Ghulamon ke Masail jab kufaar inki qaid karlen ya wo inki taraf bhag jaen
غلاموں کے مسائل جب کفار ان کو قید کر لیں یا وه ان کی طرف بھاگ جائیں
سوال : جب کفار ہمارے غلام کو قید کر لیں یا غلام ان کی طرف سامان کے ساتھ بھاگ جائے یا وہ ہمارے غلام پر غالب ہو جائے تو اس کا حکم کیا ہے ؟
جواب : آنے والے مسائل کو زبانی یاد کیجئے آپ اپنا جواب پا لیں گے
(١)
جب کفار مسلمانوں میں سے کسی مسلمان کے غلام کو قید کر لیں بس ان میں سے کوئی شخص اس کو خرید لے اور اسے دار الاسلام کی طرف نکال لائے پس اس کی آنکھ پھوڑ دی جائے اور وہ انکھ کا ارش لے لے تو پرانا آقا اسے ثمن کے عوض لے گا جس کے عوض سے دوسرے آقا نے دشمن سے اسے خریدا اور وہ ارش نہیں لے گا ۔
(٢)
اگر وہ مسلمانوں میں سے کسی مسلمان کے غلام کو قید کرلیں پس کوئی شخص اسے ہزار درہم کے عوض خرید لے پھر وه اسے دوبارہ قید کر لے اور اسے دارالحرب میں داخل کر دے پس کوئی دوسرا شخص اسے ہزار درہم کے عوض خرید لے تو پہلے آقا کے لیے (جائز) نہیں کہ وہ اسے دوسرے آقا سے ثمن کے عوض خریدے اور پہلے خریدار کے لئے (جائز) ہے کہ وہ اسے لے لے اگر چاہے ۔
(٣)
اھل حرب ہمارے خلاف ہمارے مدبروں ہماری امہات اولاد ہمارے مکاتبوں اور ہمارے آزاد لوگوں کے لئے مالک نہیں ہوتے اور ہم ان کے خلاف ان سب کے مالک ہو جاتے ہیں ۔
(۴)
جب مسلمان کا غلام ان کی طرف بھاگ جائے اور وہ اسے پکڑ لیں تو حضرت ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک وہ اس کے مالک نہیں ہوتے اور (صاحبین) رحمہما اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ وہ اس کے مالک ہو جاتے ہیں ۔
(۵)
اگر مسلمان کا غلام ان کی طرف بھاگ جائے اور گھوڑے اور سامان کو لے جائے اور کفار ان سب کو پکڑ لیں اور کوئی شخص ان سب کو خرید لے اور دارالاسلام کی طرف نکال لائے تو تحقیق آقا غلام کو کسی شے کے بغیر اور گھوڑے اور سامان کے ثمن کے عوض لے اور یہ (حکم) حضرت ابو حنیفہ رحمتہ اللہ تعالی کے نزدیک ہے اور صاحبین رحمہما اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ غلام کو اور جو کچھ اس کے ساتھ ہے اس کو ثمن کے عوض لے اگر چاہے۔
(٦)
جب حربی ہمارے گھر میں امان کے ساتھ داخل ہو اور مسلمان ہو غلام کو خریدے اور اسے دارالحرب میں داخل کردے تو وہ حضرت ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک آزاد ہوجائے گا اور صحابین رحمتہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ آزاد نہیں ہوگا ۔
(٧)
جب حربی کا غلام مسلمان ہوجائے پھر ہماری طرف نکل آئے یا ان کے گھر پر غلبہ حاصل کر لیا جائے تو وہ آزاد ہے اور ان کے غلاموں کے بارے میں یہی حکم ہے جو مسلمانوں کی لشکر کی طرف نکل آئیں ۔

No comments: