Ashar or khiraaj ka bayan

عشر اور خراج کا بیان (خراج کی خاء میں فتحہ,کسرہ اور ضمہ تینوں جائز ہیں)

سوال : کونسی زمین کہ اس میں عشر یا خراج واجب ہوتا ہے؟

جواب : عشر کی زمین کئی قسموں پر (منقسم) ہے۔ 
(1) 
عرب کی ساری زمین عشری ہے اور یہ عُذَیب سے یمن کے یعنی مہرہ کے آخری پتھر (یعنی آخری جز) تک (طولاً) شام کی سرحد تک (عرضاً) ہے۔
 (2) 
ہر ایسی زمین جس کے باشندے مسلمان ہوگئے تو وہ عشری ہے۔
 (3) 
ہر ایسی زمین جو بزور بازو فتح کی گئی اور غانمین میں تقسیم کر دی گئی تو وہ عشری ہے۔
 (4)
 بصرہ کی زمین ہمارے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنہ کے اجماع کی وجہ سے عشری ہے۔
بہرحال خراج کی زمین تو وہ بھی کئی قسموں پر (منقسم) ہے۔ 
(1)
 سوادِ (عراق) کی ساری زمین خراج کی زمین ہے۔ اور عُذَیْب سے عَقَبَه حُلْوان تک (عرضاً) اور عَلْث سے عَبَادان تک (طولاً) ہے اور یہ اپنے باشندوں کی مملوکہ ہے، ان کے لیے جائز ہے کہ اسے بیچیں اور اس میں تصرف کریں۔ 
(2) 
ہر ایسی زمین جو بزور بازو فتح کی گئی پس اسکے باشندوں کو اس پر برقرار رکھا گیا تو وہ خراج کی زمین ہے۔ 
(3) 
جس نے بنجر زمین کو آباد کیا تو وہ (زمین) حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنے قرب کے لحاظ سے معتبر ہے پس اگر وہ خراج کی زمین کے قرب میں ہو تو خراجی ہے اور اگر عشر کی زمین کے قرب میں ہو تو وہ عشری ہے اور حضرت محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر اسے ایسے کنویں (کے پانی)  سے جسکو اس نے کھودا یا ایسے چشمے (کے پانی) سے جس کو اس نے نکالا یا (دریاۓ) دجلہ کے پانی یا (دراۓ) فرات کے پانی یا ان بڑی نہروں کے پانی سے آباد کرے جن کا کوئی مالک نہیں تو وہ عشری ہیں اور اگر اسے ان نہروں کے پانی سے آباد کرے جن کو عجمیوں نے کھودا جیسے نہر ملک اور نہر یزد جرد تو وہ خراجی ہیں۔

سوال : عشر کی ادائیگی میں تفصیل کیا ہے؟

جواب : تحقیق ہم اسے کتاب الزکوٰۃ  میں ذکر کر چکے پس اس کی طرف رجوع کرے۔

سوال : خراج کی مقدار بیان کیجیئے؟

جواب : وہ خراج جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل سواد (یعنی عراقی باشندے) پر مقرر فرمایا ہر ایسی جَرِیب(وہ زمین جس کی لمبائی ساٹھ ذراع اور چوڑائی بھی ساٹھ ذراع ہو کہ ہر ذراع,ذراع عامہ سے ایک مٹھی زائد ہو.حضرت  صیرفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معتبر ذراع انگوٹھا کھڑے کئے بغیر سات مٹھیاں ہیں اور ہاشمی قفیز  حجازی صاع کی طرح تین رطل عراقی ہے اور یہ حضرت ابو حنیفہ و حضرت محمد  رحمھما اللہ کے نزدیک چار سیر ہے اور درہم سے وزن سبعہ کا درہم مراد ہے جس کا وزن  چودہ قیراط ہے)سے جسکو پانی پہنچ رہا ہو اور وہ کاشت کے لائق ہو ہاشمی قفیز ہے اور وہ ایک صاع اور ایک درہم ہے اور سبزیوں کے جریب سے پانچ درہم ہیں اور متصل(متصل سے مراد یہ ہے کہ اس کے نیچے کاشت ممکن نہ ہو) انگور کی بیل اور متصل درخت خرما کی جریب سے دس درہم ہیں اور ان کے سوا جو قسمیں ہیں ان پر (پیداواری) طاقت کے مطابق (خراج) مقرر کیا جائے۔

سوال : امام نے زمین پر خراج مقرر کیا لیکن (زمین) اس کی طاقت نہیں رکھتی (تو) کیسے کرے؟

جواب : امام اس میں کمی کر دے اس کے مطابق جو اس کے حال کے مناسب ہو۔

سوال : پانی خراج کی زمین پر غالب آ گیا یا پانی اس سے منقطع ہو گیا پس اس نے نہیں اگایا یا آفت نے کھیتی کو برباد کردیا تو کیا اس وجہ سے خراج ساقط ہو جائے گا؟

جواب : جی ہاں۔ ساقط ہو جائے گا۔

سوال : اگر اس کا مالک اسے بیکار چھوڑ دے اور اس وجہ سے وہ نہ اگاۓ (تو) اس صورت میں خراج کا کیا حکم ہے؟

جواب : خراج اس پر واجب ہوگا۔

سوال : خراجی زمین کہ اس کا مالک ذمی ہے پس وہ مسلمان ہوگیا یا مسلمان نے ذمی سے خراج کی زمین کو خرید لیا (تو) کیا اس صورت میں زمین کا وظیفہ بدل جائے گا؟

جواب : نہیں بدلے گا اور خراج لیا جائے گا جیسا کہ اس سے پہلے لیا جا رہا تھا۔

سوال : خراجی زمین نے جو کچھ اگایا (تو) کیا اس میں سے عشر لیا جاۓ؟

جواب : دو وظیفوں کو جمع کرنا (جائز) نہیں پس خراج کی زمین کی پیداوار میں عشر نہیں۔

سوال : کیا ایک سال میں خراج کی زمین کی پیداوار کے مکرر ہونے سے خراج مکرر ہوگا؟

جواب۔ مکرر نہیں ہوگا۔



No comments:

Powered by Blogger.