Diyton ka bayan
دیتوں کا بیان
سوال : لغت اور شریعت کی رو سے دیت کیا ہے؟
جواب : یہ عِدَۃّ کے وزن پر مصدر ہےاس سے کلمہ کی فا حذف کر دی گئ .پڑھئے:وہ وَدٰیّ یَدِی وَدّیاً وَدِیَتہُ فَھُوَ وَادِِ,اور سفید شریعت میں یہ وہ مال ہےجو قاتل پر واجب ہوتا ہےجب وہ خطاًقتل کرے یا شِبہ عمد کے ساتھ قتل کرے یا کسی عضو کو کاٹ دے اور تحقیق اعضاء کے عوض کا نام ارش رکھا گیا ہے
سوال : دیت کے احکام اسکی مقدار کے بیان کے ساتھ بیان کیجئے؟
جواب : آنے والے مسائل کو زبانی یاد کیجئے۔
(1)
جب کوئی شخص کسی شخص کو شبہ عمد کے قتل کی طرح قتل کر دے تو قاتل عاقلہ پر دیت مغلظہ ہے اور قاتل پر کفارہ ہے اور دیت مغلظہ حضرت ابو حنیفہ و حضرت ابو یوسف رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک چار قسم کے سو اونٹ ہیں: پچیس بنتِ مخاض، پچیس بنتِ لبون،پچیس حقے اور پچیس جذعے۔ اور تغلیظ صرف شبہ عمد میں ہے اور جب اونٹوں کے غیر سے دیت جا فیصلہ کیا جاۓ تو اس (دیت) میں تغلیظ نہیں نہ شبہ عمد میں اور نہ اس کے غیر میں۔
(2)
قتل خطا میں عاقلہ پر دیت اور قاتل پر کفارہ واجب ہوتا ہے اور دیتِ خطا پانچ قسم کے سو اونٹ ہیں۔ بیس بنتِ مخاض، بیس ابنِ لبون، بیس بنتِ لبون، بیس حقے اور بیس جذعے اور یہ غیر متعلقہ دیت ہے۔
(3)
سونے سے دیت ایک ہزار دینار اور چاندی سے (دیت) دس ہزار درہم ہیں۔
(4)
حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ دیت صرف ان تین قسموں سے ثابت ہوتی ہے اور آپ رحمتہ اللہ کے صاحبین (حضرت ابو یوسف و حضرت محمد) رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیت ان قسموں سے، گایوں سے، بکریوں سے، اور کپڑے کے جوڑوں سے ثابت ہوتی ہے۔ پس جب گایوں سے دیت کا فیصلہ دیا جاۓ تو وہ دو سو گائیں ادا کی جائیں گی اور ھب بکریوں سے (دیت) کا فیصلہ دیا جاۓ تو ایک ہزار بکریاں ادا کی جائیں اور (کپڑے کے) جوڑوں میں سے (دیت) کا فیصلہ دیا جائے تو دو سو جوڑے ادا کئے جائیں۔ ہر جوڑا دو کپڑے ہیں۔
(5)
شبہ عمد اور خطا میں جان کی دیت کامل طور پر واجب ہوتی ہے لیکن وہ اول (شبہ عمد) میں مغلظ ہوتی ہے۔
(6)
ناک کا نرم حصہ کاٹنے میں، زبان کاٹنے میں اور ذکر (آلہ تناسل) کاٹنے میں کامل دیت یعنی سو اونٹ واجب ہوتے ہیں۔
(7)
جب کسی شخص کے سر کو مارے پس اس کی عقل چلی جاۓ تو اس میں کامل دیت ہے۔
(8)
جب کسی شخص کی داڑھی نوچ لے یا مونڈ دے تو اس میں کامل دیت ہے بشرطیکہ اس کے بعد بال نہ اگیں۔
(9)
سر کے بالوں میں کامل دیت ہے جب ان کو مونڈ دیا جاۓ یا نوچ لیا جاۓ اور وہ اس کے بعد نہ اگیں۔
(10)
کسی شخص کو مارا یا ایسا کام لیا جس سے اس کے دونوں ابرو یا اسکی دونوں آنکھیں چلی جائیں تو اس میں کامل دیت ہے۔
(11)
کسی شخص کے دونوں ہاتھ یا اسکے دونوں پاؤں یا اسکے دونوں ہاتھ کاٹ دئیے تو اس میں کامل دیت ہے۔
(12)
کسی شخص کے دونوں ہونٹ یا دونوں خصیے کاٹ دئیے یا کسی خاتون کے دونوں پستان کاٹ دئیے تو اس میں کامل دیت ہے۔
(13)
ان اشیاء (یعنی اعضاء) کے ایک میں آدھی دیت ہے۔
(14)
دونوں آنکھوں کی پلکوں کے کاٹنے میں کامل دیت ہے اور ان (پلکوں) میں سے ایک (پلک) میں چوتھائی دیت ہے۔
(15)
دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی میں دیت کا دسواں حصہ ہے تمام انگلیاں برابر ہیں۔
(16)
ہر ایسی انگلی میں جس میں تین جوڑ ہیں ہر جوڑ میں انگلی کی تین تہائی دیت ہے اور بہرحال وہ انگلی جس میں دو جوڑ ہیں تو دونوں جوڑوں میں سے ایک جوڑ میں انگلی کی آدھی دیت ہے۔
(17)
جب ایک ہاتھ کی تمام انگلیاں کاٹ دے یا تمام انگلیوں سمیت ہتھیلی کاٹ دے (تو) دونوں صورتوں میں آدھی دیت واجب ہوتی ہے۔
(18)
اگر آدھی کلائی سے ہاتھ کاٹ دے تو انگلیوں اور ہاتھ میں آدھی دیت ہے اور زیادت میں ایک عادل کا فیصلہ ہے۔
(19)
زائد انگلی میں ایک عادل کا فیصلہ ہے۔
(20)
پاؤں کی انگلی کاٹ دی پس اس (انگلی) کے پہلو میں (موجود) دوسری (انگلی) شل ہوگئی تو حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک ان دونوں انگلیوں میں ارش ہے اور اس میں قصاص نہیں۔
(21)
ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں اور دانت اور داڑھیں سب برابر ہیں۔
(22)
کسی شخص کا دانت اکھیڑ دیا پس اسکی جگہ (دوسرا دانت) اگ آیا (تو) ارش ساقط ہوگئی۔
(23)
کسی شخص کے عضو کو مارا پس اسکی منفعت ضائع کر دی تو اس میں کامل دیت ہے۔۔جیسا کہ جب اسے کاٹ دے (تو اس میں کامل دیت ہے).. جیسے ہاتھ شل ہوجاۓ اور آنکھ جب اس کی بینائی چلی جاۓ۔
(24)
نابالغ بچے کی آنکھ، اسکی زبان اور اس کے آلہ تناسل میں ایک عادل کا فیصلہ ہے بشرطیکہ اس کی صحت کا یقین نہ ہو۔
سوال : زخموں کی اقسام اور ان کے احکام بیان کیجئے۔
جواب : اولاً زخموں کی اقسام معلوم کیجئے اور وہ دس ہیں۔
(1)
الحَارِصة
(وہ زخم جو کھال کو چھیل دے اور خون نہ نکالے)
(2)
الدَّامعۃ
(وہ زخم ہے جو خون کو ظاہر کر دے بہائے نہیں جیسے آنکھ میں آنسو)
(3)
الدامیۃ
(وہ زخم جو خون کو بہا دے)
(4)
الباضعۃ
(وہ زخم جو کھال کاٹ دے)
(5)
المتلاحمۃ
(وہ زخم جو گوشت کو کاٹ دے)
(6)
السَّمحاق
(وہ زخم جو سمحاق تک پہنچ جائے اور سمحاق گوشت اور سر کی ہڈی کے درمیان باریک جھلی ہے)
(7)
المُوْضِحَۃ
( وہ زخم جو ہڈی کو ظاہر کر دے)
(8)
الھاشمۃ
(وہ زخم جو ہڈی کو توڑ دے)
(9)
المنقلۃ
(وہ زخم جو ہڈی کو توڑنے کے بعد اس کی جگہ سے ہٹا دے)
(10)
الامۃ
(وہ زخم جو ام الرأس تک پہنچ جائے اور ام الرأس وہ ہے جس میں دماغ ہوتا ہے)
اور ثانیاً ان کے احکام پہچانئے
(1)
پس موضحہ میں قصاص ہے اگر قصداً ہو۔
(2)
باقی زخموں میں قصاص نہیں۔
(3)
موضحہ سے کم میں ایک عادل کا فیصلہ ہے۔
(4)
موضحہ میں دیت کا بیسواں حصہ ہے اگر خطا ہو۔
(5)
ہاشمہ میں دیت کا دسواں حصہ ہے۔
(6)
منقلہ میں دیت کا دسواں حصہ اور اسکا بیسواں حصہ ہے۔
(7)
آمہ میں تہائی دیت ہے۔
(8)
جائفہ(وہ زخم جو پیٹ یا پشت کے اندر تک پہنچ جائے) میں تہائی دیت ہے پس اگر یہ (زخم) آر پار ہو جائے تو دو جائفے ہیں پس ان میں دو تہائی دیت ہے۔
سوال : ایک شخص نے کسی شخص کو موضحہ کا زخم لگایا پس اسکی عقل یا اس کے سر کے بال نہ رہے (تو) کیا دو دیتیں واجب ہوں گی موضحہ کی دیت اور عقل یا سر کے بال باقی نہ رہنے کی دیت؟
جواب : دو دیتیں واجب نہ ہوں گی اور موضحہ أرش دیت میں داخل ہو جاۓ گی۔
سوال : پس اگر اس کی قوت سماعت یا اسکی قوت بصارت چلی جاۓ (تو) دو دیتوں کے جمع ہونے کا کیا حکم ہے؟
جواب : اس کے ذمہ کامل دیت کے ساتھ موضحہ أرش ہے۔
سوال : کسی شخص کو زخم لگایا پس زخم بھر گیا اور اسکا کوئی نشان باقی نہ رہا اور اس کے بال اگ آۓ (تو) اسکا کیا حکم ہے؟
جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک ارش ساقط ہو گئی اور حضرت ابو یوسف رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ اذیت کی ارش ہے اور حضرت محمد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ طبیب کی اجرت ہے۔
سوال : ایک شخص نے کسی شخص کو ایسا زخم لگایا جس میں قصاص واجب ہوتا ہے (تو) کب اس سے قصاص لیا جائے؟
جواب : اس سے قصاص کیا جاۓ جب وہ شفا یاب ہو جاۓ اور اس سے پہلے قصاص نہ لیا جائے۔
سوال : کسی شخص کا ہاتھ خطا کاٹا پھر شفایاب ہونے سے پہلے اسے خطا قتل کر دیا (تو) کیا دو دیتیں واجب ہوں گی؟
جواب : اسکے ذمہ جان کے قتل کی وجہ سے کامل دیت ہے اور ہاتھ کی ارش ساقط ہو گئی اور اگر وہ شفایاب ہو جائے پھر اسے (خطا) قتل کر دے تو اس کے ذمے دو دیتیں ہیں۔ جان کی دیت اور ہاتھ کی دیت۔
فائدہ۔ ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کی مثل ہے اور عورت کی دیت مرد کی آدھی دیت ہے۔

No comments: