Ch : 11 Ghulam banane or aazad karne ka bayan

غلام بنانے اور آزاد کرنے کا بیان

سوال : آزاد مرد"غلام"اور آزاد عورت "باندی "کیسے بنتے ہیں؟

جواب : جہاد قیامت کے دن تک جاری ہے پس جب مومنین،کفار سے جہاد کریں اور انہیں قید کریں تو یہ(کفار) قیدی ہیں امیرالمومنین کے لئیے جائز ہے کہ وہ انہیں غلام بنائے یعنی انکی غلامی کا فیصلہ دے اور انہیں غلام اور باندیاں بنائے پس جب وہ ایسا کرے اور انکو غنیمت حاصل کرنے والوں کے درمیان تقسیم کرے تو وہ غنیمت حاصل کرنے والوں کے غلام بن جائیں گے

سوال : اسلام کے دشمن غلام بنانے پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تحقیق یہ(یعنی غلام بنانا)انسان پر ظلم ہے؟

جواب : انکا اعتراض لغزش اور انکا قول اجڈ پن ہے کیونکہ کفار جب جہاد میں قید کر لیئے جائیں,اگر انکو دارالحرب کی طرف لوٹا دیا جائے تو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سخت ہو جائیں گے اور اس ہدایت سے دور ہو جائیں گے جس (ہدایت) کے ساتھ قرآن (پاک) اترا ہے اور اگر امام (یعنی مسلمانوں کا خلیفہ) انکو قیدی بنالے تو انکے خرچہ جات بیت المال کے ذمہ واقع ہونگے یہ ایک تاوان ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں پس مناسب ہے کہ امام انکو غنیمت حاصل کرنے والوں پر تقسیم کردے اور یہ (لوگ) اپنے آقاؤں کے خادم بن جائیں ہر غلام(اپنے) آقا کے لئے کمائی کرے اوراسکے گھر سے کھائے پس وہ آقا پر"مردگراں جانِ بے خیر" نہیں بنے گا اور گھر کے افراد میں سے ایک فرد کی طرح ہو جائیگا اور یہ آقا اور اسکے غلام کے لئے دنیا کی حیثیت سے فائدہ ہے اور بہر حال دین کی حیثیت سے! تو تحقیق غلام جب مسلمانوں کے گھروں میں سے کسی گھر سے تعلق رکھنے والا ہوگا تو وہ انکی نمازوں,انکے روزوں اور انکی عبادتوں کو دیکھے گا اور قرآن (کریم)سنے گا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ انکو مشغول ہونے کو دیکھے گا اور انکے اچھے اخلاق کو دیکھے گا تو وہ اس سے اثر قبول کریگا اور اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہو جائیگا اور(جہنم کی) آگ کا عذاب اس سے ہٹا دیا جائیگا اور یہ اس پر بڑا احسان ہے اور تحقیق تاریخ کے اوراق ایسے غلاموں اور باندیوں کے تذکرے سے بھرے ہوئے ہیں جو اسلام لائے پھر علم و عمل میں سبقت لے گئے,اور غلام بنانا ضروری نہیں کیونکہ امیرالمومنین کو اس میں اختیار دیا گیا ہے کہ وہ انکو غلام بنائے یا ان کے ساتھ دوسرا معاملہ کرے اور آپ یہ (چیز)کتاب السِیّرَ میں عنقریب جان لیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ پھر تحقیق سفید پاکیزہ شریعت نے غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت دلائی ہے اور کفاروں میں بردوں کو آزاد کرنے کا حکم دیا ہے.اور مُدَبَّرْ بنانے اور مُکَاتَب بنانے کو مشروع کیا ہے اور یہ ایسی وجوہ ہیں جن سے غلام آزاد ہوتا ہے.

سوال : آدمی اپنے غلام کو کیسے آزاد کرے؟

جواب : جب عاقل بالغ اپنے غلام یا اپنی باندی سے کہے کہ تو حر (آزاد) یا مُعَتَق (آزاد) یا عتیق (آزاد) یامُحَرر (آزاد) ہے یا میں نے تجھے حر بنایا میں نے تجھے مُعَتَق(یاعتیق) بنایا تو تحقیق وہ آزاد ہو گیا اس نے اس (قول) سے آزادی کی نیت کی ہو یا نیت نہ کی ہو کیونکہ یہ الفاظ آزاد کرنے میں صریح ہیں اور صریح (لفظ) میں نیت کی ضرورت نہیں ہوتی.

سوال : جب آقا آزادکرنے کو اپنے غلام کے بعض اعضاء کی طرف منسوب کرے (تو) کیا وہ اس سےآزاد ہو جائیگا؟

جواب : جب (آقا اپنے غلام سے) کہےکہ"تیرا سر آزاد یا "تیری گردن آزاد" یا "تیرا چہرا آزاد"یا "تیرا بدن آزاد" (تو) وہ آزاد ہو جائیگا اور اسی طرح جب وہ اپنی باندی سے کہے کہ "تیری شرمگاہ آزاد" (تو)وہ آزاد ہو جائیگی.

سوال : اگر (آقا) کہے کہ میرے لئے تیرے اوپر کوئی مِلک نہیں ہے (تو)اسکا کیا حکم ہوگا؟

جواب : اگر وہ اس(قول) سے آزادی کی نیت کرے (تو) وہ آزاد ہو جائیگا اور اگر نیت نہ کرے تو آزاد نہیں ہوگا اور اسی طرح آزادی کے تمام کِنایات کا حکم ہے جیسے اسکا قول"تو میری مِلک سے نکل گیا" یا "مجھے تیرے اوپر مواخذہ کا کوئی حق نہیں"جب ان (کنائی الفاظ) سے آزاد کرنے کی نیت کرے تو آزاد ہو جائیگا وگرنہ نہیں.

سوال : جب آقا کہےکہ"مجھے تجھ پر کوئی قدرت نہیں ہے"تو کیا وہ اس (قول)سے آزاد ہو جائیگا؟

جواب : وہ اس (قول) سے آزاد نہیں ہوگا اگرچہ وہ اس (قول)سےآزادی کی نیت کرے

سوال : (آقا) نے اپنے غلام سے کہاکہ "یہ میرا بیٹا ہے"اور وہ اپنے اس قول پر قائم رہا یا اس نےکہا کہ"یہ میرا آقا ہے" یا اس نے اس اپنے(اس)قول سے پکاراکہ"اے میرے آقا!"(تو)کیا وہ اس سے آزاد ہو جائیگا؟

جواب : جی ہاں! وہ ان الفاظ سے آزاد ہو جائیگا اگرچہ وہ اس سے آزاد کرنے کی نیت نہ کرے کیونکہ یہ الفاظ (آزادی کے) صریح (لفظ)کے ساتھ ملحق ہیں

سوال : اگر(آقا اپنے غلام سے) کہےکہ"اے میرے بیٹے!"یا"اے میرے بھائی!"یا کہے کہ"تو آزاد کی طرح ہے"تو اسکا کیا حکم ہے؟

جواب : وہ اس سے آزاد نہیں ہوگا

سوال : "یہ میرا بیٹا ہے"ایسے لڑکے کے بارے میں کہا کہ اس جیسا(لڑکا)اس جیسے(آقا) کے لئے نہیں جنا جاتا تو اسکا کیا حکم ہے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ اس سے آزاد ہو جائیگا اور آپ رحمہ اللہ کے صاحبین(حضرت ابو یوسف وحضرت محمد رحمہما اللہ تعالیٰ)کے نزدیک آزاد نہیں ہوگا

سوال : (آقا)نے اپنی باندی سے کہا کہ"تو طلاق والی ہے"اور اس نے اس (قول) سے آزادی کی نیت کی(تو)کیا وہ اس سے آزاد ہو جائیگی؟

جواب : آزاد نہیں ہوگی

سوال : جب (آقا) اپنے غلام سے کہےکہ"تو آزاد ہی ہے"(تو)کیا وہ اس سے آزاد ہو جائیگا؟

جواب : جی ہاں! آزاد ہو جائیگا

سوال : جب مجبور اور بےہوش ہو اور اپنے غلام یا اپنی باندی کو آزاد کردے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟



جواب : اس سے آزادی واقع ہو جاۓ گی

سوال : حاملہ باندی اس حال میں کہ اس کے مالک نے اسے آزاد کر دیا (تو) اس کے حمل کا حکم کیا ہے؟

جواب : وہ(باندی) آزاد ہوگئی اور اس کا حمل آزاد ہوگیا.

سوال : اگر صرف حمل کو آزاد کرےتو اس کا حکم کیا ہوگا؟

جواب : حمل آزاد ہوجاۓ گا اور اس کی ماں آزاد نہیں ہو گی.

سوال : کیا آزادی کو ملک یا شرط کی طرف منسوب کرنا صحیح ہے؟

جواب : جی ہاں!صحیح ہے پس جب اپنے غیر کے غلام سے کہے کہ"اگر میں تیرا مالک ہوجاؤں تو تو آزاد ہے"(غلام) آزاد ہوجاۓ گا جب وہ اس کا مالک ہو جاۓ گا.اور اگر اپنے غلام سے کہے کہ "اگر تو گھر میں داخل ہوا تو تو آزاد ہے" (غلام) آزاد ہوجاۓ گا جب شرط پائی جاۓ گی

سوال : کیا یہاں کوئی ایسی صورت ہے جس میں آقا کی طرف سے آزاد کرنے کے بغیر آزادی حاصل ہوجاتی ہو.

جواب : جب کوئی شخص وراثت یا ہبہ یا خریداری کے ذریعہ کسی  ذُوْرِحْم مَرْحَمْ کا مالک ہو جاۓ تو وہ (غلام) اس (مالک) پر آزاد ہو جاتا ہے اگرچہ (مالک) آزاد کرنے کی نیت نا کرے

سوال : جب آقا اپنے غلام کا بعض حصہ آزاد کرے تو کیا صرف بعض حصہ آزاد ہوگا یاآزادی پورے(غلام) کو شامل ہوگی؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ کچھ حصہ اس (مالک) پر آزاد ہوجاۓگا.اور غلام (اپنے آقا کےلیے) اپنی قیمت کے باقی حصے میں کمائی کرے گا اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمہما اللہ تعالی فرماتے ہیں پورا(غلام) اس مالک پر آزاد ہوجاۓگا اور اس کے ذمہ (آقا کےلیے) کمائی کرنا نہیں ہے

سوال : دو حصہ داروں جا غلام تھا پس اس میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اس کے باقی حصے کا حکم کیا ہے؟

جواب : اگر آزاد کرنے والا دولتمند ہے تو اس کا حصہ دار با اختیار ہے اگر چاہے اپنا حصہ آزاد کردے اور اگر چاہےاپنے حصہ دار کو اپنے حصے کی قیمت کا ضامن بناۓ اور اگر چاہے غلام سے کمائی طلب کرے اور اگر 
آزاد کرنے والا تنگ دست ہے تو اس کا حصہ دار با اختیار ہے اگر چاہے تو اپنا حصہ آزاد کر دے اور اگر چاہے غلام سے کمائی طلب کرے  اور یہ (حکم) حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک ہے اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمہما اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کےلیے صرف دولتمندی کے ساتھ آزاد کرنے والے حصہ دار کو ضامن بنانا اور تنگدستی کے ساتھ کمائی کرنا ہے
 (یعنی غلام کمائی کر کے دے گا)

سوال : تحقیق آپ نے اس سے کچھ پہلے ذکر فرمایا کہ جو ذو رحم محرم کا مالک بنے تو وہ(غلام) اس (مالک) پر آزاد ہو جاتا ہے اور یہان ایک سوال پیدا ہوتا ہے اوت وہ یہ ہے کہ دو شخصوں نے غلام خریدا یا کسی وارث بنانے والے کی طرف سے اس (غلام)  کے وارث بن گئے اور وہ (غلام) ان دونوں میں سے ایک کا بیٹا ہے تو کیا یہ مشترک غلام اپنے باپ پر آزاد ہو جاۓ گا? اور اس کے ساتھی کے حصے میں کیا فیصلہ دیا جاۓ گا? کیا (باپ) ساتھی کے حصے کا ضامن ہوگا؟

جواب : باپ کا حصہ آزاد ہو جاۓ گا اور وہ اپنے ساتھی کے حصے کا ضامن نہیں ہوگا اور اس کا ساتھی با اختیار ہے اگر چاہے اپنا حصہ آزاد کردے اور اگر چاہے غلام سے کمائی طلب کرے.

سوال : دو شخص غلام میں حصہ دار ہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کے خلاف گواہی دی کہ اس نے اپنا حصہ آزاد کردیاہے اور کوئی اپنا حصہ آزاد کرنے کا اقرار نہیں کرتا (تو) کیا اس صورت میں غلام آزاد ہوجاۓگا؟ اور کون ان دونوں میں سے ہر ایک کے حصے کا ضامن ہو گا؟

جواب : پورے غلام کی آزادی کا فیصلہ دیا جاۓ گا اور غلام ان دونوں میں سےہر ایک کےلیے اس کے حصے میں کمائی کرے گا.دولتمند ہوں وہ دونوں یا تنگدست(اور اسی طرح جب ان میں سے ایک دولتمند اور دوسرا تنگدست ہو) اور یہ (حکم) حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک ہے اور (صاحبین) رحمہما اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب وہ دونوں دولتمند ہوں تو غلام کے ذمہ کمائی کرنا نہیں ہے نہ اس کےلیے اور نہ اس کے لیے اور اگر وہ دونوں تنگدست ہوں تو (غلام) دونوں کےلیے کمائی کرے گا اور اگر ان دونوں میں سے ایک دولتمند اور دوسرا تنگدست ہو تو(غلام) دولتمند کےلیے کمائی کرے گا اور تنگدست کےلیے کمائی نہیں کرے گا

سوال : لوگ غلاموں اور باندیوں کو اللہ تعالی کی رضا مندی کےلیے آزاد کرتے ہیں پس اگر ان میں سے کسی نے کہا کہ میں نے شیطان یا بت کےلیے آزاد کیا(تو) کیا (غلام) اس (قول) سے آزاد ہوجاۓ گا؟

جواب : جی ہاں! آزاد ہو جاۓ گا


متفرق مسائل

(1)
 جب کسی حربی کا غلام دارالحرب سے ہماری طرف نکل آۓ تو وہ آزاد ہے
(2)
باندی کا ولد اس کے آقا سے (پیدا شدہ) آزاد ہے
(3)
(باندی) 
کا ولد اس کے شوہر سے (پیدا شدہ) اس (باندی) کے آقا کا غلام ہے
(4)
 آزاد خاتون کا ولد غلام سے (پیدا شدہ) آزاد ہے





No comments:

Powered by Blogger.