوے تو افضلیت فی نفسہ کے منافی نہیں وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ کفارہ سیات کچھ اخفاء کے ساتھ تو خاص نہیں صرف اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے اخفاء کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے کہ اخفاء میں تجھے اگر کوئی ظاہری فائدہ نظر نہ آئے تو منقبض نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ تمہارے گناہ اللّه تعالیٰ معاف کرتا ہے اور یہ تمہارے لئے فائدہ عظیمہ ہے۔
آیت 272
لَيۡسَ عَلَيۡكَ هُدٰٮهُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَلِاَنۡفُسِكُمۡؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ اللّٰهِؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يُّوَفَّ اِلَيۡكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ
لفظی ترجمہ
لَيْسَ : نہیں | عَلَيْكَ : آپ پر ( آپ کا ذمہ) | ھُدٰىھُمْ : ان کی ہدایت | وَلٰكِنَّ : اور لیکن | اللّٰهَ : اللّه | يَهْدِيْ : ہدایت دیتا ہے | مَنْ : جسے | يَّشَآءُ : وہ چاہتا ہے | وَمَا : اور جو | تُنْفِقُوْا : تم خرچ کروگے | مِنْ خَيْرٍ : مال سے | فَلِاَنْفُسِكُمْ : تو اپنے واسطے | وَمَا : اور نہ | تُنْفِقُوْنَ : خرچ کرو | اِلَّا : مگر | ابْتِغَآءَ : حاصل کرنا | وَجْهِ اللّٰهِ : اللّه کی رضا | وَمَا : اور جو | تُنْفِقُوْا : تم خرچ کرو گے | مِنْ خَيْرٍ : مال سے | يُّوَفَّ : پورا ملے گا | اِلَيْكُمْ : تمہیں | وَاَنْتُمْ : اور تم | لَا تُظْلَمُوْنَ : نہ زیادتی کی جائے گی تم پر
ترجمہ
لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمے داری تم پر نہیں ہے ہدایت تو اللّه ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلا ہے آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللّه کی رضا حاصل ہو تو جو کچھ مال تم خیرات میں خرچ کرو گے اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی
تفسیر
لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ (الیٰ قولہ) وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ نیت بھی تمہاری اصل میں اپنے ہی نفع حاصل کرنے کی ہے اور واقع میں بھی حاصل خاص تم ہی کو ہوگا پھر ان زوائد پر کیوں نظر کی جاتی ہے کہ یہ نفع خاص اسی طریق سے حاصل کیا جاوے کہ مسلمان ہی کو صدقہ دیں اور کافر کو نہ دیں
یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ اس صدقہ سے مراد صدقہ نفلی ہے جس کا ذمی کافر کو بھی دینا جائز ہے زکوٰۃ مراد نہیں ہے کیونکہ وہ سوائے مسلمان کے کسی دوسرے کو دینا جائز نہیں
(مظہری)
(١)
مسئلہحربی کافر کو کسی قسم کا صدقہ وغیرہ دینا جائز نہیں
(٢)
مسئلہ کافر ذمی یعنی غیر حربی کو صرف زکوٰۃ وعشر دینا جائز نہیں اور دوسرے صدقات واجبہ ونفل سب جائز ہیں اور آیت میں زکوٰۃ داخل نہیں۔
آیت 273
لِلۡفُقَرَآءِ الَّذِيۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ ضَرۡبًا فِى الۡاَرۡضِ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِۚ تَعۡرِفُهُمۡ بِسِيۡمٰهُمۡۚ لَا يَسۡــئَلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَــافًا ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ
لفظی ترجمہ
لِلْفُقَرَآءِ : تنگدستوں کے لیے | الَّذِيْنَ : جو | اُحْصِرُوْا : رکے ہوئے | فِيْ : میں | سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللّه کا راستہ | لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : وہ نہیں طاقت رکھتے | ضَرْبًا : چلنا پھرنا | فِي الْاَرْضِ : زمین (ملک) میں | يَحْسَبُھُمُ : انہیں سمجھے | الْجَاهِلُ : ناواقف | اَغْنِيَآءَ : مال دار | مِنَ التَّعَفُّفِ : سوال سے بچنے سے | تَعْرِفُھُمْ : تو پہچانتا ہے انہیں | بِسِيْمٰھُمْ : ان کے چہرے سے | لَا يَسْئَلُوْنَ : وہ سوال نہیں کرتے | النَّاسَ : لوگ | اِلْحَافًا : لپٹ کر | وَمَا : اور جو | تُنْفِقُوْا : تم خرچ کرو گے | مِنْ خَيْرٍ : مال سے | فَاِنَّ : تو بیشک | اللّٰهَ : اللّه | بِهٖ : اس کو | عَلِيْمٌ: جاننے والا
ترجمہ
خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللّه کے کام میں ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسب معاش کے لیے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے ان کی خود داری دیکھ کر ناواقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں تم ان کے چہروں سے ان کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر کچھ مانگیں اُن کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کرو گے وہ اللّه سے پوشیدہ نہ رہے گا
تفسیر
لِلْفُقَرَاۗءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (الی قولہ) فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ یہاں فقراء سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو دینی مشغولیت کی وجہ سے دوسرا کوئی کام نہیں کرسکتے
يَحْسَبُھُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاۗءَ مِنَ التَّعَفُّفِ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی فقیر قیمتی کپڑے پہنے ہوئے ہو تو اس کی وجہ سے اس کو غنی کہا جائے گا اور ایسے آدمی کو زکوٰۃ دینا بھی صحیح ہوگا
(قرطبی)
تَعْرِفُھُمْ بِسِيْمٰھُمْ سے معلوم ہوا کہ علامات کو دیکھ کر حکم لگانا صحیح ہے، چناچہ اگر کوئی مردہ اس قسم کا پایا جائے کہ اس پر زنا رہے اور اس کا ختنہ بھی نہیں کیا ہوا ہو تو اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا
(قرطبی)
لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا اس آیت سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ وہ لپٹ کر نہیں مانگتے لیکن بغیر لپٹ کر مانگنے کی نفی نہیں ہے، چناچہ بعض حضرات کا یہی قول ہے لیکن جمہور کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سوال بالکل ہی نہیں کرتے، لانہم متعففون عن المسألۃ عفۃ تامۃ
(قرطبی )

No comments: