Wasi ka bayan

وصی کا بیان

سوال : کسی شخص نے کسی شخص کو وصیت کی یعنی اسے وصِیّ بنایا کہ اس کی وصیت کو نافذ کرنے کا انتظام کرے اور موصیٰ نے موصِی کے روبرو وصیت کو قبول کر لیا اور پس پشت اسے رد کر دیا تو کیا وصیت کا حکم اس سے رد ہو جائے گا؟

جواب : وصیت کا حکم رد ہو جائے گا جب وہ موصی کے روبرو رد کرے اور وصیت باطل ہو جائے گی۔ اور جب وہ اس کے پسِ پشت رد کردے تو اس کا حکم رد نہیں ہو گا۔

سوال : کسی شخص نے غلام یا فاسق یا کافر کو وصیّ بنایا تو اس وصیت کا حکم کیا ہے؟

جواب : قاضی ان کو وصیت سے نکال دے اور ان کے غیر کو ان کی جگہ مقرر کردے۔

سوال : اپنے غلام کو وصیّ بنایا (تو) کیا یہ وصیت صحیح ہو گی؟

جواب : اگر ورثہ میں بالغ ہیں تو یہ وصیت صحیح نہیں ہو گی ورنہ جائز ہے۔

سو ال : اگر ایسے (شخص) کو وصیّ بناۓ جو وصیت کے انتظام سے عاجز ہو تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : قاضی اس کے ساتھ اس کے غیر کو ملا دے۔

سوال : اگر دو شخصوں کو وصیّ بناۓ (تو) کیا تصرف میں متفق ہونا دونوں کو لازم ہے؟

جواب : حضرت ابوحنیفہ اور حضرت محمد رحمہما اللّہ تعالیٰ کے نزدیک جب دو شخصوں کو وصیت کرے تو ان دونوں میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے ساتھی کے بغیر تصرف کرے، مگر میت کے کفن، اس کے سامانِ دفن، اس کے چھوٹے بچوں کی خوراک اور ان کی پوشاک کی خریداری، معین امانت کو واپس کرنے، معین وصیت کو نافذ کرنے اور معین غلام کی آزادی، قرض کی ادائیگی اور میت کے حقوق میں مقدمہ بازی میں
 (جائز ہے)




No comments:

Powered by Blogger.