Beey saraf ka bayan
بیع صرف کا بیان
سوال : بیع صرف کیا ہے؟
جواب : جب(بیع) کی دونوں جانبوں میں سے ہر ایک(جانب) أثمان کی جنس یعنی سونے اور چاندی میں سے ہو تو یہ فقہاء کے عرف میں بیع صرف ہے.
سوال : چاندی کے عوض چاندی کی بیع اور سونے کے عوض سونے کی بیع کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ(بیع) جائز نہیں مگر برابر سرابر دست بدست(جائز) ہے جیسا کہ سود کے بیان میں گزر چکا.
سوال : جب دونوں (جانب کا) سونا یا دونوں (جانب کی) چاندی عمدگی اور گھڑائی میں مختلف ہو تو کیا بیع میں ان کے درمیان زیادت جائز ہے؟
جواب : جائز نہیں کیونکہ عمدگی اور گھڑائی وصف ہے اور بیع صرف میں وصف معتبر نہیں ہوتا.
سوال : اس شخص کے بارے میں آپ کا قول کیا ہے جو سونےکو چاندی کے عوض یا چاندی کوسونے کے عوض بیچے؟
جواب : جب دونوں جنس مختلف ہوں(تو) زیادت جائز ہے اور عقد کی مجلس میں جانبین سے قبضہ کرنا واجب ہے.
سوال : اگر (فروخت کنندہ اور خریدار) بیع صرف میں دونوں عوضوں یا ان دونوں میں سے کسی ایک(عوض) پر قبضہ کرنے سے پہلےجداہو جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : اس صورت میں عقد باطل ہو جاتا ہے.
سوال : کیا قبضہ کرنے سے پہلے (بیع) صرف کے ثمن میں تصرف کرنا جائز ہے؟
جواب : جائز نہیں.
سوال : ایک شخص نے سونے کو چاندی کے عوض اندازے کے طور پر بیچا تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ(بیع) جنس کے مختلف ہونے اور مساوات کی شرط نہ ہونےکی وجہ سے جائز ہے لیکن جدا ہونےسے پہلے دونوں عوضوں پرقبضہ کرنا لازم ہے.
سوال : زیور سے آراستہ تلوار سو درہم چاندی کے عوض بیچی اور اس(تلوار) کا زیور پچاس درہم چاندی ہےاور (خریدار) نے ثمن میں سے پچاس درہم (نقد) دے دیئےاور باقی (پچاس درہموں کو) دَیْن قرار دیا تو اس بیع کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ بیع جائز ہے اور مقبوض (ثمن) چاندی کے عوض ہوگا اگرچہ اس نےاسے بیان نہیں کیا اور باقی(ثمن) اس معیاد پر (ادا) ہوگا جس پر وہ دونوں باہم راضی ہو گئے.
سوال : اگر (خریدار) نے کہا کہ یہ پچاس (درہم) ان دونوں (یعنی تلوار اور اس کے زیور)کے ثمن میں سےدےدے تو اس کا حکم کیاہے؟
جواب : یہ بھی جائز ہے
سوال : اگر (فروخت کنندہ اور خریدارثمن اور مبیع پر) قبضہ کرنے سے پہلے جداہو گئے تو اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
جواب : تلوار اور عقد میں زیور باطل ہوجاۓ گا بشرطیکہ زیور نقصان کے بغیر(تلوار سے) جدا نہ ہو پس اگر نقصان کے بغیر جدا ہو جاۓ تو تلوار میں بیع جائز ہو گی اور زیور میں باطل ہوگی
سوال : چاندی کا برتن چاندی یا سونے کے عوض بیچا پھر(فروخت کنندہ اور خریدار ) جدا ہو گئےاس حال میں کہ (فروخت کنندہ برتن) کے کچھ ثمن پر قبضہ کر چکا تھا تو اس بیع کا حکم کیا ہے؟
جواب : غیر مقبوض (ثمن) میں عقد باطل ہوگا اور مقبوض(ثمن) میں صحیح ہوگا اور برتن دونوں کےدرمیان مشترک ہوگا
سوال : اگر برتن کے کچھ حصہ میں حق ثابت ہوجاۓ اس حال میں کہ(خریدار برتن) کا کچھ ثمن اداکرچکا ہے تو خریدار کیسے کرے؟
جواب : خریدار کو اختیار دیا جاۓگا اگر چاہے باقی(برتن)کو اس کے حصۂ ثمن کے عوض لے لے اور اگر چاہےتو بیع کو رد کردے
سوال : چاندی, سونےکا پگھلایا ہوا ٹکڑا فروخت کیا پس اس کے کچھ حصہ میں حق ثابت ہو گیا تو کیا اس صورت میں بھی خیار ثابت ہوگا؟
جواب : اس صورت میں بھی خیار(ثابت) نہیں ہوگا بلکہ (خریدار) باقی(مبیع)کو اس کے حصۂ ثمن کے عوض لےگا.
سوال : دو درہم اور ایک دینارکو دو دینار اور ایک درہم کے عوض بیچاتو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ بیع جائز ہے اور دونوں جنسوں میں سے ہر ایک (جنس) کو دوسری جنس کابدل قرار دیا جاۓ گا.
سوال : گیارہ درہموں کو دس درہموں اور ایک دینار کے عوض بیچا تو اس بیع کا حکم کیاہے؟
جواب : یہ بیع جائز ہے اور دس(درہم) اپنے مثل(دس درہم) کے عوض اور دینار ایک درہم کے عوض ہو جاۓ گا.
سوال : دو کھرے درہم اور ایک کھوٹے درہم کو دو کھوٹے درہم اور ایک کھرے درہم کے عوض بیچا تو کیا یہ بیع صحیح ہے؟
جواب : جی ہاں یہ بیع صحیح,جائز ہے
سوال : چاندی کے درہم یا سونے کے دینار جن میں کھوٹ ہے,انھیں ان کی جنس کے عوض زیادت کے طور پر بیچنے کا حکم کیا ہے؟
جواب : اگر درہموں پر غالب چاندی ہےتو وہ چاندی کے حکم میں ہیں اور اگر دیناروں پر غالب سونا ہے تووہ سونے کے حکم میں ہیں پس ان میں اس زیادت کی تحریم کا اعتبار کیا جاۓ گا جس(زیادت کی تحریم) کا اعتبار کھرے(دراہم و دنانیر) میں کیا جاتا ہے.اور اگر ان دونوں (یعنی چاندی کے درہموں اور سونے کے دیناروں) پر کھوٹ غالب ہےتووہ درہموں اور دیناروں کے حکم میں نہیں بلکہ وہ دونوں سامان کے حکم میں ہیں پس جب ان کو ان کی جنس کے عوض زیادت کے طور پر بیچا جاۓ تو جنس کو خلاف(جنس)کی طرف پھیرنے سے بیع جائز ہوگی
سوال : ایک شخص نے کھوٹے دیناروں یا کھوٹے درہموں کے عوض سامان بیچا پھر وہ (دراہم ودنانیر) بے رواج ہوگئے کہ فروخت کنندہ کے ثمن پر قبضہ کرنے سے پہلے لوگوں نے ان (دراہم و دینار) کے ساتھ معاملہ کرنا چھوڑ دیا تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک بیع اس صورت میں باطل ہے اور حضرت ابو یوسف فرماتے ہیں کہ خریدار کے ذمہ بیع کے دن میں (موجود) ان ( دراہم ودنانیر) کی قیمت ہے اور حضرت محمد رحمہ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ ان (دراہم ودنانیر) کی قیمت ہے جن (دراہم ودننانیر) کے ساتھ لوگوں نے آخری( دن ) یعنی عدم رواج کے دن معاملہ کیا۔
سوال : کیا تعیین کے بغیر پیسوں کے ساتھ بیع جائز ہے؟
جواب : رائج پیسوں کے ساتھ بیع جائز ہے اگرچہ ان کو معین نہ کیا گیا ہو بہر حال جب وہ بے رواج ہوں تو ان کے ساتھ بیع جائز نہیں یہاں تک کہ وہ ان کو معین کرے۔
سوال : جب رائج پیسوں کے عوض بیچے پھر وہ بے رواج ہو جائیں قبل اس کے کہ فروخت کنندہ ان پر قبضہ کرے( تو) اس بیع کا کیا حکم ہے۔
جواب : حضرت امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ بیع باطل ہے اور اس (بیع) میں صاحبین کا اختلاف ایسا ہے جیسا کہ ان کا ختلاف گزشتہ (بیع) میں ہے۔
سوال : (ایک شخص) نے آدھے درہم کے پیسوں کے عوض کوئی چیز خریدی تو کیا یہ بیع جائز ہے؟
جواب : یہ بیع جائز ہے اور اس کے ذمہ وہ پیسے ہیں جو آدھے درہم کے عوض بیچے جاتے ہیں۔
سوال : روپے پیسے کی تجارت کرنے والے کو ایک درہم دیا اور کہا: مجھے آدھے درہم کے عوض پیسے اور آدھے درہم کے عوض حبہ(دو جو کے برابر ایک وزن کا نام ہے) کم آدھا (درہم) دیجئے( تو) اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ علیہ کے نزدیک یہ بیع ، تمام میں فاسد ہے اور آپ کے صاحبین فرماتے ہیں کہ بیع پیسوں میں جائز ہے اور باقی میں باطل ہے۔
سوال : اور اگر کہا کہ مجھے آدھے درہم کے پیسے اور حبہ کم آدھا (درہم) دیجئے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ بیع جائز ہے ۔ ( اس صورت میں حبہ کم درہم ، حبہ کم آدھے درہم کے مقابل اور باقی درہم پیسوں کے مقابل ہو جائے گا ۔
سوال : اور اگر کہا مجھے چھوٹا درہم جس کا وزن حبہ کم آدھا درہم ہے اور باقی کے پیسے دیجئے( تو) کیا یہ بیع جائز ہے؟
جواب : بیع اس صورت میں بھی جائز ہے اور حبہ کم آدھا ( درہم ) چھوٹے درہم کے مقابل اور باقی (درہم) پیسوں کے مقابل ہو جائے گا

سونے کو چاندی سے چاندی کو سونےسے بیچنے کا کیا حکم ہے؟؟
ReplyDelete