Baaghion ka bayan

باغیوں کا بیان 

سوال : جب کوئی قوم اسلام کی طاعت سے نکل جائے اور کسی شہر پر زبردستی تسلط جما لے تو امام ان کے ساتھ کیسے عمل کرے ؟

جواب : امام ان کو جماعت کی طرف لوٹ آنے کی دعوت دے اور ان کے شبّہ کو دور کرے اور جنگ کرنے میں پہل نہ کرے یہاں تک کہ وہ پہل کرے پس اگر وہ پہل کرے تو ان سے جنگ کرے یہاں تک کہ ان کی جماعت کو تتربتر کردے پس اگر ان کا جتھا ہو تو ان کے قتل میں جلدی کرے اور ان میں سے فرار ہونے والے کا تعاقب کرے اور اگر ان کا جتھا ہو تو ان کے قتل میں جلدی نہ کرے اور ان میں سے فرار ہونے والے کا تعاقب نہ کرے اور ان کی اولاد کو قید نہ کیا جائے اور ان کا مال تقسیم نا کیا جائے ۔ 


سوال : امام کے لشکر نے باغیوں کا ہتھیار پکڑا (تو) کیا امام کے لشکروں کے لیے جائز ہے کہ وہ ان کے ہتھیار کے ساتھ جنگ کریں ؟


جواب : اگر مسلمان ضرورت مند ہوں تو یہ ان کے لئے جائز ہے ۔ 

سوال : جب امام کی جماعت باغیوں کے اموال پر غلبہ حاصل کرلے تو امام ان کے اموال کے ساتھ کیا کرے ؟

جواب : وہ ان اموال کو روک لے اور ان کو ان پر نہ لوٹائے یہاں تک کہ وہ توبہ کرلیں پس جب وہ توبہ کرلیں تو ان کے (اموال) کو ان پر لوٹا دے ۔

سوال : باغیوں نے ان شہروں سے خراج اور عشر وصول کیا جن پر انہوں نے زبردستی تسلط جمایا پھر امام ان شہروں پر غالب ہو گیا تو کیا ان سے یہ (یعنی عشروخراج) دوبارہ لے ؟

جواب : دوبارہ نہ لے پس انہوں نے اس (عشروخراج)کو اس کے حق میں خرچ کیا تو اس نے اس کی جانب سے کفایت کیا جس سے یہ لیا گیا اور اگر انہوں نے اسے اس کے حق میں خرچ نہیں کیا تو ان شہروں کے باشندوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اور اللہ تعالی کے مابین (یعنی دِیٙانٙةً ) یہ (یعنی عشر و خراج) دوبارہ دیں ۔




No comments:

Powered by Blogger.