Hajar ka bayan

حَجرْ(لغوی معنی روکنا ,شرعی معنی تصرفات قولیہ سے روکنا) کا بیان

سوال : کیا لوگوں میں ایسا (شخص) ہے جس پر اسکے تصرف میں حجر کیا جائے؟

جواب : جی ہاں! حجر (یعنی تصرفات سے روکنا) سفید شریعت میں مشروع ہے اور اس کے اسباب تین ہیں 
 1
 بچپن
 2
 غلامی
 3
 دیوانگی

سوال : اس بارے میں تفصیل بیان کیجئے؟

جواب : بچے کا تصرف اس کے ولی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں جیسا کہ غلام کا تصرف اسکے آقا کی اجازت کے بغیر جائز نہیں، بہرحال مغلوب العقل دیوانے کا تصرف (تو) کسی حال میں جائز نہیں

سوال : ایک شخص نے بچے یا غلام کو کوئی چیز بیچے یا(اس سے کوئی چیز) خریدی اس حال میں کہ وہ بچہ یا غلام بیع کو سمجھتا ہے اور اس کا ارادہ کرتا ہے (تو) اس بیع کا کیا حکم ہے.؟

جواب : اختیار اس میں ولی (کے سپرد) ہے اگر چاہے بیع کو نافذ کردے جبکہ وہ اس میں مصلحت دیکھے اور اگر چاہے اس (بیع) کو توڑ دے


سوال : یہ تینوں اسباب اقوال و افعال (دونوں) میں یا صرف اقوال میں حجر کو واجب کرتے ہیں.؟

جواب : بچے اور دیوانے پر اقوال میں حجر کیا جاتا ہے افعال میں نہیں اور بہرحال غلام پر تو اس میں تفصیل ہے (جو) عنقریب آرہی ہے ان شا اللہ

سوال : بچے نے کسی کا مال ہلاک کر دیا اور دیوانے نے کسی شخص کی ملک برباد کر دی (تو) کیا ضمان ان کے مال میں واجب ہوتا ہے؟

جواب : جی ہاں! ضمان واجب ہوتا ہے اور یہ (فقہاء) کے قول "افعال میں حجر نہیں" کا مطلب ہے اور اس کا مطلب (یہ) نہیں کہ اس (بچے یا دیوانے) کو لوگوں کا مال برباد کرنے سے روکا جائے


سوال : اقوال میں حجر کا نتیجہ کیا ہے؟

جواب : بچے اور دیوانے کے عقود (یعنی خرید وفروخت وغیرہ) صحیح نہیں ہوتے اور نہ ان کا اقرار (درست ہوتا ہے) اور ان کی طلاق واقع نہیں ہوتی اور ان کا اعتاق (یعنی غلام کو آزاد کرنا) نافذ نہیں ہوتا


سوال : غلام پر حجر میں تفصیل کیا ہے.؟

جواب : بہرحال غلام! پس اسکے اقوال اپنے حق میں نافذ ہیں اپنے آقا کے حق میں نافذ نہیں


سوال : غلام نے اپنی ذات کے خلاف مال کا اقرار کیا تو اس اقرار کا حکم کیا ہے؟

جواب : اسے وہ مال لازم ہو گیا جس کا اس نے اقرار کیا لیکن اسکا آقا اس کا تاوان ادا نہیں کرے گا بلکہ (غلام) آزاد ہونے کے بعد وہ (مال) ادا کرے گا جس کو اس نے اپنے اقرار سے اپنے اوپر لازم کیا اور وہ (مال) اسے فی الحال لازم نہیں ہوگا

سوال : اگر غلام نے حد یا قصاص کا اقرار کیا تو کب اس سے یہ (حد یا قصاص) لیا جائے.؟

جواب : حد اور قصاص اقرار کی وجہ سے اسے فی الحال لازم ہوگئے اور آزادی کے زمانے تک انتظار نہ کیا جائے

سوال : غلام کی طلاق اپنی بیوی پر (خود غلام) کے طلاق دینے سے واقع ہوتی ہے یا (غلام) کا آقا اس کو طلاق دے؟

جواب : غلام کی طلاق اپنی بیوی پر واقع ہوتی ہے اور آقا کی طلاق اپنے غلام کی بیوی پر نافذ نہیں ہوتی


سوال : آزاد، بالغ بیوقوف شخص کہ اس کے مال میں اس کے تصرف کا حکم کیا ہے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ بیوقوف جب عاقل بالغ آزاد ہو تو اس پر حجر نہ کیا جائے اور اسکا تصرف اپنے مال میں جائز ہے اگرچہ وہ فضول خرچ مفسد ہو (کہ) اپنا مال ایسی (جگہ) میں برباد کرے جس میں نہ کوئی فائدہ ہو اور نہ کوئی مصلحت جیسے وہ (مال) کو سمندر میں ہلاک کر دے یا اسے آگ میں جلا دے


سوال : کیا حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک بیوقوف کو مال سپرد کرنے میں (عمر کی) تعیین ہے؟

جواب : جی ہاں! آپ کے نزدیک اس میں (عمر کی) تعیین ہے پس آپ فرماتے ہیں :جب لڑکا بالغ ہو جائے اس حال میں کہ ناسمجھ ہو تو اس کا مال اسے سپرد نہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ پچیس سال (کی عمر) کو پہنچ جائے اور اگر وہ اس (عمر) سے پہلے (مال) میں تصرف کرے تو اسکا تصرف نافذ ہوگا پس جب وہ اپنی عمر کے پچیس سال کو پہنچ جائے تو اس کا مال اسے سپرد کر دیا جائے اگرچہ اس میں سمجھ دکھائی نہ دے



سوال : بیوقوف پر حجر کرنے میں حضرت ابو یوسف و حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کا قول کیا ہے؟

جواب : (صاحبین) فرماتے ہیں کہ بیوقوف پر حجر کیا جائے اور اسے اپنے مال میں تصرف کرنے سے روکا جائے پس اگر وہ بیع کرے تو اسکی بیع اپنے مال میں نافذ نہیں ہوگی اور اگر اس میں مصلحت ہو تو قاضی اسے نافذ کر دے اور جو بالغ ہو اس حال میں کہ نا سمجھ ہو تو (صاحبین) کے نزدیک اسکا مال اسے کبھی نہ دیا جائے یہاں تک کہ اس میں سمجھ دکھائی دے اور اسکا تصرف (مال) میں جائز نہیں اور اسکے مال سے زکوٰۃ نکالی جائے اور اس (مال) میں اسکی اولاد اسکی بیوی اور ان رشتہ داروں پر خرچ کیا جائے جن کا خرچ اس پر واجب ہے


سوال : بیوقوف نے اپنا غلام آزاد کر دیا تو ہمارے تینوں علماء اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک اور اسی طرح (صاحبین) کے نزدیک اسکا آزاد کرنا نافذ ہو گیا لیکن (صاحبین) فرماتے ہیں کہ غلام اس کیلئے اپنی قیمت میں کمائی کرے


سوال : بیوقوف نے کسی عورت سے نکاح کیا تو اس کے نکاح کا حکم کیا ہے.؟

جواب : اس کا نکاح جائز ہے اور مہر میں دیکھا جائے پس اگر اس نے (عورت) کیلئے مہر مقرر کیا ہے تو اس میں سے مہر مثل کی مقدار جائز ہو جائے گی اور زائد (مقدار) باطل ہو جائے گی


سوال : بیوقوف حج اسلام کرنا چاہتا ہے تو کیا اسے اس کی اجازت دی جائے؟

جواب : جی ہاں! اسے فرض حج کی اجازت دی جائے اور اس کو اس سے نہ روکا جائے. اور قاضی خرچ اسے سپرد نہ کرے اور لیکن حاجیوں میں سے کسی معتمد کو خرچ سپرد کر دے جو اسے حج کے مصارف میں اس پر خرچ کرے.


سوال : بیوقوف بیمار ہوگیا اور اس نے نیک کاموں اور خیر کے شعبوں میں وصیتیں کیں تو اس وصیت کا حکم کیا ہے.؟

جواب :  وصیت اسکے تہائی مال سے جائز ہے.


سوال : اس مفلس پر حجر کا حکم کیا ہے جس پر دُیون واجب ہو گئے ہوں؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں دَیْن کی وجہ سے مفلس پر حجر نہیں کرتا پس جب اس پر دُیون واجب ہو جائیں اور اسکے قرض خواہ اسکی قید اور اس پر حجر طلب کریں تو آپ کے نزدیک اس پر حجر نہ کیا جائے.


سوال : مفلس کے پاس مال ہے پر اس سے دُیون ادا نہیں ہوتا تو کیا حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک قاضی اس (مال) میں تصرف کرسکتا ہے..؟

جواب:(قاضی) اس (مال) میں تصرف نہیں کر سکتا اور لیکن وہ (مفلس) کو ہمیشہ کیلئے قید کرے یہاں تک کہ وہ اپنے دَیْن (کی ادائیگی) میں (مال) بیچ دے


سوال : (مفلس) کا مال ظاہر ہوا اور وہ دراہم و دنانیر ہیں تو قاضی ان (دراہم و دنانیر) سے اس کا دَیْن کیسے ادا کرے؟

جواب : اگر اسکے پاس درہم ہیں اور اس کا دَیْن (بھی) درہم ہیں یا اس کے پاس دینار ہیں اور اسکا دَیْن (بھی) دینار ہیں تو قاضی (مفلس) کی رضا کے بغیر ان (دراہم و دنانیر میں سے اس کا دَیْن ادا کر دے.. اور اگر اسکا دَیْن درہم ہیں اس کے پاس دینار ہیں یا اسکے برعکس تو قاضی اسکے دَیْن (کی ادائیگی) میں ان (دراہم و دنانیر) کو بیچ دے اور اثمان قرض خواہوں کو ادا کر دے


سوال : مفلس پر حجر کے بارے میں صاحبین کا قول کیا ہے.؟

جواب : (صاحبین) فرماتے ہیں کہ جب اس کے قرض خواہ اس پر حجر طلب کریں (تو) قاضی اس پر حجر کرے اور اسے بیع تصرف اور اقرار سے روک دے تاکہ قرض خواہوں کو نقصان نہ ہو اور قاضی اسکا مال بیچ دے اگر وہ (خود) اسکے بیچنے سے انکار کرے اور (قاضی) اس (مال کے ثمن) کو اسکے قرض خواہوں کے درمیان ان کے دُیون کی مقدار پر تقسیم کردے اور قاضی (مفلس مجبور) کے مال میں مفلس مجبور پر، اسکی بیوی، اسکے چھوٹے بچوں اور رشتہ داروں پر خرچ کرے


سوال : اگر مفلس مجبور اپنے حجر کی حالت میں کسی کیلئے مال کا اقرار کرے تو اس کے لیے حکم کیا ہے؟

جواب : یہ مال اس کے اقرار کی وجہ سے اسے لازم ہو گیا اور وہ اولین (یعنی سابق قرض خواہوں) کے دُیون ادا کرنے کے بعد اس (مال) کو ادا کرے

سوال : مفلس کا مال معلوم نہیں اور اسکے قرض خواہ اسکی قید کا مطالبہ کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ میرے پاس مال نہیں تو قاضی کیا کرے؟

جواب : قاضی اسے ہر ایسے دَیْن میں قید کرے جو اسے ایسے مال کے عوض کے طور پر لازم ہوا ہو جو (مال) اس کے قبضہ میں موجود ہے جیسے مبیع کا ثمن اور قرض کا بدل اور اسی طرح ہر ایسے دَیْن میں (قید کرے) کسے اس نے عقد کی وجہ سے اپنے اوپر لازم کیا ہو جیسے مہر اور کفالت ان کے ماسوا میں اسے قید نہ کرے جیسے غضب کردہ (شی) کا عوض اور جنایات کا تاوان الا یہ کہ بینہ قائم کو جائے (یعنی گواہ گواہی دے) کہ اسکے پاس مال ہے


سوال : قاضی اسے ہمیشہ کیلئے قیر کرے یا اس (قید) کیلئے مقررہ مدت ہے.؟

جواب : قید کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصود مال کو ظاہر کرانا ہے اگر اسکے پاس ہو اور وہ اسے چھپائے پس قاضی اسکو دو ماہ یا تین ماہ قید کرے اور لوگوں سے اسکے حال اور اسکے مال کے بارے میں دریافت کرے پس اگر اسکا مال ظاہر نہ ہوتو اسے آزاد کر دے اور اسی طرح اسے آزاد کر دے جب اس پر بینہ قائم ہو جائے کہ اس کے پاس مال نہیں ہے


سوال : قاضی نے اسکا مال ظاہر نہ ہونے کے بعد اسے آزاد کر دیا تو کیا اسوقت (مفلس) کے قید خانہ سے نکلنے کے بعد اسکے اور اسکے قرض خواہوں کے درمیان حائل ہو.؟

جواب : (مفلس) اور (قرض خواہوں) کے درمیان (قاضی) حائل نہ ہو اور (قرض خواہوں) کیلئے (جائز) ہے کہ وہ اسے چمٹے رہیں اور اسے تصرف اور سفر سے نہ روکیں اور اسکی کمائی میں سے وہ (مقدار) لے لیں جو اسکے خرچ اور اسکے عیال کے خرچ سے باقی رہ جائے. پس اس (باقی مقدار) کو (قرض خواہوں) کے درمیان ان کے حصول کی مقدار پر تقسیم کیا جائے


سوال : کیا اس (مسئلہ) میں صاحبین کا اختلاف ہے؟

جواب : جی ہاں! وہ اس (مسئلہ) میں حضرت ابو حنیفہ کی مخالفت کرتے ہیں  اور فرماتے ہیں کہ قاضی جب مدیون کو مفلس قرار دے تو اس کے اور اسکے قرض خواہوں کے درمیان حائل ہو جائے الا یہ کہ وہ بینہ قائم کردیں کہ تحقیق اسے مال حاصل ہو گیا ہے


سوال : کیا فاسق پر حجر کیا جائے.؟

جواب : فاسق پر حجر نہ کیا جائے جبکہ وہ اپنے مال کی اصلاح کرنے والا ہو


سوال : ایک شخص نیک تھا پھر فاسق ہو گیا تو اس پر حجر کے بارے میں حکم کیا ہے.؟

جواب : اصلی اور غیر اصلی فسق (حجر کے حکم میں) برابر ہیں.


سوال : ایک شخص نے سامان خریدا اور اس پر قبضہ کر لیا اور اسکی قیمت کو اپنے زمہ دَیْن قرار دیا پھر مفلس ہو گیا اور اس قرض خواہ سے پہلے (بھی) اس کے قرض خواہ ہیں اور خریدا ہوا سامان اس کے پاس موجود ہے تو کیا سامان کا مالک خاص اپنے لیے اس سامان کو لے سکتا ہے؟


جواب : اس سامان کا مالک اس (سامان) میں (دیگر) قرض خواہوں کے برابر ہے

فائدہ

سوال : وہ کیا عمر ہے جب لڑکا یا لڑکی اس (عمر) کو پہنچ جائیں تو ان کے بالغ ہونے کا حکم لگایا جائے؟

جواب : لڑکے کے بالغ ہونا احتلام، انزال، اور حاملہ کرنے کے ساتھ ہے جب وہ وطی کرے پر اگر یہ (علامت) نہ پائی جائے تو یہاں تک کہ اس (کی عمر) کے اٹھارہ برس مکمل ہو جائیں اور لڑکی کا بالغ ہونا حیض، احتلام اور حاملہ ہونے کے ساتھ ہے پس اگر یہ(علامت) نہ پائی جائے تو یہاں تک کہ اس (کی عمر) کے سترہ برس مکمل ہو جائیں


سوال : یہ (قول ) ہمارے تینوں اماموں کا قول ہے یا اس میں انکے درمیان اختلاف ہے؟

جواب : اس میں حضرت ابو حنیفہ اور آپ کے صاحبین کے درمیان اختلاف ہے پس وہ دونوں (یعنی صاحبین) فرماتے ہیں کہ جب لڑکے اور لڑکی (کی عمر) کے پندرہ برس مکمل ہو جائیں تو تحقیق وہ بالغ ہوگئے اور اگر لڑکے کی طرف سے احتلام یا انزال یا حاملہ کرنا یا لڑکی کی طرف سے حیض، احتلام اور حاملہ ہونا پایا جائے تو اس عمر سے پہلے ان کے بالغ ہونے کا حکم لگایا جائے اور فتویٰ (صاحبین) کے قول پر ہے


سوال : جب لڑکا یا لڑکی جوانی کے قریب پہنچ جائے اور بالغ ہونے میں انکا معاملہ مشتبہ ہو جائے اور وہ کہیں کہ "تحقیق ہم بالغ ہو گئے" (تو) کیا انکا قول لیا جائے؟

جواب : (معتبر) قول ان دونوں (یعنی لڑکا اور لڑکی) کا قول ہے اور اس وقت ان پر بالغوں کے احکام جاری ہوں گے




No comments:

Powered by Blogger.