Hawala ka bayan

حوالہ کا بیان

سوال : حوالہ کیا ہے؟

جواب : یہ دین کو (ایک کی)ذمہ داری سے (دوسرے کی)ذمہ داری کی طرف منتقل کرنا ہے اور یہ دیون میں جائز ہے اعیان اور حقوق میں (جائز)نہیں۔

سوال : کیا اس کی صحت کیلئے فریقین کی رضا کی شرط لازم کی جاتی ہے؟

جواب : اس میں مُحِیْل کی رضا،مُحْتٙال کی رضا اور مُحْتٙال عٙلٙیْہ کی رضا کی شرط لازم کی جاتی ہے اور (محیل)وہ ہے جس کے ذمہ دین ہے اور (مُحْتٙالْ) قرض خواہ ہے اور (مُحْتٙالْ عٙلیْہ)وہ ہے دین کی ادئیگی جس کے حوالہ کی جائے۔

سوال : کیا مُحْتٙالْ کیلئے جائز ہے کہ وہ مُحِیْل پر رجوع کرے؟

جواب : جب حوالہ مکمل ہوجائے تو مُحِیْل دین سے بری ہوجاتا ہے اور مُحْتٙالْ مُحِیْل پر رجوع نہ کرے مگر یہ کہ اس کا حق توٰی ہوجائے۔

سوال : توٰی کا معنی کیا ہے اور یہ کیسے ثابت ہوتا ہے؟

جواب : توٰی وہ ضائع ہونا ہے اور یہ حضرت ابو حنیفہؓ کے نزدیک دو امروں میں سے کسی ایک امر سے ثابت ہوتا ہے یا تو مُحْتٙالْ عٙلٙیْہ حوالہ کا انکار کردے اور قسم کھالے اور مُحْتٙالْ عٙلٙیْہ کے خلاف بینہ نہ ہو یا مُحْتٙالْ عٙلٙیْہ مفلس ہوکر مر جائے۔اور حضرت ابو یوسف ؓو حضرت محمدؐ فرماتے ہیں : توی تین امروں میں سے کسی ایک امر سے ثابت ہوتا ہے:پس پہلا اور  دوسرا امر وہ ہے۔ جو ہم حضرت ابو حنیفہ کے قول میں ذکر کرچکے اور تیسرا امر یہ ہے کہ قاضی اس کی زندگی کی حالت میں اس کےمفلس ہونے کا حکم لگادے۔

سوال : مُحْتٙالْ عٙلٙیْہ نے مُحِیْل سے حوالہ کے مال کے مثل کا مطالبہ کیا پس مُحِیْل نے کہا کہ آپ کہ لئے میرے ذمہ کچھ نہیں ہے کیونکہ میں نے وہ دین حوالہ کیا جو میرے لیے ذمہ تھا تو کیا اس کا قول کیا جائے؟

جواب : اس بارے میں مُحِیْل کا قول قبول نہ کیا جائے اور اسکی ذمہ دین کا مثل ہے۔

سوال : اگر مُحِیْل مُحْتٙالْ سے اس (دین) کا مطالبہ کرے جو اس نے اسکے  حوالہ کیا اور کہے کہ "سوائے اس کہ نہیں میں نے آپ کے حوالہ کیا تاکہ آپ میرے لئے اس پر قبضہ کریں"اور مُحْتٙالْ  اس کا انکار کرے اور کہے کہ آپ نے وہ دین میرے حوالہ کیا جو میرے لیے آپ کے ذمہ تھا (تو) اُن دونوں کے درمیان کیسے فصیلہ دیا جائے؟

جواب : اس بارے میں (معتبر) قول مُحِیْل کا قول اس کی قسم کے ساتھ ہے۔

سوال : فقہاء کے نزدیک سٙفْا تِجْ کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ اُن کے نزدیک مکروہ ہے۔

سوال : لفظ اور معنی کی حیثیت سے سفاتج کی شرح کیجئے ؟

جواب : یہ لغت کی حیثیت سے سُفْنٙجٙةُ کی جمع ہے اور بہر حال معنی کی رو سے یہ وہ قرض ہے جس کی وجہ سے قرض دینے والا خطرہ راہ سے امن کا فائدہ حاصل کرتا ہے( اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی جگہ جاکر کسی تاجر وغیرہ کو اس شرط پر بطور قرض رقم دے کہ آپ مجھے فلاں جگہ رہنے والے اپنے وکیل وغیرہ کے نام تحریر دیں کہ میں اس تحریر کے ذریعہ اس سے اپنی رقم وصول کروں تاکہ اس طرح خطرہ راہ سے محفوظ ہوجاوں تو یہ مکروہ ہے کیونکہ اس صورت میں قرض کی وجہ سے خطرہ راہ سے امن کا فائدہ حاصل کررہا ہے اور حضرت علیؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا

کُل قرض جر منقعہ فھو ربا کہ" ہرقرض جو نفع کو کھنچے تو وہ(نفع)سود ہے"البتہ یہ کراہت اس صورت ہے کہ جب وہ تحریر وغیرہ کی شرط پر بطور قرض رقم دے،اگر کسی شرط کے بغیر قرض کے طور پر رقم دے تو وہ مکر نہیں ۔(تنبیہ)حضرت علیؓ کومزکورہ بالا حدیث مسندحارث بن ابی اُسامہ میں موجود ہے اس کی سند حسن لغیرہ ہےکما فی العزیزی (العزیزی ص٨٧ج٣)اسکی سند میں سوار بن مصعب راوی موجود ہے جو کہ متروک ہےلیکن امام الحرمین نی اس حدیث کو صیح قرار دیا ہے۔

التلخیص الحبیر ص٣۴ج٣۔







No comments:

Powered by Blogger.