Baaz sharton or Mustajar wa Mazdoor ke darmyan ikhtalaf ka zikar
بعض شرطوں اور مستاجر و مزدور کے درمیان اختلاف کا ذکر
سوال : جب کاریگر پر شرط لگائے کہ وہ خود کام کرے تو کیا کاریگر کے لئے (جائز) ہے کہ وہ اس میں اپنے سوا سے کام لے ؟
جواب : یہ اس کے لیے (جائز) نہیں ۔
سوال : اگر عمل کو مطلق رکھے اور خود کام کرنے کی شرط نہ لگائے تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : اس صورت میں کاریگر کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے عمل میں اپنے سوا سے کام لے ۔
سوال : جب درزی سے کہے کہ اگر تم نے اس کپڑے کو فارسی طرز پر سیا تو ایک درہم کے عوض اور اگر تم نے رومی طرز پر سیا تو دو درہموں کے عوض (تو) استیجار کا حکم کیا ہے ؟
جواب : یہ جائز ہے اور دونوں کاموں میں سے جونسا (کام) کیا مقررہ اجرت کا مستحق ہوگا ۔
سوال : اگر کہے کہ اگر آپ نے اسے آج سیا تو ایک درہم کے عوض اور اسے اگر کل سیا توآدھے درہم کے عوض تو اس صورت میں حکم کیا ہے؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اگر اس نے آج اسے سیا تو اس کے لیے ایک درہم ہے اور اگر اسے کل سیاہ تو اس کے لئے اس (سلائی) کی اجرت مثل ہے اور اس (اجرت مثل)میں آدھے درہم سے تجاوز نہ کیا جائے ۔اور حضرت ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دونوں شرطیں جائز ہیں اور وہ اجرت پر مستحق ہوگا اس کے مطابق جو ان دونوں نے شرط لگائی اور جس اجرت پر وہ دونوں راضی ہوگئے ۔
سوال : درزی کو یا رنگریز کو کپڑا دیا پس درزی نے اسے سی دیا اور رنگریز نے اسے رنگ دیا پھر کپڑے کے مالک اور کاریگر کا اختلاف ہوگیا پس کپڑے کے مالک نے کہا کہ میں نے تمہیں حکم دیا کہ میرے اس کپڑے کی قباء بنا دیں اور آپ نے اس کا کرتا سی دیا اور درزی نے کہا کہ میں نے ویسے سیا جیسے آپ نے حکم دیا یا کپڑے کے مالک نے رنگریز سے کہا کہ میں نے تمہیں حکم دیا کہ آپ اسے سرخ رنگ دیں تو آپ نے اسے زرد رنگ دے دیا پس دونوں قولوں میں سے کون سا (قول) لیا جائے ؟
جواب : اس بارے میں کپڑے کے مالک کا قول اس کی قسم کے ساتھ قبول کیا جائے پس اگر وہ قسم کھا لے تو درزی اور رنگریز میں سے ہر ایک ضامن ہوگا اس وجہ سے انہوں نے اس کے حکم کی مخالفت کی اور کپڑے کا مالک بااختیار ہے اگر چاہے اسے بغیر عمل کئے ہوئے کپڑے کی قیمت کا ضامن بنائے اور اس کے لیے کوئی اجرت نہیں اور اگر چاہےکپڑا لے لے اور اسے اس (عمل) کا اجر مثل دے دے اور اس (اجر مثل) میں مقرر (اجر) سے تجاوز نہ کیا جائے ۔
سوال : اگر کپڑے کا مالک کہے کہ آپ نے اجرت کے بغیر اس پر کام کیا اور کاریگر کہے کہ میں نے اجرت کے ساتھ اس پر کام کیا ہے تو ان کے درمیان کیسے فیصلہ دیا جائے ؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک اس بارے میں معتبر قول کپڑے کے مالک کا قول اس کی قسم کے ساتھ ہے اور حضرت ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اگر کپڑے کے مالک کی عادت اس کے ساتھ اجرت کے عوض معاملہ کرنا ہے تو اس کے لیے اجرت ہے وگرنہ نہیں اور حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اگر کاریگر اس پیشہ کے لیے اجرت کے ساتھ مشہور ہے تو وہ (معتبر) قول اس کا قول اس کی قسم کے ساتھ ہے ۔

No comments: