Banjar zameen ko Aabad karne ka bayan
بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
سوال : بنجر زمین کیا ہے اور اس کو آباد کرنے کا حکم کیا ہے ؟
جواب : بنجر زمین وہ ہے جس سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکے اس سے پانی کے ختم ہونے کی وجہ سے یا اس پر پانی غالب ہونے یا اس کے مشابہ کی وجہ سے جو کاشتکار سے مانع ہو اور اس میں سے اس ( زمین ) کو آباد کرنا جائز ہے جو عادی ہو جس کا کوئی مالک نہ ہو یا وہ اسلام میں مملوک ہو جس کا معین مالک معلوم نہ ہو اور وہ بستی سے اتنی دور ہو کہ جب ( کوئی شخص ) آبادی کے آخر میں چلا جاۓ تو (زمین ) میں اس کی آواز سنائی نہ دے ۔
سوال : کیا (بنجر زمین آباد کرنے ) کے لیۓ حاکم کی اجازت کی شرط لازم کی جاتی ہے ؟
جواب : جی ہاں ! یہ اس کے ساتھ مشروط ہے پس جس نے اس کی اجازت سے آباد کیا تو وہ اس کا مالک ہوگیا اور اگر وہ اسکی اجازت کے بغیر اسے آباد کرے تو حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه تعالی کے نزدیک وہ اس کا مالک نہیں ہوتا اور ( صاحبین) رحمہما اللّه تعالی فرماتے ہیں کے وہ اس کا مالک ہوجاتا ہے اگرچہ اس کی اجازت بغیر اسے آباد کرے ۔
سوال : ذمی کا بنجر زمین کو آباد کرنے کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اس کا آباد کرنا مسلمان کے آباد کرنے کی طرح ہے پس وہ مالک ہوجاتا ہے جب وہ اس (زمین) کو آباد کرے ۔
سوال : بنجر زمین کو آباد کرنے کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اسکو آباد کرنا یہ ہے کہ اس کو کھیتی کے لیۓ جوتے اسے سیراب کرے یا اس میں نہر کھودے اور اس میں پانی جاری کرے یا اس میں کنواں کھودے یا اس پر بند بنائے اس حیثیت سے کہ وہ پانی کو محفوظ رکھے یا اس میں بیج بوئے یا اس میں تعمیر کرے یا اس میں پودا لگائے ۔
سوال : آپ نے ذکر فرمایا کہ بنجر زمین کو آباد کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ بستی سے دور ہو تو اس قید کا فائدہ کیا ہے ؟
جواب : اس کا فائدہ اس زمین سے احتراز کرنا ہے جو اس آبادی کے قریب ہو لوگ جس کے محتاج ہوتے ہیں اور اسے ان کی کٹی ہوئی کھیتیوں کو ڈالنے کی جگہ اور اس کے جانوروں کے لیۓ چراگاہ کے طور پر چھوڑ دیا جاتا ہے پس اس جیسی زمین کو آباد کرنا جائز نہیں ۔
سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا کہ بنجر زمین کو اس میں کنواں کھودنے کے ساتھ آباد کیا جاتا ہے پس جب وہ اس میں کنواں کھود لے تو اسے بنجر زمین سے کیا حاصل ہوتا ہے ؟
جواب : اسے اس کی حریم حاصل ہوتی ہے یعنی وہ حریم کا مالک ہوجاتا ہے ۔
سوال : حریم میں تفصیل کیا ہے ؟
جواب : جب یہ کنواں عٙطٙن کے لیۓ ہو تو اس کی حریم ہر جانب سے چالیس ہاتھ ہے اور عطن کے لیۓ اس کے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس پر جانوروں میں سے اونٹ وغیرہ لائے پس انہیں پانی پلائے اور اپنے ہاتھ سے پانی نکالے اور اگر وہ (کنواں) ناضح کے لیۓ ہے تو اس کی حریم ساٹھ ہاتھ ہے ناضح کے لیۓ اس کے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اونٹ کے ذریعہ اس کا پانی نکالے اور اپنی کھیتی سیراب کرے ۔
سوال : اگر کنواں چشمہ دار ہے جس کے اندر چشمہ بہتا ہے (تو ) اس کی حریم کی مقدار کیا ہے ؟
جواب : اس کی مقدار پانچ سو ہاتھ ہے
سوال : جس نے کنواں کھودا اسے حریم دینے کا فائدہ کیا ہے؟
جواب : اس کا فائدہ یہ ہے کہ کسی کو اجازت نہ دی جاۓ کے وہ اس کی حریم میں دوسرا کنواں کھودے ۔
سوال : کیا اس زمین کو آباد کرنا جائز ہے جسے فرات یا دجلہ نے چھوڑ دیا ہو اور پانی اس سے ہٹ گیا ہو ؟
جواب : اگر اس ( زمین) کی طرف پانی کا لوٹنا ممکن ہو تو اسے آباد کرنا جائز نہیں اور اگر اس کی طرف (پانی کا ) لوٹنا ممکن نہ ہو تو وہ بنجر زمین کی طرح ہے اسے آباد کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ کسی آبادکار کی حریم نہ ہو پس جو اس شرط کے ساتھ حاکم کی اجازت سے اسے آباد کرے (تو ) وہ اس کا مالک ہوگا ۔
سوال : ایک شخص کی نہر ہے جو کسی شخص کی زمین کے درمیان بہہ رہی ہے (تو) کیا اس کی حریم ہے ؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه تعالی کے نزدیک اس کی حریم نہیں ہے مگر یہ کہ اس کے پاس اس پر بینہ ہو اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمّد رحمہما اللّه تعالی فرماتے ہیں کہ اس کے لیۓ نہر کی پٹڑی ہے جس پر وہ چلے اور اس پر اس کی مٹی ڈالے ۔
سوال : کسی شخص نے پتھر (وغیرہ) کے ذریعہ زمین کی حد بندی کی اور اسے آباد نہیں کیا اور اسے بے آباد چھوڑ دیا ( تو) کیا حاکم اسے مہلت دے ؟
جواب : اسے تین سال تک مہلت دے پس جب یہ مدت گزر جائے ( اور وہ آباد نہ کرے ) تو اس سے (زمین) لے لے اور اس کے غیر کو (زمین ) دے دے ۔

No comments: