Aizaa me Qasaas ka bayan

اعضاء میں قصاص کا بیان

سوال : اعضاء میں قصاص کے احکام بیان کیجیئے؟

جواب : آنے والے مسائل زبانی یاد کیجئیے

(١)
ایک شخص نے کسی شخص کا ہاتھ جوڑ سے کاٹ دیا تو کاٹنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور اسی طرح وہ پاؤں یا ناک کا نرم حصہ یا کان کاٹ دے تو کاٹنے والے کے یہ اعضاء کاٹ دئیے جائیں

(٢)
 جب کسی شخص کی آنکھ کو مارے پس اسے جڑ سے نکال دے(تو)اس میں قصاص نہیں.بہرحال جب آنکھ قائم ہو  اور اسکی بینائی چلی جائے تو اس پر قصاص ہے اور اسکے لئیے شیشہ گرم کیا جائےاور اسکی آنکھ پر بھیگی ہوئی روئی رکھ دی جائےاور اسکی آنکھ کو شیشے کے سامنے کر دیا جائے یہاں تک کہ اسکی بینائی چلی جائے.

(٣)
جب کوئ شخص کسی دوسرے کا دانت اکھیڑ دے تو اس سے قصاص لیا جائےاور ہڈی میں قصاص نہیں مگر دانت میں ہے

(٤)
ایسے زخم میں قصاص واجب ہوتا ہے جس میں مماثلت ممکن ہے


(٥)
زبان میں قصاص نہیں اور نہ ہی ذَکَر(یعنی آلہ تناسل)میں (قصاص)ہےمگر یہ کہ اسکوسپاری سے کاٹ دیا جائے

(٦)
مرد اور عورت کے درمیان جان سے کم میں قصاص نہیں جیسا کہ(جان)سے کم میں آزاد اور غلام کےدرمیان اور دو غلاموں کے درمیان قصاص نہیں

(٧)
مسلمان اور ذمی کےدرمیان میں اعضاء میں قصاص واجب ہوتا ہے

(٨)
ایک  شخص نے کسی شخص کاہاتھ آدھی کلائی سے کاٹ دیاوہ شفایاب ہو گیاتو اس میں قصاص نہیں
(کیونکہ کلائی ہڈی ہے اور ہڈی میں قصاص نہیں)

(٩)
اگر اسے پیٹ کا زخم لگایا پس وہ شفایاب ہوگیاتو اس میں قصاص نہیں(کیونکہ مماثلت ممکن اور ارش واجب ہے)

(١٠)
جب مقطوع کا ہاتھ صیحیح ہو اور قاطع کا ہاتھ شل یا ناقص انگلیوں والا ہو تو مقطوع بااختیار ہے اگر چاہے عیب دار ہاتھ کاٹ دے اور اس کے لئے اسکے سوا کوئی شے نہیں اور اگر چاہےکامل طور پرارش(عضو کا عوض) لےلے

(١١)
ایک شخص نے کسی شخص کو سر کا زخم لگایا پس زخم نے اس(کےسر) کی دونوں جانبوں کو گھیر لیااور یہ (زخم)زخم لگانے والے(کےسر)کی دونوں جانبوں کو نہیں گھیرتا توزخمی بااختیار ہے اگر چاہے اپنے زخم کی مقدار کے مطابق قصاص لے لےدونوں جانبوں میں سے جس جانب سے چاہے شروع کرے اور اگر چاہے کامل طور پر ارش لے لے

(١٢)
جب دو شخص کسی ایک شخص کا ہاتھ کاٹ دیں تو ان دونوں میں سے کسی پر قصاص نہیں اور انکے زمے جان کی آدھی دیت ہے

(١٣)
کسی نے دو شخصوں کے دائیں ہاتھ کاٹ دئیے پس وہ دونوں حاضرہوئے تو انکے لئے(جائز) ہے کہ وہ دونوں اسکا(دایاں)ہاتھ کاٹیں اور اس سے(جان)کی آدھی دیت لیں اور اس (دیت)کو آدھا آدھا تقسیم کریں پس اگر ان دونوں میں سے ایک حاضر ہو پس وہ اسکا ایک ہاتھ کاٹ دے تو دوسرے کے لئے اسکے زمہ(جان کی) آدھی دیت ہے


(١٤)
جان سے کم میں شبہ عمد نہیں ہےاور سوائے اس کے نہیں وہ عمد یا خطا ہے



No comments:

Powered by Blogger.