Amwal e Ghaneemat or inki taqseem ka bayan
اموال غنیمت اور ان کی تقسیم کا بیان
سوال : جب امام کسی شہر کو بزور بازو فتح کر لے تو اس (شہر) کی زمینوں اور اس کے باشندوں کے ساتھ کیا کرے؟
جواب : وہ بااختیار ہے اگر چاہے تو مسلمانوں کے درمیان ان کو تقسیم کرے اور اگر چاہے باشندوں کو ان پر برقرار رکھے اور ان پر جزیہ اور ان کی زمینوں پر خراج مقرر کرے۔
سوال : جب اموال غنیمت جمع ہوجائیں تو امام ان کو کیسے تقسیم کرے اور ان کو کس پر تقسیم کرے؟
جواب : امام اموال غنیمت کو دار الحرب سے نکالنے سے پہلے تقسیم نہ کرے پس جب وہ ان کی تقسیم کا ارادہ کرے اس حال میں کہ ان کو دارالاسلام کی طرف سے نکال لیا گیا ہو تو پہلے ان میں سے خمس (یعنی پانچواں حصہ) نکالے اور چار خمس غانمین ( یعنی غنیمت حاصل کرنے والوں) میں تقسیم کرے، حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک گھڑ سوار کے لئے دو حصے اور پیادے کے لئے ایک حصہ ہے اور صاحبین رحمھما اللہ کے نزدیک گھڑ سوار کے لئے تین حصے اور پیادے کے لئے ایک حصہ ہے ۔ اور معاون اور جنگ کرنے والا اس میں برابر ہیں یہاں تک کہ جنگ کرنے والوں کو دار الحرب میں مدد لاحق ہو قبل اس کے کہ وہ غنیمت کو دار السلام کی طرف نکالیں تو( مددگار جنگ کرنے والوں) کے ساتھ (غنیمت) میں شریک ہوں گے، عجمی گھوڑوں اور عربی گھوڑوں والے برابر ہیں اور صرف اس ایک گھوڑے کا حصہ نکالا جائے اور بار برداری کے جانور اور خچر کے لئے حصہ نہ نکالا جائے۔
سوال : کوئی شخص نکلا اس حال میں کہ وہ اپنے گھوڑے کے ذریعے جہاد کرنے والا ہے اور دار الحرب میں داخل ہوا اس حال میں کہ گھڑ سوار ہے پھر اس کا گھوڑا ہلاک ہوگیا تو وہ گھڑ سوار کے حصے یا پیادے کے حصے کے مستحق ہوگا؟
جواب : وہ گھڑ سوار کے حصے کا مستحق ہوگا۔
سوال : کوئی (شخص) دارالحرب میں داخل ہوا اس حال میں کہ پیادہ ہے پھر اس نے وہاں گھوڑا خریدا تو اسے گھڑ سوار یا پیادے کا حصہ دیا جائے گا؟
جواب : وہ پیادے کے حصے کا مستحق ہوگا ۔
سوال : مسلمانوں کے لشکر میں سے کوئی شخص غنیمت کو دارالاسلام کی طرف نکالنے سے پہلے دارالحرب میں مر گیا (تو) کیا وہ غنیمت میں سے اپنے حصے کا مستحق ہوگا؟
جواب : غنیمت میں اس کا کوئی حق نہیں ۔
سوال : غنیمت کو دار الاسلام کی طرف نکالنے کے بعد ان (مجاہدین) میں سے جو مر گیا (تو) غنیمت میں حقدار ہونے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : وہ غنیمت میں سے اپنے حصے کا حقدار ہوگا اور اس کے ورثہ اسے لیں گے۔
سوال : کچھ لوگ لشکر (اسلام) کو آ ملے اس حال میں کہ وہ معسکر کے بازار میں بیچتے ہیں اور خریدتے ہیں (تو) کیا وہ غنیمت کے مستحق ہوں گے؟
جواب : معسکر کے بازار والوں کے لئے غنیمت میں کوئی حق نہیں مگر یہ کہ وہ جنگ کریں ( تو حقدار ہوں گے) ۔
سوال : کیا دار الحرب میں اموال غنیمت کو تقسیم کرنا جائز ہے ؟
جواب : امام دار الحرب میں ان کو تقسیم نہ کرے بلکہ ان کو دار الاسلام کی طرف نکالے پس یہاں ( یعنی دار السلام میں) ان کو تقسیم کرے اور جب بار برداری کی سواری نہ ہو کہ اس پر اموال غنیمت کو لادا جائے تو ان کو غانمین کے درمیان امانت رکھنے کے طور پر تقسیم کردے تا کہ وہ ان کو دار السلام کی طرف اٹھا لائیں پھر وہ (اموال غنیمت) کو ان سے واپس لے لے پس خمس نکالے پہر ان کو غانمین کت درمیان تقسیم کردے ۔
سوال : دار الحرب میں تقسیم سے پہلے اموال غنیمت کو بیچنے کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ جائز نہیں ۔
سوال : کیا (اموال غنیمت) کو (دار الحرب) سے نکالنے سے پہلے درا الحرب میں بعض اموال غنیمت کو استعمال کرنا غانمین کے لئے جائز ہے؟
جواب : لشکر والوں کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو چارہ دیں اور اس میں سے کھائیں جو کھانا وہ پائیں اور لکڑیوں کو جلائیں اور تیل لگائیں اور (تیل) کے ساتھ چوپاوں کے کھروں کو سخت کریں اور اس کے ساتھ جنگ کریں جو ہتھیار وہ پائیں اور یہ سب تقسیم سے پہلے جائز ہے اور جائز نہیں کہ ان میں سے کوئی شے بیچین یا اس کو اپنے لئے جمع کریں اور جس کے پاس چارہ یا کھانا زائد ہوجائے تو وہ اسے غنیمت میں لوٹا دے اور جب ان کو دار الحرب سے نکالا جائے (تو) جائز نہیں کہ وہ غنیمت میں سے اپنے جانوروں کو چارہ دیں اور (جائز) نہیں کہ وہ اس میں سے کھائیں۔
سوال : غلام یا عورت یا پاگل یا ذمی جہاد میں حاضر ہوئے (تو) کیا ان کے لئے غنیمت میں سے حصہ ہے؟
جواب : ان کے لئے اس میں کوئی حصہ نہیں بلکہ امام ان کو تھوڑا عطیہ دے دے اس کے مطابق جو مناسب سمجھے ۔
جواب : یہ خمس جس کو امام مال غنیمت میں سے نکالتا ہے اس کا مصرف کیا ہے ؟
جواب : امام اس خمس کے تین حصے بنائے ایک حصہ یتیموں کے لئے، ایک حصہ محتاجوں کے لئے اور ایک حصہ مسافروں کے لئے پس (خمس) کو ان کے درمیان تقسیم کرے ۔
سوال : اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے
" وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَىيْ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَه وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْل " (اللنفال: 14)
ترجمہ : " اور جان لو سوائے اس کے نہیں جو شے تمہیں مال غنیمت میں حاصل ہو تو اس کا خمس اللہ کے لئے ، رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے لئے ، دو القربی ، یتیموں محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہے۔"
پس اللہ تعالی نے اپنا حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اور ذوی القربی کا حصہ ذکر فرمایا ہے اور تحقیق آپ نے خمس کی تقسیم میں تین قسموں پر اکتفا کیا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟
جواب : اللہ پاک کا ذکر خمس کے بیان میں آغاز کلام کے لئے سبحانہ وتعالی سے برکت حاصل کرنے کے طور پر آیا ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے، بھر حال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تو تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ساتھ ساقط ہوگیا جیسا کی صفی(رسول اللہ صلی علیہ وسلم مال غنیمت میں سے جو شے اپنے لئے چن لیتے جیسے زرہ یا تلوار یا باندی اسے " صفی" کہتے ہیں) اور ذوی القربی کا حصہ ساقط ہوگئے اور وہ (یعنی ذوی القربی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار ہیں (جو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نصرت کی وجہ سے اس(حصے) کے مستحق ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فقر کی وجہ سے اس (حصے) کے مستحق ہوتے ہیں، جی ہاں ! ان فقراء کو ان کے سوا فقراء پر مقدم کیا جائے اور ان کے مال داروں کو کوئی شے نہ دی جائے ۔
سوال : ایک یا دو (شخص) امام کی اجازت کے بغیر دار الحرب میں لوٹ مار کے لئے داخل ہوئے اور اس نے کوئی شے لی (تو) اس میں خمس نکالنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : خمس نہ نکالا جائے اس میں سے جو اس نے لیا ۔
سوال : اگر کوئی جماعت دار الحرب میں داخل ہو پس وہ کوئی شے لیں(تو) اس کا خمس نکالا جائے جو انہوں نے لیا ؟
جواب : جی ہاں ! خمس نکالا جائے جیسا کہ وہ لیں جب ان کو قوت (حاصل) ہو اگرچہ امام نے ان کو اجازت نہ دی ہو ۔
سوال : امام دار الاسلام کی طرف لوٹنا چاہتا ہے اس حال میں کہ اس کے ساتھ مویشی ہیں، وہ ان کو دار السلام کی طرف منتقل کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تو وہ ان کے ساتھ کیسے کرے؟
جواب : وہ ان کو دشمنوں کے لئے نہ چھوڑے بلکہ وہ ان کو ذبح کرے اور ان کو جلا دے اور ان کو زخمی نہ کرے ۔

No comments: