Amaan talab karne wale ka bayan
امان طلب کرنے والے کا بیان
سوال : کبھی کفار محتاج ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے گھر (یعنی دار الاسلام ) میں امان کے ساتھ داخل ہونا بہت واقع ہوتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس کے احکام معلوم کریں پس آپ ان کو بیان فرمائیے ؟
جواب : فقہاء نے اس بارے میں تفصیل ذکر فرمائی ہے اور یہ (تفصیل) آنے والے مسائل سے آپ کے سامنے ظاہر ہوجائے گی پس ان مسائل کو زبانی یاد کیجئے ۔
(١)
جب مسلمان دارالحرب میں امان کے ساتھ تاجر بن کر داخل ہو پس اس کے لیۓ جائز نہیں کہ وہ ان کے مالوں اور ان کے خونوں میں سے کسی شے کے در پے ہو پس اگر وہ ان سے عہد شکنی کرے اور کوئی شے لےلے اور اس شے کے ساتھ دارالاسلام نکل جاۓ تو ممنوع ملک کے طور پر اس (شے) کا مالک ہوگا پس اس (شے) کو صدقہ کرنے کا حکم دیا جاۓ گا۔
(٢)
جب حربی ہمارے گھر میں امان لیکر داخل ہو تو اسے قدرت نہ دی جاۓ کے وہ ہمارے گھر میں ایک سال قیام کرے اور امام اس سے کہے کہ اگر تو پورا سال قیام کرے گا تو تجھ پر جزیہ مقرر کر دیا جاۓ گا پس اگر وہ ایک سال قیام کرے تو اس سے جزیہ لےلیا جاۓ اور وہ ذمی بن جاۓ گا اور اب اسے نہ چھوڑا جاۓ کہ وہ دارالحرب کی طرف لوٹ جاۓ ۔
(٣)
اگر وہ دار الحرب کی طرف لوٹ جاۓ اور مسلمان یا ذمی کے پاس امانت یا ان کے ذمہ میں قرض چھوڑ جاۓ تو تحقیق دارالحرب کی طرف لوٹنے کی وجہ سے اس کا خون مباح ہوگیا اور اس کا جو مال دارالاسلام میں ہے وہ ہلاکت پر (مبنی) ہے پس اگر اسے قید کر لیا جاۓ یا دار (الحرب) پر غلبہ حاصل ہوجاۓ پس وہ قتل کر دیا جاۓ (تو ) اس کے دُیوں ساقط ہوجائیں گے اور امانت فیئ بن جاۓ گی اور اگر وہ قتل کردیا جاۓ اور ( دارالحرب ) پر غلبہ حاصل نہ ہو تو قرض اور امانت اس کے ورثہ کے لئے ہے ۔

No comments: