Ch : 9 Khareed o farokhat ka bayan
خرید و فروخت کا بیان
سوال : بیع کیا ہے ؟
جواب : یہ (یعنی بیع ) عقد کرنے والے دو شخصوں ( یعنی بیچنے والے اور خریدنے والے ) کی باہمی رضامندی کے ساتھ مال کے ساتھ تبادلہ کرنا ہے ۔
سوال : بیع کیسے منعقد ہوتی ہے ؟
جواب : بیع ایجاب اور قبول کے ساتھ منعقد ہوتی ہے جب کے وہ دونوں (یعنی ایجاب و قبول ) ماضی کے لفظ کے ساتھ ہوں جیسے ان دونوں میں سے ایک کہے میں نے بیچا اور دوسرا کہے میں نے خریدا ۔
سوال : جب ایک دوسرے کے ساتھ عقد کرنے والے دو شخصوں میں سے ایک بیع کا ایجاب کرے تو کیا بیع دوسرے فریق کو لازم ہو جاتی ہے ؟
جواب : نفس ایجاب سے بیع لازم نہیں ہوتی بلکہ (بیع ) تب لازم ہوتی ہے جب ایجاب و قبول دونوں حاصل ہوں پس جب ان دونوں میں سے ایک بیع کا ایجاب کرے تو دوسرا بااختیار ہے اگر چاہے (اسی ) مجلس میں قبول کرے اور اگر چاہے اسے رد کر دے پس جب قبول کر لے تو بیع دونوں کو لازم ہو جاتی ہے اور اس وقت ان دونوں میں سے کسی کو (رد کا ) اختیار (حاصل) نہیں ۔
سوال : آپ نے قبول کو ( اسی) مجلس کے مقید کیوں کیا ہے ؟
جواب : کیونکہ عقد کرنے والے دو شخصوں میں سے ایک جب بیع کا ایجاب کرے پھر وہ خود یا اس کا ساتھی قبول کرنے سے پہلے اٹھ جاۓ تو ایجاب باطل ہو جاۓ گا ۔
سوال : جب بیع مکمل ہوجاۓ تو کیا خریدار کو کسی وجہ سے ( خریدا ہوا مال واپس کرنے کا ) اختیار حاصل ہوتا ہے ؟
جواب : جی ہاں ! جب چیز میں کوئی عیب ظاہر ہو جاۓ یعنی وہ مال جو اس نے خریدا تو خریدار کو اختیار (حاصل) ہے اگر چاہے اس (مال ) کو واپس کر لے اگر چاہے اسے لے لے اسی طرح خریدار کو (خریدا ہوا مال) لینے اور واپس کرنے کا اختیار دیا جاتا ہے جب وہ ایسی (چیز) خریدے جو اس نے نہ دیکھی ہو ۔
سوال : کیا ادھار ثمن کے ساتھ بیع جائز ہے ؟
جواب : بیع، نقد اور ادھار ثمن کے ساتھ جائز ہے بشرطیکہ (ادھار کی) مدت معلوم ہو ۔
سوال : ایک شخص نے (سامان ) بیچا اور اس (سامان) کی طرف (محض) اشارہ کیا اور وزن کرنے یا ناپنے کے اعتبار سے اس (سامان ) کی مقدار بیان نہیں کی یا دو شخصوں نے سامان کے عوض سامان ان دونوں (سامانوں) کی مقدار بیان کیئے بغیر باہم خرید و فروخت کیا اور( محض )ان کی طرف اشارہ کیا تو کیا ان دونوں صورتوں میں بیع جائز ہے ؟
جواب : ان دونوں صورتوں میں بیع جائز ہے کیونکہ وہ اعواض یعنی ثمن اور مبیع جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہو بیع کے جواز میں ان کی مقدار معلوم کرنا ضروری نہیں ہوتی اس لیۓ اشارہ پہچان کرانے کے ذرائع میں سے کامل ترین ( ذریعہ ) ہے ۔
سوال :جب ثمن کو مطلق رکھے اور مقدار اور وصف کو بیان نہ کرے تو اس بیع کا حکم کیا ہے ؟
جواب : جب ثمن کو مطلق رکھے مثلا (یوں ) کہے میں نے آپ کو چاندی کے عوض سونے کے عوض یا دیناروں کے عوض یا درہموں کے عوض یا گندم کے عوض خریدا اور مقدار اور وصف بیان کرے تو بیع جائز نہیں ہوگی پس بیع کی صحت کے لیۓ مقدار ذکر کرنا ضروری ہے جیسے یوں کہے : میں نے مثلا اتنے درہموں کے عوض خریدا وصف ذکر کرنا (ضروری ہے ) جیسے یوں کہے (دو درہم ) عصری یا شامی ، کھرے یا کھوٹے ہیں ۔
سوال : جب ثمن مطلق رکھے یعنی وصف ذکر کرنے سے خاموش رہے اور مثلا ( یوں ) کہے میں نے اس دس درہموں کے عوض بیچا حالانکہ شہر میں ایسے درہم (موجود ) ہیں جو وصف میں مختلف ہیں مالیت میں نہیں تو کیا اس صورت میں بیع جائز ہوگی جب کے خریدار قبول کر لے ؟
جواب : ایسا ہو تو بیع جائز ہے اور ایسے درہم متعین ہوجائیں گے جن کے ساتھ لوگ شہر میں عموما ً معاملہ کرتے ہیں ۔
سوال : درہموں کو مطلق رکھا اس حال میں کہ وہ (درہم ) مالیت میں مختلف ہیں تو کیا اس صورت میں بیع کے جواز کا حکم لگایاجاۓ گا ؟
جواب : اگر سکے مالیت میں مختلف ہوں تو بیع فاسد ہوجاۓ گیمگر یہ کہ وہ ان (سکوں) میں سے کسی ایک ( سکہ )کو بیان کر دے اور اس کی مقدار (بھی) بیان کر دے۔
سوال : کیا گندم اور اناج کی بیع ناپنے کے اعتبار سے اور اندازہ کرنے کے اعتبار سے جائز ہے ؟
جواب : اس طرح انکی بیع درہموں ، دیناروں ، روپے پیسوں اور اناج کے عوض جائز ہے مگر جس وقت کہ گندم کو گندم کے عوض اندازہ کرنے کے ساتھ بیچے اس حال میں کہ دونوں کی جنس ایک تحقیق یہ ( بیع ) جائز نہیں کیونکہ اس میں سود کا احتمال ہے ۔
سوال : ایک شخص نے دوسرے سے کہا میں نے گندم اس برتن کے بھرنے کے ساتھ اتنے میں بیچی اور خریدار نے اسے قبول کر لیا باوجودیکہ اس برتن میں (سما جانے والی گندم ) کی مقدار معلوم نہیں تو کیا بیع جائز ہوگی ؟
جواب : معین برتن بھرنے کے ساتھ بیع جائز ہے اگر چہ اس کی مقدار معلوم نہ ہو جو اس برتن میں سما جاۓ ۔
سوال : اگر ایسے معین پتھر کے وزن کے ساتھ بیچا جس کی مقدار معلوم نہیں تو اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : یہ بھی جائز ہے ۔
سوال : ایک شخص نے گندم کا ڈھیر بیچا (اور کہا کہ )ہر قفیز ایک درہم کے عوض ہے تو کیا بیع جائز ہے ؟
جواب : اس صورت میں ایک قفیز میں بیع جائز ہوگی اور باقی میں باطل ہوجاۓ گی الّا یہ کہ ( گندم کے ڈھیر ) کے تمام قفیزبیان کردے یہ (حکم ) حضرت ابو حنیفہ رح کے نزدیک ہے اور آپ کے صاحبین فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں بیع جائز ہے (گندم کے ڈھیر ) کے تمام قفیز بیان کرے یا نہیں ۔
سوال : بکریوں کا ریوڑ بیچا اور کہا کہ ہر بکری ایک درہم کے عوض ہے تو اس ( بیع ) کے بارے میں حضرت ابو حنیفہ رح کا قول کیا ہے ؟
جواب : آپ رح کے نزدیک تمام (بکریوں ) میں بیع فاسد ہے اور صاحبین رح فرماتے ہیں کہ یہ بیع تمام ( بکریوں ) میں جائز ہے ۔
سوال : اس ( شخص کی بیع) کے بارے میں حضرت ابو حنیفہ رح کا قول کیا ہے جس نے گز کے پیمائش کرنے کے اعتبار سے کپڑا بیچا ( اور کہا کہ ) ہر گز ایک درہم کے عوض ہے اور تمام گز بیان نہیں کیئے ؟
جواب : یہ بیع ایک گز میں صحیح نہیں اور نہ (ہی) تمام گزوں میں (صحیح ہے)۔
سوال : اس شخص کی بیع کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے گندم کا ڈھیر بیچا اس شرط پر کہ وہ (گندم کا ڈھیر) سو قفیز سو درہموں کے عوض ہے پس خریدار نے اس (ڈھیر ) کو سو ( قفیز) سے کم پایا ؟
جواب : خریدار بااعتبار ہے اگر چاہے موجود گندم کو اس کے حصہ ثمن کے عوض لے لے اور اگر چاہے بیع توڑ دے ۔
سوال : اور اگر (گندم کے ڈھیر ) کو سو ( قفیز ) سے زیادہ پائے تو کیا حکم ہے؟
جواب : یہ زیادتی فروخت کنندہ (یعنی بیچنے والے ) کے لیۓ ہے ۔
سوال : ایک شخص نے کپڑا خریدا اس شرط پر کہ وہ کپڑا دس گز دس درہموں کے عوض ہے یا اس شرط پر زمین خریدی کہ وہ (زمین ) سو گز سو درہموں کے عوض ہے پس اس نے کپڑے یا زمین کو اس مقدار سے کم پایا جو فروخت کنندہ نے بیان کی تو اس بیع کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اس (بیع) میں خریدار با اختیار ہے اگر چاہے تمام ثمن کے عوض لے لے اور اگر چاہے چھوڑ دے ۔
سوال : اگر اس مقدار سے زیادہ پائے جو فروخت کنندہ نے بیان کی تو اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : تمام بیع خریدار کے لیۓ ہے اس ثمن کے عوض جس پر دونوں نے عقد بیع کیا اور فروخت کنندہ کو اختیار (حاصل) نہیں اور مذکورہ (یعنی زیادتی کی ) صورت میں زمین کا حکم (بھی ) یہی ہے ۔
سوال : اس (بیع ) کے بارے میں آپکا قول کیا ہے جب فروخت کنندہ کہے میں نے تمہیں یہ بیچا اس شرط پر کہ یہ سو گز ہے ہر گز ایک درہم کے عوض ہے پس خریدار نے اسے کم یا زائد پایا ؟
جواب : اگر وہ اسے کم پائے تو وہ بااعتبار ہے اگر چاہے اسے اس کے حصہ ثمن کے عوض لے لے اور اگر چاہے اسے چھوڑ دے اور اگر اسے زائد پائے اسے اختیار ہے تمام مبیع کو لے لے ہر گز ایک درہم کے عوض اور اگر چاہے تو بیع توڑ دے ۔
سوال : اگر فروخت کنندہ نے کہا : میں نے تمہیں یہ گٹھڑی بیچی اس شرط پر کہ یہ گٹھڑی دس کپڑوں کی دس درہموں کے عوض ہے ہر کپڑا دس درہموں کے عوض ہے پس اس نے اسے کم یا زیادہ پایا تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اگر اسے کم پائے تو اس کے حصہ ثمن کے عوض بیع جائز ہے اور اگر کم یا زائد پائے تو بیع فاسد ہے ۔
سوال : ایک شخص نے مکان بیچا اورصرف " مکان "(کالفظ ) ذکر کیا تو نام لیۓ بغیر بیع میں کیا (شے ) داخل ہوگی ؟
جواب : جب مکان بیچے تو اس کا میدان اس کی عمارت اور اس کے تالوں کی چابیاں بیع میں داخل ہونگی اگرچہ ان کا نام نہ لے ۔
سوال : اس زمین کے بارے میں آپ کا قول کیا ہے جسے بیچا اس حال میں کہ اس میں کھجور کے درخت و (دیگر ) درخت ہیں ؟
جواب : کھجور کے درخت و( دیگر ) درخت اس بیع میں شامل ہوجائیں گے ان کا نام لے یا نام نہ لے ۔
سوال : اگر زمین میں کھیتی ہو اور وہ اس (زمین) کو بیچے اور کھیتی کا ذکر نہ کرے تو اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : کھیتی نام لینے سے ہی زمین کی بیع میں داخل ہوتی ہے ۔
سوال : کھجور کا درخت یا کوئی دوسرا درخت بیچا جس میں پھل ہے تو پھل کا مالک کون ہوگا ؟
جواب : اس کا پھل فروخت کنندہ کا ہے الایہ کہ مشتری یعنی خریدار ( اپنی لیۓ ) اس پھل کی شرط لگا دے اور فروخت کنندہ سے کہا جاۓ گا کہ اپنا پھل توڑے اور مبیع (یعنی درخت ) خریدار کے سپرد کیجئے ۔
سوال : ایک شخص نے درخت پر لگا ہوا پھل بیچا جس کی صلاحیت ظاہر نہیں ہوئی (یعنی آفت اور فساد سے محفوظ نہیں ہوا) تو کیا یہ بیع جائز ہے ؟
جواب : درخت پر لگے ہوے پھل کی بیع جائز ہے پھل کی صلاحیت ظاہر ہوئی ہو یا نہیں اور خریدار کے ذمہ واجب ہے کہ اسی وقت ( پھل ) توڑ لے ۔
.
سوال : اگر درخت پر پھل کو چھوڑ دینے کی شرط لگائے تو اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : اس صورت میں بیع فاسد ہے ۔
سوال : درخت کی شاخوں پر (لگے ہوئے) پھل کو بیچا اور اس (پھل ) میں سے معین رطل مثلا (دس رطل ) مستثنیٰ کر لیۓ تو کیا یہ بیع جائز ہے؟
جواب : جاٸز نہیں۔
سوال : کیا گیہوں کی بیع اس کے خوشوں میں اور لوبیا(کی بیع) اس کی پھلیوں میں جائز ہے؟
جواب : یہ(بیع) جائز ہے بشرطیکہ خلاف جنس کے عوض بیچے بہرحال اس کے جنس کے عوض بیچے تو سود کے احتمال کی وجہ سے جائز نہیں۔
سوال : وزنی یاکیلی(چیز)بیچی اوروہ(مقدار میں) زیادہ ہے اس حیثیت سے کہ ناپنے والے اور وزن کرنے والے کی ضرورت ہے تو کون ان دونوں کی اجرت کا تاوان دے گا؟
جواب : ان دونوں کی اجرت فروخت کنندہ کے ذمہ ہے۔
سوال : دیناروں اور درہموں کے عوض بیچا اور فروخت کنندہ(دراہم و دنانیر) کو پرکھنے کا محتاج ہے پس پرکھنے والے نے اجرت پر ان کو پرکھا تو یہ اجرت کس کے ذمہ واجب ہوگی؟
جواب : یہ اجرت بھی فروخت کنندہ کے ذمہ واجب ہوگی۔
سوال : درہم اور دینار(اس قدر) زیادہ ہیں کہ ان کے وزن کی ضرورت ہے پس وزن کرنے والے نے اجرت پر ان کو وزن کیا تو یہ اجرت کس پر واقع ہوگی؟
جواب : خریدار پر۔
سوال : کیا پہلے مبیع دینا لازم ہے یا خریدار کے ذمہ واجب ہےکہ ثمن دینے میں پہل کرے؟
جواب : اس میں تفصیل ہے: اگر ثمن کے عوض سامان بیچے تو خریدار سے کہا جائے گا پہلے ثمن دیجئے پس جب وہ(ثمن) دے دے تو فروخت کنندہ سے کہا جائے گا کہ مبیع سپرد کیجئے اور اگر سامان کے عوض سامان یاثمن کےعوض ثمن بیچے ستو دونوں سے کہا جائے گا کہ ایک ساتھ سپرد کیجیے۔

No comments: