Ghulam ki janayat ka bayan
غلام کی جنایت کا بیان
سوال : جب غلام خطا کوئی جنایت کرے تو ضمان کون ادا کرے ؟
جواب : اس کے آقا سے کہا جائے کہ یا تو آپ اس (جنایت) کے عوض (غلام) دیں یا اس (غلام) کا فدیہ دیں پس اگر وہ غلام دے تو جنایت کا ولی اس (غلام) کا مالک ہوجائے گا اور اگر اس کا فدیہ دے (تو) جنایت کی ارش کا فدیہ دے۔
سوال : پس اگر وہ فدیہ دینے کے بعد) دوبارہ جنایت کرے تو اس جنایت کا کیا حکم ہے؟
جواب : دوسری جنایت کا حکم (پہلی) جنایت کے حکم کی طرح ہے۔
سوال : اگر (غلام) دو جنایتیں کرے تو کس (چیز) کا فیصلہ دیا جائے؟
جواب : اس کے آقا سے کہا جائے یا تو آپ (غلام) دونوں جنایتوں کے ولی کو دے دیں کہ وہ اس کو اپنے حقوق کی مقدار کے مطابق تقسیم کر لیں یا آپ ان دونوں (جنایتوں) میں سے ہر ایک کی ارش کا فدیہ دیں۔
سوال : غلام نے کوئی جنایت کی پس آقا نے اسے آزاد کر دیا اس حال میں کہ اسے جنایت کا علم نہیں ہے تو اس پر کیا واجب ہوگا ؟
جواب : غلام نے جو جنایت کی اس کا ضمان (آقا) پر واجب ہوگا پس وہ (غلام) کی قیمت میں سے اور جنایت کی ارش میں سے کم تر کو ادا کرے گا۔
سوال : اگر آقا جنایت کے علم کے بعد (غلام) کو بیچ دے یا اسے آزاد کردے (تو) اس کا حکم کیا ہے؟
جواب : آقا پر جنایت کی ارش واجب ہوگی ۔
سوال : جب مدبر یا ام ولد جنایت کرے تو کون اس (جنایت) کا ضامن ہوگا ؟
جواب : آقا اس کا ضامن ہوگا اور وہ (مدبر یا ام ولد) کی قیمت میں سے اور جنایت کی ارش میں کم تر کو ادا کرے گا ۔
سوال : اگر وہ (مدبر یا ام ولد) دوسری جنایت کرے اس حال میں کہ آقا پہلی جنایت کے ولی کو اس کی قیمت دے چکا ہے تو اب اس پر کیا واجب ہوگا ؟
جواب : اگر وہ قاضی کے فیصلے سے پہلی جنایت کے ولی کو اس کی قیمت دے تو اس کے ذمہ اس وقت کوئی شے نہیں اور دوسری جنایت کا ولی پہلی جنایت کے ولی کا پیچھا کرے پس جو اس نے لیا اس میں اس کے ساتھ شریک ہو جائے اور اگر قاضی کے فیصلے کے بغیر پہلی جنایت کے ولی کو اس کی قیمت دی تھی تو دوسری جنایت کا ولی بااختیار ہے اگر چاہے آقا کا پیچھا کرے اور اگر چاہے پہلی جنایت کے ولی کا پیچھا کرے ۔

No comments: