Ch : 10 Siyar ka bayan
سِیَر کا بیان
سوال : سیر کیا ہے؟
جواب : یہ سیرت کی جمع ہے اور یہ لغت میں ”کاموں میں طریقہ" (کا نام) ہے اور فقہاء کی اصطلاح میں مغازی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیر کے ساتھ مختص ہے اور فقہاء کتاب السیر میں جہاد کے احکام اور جو (جہاد) کے متعلق ہے یعنی اموال غنیمت تقسیم کرنے، جزیہ مقرر کرنے اور قیدیوں کے بارے میں حاکم کے فیصلہ دینے و 'غیر ذلک' کو ذکر فرماتے ہیں۔
سوال : سفید شریعت میں جہاد کا حکم کیا ہے؟
جواب : جہاد فرضِ کفایہ ہے، جب مسلمانوں کی ایک جماعت (جہاد) کے ساتھ کھڑی ہو تو یہ (فرض) باقیوں سے ساقط ہو جاتا ہے اور اگر کوئی (بھی جہاد) کے ساتھ کھڑا نہ ہو تو تمام (لوگ) اس (فرض) کے چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہو جاتے ہیں اور جہاد نابالغ، غلام،عورت، نابینا، اپاہج اور کٹے ہوئے ہاتھ والے پر واجب نہیں ہوتا پس اگر دشمن مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر پر حملہ کر دے تو جہاد تمام مسلمانوں پر فرض عین قرار پاتا ہے اور دشمن کو ہٹانا ان پر لازم ہو جاتا ہے پس عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اور غلام آقا کی اجازت کے بغیر نکل آئے۔
سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا کہ جہاد فرضِ کفایہ ہے مگر یہ کہ دشمن کسی شہر پر حملہ کر دے تو فرضِ عین ہو جاتا ہے پس ہم پوچھتے ہیں کہ وہ جہاد جو فرضِ کفایہ ہے ہر زمانے میں اس پر کیسے عمل کیا جائے؟
جواب : ہم ان سے جنگ کرنے میں پہل کریں اگرچہ وہ ہم سے پہل نہ کریں اور ہم جنگ کرتے رہیں یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں یا وہ ماتحت بن کر جزیہ دیں اس حال میں کہ وہ بے قدر ہوں اور جب مسلمان جہاد اور قتال کو چھوڑ دیں گے (تو) مغلوب ہو جائیں گے اور دشمن ان کے ساتھ کھیل کریں گے(حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی قوم نے جہاد کو نہیں چھوڑا مگر اللّہ تعالیٰ نے ان پر عذاب کو عام فرما دیا۔ رواہ الطبرانی فی الاٰوسط کذا فی مجمع الزوائد)
سوال : جب مسلمان جہاد کے لیے نکلیں اور دارالحرب میں داخل ہوں پس کسی شہر یا قلعے کا محاصرہ کریں تو کس عمل سے آغاز کریں؟
جواب : پہلے ان کو اسلام کی دعوت دیں پس اگر وہ ان (کی دعوت) کو قبول کریں تو ان سے جنگ کرنے سے باز رہیں اور اگر وہ انکار کریں تو ان کو جزیہ دینے کی دعوت دیں پس اگر وہ (جزیہ) دیں تو ان کے وہ حقوق ہیں جو مسلمانوں کے ہیں اور ان کے وہ (فرائض) ہیں جو مسلمانوں کے ہیں پس اگر وہ جزیہ دینے سے انکار کریں (تو) مسلمان ان کے خلاف اللّہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں اور ان سے جنگ کریں اور ان کے خلاف توپیں نصب کریں اور ان (کے گھروں اور اسباب) کو جلا دیں اور ان پر پانی چھوڑ دیں اور ان کے درختوں کو کاٹ دیں اور ان کی کھیتیاں برباد کردیں اور عہد شکنی نہ کریں اور خیانت نہ کریں اور مُثْلَه نہ کریں (یعنی دشمن کے ہاتھ پاؤں اور ناک کان وغیرہ نہ کاٹیں) اور عورت، نابالغ، شیخ فانی، نابینا اور اپاہج کو قتل نہ کریں مگر یہ کہ ان میں سے کوئی ان میں سے ہو جس کی جنگ میں رائے ہو یا عورت ان کی بادشاہ ہو اور عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اور غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر جنگ نہ کرے مگر یہ کہ دشمن حملہ کر دے جیسا کہ ہم (اس سے) پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
سوال : کیا ان پر اسلام پیش کرنے سے پہلے ان سے جنگ کرنا جائز نہیں؟
جواب : جسے اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو اس سے جنگ کرنا جائز نہیں مگر ان کو (اسلام) کی دعوت دینے کے بعد (جائز) ہے، بہرحال وہ (لوگ) جن کو اسلام کی دعوت پہنچ چکی تو جنگ کرنے سے پہلے ان کو دعوت دینا مستحب ہے لیکن یہ واجب نہیں۔
سوال : دارالحرب میں مسلمان قیدی ہیں جن کو کافروں نے ہم میں سے قید کیا یا مسلمان تاجر ہیں اور جب ہم ان کی طرف تیر چلاتے ہیں تو ہم مطمئن نہیں ہوتے کہ (تیر) مسلمان پر واقع ہو۔ پس کیا اس صورت میں ہم تیر اندازی سے رک جائیں اور اسی طرح ایک دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کفار اگر مسلمانوں کے بچوں اور قیدیوں کو ڈھال بنائیں تو کیا مسلمانوں کےلئے جائز ہے کہ وہ ان پر تیر چلائیں؟
جواب : وہ تیر اندازی سے نہ رکیں اور (تیر اندازی) میں کافروں کا ارادہ کریں مسلمانوں کا نہیں۔
سوال : کیا دارالحرب کی طرف مسلمانوں کے ساتھ خواتین اور مُصَاحِفْ کو نکالنا جائز ہے؟
جواب : اگر مسلمانوں کا لشکر بڑا ہو کہ اس پر اطمینان ہو تو ان کے ساتھ خواتین اور مُصَاحِفْ کو نکالنے میں کوئی حرج نہیں اور یہ (عمل) ایسے سریے میں مکروہ ہے جس پر اطمینان نہ ہو
۔
سوال : اہلِ حرب کو ہتھیار بیچنے کا حکم کیا ہے؟
جواب : ان کو ہتھیار بیچنا جائز نہیں جیسا کہ ان کی طرف سامانِ تجارت لے جانا جائز نہیں۔

No comments: