Beiy Fasid ki misalen or iska hukam
بیع فاسد کی مثالیں اور اس کا حکم
سوال : بیع فاسد کی کچھ مثالیں بیان کیجیے ؟
جواب . مزٙابٙنٙہْ (درخت خرما پر لگی ہوئی کجھور کو ٹوٹے ہوئے چھواروں کے عوض یا انگور کی بیل پر لگے ہوئے انگوروں کو کشمش کے عوض اندازے کے ساتھ کیل کے لحاظ سے بیچنا مزٙابٙنٙہْ ہے دو شخصوں نے سامان پر بیع کی گفتگو کی پس جب مشتری نے سامان کو چھو لیا یا بائع نے اسے مشتری کی طرف پھینک دیا یا مشتری نے سامان پر کنکری رکھدی تو بیع لازم ہوگئ پس اول بیع ملامسہ دوم بیع منابذہ اور سوم بیع القاء حجر یعنی پتھر پھینکنے کی بیع ہے) ۔ ملامسہ اور منابذہ کی بیع اور پتھر پھینکنے کی بیع فاسد ہوتی ہے جیسا کہ (بیع) فاسد ہوتی ہے جب باندی یا جانور بیچے اور اس کا حمل مستثنی کرلے یا کپڑے (کے تھان) میں سے ایک گز کپڑا یا چھت میں (لگی ہوئی) کڑی یا دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا فروخت کرے ۔
سوال : کیا شرطوں کی وجہ سے بیع فاسد ہو جاتی ہے؟
جواب : جی ہاں ! ایسی شرط کی وجہ سے (بیع) فاسد ہو جاتی ہے عقد (بیع) جس (شرط) کا تقاضا نہ کرے اور (شرط، عقد بیع) کے مناسب نہ ہو اور اس (شرط) میں باہم عقد کرنے والے دو شخصوں میں سے کسی ایک کا یا معقود علیہ ( یعنی مبیع) کا نفع ہو اور وہ (مبیع) اہل استحاق میں سے ہو اور اس (شرط) کے ساتھ عرف جاری نہ ہو اور شریعت اس (شرط ) کے ساتھ وارد نہ ہوئی ہو
سوال : کچھ ایسی شرطیں بیان کیجئے جو بیع کو فاسد کر دیتی ہیں؟
جواب : جب غلام بیچے اس شرط پر کہ خریدار اسے آزاد کر دے یا اسے مدبر بنا دے گا یا اسے مکاتب بنا دے گا یا اس شرط پر کہ فروخت کنندہ ایک ماہ اس سے خدمت لے گا یا باندی بیچے اس شرط پر کے خریدار اسے ام ولد بناۓ گا یا گھر (بیچے) اس شرط پر کہ فروخت کنندہ شروع مہینہ تک سپرد نہیں کرے گا یا اس شرط پر کہ (خریدار) اسے ایک درہم قرض دے گا یا اس شرط پر کہ (خریدار) اسے کوئی شے ہدیہ میں دے گا پس تحقیق یہ شرطیں بیع کو فاسد کر دیتی ہیں۔
سوال : اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے کپڑا خریدا اس شرط پر کہ فروخت کنندہ اسے کتر دیگا اور اس کا کرتا یا شیروانی سی دے گا یا جوتا خریدا اس شرط پر کہ فروخت کنندہ اسے نمونہ پر کاٹ دے گا یا اس پر تسمہ لگا دے گا؟
جواب : یہ بیع ان صورتوں میں فاسد ہے۔
سوال : دوشخصوں نے باہم خریدوفروخت کی اور خریدار نے ثمن کو نو روز (موسم گرما کا پہلا دن) تک یا مہرجان (موسم سرما کا پہلا دن) تک مؤخر آپ کیا یا دونوں نے صوم نصاری یا عید یہود تک مدت مقرر کی تو اس بیع کا حکم کیا ہے؟
جواب : یہ بیع فاسد ہے بشرطیکہ باہم خرید و فروخت کرنے والے دونوں شخص ان مدتوں کو نہ جانتے ہوں۔
سوال : کیا بیع جائز ہو گی جب ( فروخت کنندہ اور خریدار ) کھیت کاٹنے کے وقت ، ،گاہنے کے وقت، میوہ توڑنے کے موسم اور حاجیوں کی آمد (کے وقت) کو ثمن ادا کرنے کی مدت قرار دیں؟
جواب : بیع ان صورتوں میں فاسد ہے
سوال : (فروخت کنندہ اور خریدار )نے ان مدتوں کو آپس میں مقرر کیا پھر ان (مدتوں) کے آنے سے پہلے ان کو ساقط کرنے پر باہم راضی ہو گئے تو کیا اس صورت میں عقدِ (بیع) پلٹ کر جائز ہو جاۓ گا؟
جواب : جی ہاں ! (عقد بیع ) پلٹ کر جائز ہو جاۓ گا۔
سوال : کیا کتے، چیتے اور درندے کی بیع جائز ہے ؟
جواب : جی ہاں جائز ہے.
سوال : کیا ریشم کے کیڑوں اور شہد کی مکھیوں کی بیع جائز ہے؟
جواب: ریشم کے کیڑوں کی بیع ریشم کے بغیر اور اسی طرح شہد کی مکھیوں کی بیع چھتوں کے بغیر جائز نہیں
سوال : بیع فاسد کا حکم کیا ہے ؟
جواب : جب دو (شخص) بیع فاسد کے طور پر باہم خرید و فروخت کریں اور عقد میں دونوں عوضوں میں سے ہر ایک عوض مال ہو اور خریدار، فروخت کنندہ کے حکم سے مبیع پر قبضہ لے تو خریدار مبیع کا مالک ہو جاۓ گا اور اسے اس کی قیمت (کی ادائیگی ) لازم ہو جائیگی لیکن شریعت کے حکم کی موافقت کے طور پر اس بیع کو توڑنا ان دونوں میں سع ہر ایک پر واجب ہو گا۔
سوال : ان دونوں پر واجب تھا کہ وہ اس (بیع)کو توڑ دیں لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور خریدار نے یہ مال بیچ دیا تو کیا اسکی یہ بیع نافذ ہو جایئگی
جواب : جی ہاں نافذ ہو جائے گی۔
سوال : خریدار نے اس (شے) کو بیچ دیا جسے اس نے فاسد خریداری کے طور پر خریدا اور اسے اس (بیع ) میں نفع کا کیا حکم ہے؟
جواب : یہ نفع اس کے لئے اچھا نہیں اور اس پر لازم ہے کہ وہ اسے صدقہ کر دے ۔

No comments: