wasiyaton ka bayan

وصیتوں کا بیان

موصی.  وصیت کرنے والا
موصی لہ  جس کے لئیے وصیت کی جائے
موصی بہ  جس چیز کی وصیت کی جائے
وصی   وصیت کرنے والا اور جس کو وصیت کی جائے اس کو بھی وصی کہتے ہیں

سوال : وصیت کیا ہے اور اسکا حکم کیا ہے؟

جواب : وصیت اور ایصاء لغت کی رو سے اپنے غیر سے کام طلب کرناہے تاکہ وہ اس کی زندگی کی حالت میں اس کی عدم موجودگی میں اور اس کی وفات کے بعد اس (کام) کو کرے۔ اور فقہاء کی اصطلاح میں وہ ایسی تملیک ہے جو موت کے ما بعد کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ برابر ہے کہ وہ شے ہو یا نفع اور اس کا حکم یہ ہے کہ مُوصی کہ جب اس کے ذمے اللّہ تعالیٰ کے حقوقِ واجبہ ہوں جیسے زکوٰۃ جس (کی ادائیگی) میں اس نے کوتاہی کی اور جیسے حج کہ فرض ٹھہراۓ جانے کے بعد جب وہ حج نہ کرے تو اس پر واجب ہے کہ وہ ان حقوق کی ادائیگی کی وصیت کرے۔ جیسا کہ اس پر واجب ہے کہ  وہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی اور ان دُیون کی ادائیگی کی وصیت کرے جو (دیون) اسے لازم ہو اور اسی طرح ان امانتوں اور ودیعتوں کی ادائیگی کی (وصیت کرے) جو اس کے پاس محفوظ ہیں اور جب اللّہ تعالیٰ کے اور اس کے بندوں کے حقوق اس کے ذمے نہ ہوں اور اسے دُیون لازم نہ ہوں (تو) اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ اپنے بعض مال کی وصیت کرے اس طور پر کہ اسے نیکی کے کاموں میں خرچ کیا جائے اور جب دیون اس کے تمام مال کو گھیر لیں (تو) اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کے لیے وصیت کرے پس اگر وہ وصیت کرے تو اس کی وصیت صحیح نہیں ہو گی  اور نافذ نہیں ہو گی مگر یہ کہ قرض خواہ اسے بری کر دیں (تو وصیت صحیح و نافذ ہو جائے گی)۔ 

سوال : کیا جائز ہے کہ مسلمان کافر کے لیے یا کافر مسلمان کے لئے وصیت کرے؟

جواب : جی ہاں، دونوں کام جائز ہیں۔ 

سوال : کیا نابالغ کی وصیت جائز ہے؟

جواب : جائز نہیں ہوتی۔ 

سوال : کیا لوگوں میں ایسا شخص ہے جس کی وصیت جائز نہیں ہوتی؟

جواب : اپنے قاتل کے لیے وصیت جائز نہیں ہوتی (قاتل) عامر ہو یا خاطی بشرطیکہ وہ قتل کا ارتکاب کرنے والا ہو۔
 
سوال : کیا قاتل کے سوا ان میں ایسا شخص ہے جس کےلئے وصیت جائز نہیں ہوتی؟

جواب : وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہوتی الّا یہ کہ عقلمند، بالغ، بڑے ورثہ اسے جائز و نافذ کر دیں۔ 

سوال : آپ نے وصیت کو بعض مال کے ساتھ مقید کیوں کیا؟ کیا کل مال کی وصیت جائز نہیں؟

جواب : ہم نے (بعض مال) کے ساتھ مقید کیا کیونکہ وصیت تہائی تک جائز ہے اور جو اس سے زائد ہو اس کے ساتھ جائز نہیں مگر یہ کہ بڑے ورثہ موصی کی موت کے بعد جائز و نافذ کردیں۔ اور موصی کی زندگی کی حالت میں ان کی اجازت معتبر نہیں اور مستحب ہے کہ تہائی سے کم کی وصیت کرے۔ 

سوال : کسی شخص نے کسی شخص کے لئے وصیت کی  پس (موصی لہ) نے موصی کی زندگی میں اسے قبول کرلیا یا اسے رد کر دیا (تو) اس قبول اور رد کا حکم کیا ہے؟ 

جواب : یہ قبول اور رد کوئی شے نہیں پس جب موصی مر جائے اور (موصی لہ) اسے قبول کرے یا رد کرے (تو) اس قبول یا رد کا اعتبار کیا جائے گا۔

سوال : کیا قبول کرنے سے ”موصیٰ بہ" مملوک ہو جاتی ہے

جواب : قبول کرنے سے موصی بہ مملوک ہو جاتی ہے مگر ایک مسئلہ میں کہ اس میں قبول کرنے سے پہلے مملوک ہو جاتی ہے اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ موصی مر جائے پھر قبول کرنے سے پہلے موصی لہ مر جائے تو موصی بہ(موصی لہ)کے ورثہ کے ملک میں داخل ہو
 جاتی ہے





No comments:

Powered by Blogger.