Beey Salam ka bayan

بیع سَلَم کا بیان

 سوال : کیا بیوع میں سے ایسی (بیع) ہے جس میں جانبین سے قبضہ کرنا شرط نہیں؟

 جواب : جی ہاں!وہ بیع سلم ہے اور وہ عین کے عوض دین (یعنی نقد ثمن کے عوض ادھار بیع) کی بیع ہے اور یہ جائز ہے باوجود یہ کہ خریدار مقرر میعاد کے بعد ہی بیع پر قبضہ کرتا ہے۔

 سوال : ایسا قاعدہ کلیہ بیان کیجیےجو سلم کے جواز کی صورت اور اس کے عدم جواز کی صورت کو واضح کردے؟

 جواب : ہر ایسی (چیز) جس کے وصف کا ضبط اور اسکی مقدار کی معرفت ممکن ہو تو اس میں سلم جائز ہے اور (ہر) ایسی (چیز) جس کے وصف کا ضبط اور اسکی مقدار کی معرفت ممکن نہ ہو تو اس میں سلم جائز نہیں۔

 سوال : ایسی اَجناس کو بیان کیجیے جن کے ساتھ سلم جائز ہے؟

 جواب : سلم کیلی،وزنی،پیمائش والی (چیزوں) اور ایسی عددی (چیزوں) میں جائز ہے جن (عددی چیزوں) میں (زیادہ) فرق نہیں ہوتا جیسے اخروٹ اور انڈا۔ پس سلم جانور میں، اس کے اطراف (یعنی سری پائے) میں، کھالوں میں عدد کے اعتبار سے، لکڑیوں میں گھٹوں کے اعتبار سے اور ترکاری میں مٹھی کے اعتبار سے جائز نہیں۔

 سوال : کیا اس بیع کی صحت کیلئے شرائط ہیں؟

 جواب : حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک اس (بیع) کی صحت کے لئے ایسی سات شرطیں لازم ہیں جن کو عقد میں ذکر کر دیا جائے اور وہ درج ذیل ہیں 

( ۱ )
جنس معلوم ہو۔
( ۲ )
نوع معلوم ہو۔
( ۳)
وصف معلوم ہو۔
( ۴ )
مقدار معلوم ہو۔
( ۵)
راس المال (یعنی ثمن) کی مقدار معلوم ہو۔ جبکہ (راس المال) اس مقدار میں سے ہو جس کی مقدار سے عقد متعلق ہو جیسے کیلی وزنی اور عددی
(چیز)
(۴)
اس جگہ کی تعیین جس میں( فروخت کنندہ مبیع) کو ادا کرے جب کہ مبیع کا بوجھ اور خرچہ ہو۔
(۷)
اورمبیع ادھار کے طور پر ہی صحیح ہوتی ہے اور ضروری ہے کہ میعاد معلوم ہو۔

 سوال : کیا اس (سلسلہ)میں حضرت ابو حنیفہ (رضی اللہ تعالی عنہہ)اور آپ (رضی اللہ تعالی عنہہ)کے صاحبین(رضی اللہ تعالی عنہہ)کے درمیان اختلاف ہے؟

 جواب : جی ہاں!(صاحبین) نے بعض شرطوں میں آپ(رضی اللہ تعالی عنہہ) کی مخالفت کی ہےاور فرمایا ہے کہ راس المال کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں جبکہ وہ معین ہو اور ( مبیع) سپرد کرنےکی جگہ کو بیان کرنے کی (ضرورت) نہیں اور وہ (مبیع) کو عقد کی جگہ سپردکرے۔

سوال : کیا کپڑوں میں سلم جائز ہے؟

جواب : جائز ہے بشر طیکہ وصف،جنس،نوع بیان کرنے کے ساتھ لمبائی،چوڑائی اور موٹائی بیان کردے۔

سوال : کیا جوہرات اور موتیوں میں سلم جائز ہے؟

جواب : ان میں سلم جائز نہیں۔

سوال : کچی اینٹوں اور پکی اینٹوں میں بیع سلم کے بارے میں آپ کا کیا  قول ہے؟

جواب : ان میں سلم جائز ہے بشر طیکہ معلوم سانچہ بیان کردے۔

سوال : فروخت کنندہ میعاد کے آنے کے وقت مسلم فیہ (یعنی مبیع) کو سپرد کرے گا پس کب وہ ثمن لے؟

جواب : فروخت کنندہ خریدار کے جدا ہونے سے پہلے عقد کی مجلس میں ثمن لے لے اور سلم اسی (طریقہ) سے صحیح ہوتی ہے۔

سوال : (دو شخصوں)نے بیع سلم کا باہم معاملہ کیا پھر فروخت کِنندہ نے راس المال(یعنی ثمن)میں تصرف کرنا چاہا یا خریدار نے مسلم فیہ(یعنی مبیع) میں تصرف کرنا چاہا تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : قبضہ کرنے سے پہلے سلم کے راس المال میں اور مسلم فیہ میں تصرف کرنا جائز نہیں اور اس پر متفرع ہوتا ہے کہ مسلم فیہ پر قبضہ کرنے سے پہلے شرکت اور تولیہ جائز نہیں

 سوال : کیا اس بیع کی صحت کیلئے شرطوں میں سے کسی (شرط) کا ذکر  باقی رہ گیا ہے؟

 جواب : جی ہاں!فقہاء نے ایسی شرط زکر کی ہے جو ان شرائط  سے زائد ہے جن کا زکر گزر چکا ہےاور وہ (شرط) یہ ہے کہ مسلم فیہ عقد کے وقت سے میعاد  کے آنے کے وقت تک(بازار میں ) موجور ہو۔

 سوال : (کسی) نے معین شخص کے ناپنے کے آلہ میں یا معین کے گز کے ساتھ(بیع) سلم کی تو کیا یہ سلم صحیح ہے؟

جواب : صحیح نہیں

سوال : اور اگر معین گاؤں کے اناج میں یا معین درخت خرما کے پھل میں(بیع) سلم کی تو اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

جواب : یہ بھی صحیح نہیں ہے



No comments:

Powered by Blogger.