Ghazab ka bayan

غَصْب کا بیان

غصب: چھیننا
غاصب: چھیننے والا
 مغصوب منه: جس سے چھینا گیا ہو
 مغصوب: چھینی ہوئی چیز


سوال : غصب کیا ہے؟

جواب : وہ نقل کے قابل، لائق احترام، یا قیمت مال میں اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ناحق قبضہ کو ثابت کرنے کے ساتھ حقِ قبضہ کو زائل کرنا ہے۔

سوال : جب کوئی چیز چھین لے اور اس کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کے خلاف کس (چیز) کے ساتھ فیصلہ دیا جائے؟ 

جواب : قانون یہ ہے کہ غاصب بعینہٖ غصب کردہ چیز واپس کرے پس اگر وہ اس کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کرے تو قاضی اسے قید کر لے یہاں تک کہ اسے علم ہو جائے کہ وہ (چیز) اگر اس کے قبضہ میں ہوتی تو البتہ وہ اسے ظاہر کر دیتا پھر قاضی اس کے خلاف اس (چیز) کے بدل کے ساتھ فیصلہ دے۔

سوال : بدل کیا ہے؟

جواب : جب اس میں سے غصب کرے جس کی مثل ہے جیسے گندم اور اس جیسی (چیز) پس وہ اس کے قبضہ میں ہلاک ہو جائے تو اس کے ذمہ اس کے مثل کا ضمان ہے  اور جب اس میں سے ہو جس کی مثل نہیں ہےجیسے عددی متفاوت تو اس کے ذمہ اس کی قیمت ہے جو اس نے غصب کیا۔

سوال : کیا یہاں (یعنی غصب کے باب میں) ہلاک ہونے اور ہلاک کرنے میں فرق ہے؟

جواب : اس بارے میں کوئی فرق نہیں اور ضمان غاصب پر واجب ہے برابر ہے کہ وہ مغصوب کو ہلاک کرے یا اس کے فعل کے ساتھ یا اس کے غیر کے فعل کے ساتھ اس کے قبضہ میں (ازخود) ہلاک ہو جائے۔ 

سوال : نقصان کا حکم کیا ہے؟

جواب : غاصب کے قبضہ میں غصب کردہ چیز میں جو نقصان ہو تو نقصان کا ذمہ ہے۔

سوال : کوئی چیز غصب کی اور غصب کردہ چیز غاصب کے فعل کے ساتھ تبدیل ہو گئی یہاں تک کہ اس کا نام اور اس کا سب سے بڑا نفع جاتا رہا جیسے کسی نے بکری غصب کی پس اُسے ذبح کردیا اور اسے بھون دیا یا اسے پکا دیا یا گندم غصب کی پس اسے پیس دیا یا لوہا (غصب کیا) پس اس کی تلوار بنا دی یا پیتل (غصب کیا) پس اسکا برتن بنا دیا (تو) اسکا حکم کیا ہے؟
 
جواب : اس صورت میں مَغْضُوبْ مِنهٗ کی ملک (غصب کردہ چیز) سے زائل ہو گئی اور غاصب غصب کردہ چیز کا مالک ہو گیا اور اس کے لیے اس سے نفع اٹھانا حلال نہیں یہاں تک وہ اس کے مالک کو اس کا بدل ادا کرے۔

سوال : کپڑا چھینا پس اسے سرخ رنگ دے دیا یا ستو (چھینا) پس اس میں گھی ملا دیا (تو) اسکا حکم کیا ہے؟ 

جواب : مالک با اختیار ہے اگر چاہے غاصب کو پہلی صورت میں سفید کپڑے کی قیمت کا اور دوسری صورت میں ستو کے مثل کا ضامن بنائے اور وہ دونوں (چیزیں) غاصب کو سپرد کردے اور اگر چاہے ان دونوں (چیزوں) کو لے لے اور اس کے لیے اس کا ضامن ہو جائے جو کپڑے میں رنگ اور ستو میں گھی کا اضافہ ہو۔

سوال : اگر شہتیر غصب کرے پس اس پر تعمیر کر لے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس کے مالک کی مِلک اس پر زائل ہو گئی اور اس کی قیمت غاصب کو لازم ہو گئی۔

سوال : کوئی چیز غصب کی پس اسے غائب کر دیا اور مالک نے اسے اس کی قیمت کا ضامن بنا دیا لیکن ان دونوں نے قیمت میں اختلاف کیا تو ان کے درمیان کیسے فیصلہ دیا جائے؟

جواب : قیمت میں (معتبر) قول غاصب کا قول اس کی قسم کے ساتھ ہے مگر یہ کہ مالک اس سے زائد پر بیّنہ قائم کردے پس جب وہ بیّنہ قائم کرے تو (معتبر) قول اس کا قول ہے پس جب غاصب  قیمت کا ضامن ہو جائے تو (غصب کردہ چیز) کا مالک کو جائے گا۔

سوال : غاصب مالک کے قول کے ساتھ  بینہ کے ساتھ جسے مالک نے قائم کیا یا قسم سے غاصب کے انکار کے ساتھ یا قسم سمیت غاصب کے قول کے ساتھ غیب کر دہ چیز کا  ضامن  ہوا پھر چیز ظاہر ہو گئ اور اس کی قیمت اس سے زائد ہے جس کا وہ ضامن ہوا تو کیا مالک کو اختیار ہے اس (مقدار) کے لینے میں جو قیمت سے کم ہوئی ؟

جواب : اگر غاصب اپنی قسم سمیت اپنے قول کے ساتھ اس (چیز ) کا ضامن ہوا ہو تو مالک با اختیار ہے ۔اگر چاہے ضمان کو نافذ کر دے اور اگر چاہے چیز لے لے اور عوض واپس کر دے اور اگر وہ مالک کے قول کے ساتھ یا بینہ کے ساتھ جسے مالک نے قائم کیا یا قسم سے اپنے انکار کے ساتھ اس(چیز) کا ضامن ہوا تو مالک کو اختیار (حاصل)نہیں اور چیز غاصب کے لئے ہے ۔

سوال : چاندی یا سونا غضب کیا پس اس کے دراہم یا دنانیر بنا دیے یا اس کا برتن بنا دیا (تو) کیا مالک کی ملک اس (سونے یا چاندی )سے زائل ہو جائے گی ؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک اس صورت میں اس (سونے یا چاندی )سے مالک کی ملک زائل نہیں ہو گی کیوں کہ چیز ہر لحاظ سے باقی ہے ۔

سوال : اپنے غیر کی بکری اس کے حکم کے بغیر ذبح کی (تو) اس کا مالک کیا کرے ؟

جواب : اس کا مالک بااختیار ہے ۔اگر چاہے اسے اس کی قیمت کا ضامن بناے اور (بکری)اسے سپرد کر دے اور اگر چاہے اسے (بکری)کے  نقصان کا ضامن بناے۔

سوال : اپنے غیر کا کپڑا پھاڑ دیا (تو)اس کا حکم کیا ہے ؟

جواب : اگر پھٹن تھوڑی ہے (تو) وہ اس کے نقصان کا ضامن ہو گا اور اگر(پھٹن) زیادہ ہے کہ اس کی وجہ سے (کپڑے)کے اکثر منافع باطل ہو جاتے ہیں تو اس کے مالک کے لئے (جائز)ہے کہ وہ اس کی تمام قیمت کا ضامن بنائے۔

سوال : آپ نے غصب کی تعریف میں قید لگائی کے مغصوب نقل کے قبل،لائق احترم ،با قیمت مال ہو تو ان قیود کافائدہ کیاہے؟

جواب : قیود کا فائدہ درج ذیل(مسائل)میں ظاہر ہوتا ہے 
(1)
 مسلمان نے مسلمان کی شراب یا سور کو ہلاک کر دیا (تو) ضامن نہیں ہو گا کیوں کہ یہ دونوں چیزیں مسلمانوں کے نزدیک لائق احترم ،با قیمت مال نہیں ہے ۔بہر حال جب مسلمان ذمی کی شراب یا اس کے سور کو ہلاک کر دے (تو) اہل ذمہ (یعنی ذمی لوگوں) کےنزدیک ان دونوں (چیزوں)کے با قیمت ہونے کی وجہ سے ضامن ہو گا ۔
(2) 
جب زمین غصب کرے تو تحقیق حضرت ابو حنیفہ و حضرت ابو یوسف کے نزدیک اس میں غصب ثابت نہیں ہو گا کیوں کہ زمین اس میں سے نہیں ہے جو منقول  و مُحٙوّل ہو اور اس اختلاف  کا ثمرہ اس (صورت)میں ظاھر ہو گا جب وہ زمین کو غصب کرے اوروه اس کے قبضہ میں ہلاک ہو جائے کیوں کہ وہ ان دونوں (یعنی شیخین)کےنزدیک ضامن نہیں ہو گا اور حضرت محمّدرحمتہ‎ اللّه علیہ کے نزدیک ضامن ہو گا ۔

سوال : (شیخین)کے نزدیک غصب زمین میں ثابت نہیں ہوتا لیکن جب وہ زمین پر قبضہ کر لے پس اس کے فعل یا اس کی رہائش کی وجہ سے اس میں نقص آ جائے (تو)کیا وہ اس (نقص)کا ضامن ہو گا ؟

جواب : جی ہاں وہ ان سب ( آئمہ )کے قول میں اس (نقص)کا ضامن ہو گا ۔

سوال : زمین غصب کی اور اس میں پودا لگا دیا یا عمارت تعمیر کر دی (تو) اس کا حکم کیا ہے

جواب : غاصب سےکہا جاۓ کہ پودا اور عمارت اکھیڑ دیجیۓ اور اس(زمین) کو اس کے مالک کی طرف واپس کر دیجئے اس حال میں کہ (پودے اور عمارت) سے خالی ہوپس اگر اسے اکھیڑنے کی وجہ سے زمین ناقص ہوتی تو مالک کے لیے(جائز) ہے کہ وہ(غاصب) کے لیے عمارت اور پودے کی قیمت کا ضامن ہو جاۓ اس حال میں (عمارت اور پودا) اکھڑے ہوۓ ہوں اور وہ دونوں (چیزیں) اس کی ہو جائیں.

سوال : مغصوب کی افزائش کا حکم کیا ہے جبکہ وہ غاصب کے قبضہ میں ہو؟

جواب : اس کی افزائش غاصب کے قبضہ میں امانت ہے جیسے مغصوبہ(باندی) کا بچہ اور مغصوب باغ کا پھل.پس اگر یہ غاصب کے قبضہ میں ہلاک ہو جاۓتو اس کے ذمہ کوئی ضمان نہیں مگر یہ کہ وہ اس میں تجاوز کرے یا اس کا مالک اسے طلب کرے پس وہ اس کو اس سے روک دے.

سوال : باندی غصب کی پس اس نے یا اس کے غیر نے اس کے ساتھ زنا کیا پس اس نے اس کے ہاں بچہ جنا اور ولادت کی وجہ سے (باندی) ناقص ہو گئی (تو)کون اس نقصان کا ضامن ہوگا؟

جواب : غاصب اس نقصان کا ضامن ہو گا پس اگر بچے کی قیمت میں اس(نقصان) کی وفاہے تو بچے کے ذریعے اس نقصان کی تلافی کی جاۓ اور ضمان غاصب سے ساقط ہو جاۓ گا اور اگر اس (نقصان) کی وفا نہیں ہے تو ضمان اس(بچے) کے حساب کے مطابق ساقط ہو گا اور وہ باقی (نقصان) کا ضامن ہوگا

سوال : جانور غصب کیا پس اس پر سواری کی یا مکان (غصب) کیا پس اس میں رہائش کی یا غلام(غصب) کیاپس اس سے خدمت لی (مثلا) ایک مہینہ (تو)کیا منافع کا ضمان اس کے ذمہ واجب ہوگا؟

جواب : غاصب اس کے منافع کا ضامن نہیں ہوگا جس کو اس نے غصب کیا مگر یہ کہ اس کے استعمال کی وجہ سے وہ (چیز) ناقص ہو جاۓ





No comments:

Powered by Blogger.