Waqf ka bayan
وقف (وقف کرنا )کا بیان
سوال : وقف کیا ہے ؟
جواب : یہ لغت کی رو سے روکنا ہے اور شریعت میں واقف کی ملک کے حکم پر چیز کو روکنے اور نفع صدقہ کرنے کا نام ہے ۔
سوال : وقف کیوں مشروع کیا گیا ہے ؟
جواب : یہ (چیز) کو باقی رکھنے کے ساتھ چیز سے ضرورت مندوں کے نفع حاصل کرنے کی وجہ سے اور اس وجہ سے مشروع کیا گیا کہ یہ چیز واقف کے لئے صدقہ جاریہ ہو جائے ۔ نبی پاک(رواہ مسلم) صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "جب انسان مر جاتا ہے تو اس سے اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین
(اعمال منقطع نہیں ہوتے)
(١)
صدقہ جاریہ
(٢)
علم جس سے نفع حاصل کیا جائے اور
(٣)
نیک ولد جو اس کے لیے دعا کریں "۔
سوال : واقف کی مِلک وقف کردہ چیز سے کب زائل ہوتی ہے ؟
جواب : حضرت ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک واقف کی مِلک وقف کردہ چیز سے زائل نہیں ہوتی مگر یہ کہ قاضی اس کے بارے میں فیصلہ دے دے یا واقف اس کو اپنی موت سے معلق کردے پس وہ کہے کہ " جب میں مرجاؤں تو تحقیق میں نے اپنا مکان فلاں پر وقف کردیا "۔ اور حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ محض قول سے مِلک زائل ہو جاتی ہے اور حضرت محمد رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مِلک زائل نہیں ہوتی یہاں تک کہ وقف کردہ چیز کے لئے ولی مقرر کر دے اور (وقف کردہ چیز) اسے سپرد کردے ۔
سوال : کیا وقف کردہ چیز واقف کی مِلک سے نکلنے کے بعد موقوف علیہ کی مِلک میں داخل ہوجاتی ہے ؟
جواب : جب وقف صحیح ہو جائے اس اختلاف پر جو ہم ذکر کر چکے تو وہ واقف کی مِلک سے نکل جاتی ہے اور موقوف علیہ کی ملک میں داخل نہیں ہوتی ۔
سوال : کیا ہمارے تینوں علماء کے نزدیک وقف کے پورا ہونے کے لئے کوئی شرط ہے ؟
جواب : حضرت امام ابوحنیفہ و حضرت محمد رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک وقف پورا نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اس کے آخر کو ایسی جہت کے لئے کر دے جو کبھی ختم نہ ہو اور حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب اس میں ایسی جہت بیان کردے جو ختم ہوجاتی ہیں (تب) بھی (وقف) جائز ہے اور وہ اس (جہت) کے بعد فقراء کے لئے ہوجائے گی اگرچہ اس نے ان کا نام نہ لیا ہو ۔
سوال : مشترک (چیز) کو وقف کرنے کا حکم کیا ہے ؟
جواب : یہ حضرت ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک جائز ہے اور حضرت محمد رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جائز نہیں ۔
سوال : زمین کو وقف کرنے کا حکم کیا ہے ؟
جواب : زمین کو وقف کرنا صحیح ہے ۔
سوال : ان چیزوں کو وقف کرنے کا حکم کیا ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل و محول ہوتی ہیں ؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس چیز کو وقف کرنا جائز نہیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل او محول ہوتی ہے اور حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب وہ زمین کو اس کے بیلوں اور کاشتکاروں سمیت وقف کردے اس حال میں کہ وہ (کاشتکار) اس کے غلام ہوں (تو) جائز ہے اور حضرت محمد رحمتہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ گھوڑا اور ہتھیاروں کو اللہ تعالی کے راستے میں وقف کرنا جائز ہے ۔
سوال : وقف کردہ چیز کو بیچنے کسی کو اس کا مالک بنانے اور اسے تقسیم کرنے کا حکم کیا ہے ؟
جواب : وقف کردہ چیز کو بیچنا اور کسی کو اس کا مالک بنانا جائز نہیں اور بہرحال اس کی تقسیم تو وہ مشترک (چیز) میں جائز ہے بشرطیکہ ساجھی حصہ طلب کرے اور یہ (تقسیم والا حکم) حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک ہے کیونکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مشترک (چیز) کو وقف کرنا صحیح ہے ۔
سوال : زمین کے ٹکڑے سے واقف کی مِلک کب زائل ہوتی ہیں جبکہ اسے مسجد بنا لیا جائے ؟
جواب : اس کی ملک سے زائل نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے اس کے راستے سمیت اپنے ملک سے جدا کرلے اور لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دے پس جب ایک شخص اس میں پڑھ لے تو حضرت ابوحنیفہ و حضرت محمد رحمہما اللہ تعالیٰ اس کی ملک ضائع ہوجائے گی اور حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کی ملک اس سے اس کے ( اس) قول کے ساتھ زائل ہوجاتی ہے کہ میں نے اس (جگہ) کو مسجد بنا دیا ۔
سوال : اور سرائے یا مسافرخانہ یا مقبرہ کا حکم کیا ہے ؟
جواب : جو شخص مسلمانوں کے لئے حوض بنائے یا سرائے (بنائے) جس میں مسافرین رہائش کرے یا مسافر خانہ بنائے یا اپنی زمین کو قبر قرار دے تو حضرت ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک اس کی ملک اس سے زائل نہیں ہوتی یہاں تک کہ قاضی اس کے بارے میں فیصلہ دے دے اور حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کی ملک قول سے زائل ہوجاتی ہے اور حضرت محمد رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب لوگ حوض سے پانی پی لیں اور سرائے اور مسافر خانہ میں رہائش کرلیں اور قبرستان میں(مردہ) دفن کر لیں تو ملک زائل ہو جائے گی ۔
سوال : جب وقف کردہ چیز کی آمدنی ہو تو متوالی اسے کیسے خرچ کریں ؟
جواب : اس کے ذمہ واجب ہے کہ وہ وقف کردہ چیز کی مرمت میں آمدنی سے آغاز کرے واقف نے اس کی شرط لگائی ہو یا شرط نہ لگائی ہو ۔
سوال : اگر واقف رہائش کے لیے مکان وقف کرے تو کون اس کی مرمت کرے اور اس کی درستگی کا انتظام کریں ؟
جواب : اس کی مرمت اور درستگی اس کے ذمہ ہے جس کے لئے رہائش ہے پس اگر وہ اس سے رک جائے یا وہ فقیر ہو تو قاضی مکان کو کرایہ پر دے دے اس کے کرائے سے اس کی مرمت کریں پس جب اس کی مرمت کر دی جائے تو (مکان) اس (شخص) کو لوٹا دے جس کے لئے رہائش ہے ۔
سوال : جب وقف کردہ مکان گر جائے تو اس کے ملبہ کے ساتھ کیا کیا جائے؟ کیا اسے وقف کے حق داروں کے درمیان تقسیم نہ کر دے ؟
جواب : قاضی اس کے ملبہ کو وقف کی مرمت میں خرچ کرے اگر اس کی ضرورت ہو اور اگر اس کی ضرورت نہ ہو تو قاضی اس ملبہ کو روک لے یعنی محفوظ کرلیں یہاں تک کہ اس کی مرمت کی ضرورت ہو تو اسی میں سے خرچ کرے ۔ اور جائز نہیں کہ اسے وقف کے حق داروں کے درمیان تقسیم کرے ۔
سوال : ایک شخص نے کوئی چیز وقف کی اور اس کی آمدنی اپنے لیے مقرر کی یا ولایت اپنے لیے مقرر کی (تو) اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی نزدیک یہ جائز ہے اور حضرت محمد رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ جائز نہیں ۔

No comments: