Surah Baqrah Parah : 2 , aayat 142-144 Rukoo 17

پارہ 2
آیات 144 - 142 
رکوع 17


آیت  142


سَيَقُوۡلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰٮهُمۡ عَنۡ قِبۡلَتِهِمُ الَّتِىۡ كَانُوۡا عَلَيۡهَا ‌ؕ قُل لِّلّٰهِ الۡمَشۡرِقُ وَالۡمَغۡرِبُ ؕ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِراطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ 

لفظی ترجمہ

 سَيَقُوْلُ : اب کہیں گے   |  السُّفَهَآءُ : بیوقوف   |  مِنَ : سے   |  النَّاسِ : لوگ   |  مَا : کس   |  وَلَّاهُمْ : انہیں (مسلمانوں کو) پھیر دیا   |  عَنْ : سے   |  قِبْلَتِهِمُ : ان کا قبلہ   |  الَّتِيْ : وہ جس   |  کَانُوْا : وہ تھے   |  عَلَيْهَا : اس پر   |  قُلْ : آپ کہہ دیں   |  لِلّٰہِ : اللہ کے لئے   |  الْمَشْرِقُ : مشرق   |  وَالْمَغْرِبُ : اور مغرب   |  يَهْدِیْ : وہ ہدایت دیتا ہے   |  مَنْ : جس کو   |  يَّشَآءُ : چاہتا ہے   |  إِلٰى: طرف   |  صِرَاطٍ : راستہ   |  مُّسْتَقِيمٍ : سیدھا 

ترجمہ
نادان لوگ ضرور کہیں گے : اِنہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اس سے یکایک پھر گئے؟ اے نبی، ان سے کہو: "مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے، سیدھی راہ دکھا دیتا ہے

تفسیر

(جب کعبہ قبلہ نماز مقرر ہو کر یہود کا قبلہ متروک ہوگیا تو بوجہ ناگواری کے) اب تو (یہ) بیوقوف لوگ ضرور ہی کہیں گے کہ ان (مسلمانوں) کو ان کے (سابق سمیت) قبلہ سے (کہ بیت المقدس تھا) جس طرف پہلے متوجہ ہوا کرتے تھے کس بات نے (دوسری سمت کی طرف) بدل دیا آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ سب (سمتیں خواہ) مشرق ہو اور (خواہ) مغرب (ہو) اللہ ہی ملک ہیں (خدا تعالیٰ کو مالکانہ اختیار ہے جس سمت کو چاہیں مقرر فرمادیں کسی کو منصب علت دریافت کرنے کا نہیں ہے اور سیدھا طریق احکام شرعیہ کے باب میں یہی اعتقاد ہے لیکن بعضوں کو اس راہ کے اختیار کرنے کی توفیق نہیں ہوتی خواہ مخواہ علتیں ڈھونڈتے پھرا کرتے ہیں البتہ) جس کو خدا ہی (اپنے فضل سے) چاہیں (یہ) سیدھا طریق بتلا دیتے ہیں

معارف و مسائل
اس آیت میں میں مخالفین کا اعتراض درباہ تحویل قبلہ نقل کرکے اس کا جواب دیا گیا ہے اس اعتراض اور جواب سے پہلے قبلہ کی حقیقت اور اس کی مختصر تاریخ سن لیجئے جس سے سوال و جواب کا سمجھنا آسان ہوجائے گا
قبلہ کے لفظی معنی ہیں سمت توجہ یعنی جس طرف رخ کیا جائے یہ ظاہر ہے کہ مومن کا رخ ہر عبادت میں صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک لہ کی طرف ہوتا ہے اور اس کی ذات پاک مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کی قیدوں اور سمتوں سے بالاتر ہے وہ کسی خاص سمت میں نہیں اس کا اثر طبعی طور پر یہ ہونا تھا کہ کوئی عبادت کرنے والا کسی خاص رخ کا پابند نہ ہوتا جس کا جس طرف جی چاہتا نماز میں اپنا رخ اس طرف کرلیتا اور ایک ہی آدمی کسی وقت ایک طرف اور کسی وقت کئی طرف رخ کرتا تو وہ بھی بےجا نہ ہوتا،
لیکن ایک دوسری حکمت الہیہ اس کی مقتضی ہوئی کہ تمام عبادت گذاروں کا رخ ایک ہی طرف ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ عبادت کی مختلف قسمیں ہیں بعض انفرادی ہیں بعض اجتماعی ذکر اللہ اور روزہ وغیرہ انفرادی عبادات ہیں جن کو خلوت میں اور اخفاء کے ساتھ ادا کیا جاسکتا ہے اور نماز اور حج اجتماعی عبادات ہیں جن کو جماعت و اجتماع و اعلان کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے ان میں عبادت کے ساتھ مسلمانوں کو اجتماعی زندگی کے آداب کا بتلانا اور سکھانا بھی پیش نظر ہے اور یہ بھی بالکل ظاہر ہے کہ اجتماعی نظام کا سب سے بڑا بنیادی اصول افراد کثیرہ کی وحدت اور یک جہتی ہے، یہ وحدت جتنی زیادہ قوی سے قوی ہوگی اتنا ہی اجتماعی نظام مستحکم اور مضبوط ہوگا انفرادیت اور تشتت اجتماعی نظام کے لئے سم قاتل ہے پھر نقطہ وحدت متعین کرنے میں ہر قرن ہر زمانہ کے لوگوں کی مختلف راہیں رہی ہیں کسی قوم نے نسل اور نسب کو نقطہ وحدت قرار دیا کسی نے وطن اور جغرافیائی خصوصیات کو کسی نے رنگ اور زبان کو
لیکن دین الہی اور شرائع انبیاء (علیہم السلام) نے ان غیر اختیاری چیزوں کو نقطہ وحدت بنانے کے قابل نہیں سمجھا اور نہ درحقیقت یہ چیزیں ایسی ہیں جو پورے افراد انسانی کو کسی ایک مرکز پر جمع کرسکیں بلکہ جتنا غور کیا جائے یہ وحدتیں درحقیقت افراد انسانی کو بہت سی کثرتوں میں تقسیم کر ڈالنے اور آپس میں ٹکراؤ اور اختلافات کے اسباب ہیں، 
دین اسلام نے جو درحقیقت تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ہے وحدت کا اصل نقطہ فکر و خیال اور عقیدہ کی وحدت کو قرار دیا اور کروڑوں خداؤں کی پرستش میں بٹی ہوئی دنیا کو ایک ذات حق وحدہ لاشریک لہ کی عبادت اور اطاعت کی دعوت دی جس پر مشرق ومغرب اور ماضی و مستقبل کے تمام افراد انسانی جمع ہوسکتے ہیں پھر اس حقیقی فکری اور نظری وحدت کو عملی صورت اور قوت دینے کے لئے کچھ ظاہری وحدتیں بھی ساتھ لگائی گئیں مگر ان ظاہری وحدتوں میں بھی اصول یہ رکھا گیا کہ وہ عملی اور اختیاری ہوں تاکہ تمام افراد انسانی ان کو اختیار کرکے ایک رشتہ اخوت میں منسلک ہوسکیں نسب، وطن، زبان، رنگ وغیرہ اختیاری چیزیں نہیں ہیں جو شخص ایک خاندان کے اندر پیدا ہوچکا ہے وہ کسی طرح دوسرے خاندان میں پیدا نہیں ہوسکتا جو پاکستان میں پیدا ہوچکا وہ انگلستان یا افریقہ میں پیدا نہیں ہوسکتا جو کالا ہے وہ اپنے اختیار سے گورا اور جو گورا ہے وہ اپنے اختیار سے کالا نہیں ہوسکتا،
اب اگر ان چیزوں کو مزکز وحدت بنایا جائے تو انسانیت کا سیکڑوں بلکہ ہزاروں ٹکڑوں اور گروہوں میں تقسیم ہوجانا ناگریز ہوگا اس لئے دین اسلام نے ان چیزوں سے جن سے تمدنی مفاد وابستہ ہیں ان کا پورا احترام رکھتے ہوئے ان کو وحدت انسانی کا مرکز نہیں بننے دیا کہ یہ وحدتیں افراد انسانی کو مختلف کثرتوں میں بانٹنے والی ہیں ہاں اختیاری امور میں اس کی پوری رعایت رکھی کہ فکری وحدت کے ساتھ عملی اور صوری وحدت بھی قائم ہوجائے مگر اس میں بھی اس کا پورا لحاظ رکھا گیا کہ مرکز وحدت ایسی چیزیں بنائی جائیں جن کا اختیار کرنا ہر مرد و عورت لکھے پڑھے اور ان پڑھ شہری اور دیہاتی امیر و غریب کو یکساں طور پر آسان ہو، یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلام نے تمام دنیا کے لوگوں کو لباس اور مسکن کھانے اور پینے کے کسی ایک طریقہ کا پابند نہیں کہا کہ ہر جگہ کے موسم اور طبائع مختلف اور ان کے ضروریات مختلفہ ہیں سب کو ایک ہی طرح کے لباس یا شعار (یونیفارم) کا پابند کردیا جائے تو بہت سی مشکلات پیش آئیں گی پھر اگر یہ یونیفارم کم سے کم تجویز کردیا جائے تو یہ اعتدال انسانی پر ظلم ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے عمدہ لباس اور عمدہ کپڑوں کی بےحرمتی ہوگی اور اگر اس سے زائد کسی لباس کا پابند کیا جائے تو غریب مفلس لوگوں کو مشکلات پیش آئیں گی
اس لئے شریعت اسلام نے مسلمانوں کا کوئی ایک شعار (یونیفارم) مقرر نہیں کیا بلکہ مختلف قوموں میں جو طریقے اور اوضاع لباس کی رائج تھیں ان سب پر نظر کرکے ان میں سے جو صورتیں اسراف بیجا یا فخر وغیرہ یا کسی غیر مسلم قوم کی نقالی پر مبنی تھیں صرف ان کو ممنوع قرار دے کر باقی چیزوں میں ہر فرد اور ہر قوم کو آزاد اور خود مختار رکھا مرکز وحدت ایسی چیزوں کو بنایا گیا جو اختیاری بھی ہوں اور آسان اور سستی بھی ان چیزوں میں جیسے جماعت نماز کی صف بندی ایک امام کی نقل و حرکت کی مکمل پابندی حج میں لباس اور مسکن کا اشتراک وغیرہ ہیں
اسی طرح ایک اہم چیز سمت قبلہ کی وحدت بھی ہے کہ اگرچہ اللہ جل شانہ کی ذات پاک ہر سمت وجہت سے بالاتر ہے اس کے لئے شش جہت یکساں ہیں لیکن نماز میں اجتماعی صورت اور وحدت پیدا کرنے کے لئے تمام دنیا کے انسانوں کا رخ کسی ایک ہی جہت وسمت کی طرف ہونا ایک بہترین اور آسان اور بےقیمت وحدت کا ذریعہ ہے جس پر سارے مشرق ومغرب اور جنوب و شمال کے انسان آسانی سے جمع ہوسکتے ہیں اب وہ ایک سمت وجہت کونسی ہو جس کی طرف ساری دنیا کا رخ پھیر دیا جائے اس کا فیصلہ اگر انسانوں پر چھوڑا جائے تو یہ ایک سب سے بڑی بناء اختلاف ونزاع بن جاتی ہے اس لئے ضرور تھا کہ اس کا تعین خود حضرت حق جل وعلا شانہ کی طرف سے ہوتا حضرت آدم (علیہ السلام) کو دنیا میں اتارا گیا تو فرشتوں کے ذریعہ بیت اللہ کعبہ کی بنیاد پہلے ہی رکھ دی گئی تھی حضرت آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم (علیہ السلام) کا سب سے پہلا قبلہ یہی بیت اللہ اور خانہ کعبہ بنایا گیا
اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ للنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ 
(٩٦: ٣)
 سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ گھر ہے جو مکہ میں ہے برکت والا ہدایت والا جہان والوں کیلئے نوح (علیہ السلام) تک سب کا قبلہ یہی بیت اللہ تھا طوفان نوح (علیہ السلام) کے وقت پوری دنیا غرق ہو کر تباہ ہوگئی بیت اللہ کی عمارت بھی منہدم ہوگئی اور ان کے بعد حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) نے دوبارہ بحکم خداوندی بیت اللہ کی تعمیر کی اور یہی ان کا اور ان کی امت کا قبلہ رہا اس کے بعد انبیاء (علیہم السلام) بنی اسرائیل کے لئے بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا گیا اور بقول ابو العالیہ انبیاء سابقین جو بیت المقدس میں نماز پڑہتے تھے وہ بھی عمل ایسا کرتے تھے کہ صخرہ بیت المقدس بھی سامنے رہے اور بیت اللہ بھی (ذکرہ القرطبی) 
حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب نماز فرض کی گئی تو بقول بعض علماء ابتدا آپ کا قبلہ آپ کے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ یعنی خانہ کعبہ ہی قرار دیا گیا مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے اور مدینہ طیبہ میں قیام کرنے کے بعد اور بعض روایات کے اعتبار سے ہجرت مدینہ سے کچھ پہلے آپ کو اللہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ آپ بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنائیے صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سولہ سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز ادا فرمائی مسجد نبوی میں آج تک اس کی علامات موجود ہیں جہاں کھڑے ہو کر آپ نے بیت المقدس کی طرف نمازیں ادا فرمائی تھیں 
(قرطبی)
حکم خداوندی کی تعمیل کے لئے تو سید الرسل سر تاپا اطاعت تھے اور حکم خداوندی کے مطابق نمازیں بیت المقدس کی طرف ادا فرما رہے تھے لیکن آپ کی طبعی رغبت اور دلی خواہش یہی تھی کہ آپ کا قبلہ پھر وہی آدم (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ قرار دے دیا جائے اور چونکہ عادۃ اللہ یہی ہے کہ وہ اپنے مقبول بندوں کی مراد اور خواہش ورغبت کو پورا فرماتے ہیں
تو چناں خواہی خدا خواہد چنیں 
می دہد یزداں مراد متقیں
آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی یہ امید تھی کہ آپ کی تمنا پوری کی جائے گی اور اس لئے انتظار وحی میں آپ بار بار آسمان کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھتے تھے اسی کا بیان قرآن کی اس آیت میں ہے، 
قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَ آفَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ 
(١٤٤: ٢) 
ہم دیکھ رہے ہیں آپ کا بارہا آسمان کی طرف نظر اٹھانا سو ہم آپ کا قبلہ وہی بدل دیں گے جو آپ کو پسند ہے اس لئے آئندہ آپ نماز میں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کیا کریں، اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمنا کا اظہار فرما کر اس کو پورا کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے کہ آئندہ آپ مسجد حرام کی طرف رخ کیا کریں، نماز میں خاص بیت اللہ کا استقبال ضروری نہیں اس کی سمت کا استقبال بھی بیرونی دنیا کے لئے کافی ہے یہاں ایک فقہی نکتہ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اس آیت میں کعبہ یا بیت اللہ کے بجائے لفظ مسجد حرام کا استعمال فرمایا گیا ہے جس میں اشارہ ہے کہ بلاد بعیدہ کے رہنے والوں کے لئے یہ ضروری نہیں کہ عین بیت اللہ کی محاذات پائی جائے، بلکہ سمت بیت اللہ کی طرف رخ کرلینا کافی ہے، ہاں جو شخص مسجد حرام میں موجود ہے یا کسی قریبی پہاڑ پر بیت اللہ کو سامنے دیکھ رہا ہے اس کے لئے خاص بیت اللہ ہی کی طرف رخ کرنا ضروری ہے اگر بیت اللہ کی کوئی چیز بھی اس کے چہرے کے محاذات میں نہ آئی تو اس کی نماز نہیں ہوتی بخلاف ان لوگوں کے جن کے سامنے بیت اللہ نہیں کہ ان کے واسطے سمت بیت اللہ یا سمت مسجد حرام کی طرف رخ کرلینا کافی ہے،بہرحال ہجرت مدینہ سے سولہ سترہ مہینے بعد پھر آپ کا اور مسلمانوں کا قبلہ بیت اللہ کو بنایا گیا اس پر یہود اور بعض مشرکین و منافقین آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام پر یہ اعتراض کرنے لگے کہ ان کے دین کا بھی کوئی ٹھکانا نہیں ان کا قبلہ بھی روز روز بدلتا رہتا ہے،قرآن کریم نے ان کا یہ اعتراض آیت مذکورہ میں نقل فرمایا مگر ساتھ ہی عنوان یہ رہا کہ بیوقوف لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں اور ان کی بیوقوفی اس جواب سے واضح ہوگئی جو اس کے بعد ذکر فرمایا گیا ہے ارشاد ہے، قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۭ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ یعنی آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی کے ہیں مشرق اور مغرب وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ چلاتا ہے،اس میں استقبال قبلہ کی حقیقت کو واضح فرما دیا کہ کعبہ اور بیت المقدس کی کوئی خصوصیت بجز اس کے نہیں کہ حکم ربانی نے ان کو کوئی امتیاز دے کر قبلہ بنادیا وہ اگر چاہیں تو ان دونوں کے علاوہ کسی تیسری چوتھی چیز کو بھی قبلہ بنا سکتے ہیں پھر جس کو قبلہ بنادیا گیا اس کی طرف رخ کرنے میں جو کچھ فضیلت اور ثواب ہے اس کی روح حکم حق جل شانہ کی اطاعت کے سوا کچھ نہیں جو بانی کعبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کا بنیادی اصول ہے اور اسی لئے دوسری آیت میں اور زیادہ واضح فرمایا کہ 
لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ
 (١٧٧: ٢)
 اس میں ذاتی کوئی نیکی اور ثواب نہیں کہ تم مشرق کی طرف رخ کرو یا مغرب کی طرف لیکن نیکی اللہ پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے میں ہے،اور ایک آیت میں فرمایا
فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ 
(١١٥: ٢)
 یعنی تم اللہ کے فرمان کے مطابق جس طرف بھی رخ کرو اللہ تعالیٰ کی توجہ اسی طرف پاؤ گے، ان آیات نے قبلہ اور استقبال قبلہ کی حقیقت کو بھی واضح فرما دیا کہ اس میں ان مقامات کی کوئی ذاتی خصوصیت نہیں بلکہ ان میں فضیلت پیدا ہونے کا سبب ہی یہ ہے کہ ان کو حق تعالیٰ نے قبلہ بنانے کے لئے اختیار فرما لیا اور اس کی طرف رخ کرنے میں ثواب کی وجہ بھی صرف یہی ہے کہ حکم ربانی کی اطاعت ہے اور شاید آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے قبلہ میں تغیر وتبدل فرمانے کی یہ بھی حکمت ہو کہ عملی طور سے لوگوں پر یہ واضح ہوجائے کہ قبلہ کوئی بت نہیں جس کی پرستش کی جائے بلکہ اصل چیز حکم خداوندی ہے وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا آگیا تو اس کی تعمیل کی پھر جب کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم مل گیا تو اسی کی طرف رخ کرنا عبادت ہوگیا اس کے بعد والی آیت میں خود قرآن کریم نے بھی اسی حکمت کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں فرمایا ہے 
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْهَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ
 (١٤٣: ٢)
 یعنی جس قبلہ پر آپ پہلے رہ چکے ہیں اس کو قبلہ بنانا تو محض اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے تھا کہ کون رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع کرتا ہے اور کون پیچھے ہٹ جاتا ہے،اس حقیقت قبلہ کے بیان سے ان بیوقوف مخالفین کا بھی پورا جواب ہوگیا جو قبلہ کے بارے میں تغییر وتحویل کو اصول اسلام کے منافی سمجھتے اور مسلمانوں کو طعنے دیتے تھے آخر میں ارشاد فرمایا يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ اس میں بتلا دیا ہے کہ سیدھی راہ یہی ہے کہ انسان حکم حق جل شانہ کے لئے کمربستہ منتظر رہے جو حکم مل جائے اس پر بےچون وچرا عمل کرے اور یہ سیدھی راہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کو حاصل ہوئی۔مسند احمد کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ (رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اہل کتاب کو مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑا حسد تین چیزوں پر ہے ایک یہ کہ ہفتہ میں ایک دن عبادت کے لئے مخصوص کرنے کا حکم ساری امتوں کو ملا تھا یہود نے سنیچر کا دن مقرر کرلیا اور نصاریٰ نے اتوار کا اور حقیقت میں عنداللہ وہ جمعہ کا روز تھا جو مسلمانوں کے انتخاب میں آیا۔ دوسرے وہ قبلہ جو تحویل کے بعد مسلمانوں کے لئے مقرر کیا گیا اور کسی امت کو اس کی توفیق نہیں ہوئی تیسرے امام کے پیچھے آمین کہنا کہ یہ تینوں خصلتیں صرف مسلمانوں کو میسر ہوئیں اہل کتاب ان سے محروم ہیں۔


آیت   143

وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ؕ وَمَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَةَ الَّتِىۡ كُنۡتَ عَلَيۡهَآ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ يَّنۡقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ‌ؕ وَاِنۡ كَانَتۡ لَكَبِيۡرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيۡمَانَكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ  


لفظی ترجمہ

 وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح   |  جَعَلْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں بنایا   |  اُمَّةً : امت   |  وَّسَطًا : معتدل   |  لِّتَكُوْنُوْا : تاکہ تم ہو   |  شُهَدَآءَ : گواہ   |  عَلَي : پر   |  النَّاسِ : لوگ   |  وَيَكُوْنَ : اور ہو   |  الرَّسُوْلُ : رسول   |  عَلَيْكُمْ : تم پر   |  شَهِيْدًا : گواہ   |  وَمَا جَعَلْنَا : اور نہیں مقرر کیا ہم نے   |  الْقِبْلَةَ : قبلہ   |  الَّتِىْ : وہ کس   |  كُنْتَ : آپ تھے   |  عَلَيْهَآ : اس پر   |  اِلَّا : مگر   |  لِنَعْلَمَ : تاکہ ہم معلوم کرلیں   |  مَنْ : کون   |  يَّتَّبِعُ : پیروی کرتا ہے   |  الرَّسُوْلَ : رسول   |  مِمَّنْ : اس سے جو   |  يَّنْقَلِبُ : پھرجاتا ہے   |  عَلٰي : پر   |  عَقِبَيْهِ : اپنی ایڑیاں   |  وَاِنْ : اور بیشک   |  كَانَتْ : یہ تھی   |  لَكَبِيْرَةً : بھاری بات   |  اِلَّا : مگر   |  عَلَي : پر   |  الَّذِيْنَ : جنہیں   |  ھَدَى: ہدایت دی   |  اللّٰهُ : اللّه   |  وَمَا كَانَ : اور نہیں   |  اللّٰهُ : اللّه   |  لِيُضِيْعَ : کہ وہ ضائع کرے   |  اِيْمَانَكُمْ : تمہارا ایمان   |  اِنَّ : بیشک   |  اللّٰهَ : اللّه   |  بِالنَّاسِ : لوگوں کے ساتھ   |   لَرَءُوْفٌ: بڑا شفیق   |  رَّحِيْمٌ: رحم کرنے والا 


ترجمہ

اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک  "امت وسط" بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو پہلے جس طرف تم رخ کرتے تھے اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت مگر اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا جو اللّه کی ہدایت سے فیض یاب تھے اللّه تمہارے اس ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے



تفسیر 

اور اے متبعان محمد صلی اللّه  علیہ وآلہ وسلم اسی طرح ہم نے تم کو ایسی ہی ایک جماعت بنادی ہے جو ہر پہلو سے نہایت اعتدال پر ہے تاکہ دنیا میں شرف و امتیاز حاصل ہونے کے علاوہ آخرت میں بھی تمہارا بڑا شرف ظاہر ہو کہ تم ایک بڑے مقدمہ میں جس میں ایک فریق حضرات انبیاء علیہم السلام ہوں گے اور فریق ثانی ان کی مخالف قومیں ہوں گی ان مخالف لوگوں کے مقابلہ میں گواہ تجویز ہو اور شرف بالائے شرف یہ ہوا کہ تمہارے قابل شہادت اور معتبر ہونے کے لئے رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم گواہ ہوں اور اس شہادت سے تمہاری شہادت معتبر ہونے کی تصدیق ہو پھر تمہاری شہادت سے اس مقدمہ کا حضرات انبیاء علیہم السلام کے حق میں فیصلہ ہو اور مخالفین مجرم قرار پاکر سزا یاب ہوں اور اس امر کا اعلیٰ درجہ کی عزت ہونا ظاہر ہے

  امت محمدیہ کا خاص اعتدال لفظ وَسَطَ بفتح السین بمعنی اوسط ہے اور خیر الامور اور افضل اشیاء کو وسط کہا جاتا ہے ترمذی میں بروایت ابو سعید خدری آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے لفظ وسط کی تفسیر عدل سے کی گئی ہے جو بہترین کے معنی میں آیا ہے      
           (قرطبی)
 اس آیت میں امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی ایک امتیازی فضیلت وخصوصیت کا ذکر ہے کہ وہ ایک معتدل امت بنائی گئی اس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ جس طرح ہم نے مسلمانوں کو وہ قبلہ عطا کیا جو سب سے اشرف و افضل ہے اسی طرح ہم نے امت اسلامیہ کو ایک خاص امتیازی فضیلت یہ عطا کی ہے کہ اس کو ایک معتدل امت بنایا ہے جس کے نتیجہ میں ان کو میدان حشر میں یہ امتیاز حاصل ہوگا کہ سارے انبیاء علیہم السلام کی امتیں جب اپنے انبیاء کی ہدایت و تبلیغ سے مکر جائیں گی اور ان کو جھٹلا کر یہ کہیں گی کہ ہمارے پاس نہ کوئی کتاب آئی نہ کسی نبی نے ہمیں کوئی ہدایت کی اس وقت امت محمدیہ انبیاء علیہم السلام کی طرف سے گواہی میں پیش ہوگی اور یہ شہادت دے گی کہ انبیاء علیہم السلام نے ہر زمانے میں اللّه تعالیٰ کی طرف سے لائی ہوئی ہدایت ان کو پہنچائیں اور ان کو صحیح راستہ پر لانے کی مقدور بھر پوری کوشش کی مدعیٰ علیہم امتیں امت محمدیہ کی گواہی پر یہ جرح کریں گی کہ اس امت محمدیہ کا تو ہمارے زمانے میں وجود بھی نہ تھا اس کو ہمارے معاملات کی کیا خبر اس کی گواہی ہمارے مقابلہ میں کیسے قبول کی جاسکتی ہے امت محمدیہ اس جرح کا یہ جواب دے گی کہ بیشک ہم اس وقت موجود نہ تھے مگر ان کے واقعات و حالات کی خبر ہمیں ایک صادق مصدوق رسول نے اور اللّه کی کتاب نے دی ہے جس پر ہم ایمان لائے اور ان کی خبر کو اپنے معائنہ سے زیادہ وقیع اور سچا جانتے ہیں اس لئے ہم اپنی شہادت میں حق بجانب اور سچے ہیں اس وقت رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم پیش ہوں گے اور ان گواہوں کا تزکیہ و توثیق کریں گے کہ بیشک انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ صحیح ہے اللّه تعالیٰ کی کتاب اور میری تعلیم کے ذریعہ ان کو یہ صحیح حالات معلوم ہوئےمحشر کے اس واقعہ کی تفصیل صحیح بخاری، ترمذی، نسائی، اور مسند احمد کی متعدد احادیث میں مجملا اور مفصلا مذکور ہے
الغرض آیت مذکورہ میں امت محمدیہ کی اعلیٰ فضلیت وشرف کا راز یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ امت معتدل امت بنائی گئی ہے اس لئے یہاں چند باتیں قابل غور ہیں اعتدال امت کی حقیقت اہمیت اور اس کی کچھ تفصیل

 اعتدال کے معنی اور حقیقت کیا ہیں؟؟
وصف اعتدال کی یہ اہمیت کیوں ہے کہ اس پر مدار فضیلت رکھا گیا؟؟
  اس امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے معتدل ہونے کا واقعات کی رو سے کیا ثبوت ہے؟؟
 ترتیب وار ان تینوں سوالوں کا جواب یہ ہے

١۔ اعتدال کے لفظی معنی ہیں برابر ہونا یہ لفظ عدل سے مشتق ہے اس کے معنی بھی برابر کرنے کے ہیں 
٢۔ وصف اعتدال کی یہ اہمیت کہ اس کو انسانی شرف و فضیلت کا معیار قرار دیا گیا ذرا تفصیل طلب ہے اس کو پہلے ایک محسوس مثال سے دیکھئے دنیا کے جتنے نئے اور پرانے طریقے جسمانی صحت وعلاج کے لئے جاری ہیں طب یونانی ویدک ایلوپیتھک  ہومیو پیتھک وغیرہ سب کے سب اس پر متفق ہیں کہ بدن انسانی کی صحت اعتدال مزاج سے ہے اور جہاں یہ اعتدال کسی جانب سے خلل پذیر ہو وہی بدن انسانی کا مرض ہے خصوصاً طب یونانی کا تو بنیادی اصول ہی مزاج کی پہچان پر موقوف ہے انسان کا بدن چار خلط خون  بلغم  سودا صفرا سے مرکب اور انہی چاروں اخلاط سے پیدا شدہ چار کیفیات انسان کے بدن میں ضروری ہیں گرمی  ٹھنڈک  خشکی اور تری جس وقت تک یہ چاروں کیفیات مزاج انسانی کے مناسب حدود کے اندار معتدل رہتی ہیں وہ بدن انسانی کی صحت و تندرستی کہلاتی ہے اور جہاں ان میں سے کوئی کیفیت مزاج انسانی کی حد سے زیادہ ہوجائے یا گھٹ جائے وہی مرض ہے اور اگر اس کی اصلاح وعلاج نہ کیا جائے تو ایک حد میں پہنچ کر وہی موت کا پیام ہوجاتا ہے اس محسوس مثال کے بعد اب روحانیت اور اخلاقیات کی طرف آئیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان میں بھی اعتدال اور بےاعتدالی کا یہی طریقہ جاری ہے اس کے اعتدال کا نام روحانی صحت اور بےاعتدالی کا نام روحانی اور اخلاقی مرض ہے اور اس مرض کا اگر علاج کرکے اعتدال پر نہ لایا جائے تو اس کا نتیجہ روحانی موت ہے اور یہ بھی کسی صاحب بصیرت انسان پر مخفی نہیں کہ جوہر انسانیت جس کی وجہ سے انسان ساری مخلوقات کا حاکم اور مخدوم قرار دیا گیا ہے وہ اس کا بدن یا بدن کے اجزاء واخلاط یا ان کی کیفیات حرارت وبرودت نہیں کیونکہ ان اجزاء و کیفیات میں تو دنیا کے سارے جانور بھی انسانیت کے ساتھ شریک بلکہ انسانیت سے زیادہ حصہ رکھنے والے ہیں جوہر انسانیت جس کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات اور آقائے کائنات مانا گیا ہے وہ اس کے گوشت پوست اور حرارت وبرودت وغیرہ سے بالاتر کوئی چیز ہے جو انسان میں کامل اور اکمل طور پر موجود ہے دوسری مخلوقات کو اس کا وہ درجہ حاصل نہیں اور اس کا معین کرلینا بھی کوئی باریک اور مشکل کام نہیں کہ وہ انسان کا روحانی اور اخلاقی کمال ہے جس نے اس کو مخدوم کائنات بنایا ہے مولانا رومی نے خوب فرمایا ہے 
آدمیت لحم وشحم و پوست نیست آدمیت جز رضائے دوست نیست 
اور اسی وجہ سے وہ انسان جو اپنے جوہر شرافت و فضیلت کی بےقدری کرکے اس کو ضائع کرتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا
اینکہ می بینی خلاف آدم اند نیستند آدم غلاف آدم اند
  اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ انسان کا جوہر شرافت اور مدار فضیلت اس کے روحانی اور اخلاقی کمالات ہیں اور یہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ بدن انسانی کی طرح روح انسانی بھی اعتدال وبے اعتدالی کا شکار ہوتی ہے اور جس طرح بدن انسانی کی صحت اس کے مزاج اور اخلاط کا اعتدال ہے اسی طرح روح کی صحت روح اور اس کے اخلاق کا اعتدال ہے اس لئے انسان کامل کہلانے کا مستحق صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جو جسمانی اعتدال کے ساتھ روحانی اور اخلاقی اعتدال بھی رکھتا ہو یہ کمال تمام انبیاء علیہم السلام کو خصوصیت کے ساتھ عطا ہوتا ہے اور ہمارے رسول کریم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو انبیاء علیہم السلام میں بھی سب سے زیادہ یہ کمال حاصل تھا اس لئے انسان کامل کے اولین مصداق آپ ہی ہیں اور جس طرح جسمانی علاج معالجہ کے لئے ہر زمانہ اور ہر جگہ ہر بستی میں طبیب اور ڈاکٹر اور دواؤں اور آلات کا ایک محکم نظام حق تعالیٰ نے قائم فرمایا ہے اسی طرح روحانی علاج اور قوموں میں اخلاقی اعتدال پیدا کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام بھیجے گئے ان کے ساتھ آسمانی ہدایات بھیجی گئیں اور بقدر ضرورت مادی طاقتیں بھی عطا کی گئیں جن کے ذریعہ وہ یہ قانون اعتدال دنیا میں نافذ کرسکیں اسی مضمون کو قرآن کریم میں سورة حدید میں اس طرح بیان فرمایا ہے 

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ  
                   (٢٥: ٥٧) 
یعنی ہم نے بھیجے ہیں اپنے رسول نشانیاں دے کر اور اتاری ان کے ساتھ کتاب اور ترازو تاکہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہوجائیں اور ہم نے اتارا لوہا اس میں سخت لڑائی ہے اور لوگوں کے کام چلتے ہیں

 اس میں انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے اور ان پر کتابیں نازل کرنے کی حکمت یہی بتلائی ہے کہ وہ ان کے ذریعہ لوگوں میں اخلاقی اور عملی اعتدال پیدا کریں کتاب اخلاق، اور روحانی اعتدال پیدا کرنے کے لئے نازل کی گئی اور ترازو معاملات لین دین میں عملی اعتدال پیدا کرنے کے لئے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ترازو سے مراد ہر پیغمبر کی شریعت ہو جس کے ذریعہ اعتدال حقیقی معلوم ہوتا ہے اور عدل و انصاف قائم کیا جاسکتا ہے۔اس تفصیل سے آپ نے یہ سمجھ لیا ہوگا کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے اور ان پر کتابیں نازل کرنے کی اصلی غرض و حکمت یہی ہے کہ قوموں کو اخلاقی اور عملی اعتدال پر قائم کیا جائے اور یہی قوموں کی صحت مندی اور تندرستی ہےامت محمدیہ میں ہر قسم کا اعتدال اس بیان سے آپ نے یہ بھی معلوم کرلیا ہوگا کہ امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی جو فضلیت آیت مذکورہ میں بتلائی گئی وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا یعنی ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا ہے یہ بولنے اور لکھنے میں تو ایک لفظ ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے کسی قوم یا شخص میں جتنے کمالات اس دنیا میں ہو سکتے ہیں ان سب کے لئے حاوی اور جامع ہے اس میں امت محمدیہ کو امت وسط یعنی معتدل امت فرما کر یہ بتلا دیا کہ انسان کا جوہر شرافت و فضیلت ان میں بدرجہ کمال موجود ہے اور جس غرض کیلئے یہ آسمان و زمین کا سارا نظام ہے اور جس کے لئے انبیاء علیہم السلام اور آسمانی کتابیں بھیجی گئی ہیں یہ امت اس میں ساری امتوں سے ممتاز اور افضل ہےقرآن کریم نے اس امت کے متعلق اس خاص وصف فضیلت کا بیان مختلف آیات میں مختلف عنوانات سے کیا ہے سورة اعراف کے آخر میں امت محمدی کے لئے ارشاد ہوا
وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون 
                    (١٨١: ٧) 

یعنی ان لوگوں میں جن کو ہم نے پیدا کیا ہے ایک ایسی امت ہے جو سچی راہ بتلاتے ہیں اور اس کے موافق انصاف کرتے ہیں اس میں امت محمدیہ کے اعتدال روحانی و اخلاقی کو واضح فرمایا ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کو چھوڑ کر آسمانی ہدایت کے مطابق خود بھی چلتے ہیں اور دوسروں کو بھی چلانے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی معاملہ میں نزاع واختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی اسی لیے لاگو آسمانی قانون کے ذریعہ کرتے ہیں جس میں کسی قوم یا شخص کے ناجائز مفاد کا کوئی خطرہ نہیں اور سورة آل عمران میں امت محمدیہ کے اسی اعتدال مزاج اور اعتدال روحانی کے آثار کو ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے
كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤ ْمِنُوْنَ باللّٰهِ ۭ 
                  (١١٠: ٣)  
یعنی تم سب امتوں میں بہتر ہو جو عالم میں بھیجی گئی ہو حکم کرتے ہو اچھے کاموں کا اور منع کرتے ہو برے کاموں سے اور اللہ پر ایمان لاتے ہو

یعنی جس طرح ان کو سب رسولوں میں افضل نصیب ہوئے کتاب سب کتابوں میں جامع اور اکمل نصیب ہوئی اسی طرح ان کو قوموں کا صحت مندانہ مزاج اور اعتدال بھی اس اعلیٰ پیمانے پر نصیب ہوا کہ وہ سب امتوں میں بہتر قرار پائی اس پر علوم و معارف کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں ایمان وعمل وتقویٰ کی تمام شاخیں ان کی قربانیوں سے سرسبز و شاداب ہوں گی وہ کسی مخصوص ملک و اقلیم میں محصور نہ ہوگی بلکہ اس کا دائرہ عمل سارے عالم اور انسانی زندگی کے سارے شعبوں کو محیط ہوگا گویا اس کا وجود ہی اس لئے ہوگا کہ دوسروں کی خیر خواہی کرے اور جس طرح ممکن ہو انھیں جنت کے دروازوں پر لاکھڑا کردے اُخْرِجَتْ للنَّاس میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ امت دوسروں کی خیر خواہی اور فائدہ کے لئے بنائی گئی ہے اس کا فرض منصبی اور قومی نشان یہ ہے کہ لوگوں کو نیک کاموں کی ہدایت کرے برے کاموں سے روکے
ایک حدیث میں رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد الدین النصیحۃ کا یہی مطلب ہے کہ دین اس کا نام ہے کہ سب مسلمانوں کی خیر خواہی کرے پھر برے کاموں میں کفر، شرک، بدعات، رسوم قبیحہ فسق و فجور اور ہر قسم کی بداخلاقی اور نامعقول باتیں شامل ہیں ان سے روکنا بھی کئی طرح ہوگا کبھی زبان سے کبھی ہاتھ سے کبھی قلم سے، کبھی تلوار سے، غرض ہر قسم کا جہاد اس میں داخل ہوگیا یہ صفت جس قدر عموم و اہتمام سے امت محمدیہ میں پائی گئی پہلی امتوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی
٣۔ اب تیسری بات غور طلب یہ رہ گئی کہ اس امت کے توسط و اعتدال کا واقعات سے ثبوت کیا ہے اس کی تفصیل طویل اور تمام امتوں کے اعتقادات، اعمال و اخلاق اور کارناموں کا موازنہ کرکے بتلانے پر موقوف ہے اس میں سے چند چیزیں بطور مثال ذکر کی جاتی ہےاعتقادی اعتدال سب سے پہلے اعتقادی اور نظری اعتدال کو لے لیجئے تو پچھلی امتوں میں ایک طرف تو یہ نظر آئے گا کہ اللّه کے رسولوں کو اس کا بیٹا بنا لیا اور ان کی عبادت اور پرستش کرنے لگے
 وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ        
                     (٣٠: ٩)
 اور دوسری طرف انہی قوموں کے دوسرے افراد کا یہ عالم بھی مشاہدہ میں آئے گا کہ رسول کے مسلسل معجزات دیکھنے اور برتنے کے باوجود جب ان کا رسول ان کو کسی جنگ و جہاد کی دعوت دیتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں
 فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ
                  (٢٤: ٥)
 
یعنی جائیے آپ اور آپ کا پروردگار وہی مخالفین سے قتال کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں کہیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ اپنے انبیاء کو خود ان کے ماننے والے طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے ہیں۔بخلاف امت محمدیہ کے کہ وہ ہر قرن ہر زمانے میں ایک طرف تو اپنے رسول صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم سے وہ عشق و محبت رکھتے ہیں کہ اس کے آگے اپنی جان ومال اور اولاد وآبرو سب کو قربان کردیتے ہیں سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں اور دوسری طرف یہ اعتدال کہ رسول کو رسول اور خدا کو خدا سمجھتے ہیں رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو باایں ہمہ کمالات و فضائل عبداللّه و رسولہ مانتے اور کہتے ہیں وہ آپ کے مدائح ومناقب میں بھی یہ پیمانہ رکھتے ہیں جو قصیدہ بردہ میں فرمایا
دع ما ادعتہ النصاریٰ فی نبیھم  واحکم بما شئت مدحاً فیہ واحتکم
 یعنی اس کلمہ کفر کو چھوڑ دو جو انصاریٰ نے اپنے نبی کے بارے میں کہہ دیا کہ وہ معاذ اللّٰه خود خدا یا خدا کے بیٹے ہیں اس کے سوا آپ کی مدح وثنا میں جو کچھ کہو وہ سب حق و صحیح ہے جس کا خلاصہ کسی نے ایک مصرع میں اس طرح بیان کردیابعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔عمل اور عبادت میں اعتدال اعتقاد کے بعد عمل اور عبادت کا نمبر ہے اس میں ملاحظہ فرمائیے پچھلی امتوں میں ایک طرف تو یہ نظر آئے گا کہ اپنی شریعت کے احکام کو چند ٹکوں کے بدلے فروخت کیا جاتا ہے رشوتیں لے کر آسمانی کتاب میں ترمیم کی جاتی ہے یا غلط فتوے دئیے جاتے ہیں اور طرح طرح کے حیلے بہانے کرکے شرعی احکام کو بدلا جاتا ہے عبادت سے پیچھا چھڑایا جاتا ہے اور دوسری طرف عبادت خانوں میں آپ کو ایسے لوگ بھی نظر آئیں گے جنہوں نے ترک دنیا کرکے رہبانیت اختیار کرلی وہ خدا کی دی ہوئی حلال نعمتوں سے بھی اپنے آپ کو محروم رکھتے اور سختیاں جھیلنے ہی کو عبادت وثواب سمجھتے ہیں 
امت محمدیہ نے اس کے خلاف ایک طرف رہبانیت کو انسانیت پر ظلم قرار دیا اور دوسری طرف احکام خدا و رسول پر مر مٹنے کا جذبہ پیدا کیا اور قیصر وکسریٰ کے تخت وتاج کے مالک بن کر دنیا کو یہ دکھلا دیا کہ دیانت وسیاست میں یا دین و دنیا میں بیر نہیں مذہب صرف مسجدوں یا خانقاہوں کے گوشوں کے لئے نہیں آیا بلکہ اس کی حکمرانی بازاروں اور دفتروں پر بھی ہے اور وزارتوں اور امارتوں پر بھی اس نے بادشاہی میں فقیری اور فقیری میں بادشاہی سکھلائی۔چو فقر اندر لباس شاہی آمد زتدبیر عبید اللہی آمد معاشرتی اور تمدنی اعتدال اس کے بعد معاشرت اور تمدن کو دیکھئے تو پچھلی امتوں میں آپ ایک طرف یہ بےاعتدالی دیکھیں گے کہ انسانی حقوق کی کوئی پرواہ نہیں حق ناحق کی کوئی بحث نہیں اپنی اغراض کے خلاف جس کو دیکھا اس کو کچل ڈالنا، قتل کردینا لوٹ لینا سب سے بڑا کمال ہے ایک رئیس کی چراگاہ میں کسی دوسرے کا اونٹ گھس گیا اور وہاں کچھ نقصان کردیا تو عرب کی مشہور جنگ حرب بسوس مسلسل سو برس جاری رہی ہزاروں انسانوں کا خون ہوا عورتوں کو انسانی حقوق دینا تو کجا زندہ رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی کہیں بچپن ہی میں ان کو زندہ درگور کردینے کی رسم تھی کہیں مردہ شوہروں کے ساتھ ستی کرکے جلا ڈالنے کا رواج تھا اس کے بالمقابل دوسری طرف یہ سفیہانہ رحم دلی کہ کیڑے مکوڑوں کی ہتھیا کو حرام سمجھیں جانوروں کے ذبیحہ کو حرام قرار دیں خدا کے حلال کئے ہوئے جانوروں کے گوشت و پوست سے نفع اٹھانے کو ظلم سمجھیں امت محمدیہ اور اس کی شریعت نے ان سب بےاعتدالیوں کا خاتمہ کیا ایک طرف انسان کو انسان کے حقوق کی حفاظت سکھلائی عورتوں کو مردوں کی طرح حقوق عطا فرمائے اور دوسری طرف ہر چیز کی حد مقرر فرمائی جس سے آگے بڑہنے اور پیچھے رہنے کو جرم قرار دیا اور اپنے حقوق کے معاملہ میں درگذر اور عفو وچشم پوشی کا سبق سکھلایا دوسروں کے حقوق کا پورا اہتمام کرنے کے آداب سکھلائے،اقتصادی اور مالی اعتدالی اس کے بعد دنیا کی ہر قوم وملت میں سب سے اہم مسئلہ معاشیات اور اقتصادیات کا ہے اس میں بھی دوسری قوموں اور امتوں میں طرح طرح کی بےاعتدالیاں نظر آئیں ایک طرف نظام سرمایہ داری ہے جس میں حلال و حرام کی قیود سے اور دوسرے لوگوں کی خوش حالی یا بدحالی سے آنکھیں بند کرکے زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرلینا سب سے بڑی انسانی فضیلت سمجھی جاتی ہے تو دوسری طرف شخصی اور انفرادی ملکیت ہی کو سرے سے جرم قرار دیا جاتا ہے اور غور کرنے سے دونوں اقتصادی نظاموں کا حاصل مال و دولت کی پرستش اور اس کو مقصد زندگی سمجھنا اور اس کے لئے دوڑ دھوپ ہے،امت محمدیہ اور اس کی شریعت نے اس میں بھی اعتدال کی عجیب و غریب صورت پیدا کی کہ ایک طرف تو دولت کو مقصد زندگی بنانے سے منع فرمایا اور انسانی عزت و شرافت یا کسی منصب عہدہ کا مدار اس پر نہیں رکھا اور دوسری طرف تقسیم دولت کے ایسے پاکیزہ اصول مقرر کئے جن سے کوئی انسان ضروریات زندگی سے محروم نہ رہے اور کوئی فرد ساری دولت کو نہ سمیٹ لے قابل اشتراک چیزوں کو مشترک اور وقف عام رکھا مخصوص چیزوں میں انفرادی ملکیت کا مکمل احترام کیا حلال مال کی فضیلت اس کے رکھنے اور استعمال کرنے کے صحیح طریقے بتلائے اس کی تفصیل اس قدر طویل ہے کہ ایک مستقل بیان کو چاہتی ہے اس وقت بطور مثال چند نمونے اعتدال اور بےاعتدالی کے پیش کرنے تھے اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے جس سے آیت مذکورہ کا مضمون واضح ہوگیا کہ امت محمدیہ کو ایک معتدل اور بہترین امت بنایا گیا ہے
شہادت کے لئے عدل وثقہ ہونا شرط ہے
لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاس یعنی امت محمدیہ کو وسط اور عدل وثقۃ اس لئے بنایا گیا کہ یہ شہادت دینے کے قابل ہوجائیں اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص عدل نہیں وہ قابل شہادت نہیں عدل کا ترجمہ ثقہ یعنی قابل اعتماد کیا جاتا ہے اس کی پوری شرائط کتب فقہ میں مذکور ہیں اجماع کا حجت ہونا قرطبی نے فرمایا کہ یہ آیت اجماع امت کے حجت ہونے پر ایک دلیل ہے کیونکہ جب اس امت کو اللّه تعالیٰ نے شہداء قرار دے کر دوسری امتوں کے بالمقابل انکی بات کو حجت بنادیا تو ثابت ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت ہے اور عمل اس پر واجب ہے اس طرح کہ صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین کا اجماع تابعین پر اور تابعین کا اجماع تبع تابعین پر حجت ہے اور تفسیر مظہری میں ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اس امت کے جو افعال و اعمال متفق علیہ ہیں وہ سب محمود و مقبول ہیں کیونکہ اگر سب کا اتفاق کسی خطا پر تسلیم کیا جائے تو پھر یہ کہنے کے کوئی معنی نہیں رہتے کہ یہ امت وسط اور عدل ہے۔اور امام جصاص نے فرمایا کہ اس آیت میں اس کی دلیل ہے کہ ہر زمانے کے مسلمانوں کا اجماع معتبر ہے اجماع کا حجت ہونا صرف قرن اول یا کسی خاص زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں کیونکہ آیت میں پوری امت کو خطاب ہے اور امت رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی صرف وہ نہ تھے جو اس زمانے میں موجود تھے بلکہ قیامت تک آنے والی نسلیں جو مسلمان ہیں وہ سب آپ کی امت ہیں تو ہر زمانے کے مسلمان شہداء اللّه ہوگئے جن کا قول حجت ہے وہ سب کسی خطاءاور غلط پر متفق نہیں ہوسکتے
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ

اور اصل میں تو شریعت محمدیہ کے لئے ہم نے کعبہ ہی قبلہ تجویز کر رکھا تھا اور جس سمت قبلہ پر آپ چند روز قائم رہ چکے ہیں یعنی بیت المقدس وہ تو محض اس مصلحت کے لئے تھا کہ ہم کو ظاہری طور پر بھی معلوم ہوجاوے کہ اس کے مقرر ہونے سے یا بدلنے سے یہود اور غیر یہود میں سے کون تو رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کا اتباع اختیار کرتا ہے اور کون پیچھے کو ہٹتا جاتا ہے اور نفرت اور مخالفت کرتا ہے اس امتحان کے لئے اس عارضی قبلہ کو مقرر کیا تھا پھر اصلی قبلہ سے اس کو منسوخ کردیا اور یہ قبلہ کا بدلنا منحرف لوگوں پر ہوا بڑا ثقیل ہاں مگر جن لوگوں کو اللّه تعالیٰ نے سیدھے طریق کی ہدایت فرمائی ہے جس کا بیان اوپر آچکا ہے کہ احکام الہیہ کو بےچون وچرا قبول کرلینا ان کو کچھ بھی گراں نہیں ہوا جیسا پہلے اس کو خدا کا حکم سمجھتے تھے اب اس کو سمجھنے لگے اور ہم نے جو کہا ہے کہ بیت المقدس قبلہ غیر اصلی تھا اس سے کوئی شخص یہ وسوسہ نہ لاوے بس تو جتنی نمازیں ادھر پڑھی ہیں ان میں ثواب بھی کم ملا ہوگا کیونکہ اصلی قبلہ کی طرف نہ تھیں سو اس وسوسہ کو دل میں نہ لانا کیونکہ اللّه تعالیٰ ایسے نہیں کہ تمہارے ایمان کے متعلق اعمال مثلاً نماز کے ثواب کو ضائع اور ناقص کردیں اور واقعی اللّه تعالیٰ تو ایسے لوگوں پر بہت ہی شفیق اور مہربان ہیں تو ایسے شفیق مہربان پر یہ گمان کب ہوسکتا ہے کیونکہ کسی قبلہ کا اصلی یا غیر اصلی ہونا تو ہم ہی جانتے ہیں تم نے تو دونوں کو ہمارا حکم سمجھ کر قبول کیا اس لئے ثواب بھی کسی کا کم نہ ہوگا
 کعبہ کے قبلہ نماز ہونے کی ابتداء کب ہوئی اس میں صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین وتابعین کا اختلاف ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں جب نماز فرض ہوئی اس وقت قبلہ بیت اللّه تھا یا بیت المقدس۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللّه عنہ کا قول یہ ہے کہ اول ہی سے قبلہ بیت المقدس تھا جو ہجرت کے بعد بھی سولہ سترہ مہینہ تک باقی رہا اس کے بعد بیت اللّه کو قبلہ بنانے کے احکام نازل ہوگئے البتہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کا عمل مکہ مکرمہ میں یہ رہا کہ آپ حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان نماز پڑھتے تھے تاکہ بیت اللّه بھی سامنے رہے اور بیت المقدس کا بھی استقبال ہوجائے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد یہ ممکن نہ رہا اس لئے تحویل قبلہ کا اشتیاق پیدا ہوا 
   (ابن کثیر)  
اور دوسرے حضرات نے فرمایا کہ جب نماز فرض ہوئی مکہ مکرمہ میں تو مسلمانوں کا ابتدائی قبلہ بیت اللّه ہی تھا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام واسماعیل علیہ السلام کا قبلہ بھی بیت اللّه ہی رہا تھا اور آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم جب تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے بیت اللّه ہی کی طرف نماز پڑھتے رہے پھر ہجرت کے بعد آپ کا قبلہ بیت المقدس قرار دے دیا گیا اور مدینہ منورہ میں سترہ مہینے آپ نے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی اس کے بعد پھر آپ کا جو پہلا قبلہ تھا یعنی بیت اللّه اسی کی طرف نماز میں توجہ کرنے کا حکم آگیا تفسیر قرطبی میں بحوالہ ابو عمرو اسی کو اصح القولین قرار دیا ہے اور حکمت اس کی یہ بیان کی جاتی ہے کہ مدینہ منورہ میں تشریف لانے کے بعد چونکہ قبائل یہود سے سابقہ پڑا تو آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مانوس کرنے کے لئے انہی کا قبلہ باذن خداوندی اختیار کرلیا مگر پھر تجربہ سے ثابت ہوا کہ یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے باز آنے والے نہیں تو پھر آپ کو اپنے اصلی قبلہ یعنی بیت اللّه کی طرف رخ کرنے کا حکم مل گیا جو آپ کو اپنے آباء ابراہیم واسماعیل کا قبلہ ہونے کی وجہ سے طبعاً محبوب تھا اور قرطبی نے ابوالعالیہ ریاحی سے نقل کیا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام کی مسجد کا قبلہ بھی بیت اللّه کی طرف تھا اور پھر ابوالعالیہ نے نقل کیا ہے کہ ان کا ایک یہودی سے مناظرہ ہوگیا یہودی نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کا قبلہ صخرہ بیت المقدس تھا ابوالعالیہ نے کہا کہ نہیں موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے پاس نماز پڑھتے تھے مگر آپ کا رخ بیت اللّه ہی کی طرف ہوتا تھا یہودی نے انکار کیا تو ابوالعالیہ نے کہا کہ اچھا میرے تمہارے جھگڑے کا فیصلہ حضرت صالح علیہ السلام کی مسجد کردے گی جو بیت المقدس کے نیچے ایک پہاڑ پر ہے دیکھا گیا تو اس کا قبلہ بیت اللّه کی طرف تھااور جن حضرات نے پہلا قول اختیار کیا ہے ان کے نزدیک حکمت یہ تھی کہ مکہ مکرمہ میں تو مشرکین سے امتیاز اور ان سے مخالفت کا اظہار کرنا تھا اس لئے ان کا قبلہ چھوڑ کر بیت المقدس کو قبلہ بنادیا گیا پھر ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں یہود و نصاریٰ سے امتیاز اور ان کی مخالفت کا اظہار مقصود ہوا تو ان کا قبلہ بدل کر بیت اللّه کو قبلہ بنادیا گیا اسی اختلاف اقوال کی بناء پر آیت مذکورہ کی تفسیر میں بھی اختلاف ہوگیا کہ 
الْقِبْلَةَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْهَآ سے کیا مراد ہے قول اول کی بناء پر اس سے مراد بیت المقدس ہے جو آپ کا قبلہ اولیٰ تھا اور قول ثانی کی بناء پر اس سے مراد کعبہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ وہی آپ کا پہلا قبلہ تھا اور مفہوم آیت کا دونوں صورتوں میں یہ ہے کہ ہم نے تحویل قبلہ کو آپ کا اتباع کرنے والے مسلمانوں کے لئے ایک امتحان قرار دیا ہے تاکہ ظاہر طور پر بھی معلوم ہوجائے کہ کون آپ کا صحیح فرمانبردار ہے اور کون اپنی رائے کے پیچھے چلتا ہے چناچہ تحویل قبلہ کا حکم نازل ہونے کے بعد بعض ضعیف الایمان یا وہ جن کے دلوں میں کچھ نفاق تھا اسلام سے پھرگئے اور رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم پر یہ الزام لگایا کہ یہ تو اپنی قوم کے دین کی طرف پھرگئےبعض احکام متعلقہ کبھی سنت کو قرآن کے ذریعہ بھی منسوخ کیا جاتا ہےجصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ قرآن کریم میں کہیں اس کی تصریح نہیں ہے کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کو قبل از ہجرت یا بعد ہجرت بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا تھا بلکہ اس کا ثبوت صرف احادیث اور سنت نبویہ ہی سے ہے تو جو چیز سنت کے ذریعہ ثابت ہوئی تھی اس آیت قرآن نے اس کو منسوخ کرکے آپ کا قبلہ بیت اللّه کو بنادیا اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ حدیث رسول بھی ایک حیثیت سے قرآن ہی ہے اور یہ کہ کچھ احکام وہ بھی ہیں جو قرآن میں مذکور نہیں صرف حدیث سے ثابت ہیں اور قرآن ان کی شرعی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے کیونکہ اسی آیت کے اخیر میں یہ بھی مذکور ہے کہ جو نماریں بامر رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی طرف پڑھی گئیں وہ بھی معتبر اور مقبول عنداللّه ہیں خبر واحد جبکہ قرائن قویہ اس کے ثبوت پر موجود ہوں اس سے قرآنی حکم منسوخ سمجھا جاسکتا ہےبخاری ومسلم اور تمام معتبر کتب حدیث میں متعدد صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین کی روایت سے منقول ہے کہ جب رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم پر تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا اور آپ نے عصر کی نماز جانب بیت اللّه پڑھی اور بعض روایات میں اس جگہ عصر کے بجائے ظہر مذکور ہے
        (ابن کثیر) 
تو بعض صحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین یہاں سے نماز پڑھ کر باہر گئے اور دیکھا کہ قبیلہ بنی سلمہ کے لوگ اپنی مسجد میں حسب سابق بیت المقدس کی طرف نماز پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے آواز دے کر کہا کہ اب قبلہ بیت اللّه کی طرف ہوگیا ہے ہم رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بجانب بیت اللّه نماز پڑھ کر آئے ہیں ان لوگوں نے درمیان نماز ہی اپنا رخ بیت المقدس سے بیت اللّه کی طرف پھیرلیا نویلہ بنت مسلم کی روایت میں ہے کہ اس وقت عورتیں جو پچھلی صفوں میں تھیں آگے آگئیں اور مرد جو اگلی صفوں میں تھے پیچھے آگئے اور جب رخ بیت اللّه کی طرف بدلا گیا تو مردوں کی صفیں آگے اور عورتوں کی پیچھے ہوگئیں 
       (ابن کثیر) 
بنو سلمہ کے لوگوں نے تو ظہر یا عصر ہی سے تحویل قبلہ کے حکم پر عمل کرلیا مگر قباء میں یہ خبر اگلے دن صبح کی نماز میں پہنچی جیسا کہ بخاری ومسلم میں بروایت ابن عمر مذکور ہے اہل قباء نے بھی نماز ہی کے اندر اپنا رخ بیت المقدس سے بیت اللّه کی طرف پھیرلیا 
(ابن کثیر وجصاص)
 امام جصاص نے یہ متعدد روایات حدیث نقل کرکے فرمایا ھذا خبر صحیح مستفیض فی ایدی اہل العلم قد تلقوہ بالقبول فصار فی حیز التواتر الموجب للعلم،یعنی یہ حدیث اگرچہ اصل سے خبر واحد ہے مگر قرائن قویہ کی وجہ سے اس نے درجہ تواتر کا حاصل کرلیا ہے جو علم یقین کا موجب ہوتا ہے ،مگر حنفیہ اور ان کے متفق فقہا جن کا ضابطہ یہ ہے کہ خبر واحد سے کوئی قطعی حکم منسوخ نہیں ہوسکتا ان پر یہ سوال اب بھی باقی رہتا ہے کہ اس حدیث کی شہرت اور تلقی بالقبول تو بعد میں ہوئی بنو سلمہ اور اہل قباء کو تو اچانک ایک ہی آدمی نے خبر دی تھی اس وقت اس حدیث کو درجہ شہرت وتواتر حاصل نہیں تھا انہوں نے اس پر کیسے عمل کرلیا۔ جصاص نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ ان حضرات اور سب صحابہ کرام رضوان اللّه اجمعین کو پہلے سے یہ معلوم تھا کہ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی رغبت یہ ہے کہ آپ کا قبلہ بیت اللّه کردیا جائے اور آپ اس کے لئے دعا بھی کررہے ہیں اس رغبت ودعا کی وجہ سے ان حضرات کی نظر میں استقبال بیت المقدس کا حکم آئندہ باقی نہ رہنے کا احتمال ضرور پیدا ہوگیا تھا اس احتمال کی وجہ سے بقاء قبلہ بیت المقدس ظنی ہوگیا تھا اس کے منسوخ کرنے کے لئے یہ خبر واحد کافی ہوگئی ورنہ محض خبر واحد سے کوئی قرآنی قطعی فیصلہ منسوخ ہوجانا معقول نہیں آلہ مکبر الصوت کی آواز پر نماز میں نقل و حرکت کے مفسد نماز نہ ہونے پر استدلال صحیح بخاری باب ما جاء فی القبلۃ میں حضرت عبداللّه بن عمر کی حدیث میں جو قباء میں تحویل قبلہ کا حکم پہنچنے اور ان لوگوں کے بحالت نماز بیت اللّه کی طرف پھرجانے کا واقعہ ذکر کیا اس پر علامہ عینی حنفی نے تحریر فرمایا ہے فیہ جواز تعلیم من لیس فی الصلوٰۃ من ھو فیہا
 (عمدۃ القاری ص ١٤٨ ج ٤) 

 یعنی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جو شخص نماز میں شریک نہیں وہ کسی نماز پڑھنے والے کو تعلیم و تلقین کرسکتا ہے ۔
نیز علامہ عینی نے دوسری جگہ اس حدیث کے ذیل میں یہ الفاظ لکھے ہیں وفیہ استماع المصلی الکلام من لیس فی الصلوٰۃ فلا یضر صلو تہ (الی) ہکذا استنبطہ الطحاوی
   (عمدۃ القاری ص ٢٤٢ ج ١)

 اور عام فقہاء حنفیہ نے جو خارج صلوۃ کسی شخص کی اقتداء اور اتباع کی مفسد نماز کہا ہے جو عام متون وشروح حنفیہ میں منقول ہے اس کا منشاء یہ ہے کہ نماز میں غیر اللّه کے امر کا اتباء موجب فساد نماز ہے لیکن اگر کوئی شخص اتباع امر الہی کا کرے مگر اس اتباع میں کوئی دوسرا شخص واسطہ بن جائے وہ موجب فساد نہیں فقہاء نے جہاں یہ مسئلہ لکھا ہے کہ کوئی شخص جماعت میں شریک ہونے کے لئے ایسے وقت پہنچے کہ اگلی صف پوری ہوچکی ہے اب پچھلی صف میں تنہا رہ جاتا ہے تو اس کو چاہئے کہ اگلی صف میں سے کسی آدمی کو پیچھے کھینچ کر اپنے ساتھ ملا لے اس میں بھی یہی سوال آتا ہے کہ اس کے کہنے سے جو پیچھے آجائے گا وہ نماز میں اتباع امر غیر اللّه کا کرے گا اس لئے اس کی نماز فاسد ہوجانی چاہئے لیکن درمختار باب الامامۃ میں اس مسئلہ کے متعلق تحریر فرمایا ثم نقل تصحیح عدم الفساد فی مسئلۃ من جذب من الصف فتأخر فہل ثم فرق فلیحرر اس پر علامہ طحطاوی نے تحریر فرمایا لانہ امتثل امر اللّه یعنی اس صورت میں نماز فاسد نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ درحقیقت اس شخص نے آنیوالے کے حکم کا اتباع نہیں کیا بلکہ امر الہٰی کا اتباع کیا جو رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ اس کو پہنچا ہے کہ جب ایسی صورت پیش آئے تو اگلی صف والے کو پیچھے آجانا چاہئےاسی طرح شربنلالی نے شرح وہبانیہ میں اس مسئلہ کا ذکر کرکے پہلے فساد نماز کا قول نقل کیا پھر اس کی تردید کی اس کے الفاظ یہ ہیں۔اذا قیل لمصل تقدم فتقدم (الی) فسدت صلوتہ لانہ امتثل امر غیر اللّه فی الصلوٰۃ لان امتثالہ انما ہو لامر رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم فلا یضرا
ان تمام روایات سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی نمازی ایسے شخص کی آواز پر عمل کرے جو اس کے ساتھ نماز میں شریک نہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ خود اس شخص کی دلداری اور اتباع مقصود ہو یہ تو مفسد نماز ہے لیکن اگر اس نے کوئی حکم شرعی بتلایا اور اس کا اتباع نمازی نے کرلیا تو وہ درحقیقت امر الہی کا اتباع ہے اس لئے مفسد نماز نہیں ہوگا اسی لئے طحطاوی نے فیصلہ یہی کیا ہے کہ اقول لو قیل بالتفصیل بین کونہ امتثل امر الشارع فلا تفسد وبین کونہ امتثل امر الداخل مراعاۃ لخاطرہ من غیر نظر لامر الشارع فتفسد لکان حسناً
 (طحطاوی علی الدر، ص ٢٤٦ ج ١) 
اب مسئلہ زیر بحث یعنی آلہ مکبر الصوت کا فیصلہ کرلینا آسان ہوگیا کیونکہ وہاں اس آلے کے اتباع کا دور دور بھی وہم نہیں ہوسکتا ظاہر ہے کہ اتباع رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کا ہوتا ہے کہ جب امام رکوع کرے تو رکوع کرو جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اس آلہ سے صرف یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اب امام رکوع میں گیا یا سجدہ میں جارہا ہے اس علم کے بعد اتباع امام کا کرتا ہے نہ کہ اس آلے کے حکم کا اور اتباع امام ایک حکم الہی ہے اور یہ کلام اس بنیاد پر ہے کہ آلہ مکبر الصوت کی آواز کو عین امام کی آواز نہ مانی جائے بلکہ اس کی نقل وحکایت قرار دیا جائے اور اہل فن اس کی آواز کو عین آواز امام کہتے ہیں ان کی تحقیق پر تو کوئی اشکال جواز صلوۃ میں نہیں ہے اس مسئلہ کی تحقیق پر احقر کا ایک مستقل مفصل رسالہ بھی شائع شدہ ہے اس کو دیکھ لیا جائے واللّه سبحانہ وتعالیٰ اعلم وَمَا كَان اللّٰهُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُ یہاں اگر ایمان سے مراد اس کے معروف معنی لئے جائیں تو مطلب آیت کا یہ ہے کہ تحویل قبلہ پر جو بعض بیوقوف لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ دین سے منحرف ہوگئے اور ان کا ایمان ہی ضائع ہوگیا اس کا جواب دیا کہ اللّه تعالیٰ تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والے نہیں بیوقوف لوگوں کے کہنے پر کان نہ دھریں اور بعض روایات حدیث اور اقوال سلف میں اس جگہ ایمان کی تفسیر نماز سے کی گئی ہے اور معنی یہ ہیں کہ جو نمازیں سابق قبلہ بیت المقدس کی طرف پڑھی گئی ہیں اللّه تعالیٰ ان کو ضائع کرنے والا نہیں وہ تو صحیح و مقبول ہوچکیں تحویل قبلہ کے حکم کا پچھلی نمازوں پر کوئی اثر نہیں ہوگاصحیح بخاری میں بروایت ابن عازب اور ترمذی میں بروایت ابن عباس منقول ہے کہ جب رسول اللّه صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ بیت اللّٰه کو بنادیا گیا تو لوگوں نے سوال کیا کہ جو مسلمان اس عرصہ میں انتقال کرگئے جب کہ نماز بیت المقدس کی طرف ہوا کرتی تھی اور بیت اللّه کی طرف نماز پڑھنا ان کو نصیب نہیں ہوا ان کا کیا حال ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں نماز کو ایمان کے لفظ سے تعبیر کرکے واضح کردیا کہ ان کی نمازیں سب صحیح و مقبول ہوچکی ہیں ان کے معاملہ میں تحویل قبلہ کا کوئی اثر نہیں پڑے گا

 آیت 144


قَدۡ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجۡهِكَ فِى السَّمَآءِ‌‌ۚ فَلَـنُوَلِّيَنَّكَ قِبۡلَةً تَرۡضٰٮهَا‌ ۚ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِؕ وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ شَطۡرَهٗ ‌ؕ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ لَيَـعۡلَمُوۡنَ اَنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ  

لفظی ترجمہ

 قَدْ نَرٰى: ہم دیکھتے ہیں   |  تَقَلُّبَ : بار بار پھرنا   |  وَجْهِكَ : آپ کا منہ   |  في : میں (طرف)  |  السَّمَآءِ : آسمان   |  فَلَنُوَلِّيَنَّكَ : تو ضرور ہم پھیردینگے آپ کو   |  قِبْلَةً : قبلہ   |  تَرْضٰىھَا : اسے آپ پنسد کرتے ہیں   |  فَوَلِّ : پس آپ پھیر لیں   |  وَجْهَكَ : اپنا منہ   |  شَطْرَ : طرف   |  الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام (خانہ کعبہ)  |  وَحَيْثُ مَا : اور جہاں کہیں   |  كُنْتُمْ : تم ہو   |  فَوَلُّوْا : سو پھیرلیا کرو   |  وُجُوْھَكُمْ : اپنے منہ   |  شَطْرَهٗ : اسی طرف   |  وَاِنَّ : اور بیشک   |  الَّذِيْنَ : جنہیں   |  اُوْتُوا الْكِتٰبَ : دی گئی کتاب   |  لَيَعْلَمُوْنَ : وہ ضرور جانتے ہیں   |  اَنَّهُ : کہ یہ   |  الْحَقُّ : حق   |  مِنْ : سے   |  رَّبِّهِمْ : ان کا رب   |  وَمَا : اور نہیں   |  اللّٰهُ : اللہ   |  بِغَافِلٍ : بیخبر   |  عَمَّا : اس سے جو   |  يَعْمَلُوْنَ : وہ کرتے ہیں 

ترجمہ
یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو مسجد حرام کی طرف رُخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو، اُسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو یہ لوگ جںہیں کتاب دی گئی تھی، خو ب جانتے ہیں کہ (تحویل قبلہ کا) یہ حکم ان کے رب ہی کی طرف سے ہے اور بر حق ہے، مگرا س کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل نہیں ہے

تفسیر

آپ جو دل سے کعبہ کے قبلہ ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور امید وحی میں بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھتے ہیں کہ شاید فرشتہ حکم لے آوے سو) آپ کے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں (اور چونکہ ہمیں آپ کی خوشی پورا کرنا منظور ہے) اس لئے (ہم وعدہ کرتے ہیں کہ) آپ کو اسی قبلہ کی طرف متوجہ کردیں گے جو آپ کو پسند ہے (لو پھر ہم حکم ہی دئیے دیتے ہیں کہ) اب سے اپنا چہرہ نماز میں مسجد حرام کی طرف کیا کیجئے اور (یہ حکم صرف آپ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ سب لوگ پیغمبر بھی اور امتی بھی) جہاں کہیں موجود ہو (خواہ مدینہ منورہ میں یا اور جگہ یہاں تک کہ خود بیت المقدس میں بھی) اپنے چہروں کو اسی (مسجد حرام) کی طرف کیا کرو ( اور اس قبلہ کے مقرر ہونے کے متعلق) یہ اہل کتاب بھی (بالعموم اپنی کتابوں کی پیشینگوئی کی وجہ سے کہ نبی آخرالزماں کا قبلہ اس طرح ہوگا) یقینا جانتے ہیں کہ یہ حکم بالکل ٹھیک ہے (اور) ان کے پروردگار ہی کی طرف سے ہے (مگر عنادا مانتے نہیں) اور اللہ تعالیٰ ان کی کارروائیوں سے کچھ بیخبر نہیں ہے

معارف و مسائل

اس آیت کے پہلے جملہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اشتیاق کعبہ کا ذکر ہے اس اشتیاق کی مختلف وجوہ بیان کی گئی ہیں اور سب میں کوئی تعارض نہیں وہ سب وجوہ ہوسکتی ہیں مثلاً یہ کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نزول وحی اور عطاء نبوت سے پہلے اپنی طبیعت و فطرت سے ملت ابراہیمی کے تابع کام کرتے تھے اور نزول وحی کے بعد قرآن نے بھی آپ کی شریعت کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے مطابق قرار دیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا قبلہ بیت اللہ تھا اس لئے آپ کی دلی خواہش یہی تھی کہ آپ کا اور مسلمانوں کا قبلہ بھی وہی کعبہ بیت اللہ قرار دے دیا جائے
یہ وجہ بھی تھی کہ قبائل عرب بھی چونکہ ملت ابراہیمی کو کم ازکم زبان سے مانتے تھے اور اس کی پیروی کے مدعی تھے کعبہ کے قبلہ مسلمین ہوجانے سے ان کے اسلام کی طرف مائل ہوجانے کی توقع تھی اور سابق قبلہ بیت المقدس میں جو موافقت اہل کتاب کی توقع کی جاسکتی تھی وہ سولہ سترہ مہینے کے عمل کے بعد منقطع ہوچکی تھی کیونکہ یہود مدینہ منورہ کو اس کی وجہ سے کوئی اسلام سے قرب ہونے کے بجائے بعد ہی بڑھا تھا،

بہرحال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش یہ تھی کہ مسلمانوں کا قبلہ بیت اللہ یعنی کعبہ کو قرار دے دیا جائے اور چونکہ مقربان بارگاہ الہٰی انبیاء (علیہم السلام) اپنی کوئی خواہش اور کوئی درخواست حق تعالیٰ کی بارگاہ میں اس وقت تک پیش نہیں کرتے جب تک ان کو یہ درخواست پیش کرنے کی اجازت کا علم نہ ہوجائے اس سے سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ دعا کرنے کی اجازت پہلے مل چکی تھی اور آپ اس کی دعا کررہے تھے اور اس کی قبولیت کے امیدوار تھے اس لئے بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تھے کہ شاید کوئی فرشتہ حکم لے کر آجائے آیت مذکورہ میں اس کیفیت کا بیان فرما کر پہلے تو قبولیت دعا کا وعدہ فرمایا فَلَنُوَلِّيَنَّكَ یعنی ہم آپ کا رخ اسی کی طرف پھیر دیں گے جو سمت آپ کو پسند ہے اس کے فوراً بعد ہی یہ رخ پھیرنے کا حکم بھی نازل فرما دیا فَوَلِّ وَجْهَكَ اس طرز عمل میں ایک خاص لطف تھا کہ پہلے وعدہ کی خوشی حاصل ہو پھر ایفائے وعدہ کی خوشی قند مکرر ہوجائے (یہ سب مضمون قرطبی، جصاص، مظہری سے لیا گیا ہے)
 
مسئلہ استقبال قبلہ

یہ تحقیق پہلے آچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے تو ساری سمتیں اور ساری جہات برابر ہیں قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ لیکن مصالح امت کے لئے بتقاضائے حکمت کسی ایک جہت کو تمام دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کے لئے قبلہ بنا کر سب میں ایک دینی وحدت کا عملی مظاہرہ مقصود تھا وہ جہت بیت المقدس بھی ہوسکتی تھی مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمنا کے مطابق کعبہ کو قبلہ بنانا تجویز کرلیا گیا اور اسی کا حکم اس آیت میں دیا گیا اس کا متقضی یہ تھا کہ اس جگہ فَوَلِّ وَجْهَكَ الی الکعبۃ او الیٰ بیت اللہ فرمایا جاتا مگر قرآن حکیم نے یہ عنوان بدل کر شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کے الفاظ اختیار فرمائے اس سے کئی اہم مسائل استقبال قبلہ کے بارے میں واضح ہوگئے،اول یہ کہ اگرچہ اصل قبلہ بیت اللہ ہے جس کو کعبہ کہا جاتا ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ اصل بیت اللہ کا استقبال اسی جگہ تک ہوسکتا ہے جہاں تک بیت اللہ نظر آتا ہے جو لوگ وہاں سے دور ہیں اور بیت اللہ ان کی نظروں سے غائب ہے اگر ان پر یہ پابندی عائد کی جائے کہ عین بیت اللہ کی طرف رخ کرو تو اس کی تعمیل بہت دشوار ہوجائے خاص آلات وحسابات کے ذریعہ بھی صحیح سمت کا استخراج دور کے شہروں میں مشکل اور غیر یقینی ہوجائے اور شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا مدار سہولت و آسانی پر رکھا گیا ہے اس لئے بجائے بیت اللہ یا کعبہ کے مسجد حرام کا لفظ رکھا گیا جو بہ نسبت بیت اللہ کے بہت زیادہ وسیع رقبہ پر مشتمل ہے اس کی طرف رخ پھیرلینا دور دور تک لوگوں کے لئے آسان ہے،پھر ایک دوسری سہولت لفظ شطر اختیار کرکے دے دیگئی ورنہ اس سے مختصر لفظ الی الْمَسْجِدِ الْحَرَام تھا اس کو چھوڑ کر شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام فرمایا گیا شطر دو معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے ایک نصف شے دوسرے سمت شے باتفاق مفسرین اس جگہ شطر سے مراد سمت ہے تو اس لفظ نے یہ بتلا دیا کہ بلاد بعیدہ میں یہ بھی ضروری نہیں کہ خاص مسجد حرام ہی کی طرف ہر ایک کا رخ ہوجائے تو نماز درست ہو بلکہ سمت مسجد حرام کافی ہے (بحر محیط) مثلاً مشرقی ممالک ہندوستان وپاکستان وغیرہ کے لئے جانب مغرب مسجد حرام کی سمت ہے تو مغرب کی جانب رخ کرلینے سے استقبال قبلہ کا فرض ادا ہوجائے گا اور چونکہ گرمی، سردی کے موسموں میں سمت مغرب میں بھی اختلاف ہوتا رہتا ہے اس لئے فقہاء نے اس سمت کو سمت مغرب و قبلہ قرار دیا ہے جو موسم گرم وسرما کی دونوں مغربوں کے درمیان ہے اور قواعد ریاضی کے حساب سے یہ صورت ہوگی کہ مغرب صیف اور مغرب شتا کے درمیان ٤٨ ڈگری تک سمت قبلہ قرار دی جائے گی یعنی ٢٤ ڈگری تک بھی اگر دائیں یا بائیں مائل ہوجائے تو سمت قبلہ فوت نہیں ہوگی نماز درست ہوجائے گی ریاضی کی قدیم اور مشہور کتاب شرح چغمنی باب رابع صفحہ ٦٦ میں دونوں مغربین کا فاصلہ یہی ٤٨ ڈگری قرار دیا ہے۔سمت قبلہ معلوم کرنے کے لئے شرعاً آلات رصدیہ اور حسابات ریاضیہ پر مدار نہیں اس سے ان لوگوں کی جہالت بھی واضح ہوگئی جنہوں نے ہندوستان وپاکستان کی بہت سی مسجدوں کی سمت قبلہ میں معمولی سا فرق دو چار ڈگری کا دیکھ کر یہ فیصلہ کردیا کہ ان میں نماز نہیں ہوتی یہ سراسر جہالت ہے اور بلا وجہ مسلمانوں میں تفریق و انتشار پیدا کرنا ہے،شریعت اسلامیہ چونکہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے اور پوری دنیا کے ممالک کے لئے ہے اس لئے احکام شرعیہ کو ہر شعبہ میں اتنا آسان رکھا گیا ہے کہ ہر گاؤں، جنگل، پہاڑ، جزیرہ میں بسنے والے مسلمان اس پر اپنے مشاہدہ سے عمل کرسکیں کسی مرحلے میں حسابات، ریاضی، یا اصطرلاب وغیرہ آلات کی ضرورت نہ پڑے، ٤٨ ڈگری تک کی وسیع سمت مغرب اہل شرق کا قبلہ ہے اس میں پانچ دس ڈگری کا فرق ہو بھی جائے تو اس سے نمازوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث سے اس کی اور وضاحت ہوجاتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں مابین المشرق والمغرب قبلۃ (رواہ الترمذی عن ابی ہریرۃ) یعنی مشرق ومغرب کے درمیان قبلہ ہے آپ کا یہ ارشاد مدینہ طیبہ والوں کے لئے تھا کیونکہ ان کا قبلہ مشرق ومغرب کے درمیان جانب جنوب واقع تھا اس حدیث نے گویا شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کے لفظ کی تشریح کردی کہ مسجد حرام کی سمت کافی ہے البتہ بناء مسجد کے وقت اس کی کوشش بہتر ہے کہ ٹھیک بیت اللہ کے رخ سے جتنا قریب ہوسکے وہ کرلیا جائے صحابہ کرام وتابعین اور سلف صالحین کا طریقہ تو اس دریافت کے لئے سیدھا سادہ یہ تھا کہ جس جگہ صحابہ کرام (رض) اجمعین کی بنائی ہوئی کوئی مسجد ہوئی اس سے اس کے قرب و جوار کی مسجدوں کا رخ سیدھا کرلیا پھر ان کے قرب و جوار کا ان کے ذریعہ اسی طرح تمام عالم میں مساجد کا رخ تجویز کیا گیا ہے، اس لئے بلاد بعیدہ میں سمت قبلہ معلوم کرنے کا صحیح طریقہ جو سلف سے چلا آتا ہے یہ ہے کہ جن بلاد میں مساجد قدیمہ موجود ہیں ان کا اتباع کیا جائے کیونکہ اکثر بلاد میں تو حضرات صحابہ وتابعین نے مساجد کی بنیادیں ڈالی ہیں اور سمت قبلہ متعین فرمائی ہے اور پھر انھیں دیکھ کر دوسری بستیوں میں مسلمانوں نے اپنی اپنی مساجد بنائی ہیں،اس لئے یہ سب مساجد مسلمین سمت قبلہ معلوم کرنے کے لئے کافی ووافی ہیں، ان میں بلاوجہ شبہات فلسفیہ نکالنا شرعاً محمود نہیں بلکہ مذموم اور موجب تشویش ہے بلکہ بسا اوقات ان تشویشات میں پڑنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام (رض) اجمعین وتابعین اور عامۃ المسلمین پر بدگمانی ہوجاتی ہے کہ ان کی نمازیں اور قبلہ درست نہیں حالانکہ یہ باطل محض اور سخت جسارت ہے آٹھویں صدی ہجری کے مشہور و معروف عالم ابن رجب حنبلی اسی بناء پر سمت قبلہ میں آلات رصدیہ اور تدقیقات ریاضیہ میں پڑنے کو منع فرماتے ہیں ولفظہ اما علم التسییر فاذا تعلم منہ ما یحتاج الیہ للاستھداء ومعرفۃ القبلۃ والطرق کان جائزا عند الجمھور وما زاد علیہ فلا حاجۃ الیہ وھو یشغل عما ھو اہم منہ وربما ادی التدقیق فیہ الی اساءۃ الظن بمحاریب المسلمین فی امصارہم کما وقع فی ذللک کثیر من اہل ہذا العلم قدیما وحدیثا وذلک یفضی الیٰ اعتقاد خطاء الصحابہ والتابعین فی صلواتہم فی کثیر من الامصار وھو باطل وقدانکر الامام احمد الاستدلال بالجدے وقال انما ورد مابین المشرق والمغرب قبلۃ... لیکن علم تسییر سو اس کو اس قدر حاصل کرنا جمہور کے نزدیک جائز ہے جس سے راہ یابی اور قبلہ اور راستوں کی شناخت ہوسکے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں کہ وہ (یعنی زیادہ سیکھنا) امور ضروریہ سے غافل کردے گا اور بعض مرتبہ تدقیقات فلکیہ میں پڑنا عامہ بلاد اسلامیہ میں جو مسلمانوں کی مسجدیں ہیں ان کے متعلق بدگمانی پیدا کردیتا ہے اس فن میں مشغول ہونیوالوں کی ہمیشہ اس قسم کے شبہات پیش آتے ہیں اس سے بھی اعتقاد پیدا ہوگا کہ بہت سے شہروں میں صحابہ وتابعین کی نمازیں غلط طریقہ پر تھیں اور یہ بالکل لغو و باطل ہے امام احمد نے (ستارہ) جدی (جس کو ہمارے بلاد میں قطب کہتے ہیں) سمت قبلہ میں اس سے استدلال کرنے کو منع کیا اور فرمایا کہ حدیث شریف میں (صرف) مابین المشرق والمغرب قبلہ آیا ہے یعنی مشرق ومغرب کے درمیان پوری جہت قبلہ ہے اور جن جنگلات یا نوآبادیات وغیرہ میں مساجد قدیمہ موجود نہ ہوں وہاں شرعی طریقہ جو سنت صحابہ وتابعین سے ثابت ہے یہ ہے کہ شمس وقمر اور قطب وغیرہ کے مشہور و معروف ذرائع سے اندازہ قائم کرکے سمت قبلہ متعین کرلی جاوے اگر اس میں معمولی انحراف ومیلان بھی رہے تو اس کو نظر انداز کیا جاوے کیونکہ حسب تصریح صاحب بدائع بلاد بعیدہ میں تحری اور اندازہ سے قائم کردہ جہت ہی قائم مقام کعبہ کے ہے اور اسی پر احکام دائر ہیں جیسے شریعت نے نیند کو قائم مقام خروج ریح کا قرار دے کر اسی پر نقض وضو کا حکم کردیا یا سفر کو قائم مقام مشقت کا قرار دے کر مطلقاً سفر پر رخصتیں مرتب کردیں حقیقۃً مشقت ہو یا نہ ہو اسی طرح بلاد بعیدہ میں مشہور و معروف نشانات و علامات کے ذریعہ جو سمت قبلہ تحری و اندازہ سے قائم کی جائے گی وہی شرعاً قائم مقام کعبہ کے ہوگی علامہ بحر العلوم نے رسائل الارکان میں اسی مضمون کو بالفاظ ذیل بیان کیا ہے والشرط وقوع المسامتۃ علی حسب ما یری المصلی ونحن غیر مامورین بالمسامتۃ علی ما یحکم بہ الالات الرصدیۃ و لہذا افتوا ان الانحراف المفسد ان یتجاوز المشارق والمغارب 
(رسائل الارکان ص ٥٣) 
اور ستقبال قبلہ میں شرط وضروری صرف یہ ہے کہ نمازی کی رائے اور اندازہ کے موافق کعبہ کے ساتھ مسامتت (محاذات) واقع ہوجاوے اور ہم اس کے مکلف نہیں کہ وہ درجہ مسامتت ومحاذات کا پیدا کریں جو آلات رصدیہ کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے اس لئے عام علماء کا فتویٰ یہ ہے کہ انحراف مفسد (صلوۃ) وہ ہے جس میں مشرق ومغرب کا تفاوت ہوجاوے، اس مسئلہ کی مکمل تشریح اور حسابات کے ذریعہ استخراج قبلہ کے مختلف طریقے اور ان کی شرعی حیثیت پر مفصل کلام میرے رسالے سمت قبلہ میں دیکھا جاسکتا ہے



No comments:

Powered by Blogger.